کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کنواں، آدمی اور سمندر

عوض سعید


میں  نے  دروازے  کی کُنڈی لگائی،تالا گھمانے  کی کوشش کی تو لگا جیسے  تالے  میں  کوئی اچانک خرابی پیدا ہو گئی ہو۔ غور کیا تو یہ بات سمجھ میں  آ گئی کہ میں  نے  جو چابی استعمال کی ہے  وہ دراصل دوسرے  تالے  کی ساجھیدار ہے۔ اُس کا اس تالے  سے  کوئی تعلق نہیں  ہے۔ میں  نے  لوٹتے  قدموں  سے  اندر جا کر دیکھا۔ چابی میز پر دھری تھی۔ اس بار تالے  میں  چابی گھمائی تو ایک لمحہ بعد ہی تالے  کا منہ بند ہو گیا  اور میں  سیڑھیاں  پھلانگتا ہوا نیچے  آ گیا۔

          سڑک پر کافی گہما گہمی تھی، گو ابھی شام ہونے  میں  دیر تھی لیکن بعض منچلے  دکانداروں  نے  مرکیوری ٹیوب کے  علاوہ طرح طرح کی خوبصورت لائیٹس جلا رکھی تھیں  اس کے  باوجود ان دکانوں  میں  خال خال ہی گاہک تھے، البتہ ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانوں  میں  لوگوں  کا کافی ہجوم تھا۔

          کاریں  پارک لائن میں  آڑھی ترچھی قطاریں  بنائے  کھڑی تھیں،کچھ ڈرائیور تازہ ہوا کھانے  کے  لیے  اپنی اپنی کاروں  کے  باہر یوں  کھڑے  تھے  جیسے  وہ ڈرائیور نہ ہوں  مالک ہوں۔ قریب ہی کیمسٹ کی ایک دکان تھی جہاں  اشرف کھڑا بوڑھے  کیمسٹ سے  مسلسل باتیں  کیے  جا رہا تھا۔

          ’’  ارے  اشرف تم یہاں۔  ؟  ‘‘

          ہاں  یہ بہرام دارو والا میرا یار ہے۔ یہ دکان اُسی کی ہے۔ آؤ باہر چل کر باتیں  کریں۔

          تمہیں  یاد ہے  نا۔  ہماری آخری ملاقات میٹرو میں  ہوئی تھی۔ شاید یہی کوئی دو برس قبل۔ ’’  ہاں  یاد ہے  جنید۔ یہ بھی یاد ہے  کہ میرے  منع کرنے  کے  باوجود تم نے  سارا بل ادا کر دیا تھا۔

          کیا چھوٹی چھوٹی باتوں  کو یاد رکھتے  ہو یار۔ پہلے  یہ بتاؤ کیا تم نے  سارنگ پور ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  چھوڑ دیا۔

          ایسا تو نہیں  مگر بمبئی کی مہا نگری میں  ٹامک ٹوئیاں  ضرور مار رہا ہوں۔

          اشرف تم نے  سارنگ پور چھوڑ کر بڑی غلطی کی۔ ایک تو خاصی بھلی نوکری جاتی رہی۔ دوسرے  وہاں  تمھیں  قدم قدم تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو گا۔

          تکلیف کہاں  نہیں  ہے۔ ہر جگہ ہے۔

          کم از کم تم اپنی والدہ کی خاطر بمبئی چھوڑ کر سارنگ پور آ جاؤ تو زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘

          والدہ کی خاطر۔ ؟ کیا تمھیں  نہیں  معلوم کہ وہ میرے  جانے  کے  بعد ہی اچانک چل بسیں  اب مجھے  پرسہ نہ دو۔ مجھے  ہمدردی جتانے  والوں  سے  ایک گھِن سی آتی ہے۔ تم میرے  ایک اچھے  دوست ہو۔ یقین ہے  تم میری اس بات کا بُرا نہیں  مانو گے۔ جنید تمھیں  یاد ہے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی بھی تھا۔ آج کل وہ دوبئی میں  ہے۔ اس کمینے  نے  ہمیں  یک لخت بھلا دیا۔ میں  نے  اُسے  ماں  کی علالت کی خبر دی تو پتہ ہے  اس نے  کیا کہا۔

          بیماری بوڑھوں  کا مقدر ہے۔ ‘‘

          پھر جب میں  نے  ماں  کی موت کا اسے  ٹیلی گرام بھیجا تو اس نے  دو سطر ہی میں  مجھے  ٹرخا دیا۔ موت برحق ہے۔ ویسے  میں  نے  یہاں  فاتحہ خوانی کا انتظام کروا دیا ہے۔ براہ کرم خط کو محبت کا پیمانہ نہ بنائے۔ میں  یہاں  ہمیشہ مصروف رہتا ہوں۔ ‘‘

          اِس کے  بعد نہ میں  نے  اسے  خط لکھا اور نہ اس نے۔ اب میں  نے  اس کمینے  کو بالکل ہی بھلا دیا ہے۔ یہ ایک لمبی داستان ہے  سن کر کیا کرو گے۔ سوچ رہا ہوں  ریڈی میڈ گارمنٹس کی ایک چھوٹی سی دکان کھول لوں۔ بھنڈی بازار میں  ایک جگہ بھی دیکھ لی ہے۔ ورنہ فٹ پاتھ تو ہے  ہی۔ اُس ذلیل نے  اگر چاہا ہوتا تو میں  یہاں  یوں  دھکے  نہ کھاتا۔ خیر اللہ بڑا کار ساز ہے۔ کچھ نہ کچھ سبیل نکل ہی آئے  گی۔ اب سناؤ تمھارا کیا حال ہے، کیا اب بھی وہی امپورٹ اور ایکسپورٹ والا چکر۔ ‘‘

          ہاں  اس کے  علاوہ کوئی راستہ بھی تو نہیں۔ ‘‘

          ہزار دو ہزار تو ماہانہ کسی طرح مل ہی جاتے  ہوں گے۔ ‘‘

          ہاں  گزر ہو جاتی ہے۔ میں  نے  گول مٹول سا جواب دیا۔ حالانکہ میری ماہانہ آمدنی پانچ چھ ہزار سے  کچھ زیادہ ہی تھی۔

          آؤ سامنے  والا ہوٹل کچھ سونا سونا سا لگ رہا ہے۔ سکون اور گپ بازی کے  لیے  یہ جگہ مناسب ہے۔ ہوٹل پہنچتے  ہی بوڑھے  بیرے  نے  اُسے  اس طرح سلام کیا جیسے  وہ بے  تاج کا بادشاہ ہو۔ کافی یا چائے   یا کچھ اور۔ بیرے  نے  مودبانہ انداز میں  کہا۔

          دونوں  مگر وقفہ وقفہ سے۔ یہ میرا یار جنید ہے  نا۔ ایک زمانہ بعد مجھے  ملا ہے۔ اگر اس نے  بل PAYکرنے  کی کوشش کی تو تم ہر گز نہ لینا ورنہ مجھ سے  بُرا کوئی نہ ہو گا۔ ‘‘

          بھلا میں  آپ کی بات ٹال سکتا ہوں۔ ‘‘

          تھوڑی دیر بعد مجھے  بوڑھا بیرا ٹرے  میں  کافی کے  دو پیالے  ہاتھ میں  تھامے  قریب آتا دکھائی دیا۔ جنید دیکھا یہاں  کی سروس۔ اگر کسی بڑھیا ریستوراں  میں  گئے  ہوتے  تو مینو دیکھنے  ہی میں  آدھا گھنٹہ بیت جاتا  اور آرڈر کی تکمیل تک کم و بیش دو گھنٹے۔ کبھی کبھی تو بڑھا پا بھی دستک دے  جاتا ہے۔ ‘‘

          ’’  بڑی عمدہ چائے  ہے  اشرف۔ تم نے  اچھے  ہوٹل کا انتخاب کیا۔۔۔

          ’’  چلو چائے  تو تمھیں  پسند آ گئی۔ اب جب کافی آئے  تو اس کا بھی مزہ چکھ لینا۔‘‘

          نہیں  یار مجھے  کافی بالکل پسند نہیں۔ جب کبھی میں  نے  اسے  حلق میں  اتارنے  کی کوشش کی، مجھے  محسوس ہوا جیسے  سارے  زمانے  کی تلخیاں  میرے  گلے  میں  تیزاب بھر رہی ہوں۔ ‘‘    

          ’’  تو پھر آرڈر کینسل کروا دیتے  ہیں۔ ‘‘

          ’’  نہیں  نہیں۔ میں  اگر نہ پیوں  تو اس کا یہ مطلب نہیں  کہ تم بھی نہ پیو۔ ‘‘

          ’’  نہیں  آج تمھارا ساتھ دینے  میں  ہی میری عافیت ہے۔ ‘‘

          ’’  تو ٹھیک ہے  دو چائے  اور منگوا لیں  گے  اور کچھ  بسکٹ بھی۔ ‘‘

          بسکٹ میں  کیا دھرا ہے۔ کوئی سادہ سا کھانا ہی منگا لیں یا دو پلیٹ بریانی۔ یہ ہوٹل بریانی کے  لیے  بھی اپنا ایک خاص معیار رکھتا ہے،مگر میں  تمھیں  مجبور نہیں  کروں گا۔ ویسے  سات بج چکے  ہیں۔ رات میں  جلد کھانے  سے  نیند بھی اچھی آتی ہے۔ میری اس لکچر بازی سے  کہیں  تم بور تو نہیں  ہو رہے  ہو۔

          بور ہونے  کی بھی خوب رہی۔ تم جو چاہو یہاں  سے  منگوا سکتے  ہو۔ ‘‘

          پھر میز پر ایک ایک کر کے  وقفے  وقفے  سے  وہ سب چیزیں  آ گئیں۔

          اب وہ تیزی سے  کھانے  لگا۔ جیسے  اُسے  کوئی اہم اپائنمنٹ یاد آ گیا ہو۔

          میں  نے  اس سے  کچھ کہنا مناسب نہیں  سمجھا اور اس کے  تتبع میں  میرا بھی ہاتھ تیزی سے  چلنے  لگا۔ جتنی اس نے  یہاں  کی بریانی کی تعریف کی تھی گو وہ ویسی نہ ہوتے  ہوئے  بھی کچھ بُری بھی نہ تھی۔ بیرے  نے  جوں  ہی میز پر بل رکھا۔ میں  نے  ا چک کر اسے  ہاتھ میں  تھام لیا۔ صرف چالیس روپے۔ ؟

          ’’  نہیں  تیس ہی روپے  ہونا چاہیے۔ شاید ان لوگوں  نے  کچھ دام بڑھا دئیے  ہوں، مگر یہ بل تم کسی صورت بھی  PAYنہیں  کر سکتے۔ کیوں  بوڑھے  بیرے  کو میرے  ہاتھوں  مروانا چاہتے  ہو۔

          میں  نے  دیکھا اب وہ اپنی جیبیں تلاش کر رہا تھا۔

          کہے  دیتا ہوں  یار۔ ایسا کبھی نہ ہو گا۔ تم یہ بل مجھے  دے  دو۔ ‘‘

          لیکن میری مٹھی میں  کاغذ کا وہ پرزہ بند تھا۔ میں  نے  ٹپ (TIP) کی شکل میں پانچ کا ایک نوٹ بھی شامل کر دیا تھا۔

          آخر تم ہی نے  یہ بازی جیت لی جنید۔ یہ جُرأت تمھارے  علاوہ کسی اور نے  کی ہوتی تو میں نے   اس کا دماغ سیدھا کر دیا ہوتا۔ اچھا اب اجازت دو۔ ہو سکے  تو بمبئی جانے  سے  پہلے  ضرور ملوں گا۔ یہ ملاقات کل بھی ہو سکتی ہے  اور ہفتے  بعد بھی۔

          وہ جب چلا گیا تو میں  نے  سکون کا سانس لیا، لیکن میرے  اس سکون میں  بھی ایک عجیب طرح کا اضطراب تھا۔ کیا وہ بل اسے  دینا چاہیے  تھا یا مجھے۔ بیرے  نے  یہ بل اس کے  سامنے  رکھنے  کے  بجائے  میرے  قریب کیوں  رکھا۔ کیا بیرے  کو اس نے  پہلے  ہی سے  یہ ہدایت دے  رکھی تھی۔ توبہ توبہ۔ ان چھوٹی چھوٹی غیر اہم باتوں  نے  آج مجھے  کیوں  اسیر کر رکھا ہے۔

          بھلا چالیس روپے  کا بل بھی کوئی بل ہے  ؟ جب کہ میں  جیسے  تیسے  ماہانہ پانچ ہزار کما لیتا ہوں۔ ابھی تو وہاں  اس کے  پیر بھی نہیں  جمے  ہیں۔ ذہن کے  افق پر اجاگر ہونے  والے  ان سارے  ٹیڑھے  میڑھے  خیالات کو روندتا ہوا میں  آگے  بڑھ گیا۔

          اب میں  اپنے  آپ کو بڑا ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا، مگر رخصت ہونے  سے  پہلے  جو اس نے  دوبارہ ملنے  کا وعدہ کیا تھا۔ کیا عجب کہ اس کی تہ میں  کوئی نہ کوئی مصلحت چھُپی ہو۔ نہیں  نہیں  وہ تو اس وقت شرمندگی کے  بوجھ تلے  کاموں  میں  لگا رہا۔

          پھر اچانک ایک دن سارنگ پور کی بڑی چھاؤنی کے  راستے  پر وہ مجھ سے  ٹکرا گیا۔ یہ حادثہ بھی میری نادانی سے  ہوا۔ اس کی حالت بڑی خستہ تھی۔ لگتا تھا جیسے  ناگہانی آفتوں  نے  اس کی صحت کا کچومر نکال دیا ہو۔ وقتی طور پر ہمدردی کی ایک لہر دل میں  جاگ اٹھی، لیکن ہمدردی کے  اس جذبے  کا میں  نے  فوراً ہی گلا گھونٹ دیا۔

          کیا تم پھر سارنگ پور آ گئے۔ ؟ ‘‘

          تم تو یہی چاہتے  تھے  نا۔ اس کے  لہجے  میں  بھی تلخی تھی۔

          لیکن اس حال میں  نہیں۔ ‘‘

          تو پھر کس حال میں۔ ‘‘

          یہ بھی کوئی پوچھنے  یا بتانے  کی کوئی بات ہے۔         

          ’’تمھیں  میری فکر کرنے  کی چنداں  ضرورت نہیں۔ تم خواہ مخواہ مجھ سے  ٹکرا گئے۔ بڑی چھاؤنی کے  راستے  میں  ایک اندھا کنواں  بھی پڑتا ہے۔ ذرا سنبھل کر جانا۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ آگے  بڑھ گیا۔ اندھا کنواں۔۔۔ ؟  یہاں  تو میں  نے  آج تک کوئی اندھا کنواں  نہیں  دیکھا۔ تو پھر اس نے  مجھ سے  اندھے  کنویں  کی بات کیوں  کی۔ میں  ایک لمحے  کے  لیے  گڑبڑا سا گیا۔ پھر  راستہ چلتے  چلتے  میں  نے  قریب جاتے  ہوئے  راہرو سے  پوچھا۔ بھئی یہاں  کوئی اندھا کنواں  بھی ہے۔ ؟

          اندھا کنواں۔۔۔ ؟ کیا کہہ رہے  ہیں  آپ۔

          نہیں  نہیں  کچھ نہیں۔ بس یونہی پوچھ لیا۔

          کیا یہ نہیں  ہو سکتا کہ ہماری زندگی ایک اندھا کنواں  ہو؟

          یہ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ آج لوگوں  نے  اپنی اپنی آنکھوں  پر پٹیاں  باندھ رکھی ہیں۔

          میں  اس وقت جلدی میں  ہوں۔ ممکن ہے  سارنگ پور کی تاریخ کے  اوراق میں  اسی اندھے  کنویں  کا کہیں  نہ کہیں  کوئی ذکر ہو۔

          اس طرح کئی برس بیت گئے۔ نہ مجھے  اندھا کنواں ہی دکھائی دیا  اور  نہ اشرف۔

          لیکن ایک دن دفعتاً میں  نے  ایک مقامی اخبار میں  ایک اشتہار دیکھا۔

          ’’  دنیا کی پہلی اور آخری تجرباتی فلم  ’اندھا کنواں‘   جو کل سے  بیک وقت دو تھیٹروں  میں  ریلیز ہو رہی ہے۔ رنگ محل اور داستان میں۔

          اس اشتہار کو پڑھ کر مجھے  ایک عجیب سا احساس ہوا اور میں  آنے  والے  کل کا ابھی سے  انتظار کرنے  لگا،اور وہ کل بھی آ گیا جس کا مجھے  انتظار تھا۔ شام سے  پہلے  ہی میں  نے  رنگ محل کا رخ کیا۔

          فلم شروع ہونے  میں  ابھی چند ہی منٹ باقی تھے، لیکن دور دور تک کہیں  بھی لوگ دکھائی نہیں  دے  رہے  تھے۔ کہیں ایسا تو نہیں  کہ تھیٹر بھر چکا ہو اور کوئی بھی سیٹ خالی نہ ہو، لیکن ہاؤس فل کا بورڈ تو لگا رہنا چاہیے۔ میں  ایک لمحے  کے  لیے  ڈگمگا سا گیا۔ دفعتاً میری نگاہ بکنگ ونڈو پر گئی جہاں  ایک ادھیڑ عمر کا آدمی کھڑکی کے  سوراخ سے  یوں  جھانک رہا تھا جیسے  وہ کسی ذہنی عذاب میں  مبتلا ہو۔

          میں  نے  پانچ کا نوٹ تھماتے  ہوئے  اس سے  پوچھا۔ کیا پکچر شروع ہو گئی۔ ؟

          بس اب شروع ہونے  کو ہے۔ ‘‘

          مگر ٹکٹ پر سیٹ نمبر درج نہیں  ہے۔ ‘‘

          کوئی بات نہیں  ہے  صاحب۔ آپ جہاں  اور جس جگہ چاہیں  بیٹھ سکتے  ہیں۔ پورا ہال۔۔۔  ابھی اس نے  اپنا جملہ پورا کیا ہی نہ تھا کہ میں  تیزی سے  سینما ہال میں  داخل ہو گیا۔ فلم ابھی ابھی شروع ہوئی تھی۔ میں  نے  دیکھا سینما ہال کی مدھم روشنی میں، میرے  علاوہ صرف ایک آدمی تھا جس کی آنکھیں  ایک عجیب و غریب سیاہ چشمے  سے  ڈھکی ہوئی تھیں۔ یکبارگی مجھے  لگا وہ اپنی شخصیت کے  ہر بنِ مو کو مجھ سے  چھپانا چاہتا ہو۔

          پھر جب پکچر ختم ہوئی وہ آدمی سینما ہال سے  نکل کر دھیرے  دھیرے  چلنے  لگا۔ جیسے  وہ اپنے  ہی قدموں  کی مدھم چاپ سے  گھبرا رہا ہو  یا اسے  اس بات کا ڈر ہو کہ کہیں  کوئی اچانک اس سے  ٹکرا نہ جائے۔

          مجھے  شبہ سا ہوا کہ میں  نے  اسے  کہیں  دیکھا ہے۔ کہاں۔ ؟ کچھ بھی تو یاد نہیں۔

          دنیا کی پہلی اور آخری تجرباتی فلم جو ابھی ابھی میں  نے  دیکھی تھی اس کا تاثر ہولے  ہولے  میرے  ذہن پر ضربیں  لگا رہا تھا۔

          مگر یہ کیا۔ کچھ لوگ آنکھوں  پر سیاہ پٹیاں  باندھے  اس کی طرف کیوں  بڑھ رہے  ہیں۔ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ اندھے  کنویں  کے  سحر نے  ان کے  پاؤں  میں  پھر ایک بار بیڑیاں  ڈال دی ہوں۔  ‘‘

٭٭٭