کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

استری

عوض سعید


آپ نے  دیکھا ہو گا کہ بعض لوگ ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے  ہی کو دوستی کا پہلا زینہ سمجھتے  ہیں۔ وہ آخری زینے  تک پہنچ بھی پاتے  ہیں  یا نہیں  یہ کوئی نہیں  جانتا۔

          دستگیر اِن ہی لوگوں  میں  سے  ایک تھے۔ فراخ ما تھا، چھوٹی چھوٹی کرنجی آنکھیں  سانولا سلونا رنگ۔ آنکھوں  پر چڑھا ہوا کالا سیاہ چشمہ۔ وہ اس وضع قطع سے  کوئی اور ہی ملک کے  باشندے  لگتے۔ سارے  محلے  کے  لگ انھیں  دستگیر چچا کہتے  تھے۔ جب بوڑھے  لوگوں  نے  بھی انھیں  چچا کہنا شروع کر دیا تو انھوں  نے  اپنی داڑھی بڑھا لی۔

          اُن کا ایک چھوٹا سا کاروبار تھا۔ وہ الکٹریکل سامان کے  واحد تاجر تھے، جنھیں  محلے  کا ہر چھوٹا بڑا آدمی جانتا تھا۔

          مجھے  استری خریدنی تھی لیکن کسی نہ کسی طرح بات ٹلتی جا رہی تھی۔

          ایک دن راستے  میں  ان سے  مڈبھیڑ ہو گئی۔ سلام کے  لیے  ہاتھ تو ان کا پہلے  ہی اٹھ چکا تھا اب صرف مسکراہٹ بکھیرنا باقی رہ گیا تھا۔

          ’’ کوئی خاص بات ضرور ہے  جو تم مجھ سے  ملنے  آئے  ہو۔۔۔ ؟‘‘

          ’’ راستے  میں  اگر اچانک یوں  مڈبھیڑ ہو جائے  تو کیا اسے  ملنا کہیں  گے۔ ‘‘

          ’’یہ تو اپنی سوچ اور سمجھ کی بات ہے۔ تاہم پھر بھی۔۔۔ ‘‘

          بات یہ ہے  کہ مجھے  ایک استری خریدنی ہے  وہ دو ڈھائی سو روپے  تک۔ تم نے  استری کو اتنا سستا سمجھ لیا ہے   اور اس کی قیمت بھی لگا دی۔

          خیر اگلے  نکڑ پر میری دوکان ہے  وہ تمھیں  وہاں  مل جائے  گی۔

          جب اگلے  نکڑ پر پہنچ کر انھوں  نے   اپنی دوکان کھولی تو وہاں  میں  نے  دیکھا کہ بھانت بھانت کے  چھوٹے  موٹے  سامان کا ایک ڈھیر تھا۔ اسی ڈھیر  میں  مجھے  استری بھی نظر آئی۔

          ’’ دیکھو بھئی یہ رہی اپنی دوکان، اور یہ رہی تمھاری استری۔ ‘‘

          میں  نے  الٹ پلٹ کر استری دیکھی۔ وہ مجھے  بیک نظر پسند آ گئی۔

          سوچ رہا تھا کہ مول تول کروں  تو بات بن بھی سکتی ہے  اور بگڑ بھی سکتی ہے۔ اس لیے  میں  نے  قیمت اُن ہی پر چھوڑ دی۔

          ’’ لے  لیجیے۔۔۔ آپ سے  کیا مول تول۔۔۔ ‘‘

          ’’ پھر بھی۔۔۔ ‘‘

          کیا چھوٹی چھوٹی باتوں  کو یاد رکھتے  ہو یار،پہلے  یہ بتاؤ کیا تم نے  سارنگ پور ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  چھوڑ دیا ہے۔ ‘‘

          ایسا تو نہیں  مگر بمبئی کی مہانگری میں  ٹامک ٹویسے  ضرور مار رہا ہوں۔

          اشرف تم نے  سارنگ پور چھوڑ کر بڑی غلطی کی ایک تو خاصی بھلی نوکری جاتی رہی۔ دوسرے  وہاں  قدم قدم پرایکسپلائیٹیشن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو گا۔ ’’ایکسپلائیٹیشن کہاں  نہیں  ہے۔ ہر جگہ ہے۔۔۔ ‘‘

          کم از کم تم اپنی ماں  کی خاطر بمبئی چھوڑ کر سارنگ پور آ جاؤ تو زیادہ بہتر ہے۔

          ’’ ماں  کی خاطر۔۔۔ ؟  کیا تمھیں  نہیں  معلوم کہ وہ میرے  جانے  کے  بعد ہی اچانک چل بسیں۔ اب مجھے  پرُسہ نہ دو۔ مجھے  ہمدردی جتانے  والوں  سے  ایک گھن سی آتی ہے۔ تم میرے  ایک اچھے  دوست ہو۔ یقین ہے  تم میری اس بات کا بڑا نہیں  مانو گے۔ جنید تمھیں  یاد ہے  میرا ایک چھوٹا بھائی بھی تھا۔ آج کل وہ دبئی  میں  ہے۔ اس کمینے  نے  ہمیں  یک لخت بھلا دیا۔

          میں  نے  اسے  ماں  کی علالت کی اطلاع دی تو پتہ ہے  اس نے  کیا کہا۔

          ’’ بیماری بوڑھوں  کا مقدر ہے۔ ‘‘

          پھر جب میں  نے  ماں  کی موت کا اُسے  ٹیلی گرام بھیجا تو اس نے  دو سطر ہی میں  مجھے  تڑخا دیا۔

          ’’ موت برحق ہے۔ ویسے  میں  نے  یہاں  فاتحہ خوانی کا انتظام کروا دیا ہے۔ براہ کرم خط محبت کا پیمانہ نہ بنائیے۔ میں  ہمیشہ یہاں  مصروف رہتا ہوں۔ ‘‘

          اس کے  بعد نہ میں  نے  اسے  خط لکھا اور نہ اس نے۔ اب میں  نے  اُس کمینے  کو بالکل ہی بھلا دیا ہے۔ یہ ایک لمبی داستان ہے  سن کر کیا کرو گے۔ سوچ رہا ہوں  ریڈی میڈ گارمنٹس کی ایک چھوٹی سی دوکان کھول لوں۔ بھنڈی بازار میں  ایک جگہ بھی دیکھ لی ہے  ورنہ فٹ پاتھ تو ہے  ہی۔ اس ذلیل نے  اگر چاہا ہوتا تو میں  یہاں  یوں  دھکے  نہ کھاتا۔ خیر اللہ بڑا کارساز ہے۔ کچھ نہ کچھ تو سبیل نکل ہی آئے  گی۔ اب سناؤ تمھارا کیا حال  ہے۔ کیا اب وہی ایکسپورٹ اور امپورٹ والا چکر۔۔۔ ‘‘

          جب بھیڑ چھٹی تو پتہ چلا کہ چینا بازار میں  جو بم دھماکے  ہوئے  وہ دو مخصوص میاں  بھائیوں  کا کارنامہ تھا۔ انھوں  نے  اپنی ماؤں  بہنوں  کا بدلہ چکایا تھا۔

          بہر حال جتنے  منہ اتنی باتیں۔

          مگر صدیق بھائی کو کیوں  گولی ماردی گئی۔ اُسی گولی سے  وہ شنکر کو بھی مارسکتے  تھے، جو سماج دشمن آدمی ہے۔

          شنکر کو گولی مارنے  کا مطلب تم سمجھتے  ہو ؟

          ہاں  سمجھتا ہوں۔

          ایک بڑا فرقہ وارانہ فساد۔

          کیا تم یہی چاہتے  ہو ؟

          کون  فساد چاہتا ہے۔ عام لوگ تو صرف امن چاہتے  ہیں۔

          پھر شنکر کو گولی نہ مارو۔

          ’’اس کا مطلب ہے  کہ وہ بلا ضرورت گولیاں  چلاتا رہے  اور ہم لوگ تماشا دیکھتے  رہیں۔ ‘‘

          ہاں  ضرورت پڑنے  پر چوڑیاں  بھی پہن لیں۔

          ’’صدیق بھائی کی میت میں  وہاں  نہیں  چلو گے۔ ‘‘

          ’’ نہیں  وہاں  کرفیو ہے۔ وہاں  جانے  کی اجازت ان ہی لوگوں  کو مل سکتی ہے  جو ان کے  قریبی عزیز ہوں۔ پھر یہ جھوٹی گواہی کون دے  گا کہ ہم ان کے  قریبی عزیز ہیں۔ پھر یوں  بھی میرا ان سے  کیا تعلق ؟  روز کوئی نہ کوئی صدیق بھائی مرتا ہی ہے۔ گو کہ گڑبڑ ختم ہو چکی ہے  مگر نہ جانے  یہ احساس مجھے  کیوں  ہو رہا ہے۔ جیسے   گڑبڑ پھر شروع ہو جائے  گی۔

          ’’ بہتر یہی ہے  کہ تم یہ استری یہیں  رکھ دو۔ حالات ٹھیک ہونے  پر لے  جانا۔

          لیکن میں  نے  دستگیر صاحب کی بات نہیں  مانی۔

          پھر راستے  میں  یہ افواہ پھیل گئی کہ کرفیو اب لگنے  ہی والا ہے۔ ’’لوگ اپنے  اپنے  گھروں  کو واپس ہو جائیں۔ ‘‘

          لوگ دھڑا دھڑسہمے  سہمے  مختلف راستوں  سے  گزر رہے  تھے۔ تنگ راستوں  اور گلیوں  سے  گزرنے   والوں  کے  چہرے  عجیب تھے۔

          جب میں  نے  گلی سے  مڑ کر شاہ پر پہنچا تو ایک پولیس والے  نے  مجھے  آگے  جانے  سے  روک دیا۔ میں  نے  جب اس  سے  احتجاج کیا تو اس نے  گرجدار آواز میں  پوچھا  یہ ہاتھ میں  کیا ہے ؟

          ’’ استری۔۔۔ جو ابھی ابھی میں  نے  دوسو روپے  میں  خریدی ہے۔ ‘‘

          ظاہر ہے  استری میں وائر بھی ہوں  گے۔

          ہاں  ایک دو تو رہتے  ہی ہیں۔

          وائر موٹے  ہیں  یا پتلے  ؟  

          دونوں۔

          پھر تو معاملہ اور بھی سنگین ہے۔ تمھیں  تھانے  چلنا ہو گا۔

          کس جرم میں۔۔۔ ؟

          ’’ یہ وہیں  پتہ چلے  گا۔ ‘‘

          چھٹکارے  کا کوئی راستہ  ؟

          ایک ہی۔ تم یہ استری میرے  حق میں  چھوڑ دو۔ یہ استری میں  نے  دستگیر بھائی کے  پاس دیکھی تھی۔

          کیا تم دستگیر بھائی کو جانتے  ہو ؟

          ہاں  دستگیر بھائی کو بھی اور گرجا شنکر کو بھی۔

          یہ گرجا شنکر اچانک کہاں  سے  آ دھمکا۔۔۔ تم اُسے  کیوں  گرفتار نہیں  کرتے۔

          وہ اپنے  پیچھے  کوئی ثبوت نہیں  چھوڑتا۔۔۔ اس لیے  ہر بار بڑی صفائی سے  بچ نکلتا ہے۔ تم بھی وہی تکنیک استعمال کر سکتے  ہو۔

          میں  نے  اس سے  چھٹکارا حاصل کرنے  کے  لیے  اپنی جیب سے  ہاتھ ڈالا اور دس کے  دو نوٹ اس کے  ہاتھ میں  تھما دئیے۔

          اس نے  اپنے  ہاتھ کو جھٹکا دے  کر یوں  ہٹا لیا جیسے  وہ نوٹ نہ ہوں  کوئی خطرناک بچھو ہوں۔

          مجھے  پیسے  نہیں  استری چاہیے۔

          مگر یہ استری ہی کیوں ؟ تم کوئی دوسری استری بھی تو لے  سکتے  ہو۔

          لے  تو سکتا ہوں۔ مگر۔۔۔ اس پر وہ لکھا نہ ہو گا۔

          اس پر تو کچھ بھی لکھا نہیں  ہے۔

          غور سے  دیکھو ہے۔ باریک حروف میں  اوم۔۔۔ سیدھی جانب۔

          میں  نے  دوبارہ استری کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ کہیں  بھی اوم کے  شبد نہیں  تھے۔

          عجیب بات ہے، تم لوگ اپنے  خدا کو تو دیکھ لیتے  ہو مگر تمھیں  دوسروں  کا بھگوان دکھائی نہیں  دیتا۔ شاید آج کے  جھگڑے  کی یہی وجہ ہو۔

          میں  نے  مزید کچھ سوچے  بغیر اُسے  استری دے  دی۔

          اس نے  مجھے  کیا دیا یہ نہ پوچھیے  !  اور کل کا اخبار ضرور دیکھیے  کیا پتہ یہ استری کل کون سا روپ دھار لے۔۔۔ ! !

٭٭٭