کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دو گز زمین

عوض سعید


صبح ہی بستر سے  اُٹھ کر اُس نے  مُندی مُندی آنکھوں  سے  اپنے  کمرے  کا جائزہ لیا۔ ڈراؤنے  خواب کے  ریزے  اس کی آنکھوں  کے  حلقے  پر ابھی تک نیزے  کی طرح دھنسے  ہوئے  تھے۔ اچانک اس کی نگاہ سامنے  کھڑی ہوئی چوبی الماری سے  لگے  اس پرانے  شیشے  پر گئی جہاں  ایک بھیانک سایہ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ اس کے  چہرے  پر سفید کبوتر کے  پروں  کا ایک گھونسلا لٹک رہا تھا اور ہونٹوں  سے  ذرا اوپر کالی مونچھوں  کا ایک لچھّا۔ نہیں۔۔ ‘‘ اس کے  حلق سے  ایک بھیانک چیخ نکل گئی۔ گھر کی بیمار اور کمان کی طرح جھکی ہوئی دیواریں  جیسے  کانپ کانپ گئیں   اور سامنے  درخت کی جھولتی ہوئی شاخوں  پر بیٹھے  ہوئے  پرندے  ہڑبڑا کر آسمان کی پنہائیوں میں  ڈوب گئے۔

          اس کی بیوی وحشت کا لبادہ اوڑھے، حیرت سے  اس طرح اُسے  دیکھ رہی تھی جیسے  وہ اُس کا شوہر نہیں  کوئی اور آدمی ہو۔

          وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا برآمدے  میں  آیا اور آپ ہی آپ بڑبڑاتا ہوا یکبارگی گھر سے  نکل پڑا۔

          ’’اب وہ آدمی زمین کا یہ ٹکڑا تمھیں  کسی قیمت پر نہیں  دے  گا۔ بیوی کی تھر تھراتی ہوئی آواز بھی اب اسے  بھاری پتھر کی طرح ضرب لگاتی محسوس ہوئی اُس کے  قدم اور تیز ہو گئے۔ تیس برس کی طویل مسافت۔۔۔ ٹیڑھی میڑھی بے  ڈھنگی سڑکیں۔۔ بھاگ دوڑ، چیخ و پکار۔۔ گھٹن، بے  چارگی۔

          کیا تم سمجھتے  ہو وہ آدمی زمین کا یہ ٹکڑا ہمیں  دے  دے  گا۔ اب تو اس کی قیمت بھی آسمان کو چھو  رہی ہے۔ ‘‘  یہ اس کی بیوی کی آواز تھی جو اس کا مسلسل تعاقب کر رہی تھی۔

          اچانک اس نے  پیچھے  مڑ کر دیکھا۔ اب وہ یادوں  کی عمیق کھائی میں  اوندھے  منہ گرا پڑا تھا۔ سویرے  کا ملگجا  اجالا  سڑک پر پھیلے  ہوئے  مکانوں  کی چھتوں  پر آہستہ آہستہ اتر رہا تھا اور اسے  بہت دور جانا تھا۔ میلوں  دور شہر کی ساری دکانیں  سوئی ہوئی تھیں  اور ان کے  منہ میں  دھنسے  ہوئے  کالے  بے  ڈھنگے  سے  تالے  ایک عجیب طرح کی ویرانی کا احساس دلا رہے  تھے۔ ٹیکسی اسٹینڈ پر موت کا سا سکوت تھا اور ڈرائیور حلقہ بنائے  چپ چاپ کھڑے  تھے۔ ’’ ٹیکسی ‘‘اس نے  آواز دی۔ اور ٹیکسی کی آواز کے  ساتھی ہی سامنے  کھڑے  ہوئے  ڈرائیوروں  میں  سے  کسی منچلے  نے  کہا۔ ٹیکسی بات نہیں  کرتی اور ڈرائیور کہتا ہے  کہ آج ہڑتال ہے۔

          ’’  اور وہ اسکوٹر والے۔  ؟ ‘‘

          ’’  وہ بھی ہڑتال پر ہیں۔ ‘‘

          ’’  رکشا والے۔  ‘‘

          ’’  وہ بھی۔۔۔۔ ‘‘

          اب اس کے  لیے  صرف ایک ہی راستہ تھا کہ وہ پیدل چلے،اور وہ سڑک پر چلتا رہا،چلتا رہا۔ درمیان میں  اسے  دو ایک ٹیکسی کاریں  سڑک پر دوڑتی ہوئی دکھائی دیں، لیکن اس میں  ڈرائیور بیٹھے  ہوئے  تھے۔ مانگیں۔ مکمل اور ادھوری۔۔ مضبوط اور توانا۔  لاٹھی چارج۔ آنسو گیس۔ گولی۔  دنگافساد۔  آگ اور پھر پانی۔ بچپن سے  اس نے  یہی سب کچھ دیکھا تھا۔ راستہ چلتے  چلتے  وہ ایک عجیب حادثے  سے  دوچار ہو گیا۔ وہ جس آدمی سے  زمین کے  اس ٹکڑے  کو خریدنے  جا رہا تھا اس کا نام اس کے  ذہن سے  معاً محو ہو گیا تھا۔ ذہن پر بار ڈالنے  کے  باوجود اسے  اب اس کا نام یاد نہیں  آ رہا تھا۔ اس نے  ’الف‘ سے  لے  کر ’ی‘ تک کی گردانیں  کر ڈالیں لیکن اُس کا نام کسی بھی حرف سے  شروع ہوتا نظر نہ آتا تھا۔

          مگر اچانک وہ راستے  ہی میں  اسے  نظر آ گیا۔ اُس کے  ساتھ دو اور آدمی بھی تھے  جو اس کے  آگے  پیچھے  اس طرح چل رہے  تھے  جیسے  وہ اس کے  باڈی گارڈ ہوں۔

          اُس کا جی چاہا کہ اسے  پکارے، مگر کس نام سے۔ وہ کوفت اور غصے  سے  آپ ہی آپ بلبلا اٹھا۔ لیکن اس آدمی نے  چلتے  چلتے  اچانک پلٹ کر اسے  دیکھ ہی لیا  اور اس کے  ساتھ والے  دونوں  آدمی بھی اس کے  تتبع میں  وہیں  اس کے  برابر ہی ٹھہر گئے۔

          ’’   ارے  تم۔  صبح ہی صبح کدھر نکل گئے۔  ‘‘

          ’’  تمھارے  ہی ہاں  جا رہا تھا۔

          ’’  کہو کوئی خاص بات۔ ‘‘

          ’’  وہ زمین  ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۔۔

          ’’   وہ اب تمھیں  نہیں  ملے  گی۔ ‘‘

          آخر کیوں۔ ؟  ‘‘

          تم نے  بہت دیر کر دی۔ اس کا وقت گزر چُکا۔

          مگر تم نے  تو وعدہ کیا تھا۔ ‘‘

          ’’  وعدہ۔۔۔ ؟ اگر ہر آدمی وعدہ جیسے  بے  معنی لفظ کاپاس رکھے  تو اس بھاگتی ہوئی دنیا کا کوئی اور نام رکھنا ہو گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے  کہ تم خوابوں  کی دنیا میں  رہتے  ہو۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ آگے  بڑھ گیا۔ اس کے  ساتھ والے  دونوں  آدمیوں  نے  جاتے  جاتے  اسے  اس طرح دیکھا جیسے  کہہ رہے  ہوں۔ سُن لیا ہے  نا جواب۔

          وہ اس کے  اس ظالمانہ برتاؤ سے  پگھل کر رہ گیا تھا۔ بدمعاش۔  کمینہ۔ سفلا۔ اب راستہ چلتے  ہوئے  اسے  احساس ہو رہا تھا جیسے  وہ اپنی متاعِ عزیز کو کہیں  دور دفن کر آیا ہو۔

          وہ لڑکھڑاتے  قدموں  سے  آگے  بڑھتا گیا۔ سڑک سے  لگے  قبرستان سے  اچانک ایک آواز اس کے  کانوں  سے  ٹکرائی اور آگے  چل کر یہی آواز چند ملی جلی آوازوں  میں  تبدیل ہو گئی۔

          اسحاق ذرا کدال زور سے  چلانا یار۔ دیکھ نہیں  رہا ہے  لاش زمین پر کب سے  ہمارے  رحم و کرم پر پڑی ہوئی ہے۔ اسے  جلدی زمین کے  منہ میں  ٹھونس دے۔ ‘‘  نعش بھاری نہیں  ہے۔ یہ ٹکڑا ہی اس کے  لیے  کافی ہے۔ اس نے  پیشانی پر آئے  ہوئے  پسینے  کے  قطروں  کو اپنی قمیض سے  پونچھتے  ہوئے  کہا۔

          ’’  دیکھ کوئی قبرستان میں  داخل ہو رہا ہے۔ کون ہو گا وہ۔۔۔۔ ‘‘

          ’’  کوئی بھی ہو گا سالا۔۔ اپنے  کو اس سے  کیا لینا دینا۔ ‘‘

          ’’  مگر وہ تو اسی طرف آ رہا ہے۔ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ وہ اخبار کا رپورٹر ہو۔

          ’’  یہ نعش کس کی ہے۔ ؟ ‘‘

          ’’  تمھیں  اس سے  کیا۔ ‘‘

          ’’  کیا نام تھا مرنے  والے  کا۔

          نعش کا کوئی نام نہیں  ہوتا۔ نعش بے  نام ہوتی ہے۔ نام زندگی ہی تک چلتا ہے۔ جب سانس اکھڑ جاتی ہے  تو سانس کے  ساتھ ہی نام بھی دفن ہو جاتا ہے  اور نعش لا وارث ہو جاتی ہے۔ ‘‘

          ’’  مگر نعش پر تو کفن بھی لپٹا ہوا نہیں  ہے۔ یہ نعش کی بے  حرمتی ہے۔ ‘‘

          ’’  ہم نے  جتنی بھی آج تک نعشیں  دفن کی ہیں  وہ بے  کفن ہی تھیں۔ ‘‘

          ’’  بڑے  ماڈرن گورکن معلوم ہوتے  ہو۔ ‘‘  اس کے  لہجے  میں  طنز تھا۔

          مگر یہ سب کچھ تو اوپر والے  ہی کے  حکم سے  ہوتا ہے، ہم تو سب تابعدار ہیں۔ ‘‘

          وہ یکبارگی قبرستان سے  نکل کر سڑک پر آ گیا۔ اُسے  یہ دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی کہ اس کے  سامنے  سے  اب جو بھی لوگ گزر رہے  تھے  اُن کے  چہروں  پر سفید پروں  والے  کبوتروں  کے  گھونسلے  لٹکے  ہوئے  تھے  اور ہونٹوں  سے  ذرا پرے  کالی اور سیاہ مونچھوں  کے  کئی لچھے۔

          اس کے  حلق سے  ایک بھیانک چیخ نکل گئی اور درختوں  کی جھولتی ہوئی شاخوں  پر بیٹھے  ہوئے  پرندے  پھر ایک بار آسمان کی پہنائیوں  میں  ڈوب ڈوب گئے۔

٭٭٭