کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کیا !!!

اشتیاق احمد


تینوں ملازم اور مالی دوڑ کر اندر داخل ہوئے تو ان کی جان میں جان آئی۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔ یہ آنے کا کون سا طریقہ ہے ؟ وہ۔ جی ہم نے۔ شکار پکڑ لیا ہے۔ ایک نے ہانپ کر کہا۔ شکار پکڑ لیا۔ یہ تم نے شکار کب سے کھیلنا شروع کر دیا۔ وہ۔ شکار سے مراد۔ پوسٹر لگانے والے۔ کیا !!! ساتوں اچھل کر کھڑے ہو گئے۔

کیا کہا تم نے۔۔ تم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا ہے۔ جنہوں نے وہ پوسٹر لگا یا ہے۔

ہاں ! ہم نے انہیں جال میں قید کر دیا ہے۔

جال۔ کیا مطلب ؟ شاکان نے حیران ہو کر کہا۔ جی وہ۔۔ میں نے ہرن وغیرہ پکڑنے کے لیے ایک جال بنا رکھا ہے۔ کبھی کبھی ہرن سبزہ زار میں آ جات ہیں تو میں انہیں پکڑ کر اپنے سبزہ زار کے چڑیا گھر میں چھوڑ دیتا ہوں۔ اوہ۔ آؤ دیکھیں۔ وہ لوگ کون ہیں۔ جو ہمیں مت کی خبر سنا رہے تھے۔ وہ ان کے ساتھ باہر نکلے۔ دروازے پر ہی وہ جال میں کسے نظر آئے جال کا منہ اچھی طرح باندھ دیا گیا تھا۔

اگر ہم چاہتے تو اس جال سے کب کے نکل چکے ہوتے ، لیکن ہم جانتے ہیں چونکہ آ پ نے غلط فہمی کی بنا پر ہمیں پکڑا ہے۔ اس لیے ہم نے اس جال کو نقصان نہیں پہنچایا۔

بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کرو۔ اس جال سے نکلنا تم لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ اچھا یہ بات ہے۔۔ پھر اپنے جال کے نقصان کی شکایت نہ کرنا۔ نہیں کروں گا۔ نکل کر دکھا و میں تو تمہیں ایک سو روپے انعام بھی دوں گا۔ مالی نے خوش ہو کر کہا۔ اب یہ انعام بھی جیتنا پڑے گا۔ فاروق نے سرد آہ بھری۔ تم  لوگ ہو کون۔ اور اس بے ہودہ مذاق کی کیا تک تھی۔ بے ہودہ مذاق کی بھی بھلا تک ہو سکتی ہے۔ پہلے تو تم لوگ اس جال کو کاٹ کر دکھاؤ۔ پھر ہم تم سے بات کریں گے۔ خان بدیع نے بھنا کر کہا۔ یہ کیا مشکل ہے۔ ابھی لیں۔ یہ کہہ کر محمود نے جوتے کی ایڑی میں سے اپنا چاقو نکالا اور جال کاٹ کر رکھ دیا دوسرے لمحے وہ جال سے باہر تھے۔ اور مالی کھڑا پلکیں جھپک رہا تھا۔ بہت خوب تو تم لوگوں کے پاس چاقو تھا۔ خیر جال کی بات چھوڑو۔ وہ تو اب کٹ چکا ہے۔۔ مالی خود اس کی مرمت کر لے گا۔ اب یہ بتا و کہ تم نے یہ پوسٹر یہاں کیوں لگایا تھا ؟

ہم نے لگایا تھا۔۔ خدا کا خوف کریں ، ہم کیوں لگاتے پوسٹر ہمیں کیا ضرورت تھی پوسٹر لگانے کی۔۔ ہمارا دماغ تو نہیں چل گیا کہ لگاتے یہاں پوسٹر۔ فاروق نے جھلائے ہوئے انداز میں کہا۔ یار کیا پوسٹر پوسٹر لگا رکھی ہے۔۔ کام کی بات کرنے دو پہلے مجھے۔ محمود نے جھلا کر کہا۔ اچھی بات ہے۔۔ وہ تم کر لو۔ فاروق نے فوراً کہا۔ دیکھیے جناب۔ اس پوسٹر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہم تو دوسرے شہر سے چلے آ رہے تھے کہ ٹائر پھٹ گیا۔ ہمیں یہ عمارت نظر آئی۔ یہاں کچھ کاریں نظر آئیں تو سوچا شاید یہاں سے ایک عدد ٹائر مل جائے لیکن یہاں تو ہمیں لینے کے دینے پڑ گئے۔ حد ہو گئی یعنی کہ آپ ہمارے ساتھ چل کر ہماری کار دیکھ لیں ، کار کا پھٹا ہوا ٹائر دیکھ لیں آپ کو ہمارے بیان کی سچائی معلوم ہو جائے گی۔۔

ہوں ! ہو سکتا ہے۔ یہ سچ کہہ رہے ہوں۔۔ ویسے یہ مجھے ایسے لگتے نہیں۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔ دیکھیے خان بدیع۔۔ طاؤس جان نہ کچھ کہنا چاہا کہ فاروق نے بات کاٹ دی۔۔

آپ نے کیا نام لیا۔ خان بدی۔ یہ کیا نام ہوا ؟ اے خبردار۔ میں خان بدیع ہوں۔ ب د ی ع۔۔ اوہ اچھا۔۔ آپ وہ والے بدیع ہیں میں سمجھا تھا بدی والے بدی۔۔ فاروق نے گڑ بڑا کر کہا۔ یار کیا اوٹ پٹانگ باتیں کر رہے ہو۔۔ کبھی بدیع الزمان نام نہیں سنا کسی کا۔ ہاں ! کیوں نہیں سنا : فاروق بولا۔

آپ کیا کہہ رہے تھے طاؤس جان۔ خان بدیع ان کی طرف مڑے۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں کیا معلوم یہ کیسے ہیں جب تک ہمارا اطمینان نہیں ہو جاتا ہم انہیں نہیں چھوڑ سکتے۔ اب ہم خود بھی چھوڑا جانا پسند نہیں کریں گے۔ محمود مسکرایا۔ کیا مطلب۔ وہ چونکے۔۔ یہ بتائیں۔۔ پوسٹر کا چکر کیا ہے ؟ دیکھا۔۔ اب یہ انجان بن کر دکھائیں گے۔۔ طاؤس جان نے چمک کر کہا۔۔ اوہو! بات تو کرنے دیں ہم بھاگے تو نہیں جا رہے۔ ویسے ہم چاہیں تو ابھی اور اسی وقت آپ لوگوں کو آپ لوگوں کے سامنے بھاگ کر دکھا سکتے ہیں اور آپ لوگ ہمیں نہیں پکڑ سکیں گے۔۔ بلکہ آپ لوگ تو ہماری گرد کو بھی نہیں چھو سکیں گے اگر یقین نہیں تو ہاتھ کنگن کو آرسی کیا کر لیں تجربہ۔۔ ہو جائیں دو دو ہاتھ۔۔ کیا خیال ہے۔ دکھائیں بھاگ کر۔۔ میرا مطلب ہے دکھائیں آپ لوگوں کو دن میں تارے۔ فاروق نے بہت تیزی سے کہا۔

 توبہ ہے تم سے۔۔ آپ لوگ اور محاورات کے پیچھے اپنے اس پیرے میں ہاتھ دھو کر پڑ گئے اف مالک۔۔ محمود نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا۔۔

تو اپنے پیرے میں پڑ گیا۔ تمہارے پیرے میں تو نہیں پڑا۔۔ جب تمہارے پیرے میں دخل اندازی کروں گا۔۔ پھر بات کرنا۔۔

یہ تو بہت بڑ ھ بڑھ کر باتیں بنا رہے ہیں حالانکہ یہ یہاں سے ہماری مرضی کے بغیر بھاگ کر بھی نہیں دکھا سکیں گے۔۔ کیونکہ میں بھی دوڑ کے ان گنت مقابلے جیت رکھے ہیں۔ شوبی تارا نے کہا۔۔ بہت خوب مسٹر شوبی تارا خان بدیع نے خوش ہو کر کہا۔۔ شوبی تارا یہ نام بھی کچھ کم عجیب نہیں ہے خیر جیسا بھی ہے ہاں تو مسٹر تارا اگر آپ کا دعوی ہے تو پھر آپ ہمیں پکڑ کر دکھا دیں۔۔

ضرور کیوں نہیں۔۔

آؤ بھئی۔۔ ذرا انہیں فرار ہو کر دکھائیں۔۔

تینوں نے ان الفاظ کے ساتھ دوڑ لگا دی۔۔ شوبی تارا نے فوراً ان کے پیچھے دوڑ لگا دی۔۔ اور باقی لوگ بے تحاشہ ان کے پیچھے دوڑ پڑے لیکن بہت جلد ان لوگوں نے محسوس کر لیا کہ وہ تینوں شوبی تارا کے ہاتھ آنے والے نہیں ہیں۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے تینوں نظروں سے اوجھل ہو گئے۔۔

افسوس شوبی تارا کی بے وقوفی سے وہ لوگ فرار ہو گئے۔۔ مجھے بھی بہت افسوس ہے۔ میں سے سکول اور کالج کے زمانے میں ضرور دوڑ کے مقابلے جیتے تھے۔۔ لیکن اب میں بچہ نہیں ہوں۔۔ کہ ان کے مقابلے میں دوڑ سکتا۔۔ یہ تینوں تو چھلاوے لگتے ہیں خیر۔۔ کمشنر صاحب کا بھیجا ہوا سراغ رساں ان کا خود ہی سراغ لگا لے گا۔ ہم اسے ان کے بارے میں بتا دیں گے۔۔ چلیے ٹھیک ہے اب وہیں چل کر بیٹھے ہیں اب تو ہمیں سراغ رساں کا انتظار کرنا ہی پڑے گا۔۔ وہ اندر جانے کے لیے مڑے ہی تھی کہ دوڑتے قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔۔ اور پھر ان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔ وہ تینوں دوڑتے ہوئے چلے آ رہے تھے آخر وہ ان کے نزدیک آ کر رک گے

آپ لوگ ہمیں نہیں پکڑ سکے نا۔۔ ہم نے پہلے ہی کہ دیا تھا۔

کمال۔۔ ہم نے تو خیال کیا تھا کہ تم لوگوں نے فرار ہونے کے لیے دوڑ کے مقابلے کا ڈراما رچایا تھا۔۔ خان بدیع نے حیران ہو کر کہا۔

آپ کا خیال سو فیصد غلط ہے۔۔ ہم اگر فرار ہونا چاہیں تو یہ کام ہمارے لیے چنداں مشکل نہیں تھا۔ بلکہ ہم تو آپ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آپ میں سے کسی کی کار لے کر فرار ہو سکتے تھی۔

کیا کہا۔۔ کار لے کر۔۔ ناممکن۔۔ سب کاریں لاک ہیں۔ تم لوگ دروازے کس طرح کھولو گے۔۔ جب تک تم کھولنے کی کوشش کرو گے۔۔ اس وقت تک ہم تم لوگوں تک پہنچ چکے ہوں گے۔۔ آؤ بھئی۔۔ ذرا انہیں یہ کھیل بھی دکھا دیں۔۔ فاروق نے کہا۔۔ چلو۔

انہوں نے اس قدر تیز دوڑ لگائی کہ وہ دھک سے رہ گئے اور جب وہ دوڑتے ہوئے کاروں کے پاس پہنچے وہ ایک کار کے دروازے میں چابی لگا کر اسے کھول چکے تھے ان میں سے ایک ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر انجن سٹارٹ کر چکا تھا۔ اور پھر جب وہ اس کار کی طرف دوڑے تو کار یہ جا وہ جا۔

افسوس ہم ان کے جال میں آ گئے۔۔ یہ تو لٹیرے اور اٹھائی گیرے قسم کے بچے ہیں۔۔ اب ہم کار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔۔ دراصل ان کی اسکیم یہی تھی۔۔ طاؤس جان نے فوراً کہا۔ اگر ان کی یہ سکیم ہوتی تو انہیں ہم سے آ کر ملنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔ وہ تو خاموشی سے کار لے جا سکتے تھے اور ہم ہرگز انہیں نہ پکڑ سکتے۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔

میرا خیال ہے۔۔ خان صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ یہ لوگ چور ہرگز نہیں ہیں میرا خیال ہے ان کے ساتھ چل کر ان کی بات کی تصدیق کر لیتے ہیں  اور انہیں ایک عدد ٹائر دے دیتے ہیں۔ شاکان جاہ نے کہا دے تو ہم اس صورت میں دیں گے نا جب وہ واپس آئیں گے۔۔ مجھے تو وہ واپس آتے نظر نہیں آ تے طاؤس جان نے کہا اسی وقت کار واپس آ تی نظر آ گئی۔۔

لیجیے وہ آ گے واپس۔۔ خان بدیع نے مسکرا کر کہا۔ طاؤس جان کا منہ لٹک گیا اسی وقت کار اسی جگہ آ کھڑی ہوئی اور تینوں اس سے اتر کر ان کے سامنے آ گئے۔۔ محمود نے کہا۔ اب آ پ لوگ ہمارے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ آپ لوگوں کی کار کہاں ہے۔۔ اس طرف کچھ فاصلے پر۔۔ آئیے دیکھتے ہیں۔ دو کاروں میں سوار ہو کر وہ ان کی کار تک پہنچے پھر واپس آ کر خان بدیع نے کہا۔ آپ ٹائر لے سکتے ہیں۔۔ افسوس اب ہم ٹائر لے کر اس وقت نہیں جا سکتے۔۔ کیا مطلب اب کیا بات ہو گئی۔ خان بدیع نے حیران ہو کر کہا۔ پہلے ہم اس پوسٹر کا معاملہ صاف کریں گے۔۔ ارے تو یہ تم لوگوں نے ہی لگایا ہے۔۔ خان بدیع چونکے۔۔ نہیں ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کیا چکر ہے۔ پوسٹر کس نے لگایا ہے۔۔ اس نے مذاق کیا ہے یا واقعی وہ آ پ لوگوں میں سے چھے کو قتل کرنا چاہتا ہے۔۔ اور اگر وہ واقعی قتل کرنا چاہتا ہے تو چھ کو کیوں ساتویں کو کیوں چھوڑ دینا چاہتا ہے۔۔

تاکہ ساتواں ان چھے کے قتل کے جرم میں پکڑا جائے اور اس کی طرف کسی کا دھیان بھی نہ جائے۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔

ہوں ! اس بات میں وزن ہے۔۔ لیکن زبردست امکان اس بات کاہے کہ وہ آپ میں سے ہی ہے اور آخر میں خود کو بے گناہ ظاہر کرنے کے لیے اس نے یہ پوسٹر لگایا ہے۔۔

ارے باپ رے۔۔ اس پہلو سے تو ہم نے اب تک نہیں سوچا۔۔ تو اب سوچ لیں۔۔ آپ فکر نہ کریں۔۔ ہمارے اس مسئلے کے لیے پولیس کمشنر صاحب کی طرف سے ایک عدد سراغ رساں یہاں آنے ہی والے ہیں۔۔ اوہ تب تو ٹھیک ہے اب ہم یہاں رک کر کیا کریں گے۔۔ فاروق نے خوش ہو کر کہا۔۔ لیکن سراغ رساں کے آ نے تک تو ہمیں یہاں رکنا ہی چاہیے کہیں قاتل وار نہ کر جائے۔۔ فرزانہ نے کہا۔ فرزانہ نے بے چین ہو کر کہا۔۔

رکنے کو آپ ان کے آنے کے بعد بھی رک سکتے ہیں۔۔ اس عمارت میں بہت جگہ ہے۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔ شکریہ ہم نے اگر ضرورت محسوس کی تو ضرور رکیں گے۔۔ آپ لوگ دارالحکومت جا رہے تھے ؟ خان بدیع نے پوچھا۔۔ جی ہاں ! ہم وہیں رہتے ہیں۔۔ آئیے اندر چل کر بیٹھتے ہیں خان بدیع نے عمارت کی طرف مڑتے ہوئے کہا۔ وہ ابھی اندر جا کر اطمینان سے بیٹھے بھی نہیں تھے کہ ایک ملازم نے آ کر بتایا۔ کمشنر صاحب کا بھیجا ہوا آدمی آ گیا ہے۔۔ انہیں یہیں لے آ و۔ خان بدیع نے کہا۔ ملازم فوراً چلا گیا۔۔ کمال ہے اس قدر جلد بھیج دیا انہوں نے آدمی فارغ ہو گا۔ اسی وقت روانہ کر دیا ہو گا۔

جلد ہی لمبے قدر کا دبلا پتلا اور خوب صورت آدمی تیز تیز قدم چلتا ہوا ان کے پاس آ پہنچا۔۔

السلام علیکم حاضرین۔۔ مجھے کمشنر صاحب نے بھیجا ہے۔۔ اور میرا نام خادم حسین راہی ہے۔ اس نے ایک ایک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا پھر جونہی اس کی نظر ان تینوں پر پڑی وہ زور سے اچھلا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت دوڑ گئی بلکہ پل بھر کے لیے تو انہیں یوں لگا جیسے وہ پریشان ہو گیا ہو۔۔ پھر اس نے خود کو پرسکون کرتے ہوئے کہا۔۔ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔۔ آپ لوگ اور یہاں۔۔ پھر میری یہاں کیا ضرورت تھی ؟ اب اس کا لہجہ نا خوش گوار ہو گیا تھا۔۔ کیا مطلب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ خان بدیع نے کہا۔

ہائیں آپ انہیں نہیں جانتے ؟ اس نے اور بھی حیران ہو کر کہا۔۔ نہیں یہ لوگ دوسرے شہر سے اپنی کار پر آ رہے تھے کہ ان کا ٹائر پھٹ گیا یہاں انہیں کاریں نظر آئیں تو یہ ٹائر کی امید میں چلے آئے۔۔لیکن آ پ انہیں کس طرح جانتے ہیں ؟ میں انہیں کیوں نہ جانوں گا۔۔ یہ انسپکٹر جمشید کے بچے ہیں۔

کیا !!! اس بار حاضرین ایک ساتھ چلائے۔۔