کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

گریباں گیر

عوض سعید


برسوں  بعد میں  نے  اسے  شہر کے  ایک معمولی ہوٹل میں  داخل ہوتے  ہوئے  دیکھا۔ سوچا کہ دو گھڑی اسے  روک کر بات کر لوں  اور پوچھوں  ارے  یار ان بارہ برسوں  میں  تم نے  کہاں  کہاں  کی خاک چھانی۔ شادی بھی کی یا  ابھی تک لنڈورے  ہی رہے۔ اگر شادی کی تو آبادی میں  کس حد تک اضافہ کیا۔ ضروری اور غیر ضروری سب ہی باتیں، لیکن جذبے  میں  کوئی ایسی شدت نہ تھی کہ اس سے  کم از کم اس کی خیریت ہی پوچھ بیٹھتا۔ یوں  بھی سڑک کی دھکم پیل سے  طبیعت اوب سی گئی تھی۔ جس بس سے  اسے  گھر لوٹنا تھا، اس کے  آنے   میں  ابھی کافی دیر تھی  اس لیے  اس نے  آٹو رکشا کو ترجیح دی اور دیکھتے  ہی دیکھتے  وہ گھر پہنچ گیا۔ گھر کا دروازہ خلافِ معمول کھلا تھا، اس نے  دہلیز پر پہلا ہی قدم رکھا تھا کہ اس کے  کانوں  سے  ایک آواز ٹکرائی۔ اتنے  دنوں  بعد آپ آئے  ہیں  تو بغیر کھانا کھائے  میں  آپ کو جانے  نہ دوں  گی۔ ایک آدھ گھنٹہ مزید آپ انتظار کر لیں  تو وہ آ ہی جائیں  گے۔ لیجیے  وہ آ گئے۔

          تسلیمات۔ جیتے  رہو۔ اور خوش رہو۔

          آپ نے  اپنے  آنے  کی کوئی خبر نہیں  دی ورنہ اسٹیشن ضرور آتا۔

          تم تو جانتے  ہی ہو کہ خط لکھنا مجھے  کتنا فضول سا فعل لگتا ہے۔ شاید اسی سبب میرے  احباب مجھ سے  ہمیشہ شاکی رہے  اور ایک ایک کر کے  جدا بھی ہو گئے۔ اچھا آصف میاں  چھوڑو ان باتوں  کو۔ تمھاری صحت تو ٹھیک ٹھاک ہے  نا۔

          ٹھیک ہی سمجھ لیجیے۔

          تمھارے  اس جملے  ہی سے  ظاہر ہو رہا ہے  کہ بیماری سے  تم نے  ابھی تک  چھٹکارا حاصل نہیں  کیا۔ مجھے  دیکھو قریب قریب ساٹھ کے  پیٹے  میں پہنچ چکا ہوں۔ کیا مجال کہ کوئی بیماری میرے  قریب آئے۔ ‘‘

          اس کے  خسر نے  اپنی صحت کے  بارے  میں  ابھی ابھی جو بات کہی تھی وہ کچھ غلط نہ تھی۔ لیکن پتہ نہیں  اُسے  یہ کیوں  احساس ہو رہا تھا جیسے  باتوں  ہی باتوں  میں  انھوں  نے  اس کی صحت کی تضحیک کر دی ہو۔ تندرستی ہزار نعمت سہی لیکن بڑے  میاں  کو یہ حق کس  نے  دیا کہ وہ نوجوانوں  کی توہین کرے۔ نہیں  نہیں  یہ محض اس کی بدگمانی ہے  وہ تو ایک بڑے  شریف آدمی ہیں۔

          اسی دوران چائے  کی دو پیالیاں  لیے  اس کی بیوی نے  قریب آ کر کہا۔ ’’لیجیے  آپ بہت تھکے  ماندے  لگ رہے  ہیں۔ گرم گرم چائے  پی لیجیے۔ اس سے  تھکن دور ہو جائے  گی۔ ‘‘

          جب اس کے  اباّ نے  تیزی سے  چائے  پی لی تو اس نے  کہا۔ کیا اباّ جی ایک اور کپ لادوں۔ ’’میں  بیک وقت دو سے  زیادہ کپ چائے  نہیں پیتا۔ اچھا اب اجازت دو بیٹا۔ لالہ رام بھی میرے  ساتھ ہی لوٹیں  گے۔

          ان کے  ہاں  کار جو ہے۔ ‘‘

          چلیے  سفر اچھا گزرے  گا۔ ہم سفر جو اچھا ٹھہرا۔

          پھر خدا حافظ کی آواز دور تک گونجتی رہی۔

          جب وہ چلے  گئے  تو اس کی بیوی نے  کہا۔ پتہ نہیں  اباّ جی آپ کی صحت کے  بارے  میں   اتنے  مشکوک کیوں  ہو گئے۔ حالانکہ کوئی خاص بات تو نہیں  ہے۔ ارے  ہاں  میں  یہ کہنا ہی بھول گئی کہ آج حسن دوپہر میں  آیا تھا۔ حالت اتنی بری بھی نہ تھی تاہم وہ تمھیں  نہ پا کر مایوس سا لگ رہا تھا۔

          مگر حسن کو تم کیسے  جانتی ہو۔

          جاننے  کی بھی خوب رہی۔ اس نے  جو نام بتایا وہ میں  نے  آپ سے  کہہ دیا۔ پتہ نہیں  اس سے  آپ کا کیا رشتہ ہے۔ ‘‘

          رشتہ تو بڑا نازک ہے۔ وہ میرادوست ہے  بلکہ کبھی تھا۔ وہ آج ہی دکھائی دیا، لیکن۔۔۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔

          اس کی اس خاموشی کو اُس کی بیوی نے  شاید بھانپ لیا۔ کم از کم اس سے  مل لیا ہوتا۔ اس سے  ملنا ایسا ہی ہوتا جیسے  کوئی اپنے  آپ سے  ملے   اور میں  اپنے  آپ سے  مل کر رسوا ہونا نہیں چاہتا۔

          ’’میں  آپ کا مطلب نہیں  سمجھی ؟‘‘

          سمجھ کہ بھی کیا کرو گی۔ یہ ایک لمبی داستان ہے۔ ’’بس تم یہ بات دھیان میں  رکھو، جب بھی وہ یہاں  آئے  اُس سے  کہہ دینا کہ میں  گھر پر نہیں  ہوں۔ ‘‘

          ’’اس سے  اتنا گھبرانے  کی کیا ضرورت ہے۔ ‘‘

          مگر مجھے  غریبی سے  نفرت ہے۔

          ’’نفرت کا یہ حق کس نے  آپ کو دیا۔ وہ آپ سے  کچھ مانگنے  تو نہیں  آیا تھا۔ کیا عجب کہ وہ کسی اور کام سے  آیا ہو۔ ‘‘

          پھر ایک دن ضرور آئے  گا۔ میں  اس کا سامنا کرنے  کا شاید اہل نہیں  ہوں۔۔۔ میں نے  اب تک جو کچھ بھی پونجی جمع کی ہے    وہ ہمارے  لیے  ہے  اُس کے  لیے  نہیں۔ قبل اس کے  وہ کچھ اور کہتا  گھر کی دہلیز پر وہ مسکراتا کھڑا تھا۔ اُس کے  ہونٹوں  پر طنز کی کاٹ تھی جیسے  اس نے  ہماری سب باتیں  سن لی ہوں۔

          ’’جب گھر کی دہلیز پر قدم رکھ ہی چکے  ہو تو اندر ہی آ جاؤ۔ ‘‘

          وہ ایک شانِ بے  نیازی کے  ساتھ کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ مجھے  سردست کل کا اخبار چاہیے۔

          آج کا کیوں  نہیں۔

          کیونکہ میری زندگی کا کل آج سے  میل نہیں  کھاتا۔

          لگتا ہے  کچھ پریشان سے  ہو۔

          ’’ نہیں۔۔۔ میں  دکھی ضرور ہوں  لیکن پریشان نہیں۔ ‘‘

          ’’بات ہیر پھیر کر وہیں  پہنچتی ہے  جس سے  تم گریزاں  ہو۔ ‘‘

          میں  نے  کل ہی  (ENDO SCOPY)  کروائی ہے۔ بڑا خراب ٹسٹ ہوتا ہے  یہ۔ اللہ کا کرم ہے  کہ کوئی  گروتھ (Growth)  نہیں ہے۔ لیکن مرض سی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ علاج کرانے  کی سکت نہیں  ہے۔ لوگوں  نے  مجھے  مشورہ دیا کہ میں  کسی خیراتی اسپتال میں  اڈمٹ ہو جاؤں۔ تمھارا کیا مشورہ ہے  ؟‘‘

          میں  نے  آج تک کسی کو کوئی مشورہ نہیں  دیا۔ دراصل کسی بھلے  مانس نے  بھی مجھ سے  مشورہ مانگنے  کی زحمت نہیں  کی۔ ‘‘

          تو گویا تم اب اتنے  گئے  گزرے  ہو گئے  ہو۔

          گئے  گزرے  تو تم ہو۔ میں  نہیں۔ اس کا ثبوت تمھارا یہ چہرہ ہے۔ خیر یہ بتاؤ برسوں  بعد اچانک تمھیں  میری یاد کیسے  آ گئی۔ ‘‘

          وہ اس طرح کہ تم میرے  مقروض ہو۔ چاہتا ہوں  کہ تم سے  کچھ لے  کر ہی اٹھوں۔ میں  اور تمھارا مقروض۔۔۔ ؟ کیا پاگل ہو گئے  ہو ؟ ‘‘

          اس کمنٹ  پر بجائے  وہ شرمندہ ہونے  کے  واقعی کسی پاگل کی طرح قہقہہ لگا تا رہا۔ جی چاہ رہا تھا کہ اس کا گلا گھونٹ دوں، لیکن اب وہ بید کی طرح کانپ رہا تھا۔

          تم تو بے  طرح کانپ رہے  ہو۔ تھوڑی دیر سکون سے  بیٹھو۔ چائے  پیو اور چلتے  بنو۔

          کہاں  جاؤں۔ کوئی منزل، کوئی ٹھکانہ،کوئی شیلٹر۔ میرا تو کوئی گھر نہیں  ہے  جہاں  پاؤں  پھیلائے، جب جی چاہا سوجاؤں۔

          تو پھر مسلسل سڑک پر چلتے  رہو۔ نیند جب غلبہ پالے  گی تو تم کہیں نہ کہیں  سر کے  بل گر جاؤ گے۔ لوگوں  کی ہمدردی حاصل کرنے  کے  لیے  اس سے  بہتر کوئی اور حربہ نہیں۔ کم از کم اس بہانے  دوا خانہ پہنچا دئیے  جاؤ گے۔ تمھارے  السر کا علاج شاید وہیں  ہو جائے۔ یہاں  تمھیں  چائے  کے  علاوہ کچھ نہ ملے  گا۔ ‘‘

          ’’ سردست چائے  ہی سہی۔ ‘‘

          اُسے  حیرانی ہوئی کہ وہ بڑی ڈھٹائی کے  ساتھ اب چائے  کا مطالبہ کر رہا تھا۔ یہ سودا اس کے  لیے  مہنگا نہ تھا اس لیے  اس نے  بیوی کو آواز دے  کر دو کپ چائے  کی فرمائش کی۔

          اُس کی بیوی چائے  کی دو پیالیاں  تھامے  اب سامنے  کھڑی تھی۔

          بھابی آپ کا بھی جواب نہیں،مگر میں  چائے  نہیں  پیوں  گا۔ کہاں  دو ہزار روپے،کہاں  یہ حقیر سی چائے۔ ‘‘

          ’’کوئی ثبوت ہے  آپ کے  پاس ؟‘‘

          کل ثبوت ہی کے  ساتھ آؤں  گا۔ یہ کہہ کر وہ لمبے  لمبے  ڈگ بھرتا ہوا تیزی سے  باہر نکل گیا۔

          ’’حسن نے  جو کچھ کہا۔ کیا وہ سچ ہے  ؟ ‘‘

          ’’ کیا اس کے  ساتھ تم بھی پاگل ہو گئی ہو۔ وہ جھوٹا ہے  ایک دم جھوٹا۔ ‘‘

          ’’ مگر اس نے  جو کل آنے  کی دھمکی دی ہے    اس کا کیا کرو گے۔ ‘‘

          ’’ میرے  پاس اس کا بھی علاج ہے۔ تم دیکھ لینا وہ کل نہیں  آئے  گا۔ ‘‘

          ’’ کل نہ سہی کچھ دن بعد بھی تو آ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے  کہ آفس ہی میں  آ دھمکے۔ ‘‘

          ’’ تم اطمینان رکھو وہ آفس بھی نہیں  آئے  گا۔ اب تم جھٹ پٹ میرے  لیے  چائے  بناؤ سر پھٹا جا رہا ہے۔ ‘‘

          ’’ابھی تو آپ نے  پی ہے۔ ‘‘

          ’’ میں  نے۔۔۔ ؟‘‘

          ’’ہاں  آپ نے۔۔۔ یہ پیالی گواہ ہے۔ ‘‘

          ’’تم بھی ثبوت اور گواہی کی باتیں  کرنے  لگیں۔ خیر اخبار ہی لادو۔ صبح میں  نے  صرف سرخیاں  ہی دیکھی تھیں۔ ‘‘

          ’’ کیا متن کا زہر پی سکو گے۔۔۔ ؟‘‘

          ’’ کیا بک رہی ہو ؟ ‘‘

          ’’لگتا ہے   تم نے  وہ نظم نہیں  پڑھی۔ ‘‘

          ’’ کون سی نظم۔۔۔ ‘‘

          ’’ وہی جس کا کوئی عنوان نہ تھا۔ ‘‘

          سرخیاں  اخبار کی پڑھ لو۔

          آج۔

          اتنا ہی کافی ہے۔

          کون متن کا زہر پیے  گا۔

          کس کو اتنی فرصت ہے۔

          یہ تو روز کا رونا ٹھہرا۔

          ارے  یہ دروازے  کی زنجیر کون پیٹ رہا ہے۔ کہیں  وہ پھٹیچر آدمی پھر نہ آ دھمکا ہو۔ ‘‘

          ’’اُس نے  تو کل آنے  کی دھمکی دی ہے۔ ‘‘

          کل اور آج دونوں  اس کے  لیے  برا بر ہیں، مگر یہ کوئی اور خبیث ہے۔

          اس نے  باہر آ کر دیکھا۔ دور دور تک کوئی نہیں  تھا۔

          دوسرے  دن آفس سے  لوٹتے  ہوئے  جب اس نے  پہلا قدم دہلیز پر رکھا تو سب سے  پہلا سوال اس نے  یہی کیا۔ کیا وہ خبیث آیا تھا ؟

          نہیں۔

          میں  نے  تم سے  کہا تھا نہ کہ اب وہ یہاں  نہیں  آئے  گا۔ کسی کھڈ یا خیراتی اسپتال میں  پڑا سسک رہا ہو گا۔ چھوٹے  لوگوں  کا یہی حال ہوتا ہے۔

          تیسرے  دن بھی اُس نے  یہی سوال کیا۔

          ۔۔۔

          ’’کیا وہ آج آیا تھا۔۔۔ ؟‘‘

          نہیں۔۔۔

          کیا وہ آج۔۔۔ ؟

          نہیں۔۔۔ نہیں  نہیں۔

          سر پک گیا نہیں  کہتے  کہتے۔۔۔ ‘‘

          کیا تم جانتی ہو وہ آنے  والا کون تھا۔۔۔ ؟

          ’’ ہاں  جانتی ہوں۔ ‘

          ’’کیسے۔۔۔ ؟ ‘‘

          جس طرح تم جانتے  ہو۔۔۔ !  !

٭٭٭