کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ہیپی مدرز ڈے

فاطمہ زہرا جبین


ماں! جب میں چھوٹی سی بچی تھی تو اک بار میں نے جب تمہیں ہیپی مدرز ڈے کہا تو تم نے ٹوک دیا تھا کہ یہ غیر اسلامی ہے  … .. لیکن آج عمر کے اس پختہ دوراہے پر پہنچ کر  … .. جب میرے اپنے پاس وقت بہت کم رہ گیا  ہے  … .. تم سے ملاقات کو ربع صدی گزری … .. تو آج اس  ربع صدی کا سفر طے کرنے کے بعد پھر اُسی مچلتی ہوئی خواہش نے جنم لیا ہے  … .. اک دن تمہارے قدموں میں بسر کرنے کی آرزو اور جستجو  … ..  سو آج  کا دن ماں   … .. میری ماں  تمہارے نام … .. ہیپی مدرز ڈے

 ماں! دنیا ہے پر تم نہیں ہو … .. کہیں بھی نہیں ہو … .. صرف احساس  ہے جو وجود کے ساتھ ساتھ چلتا ہے  … ..  ماں  … .. تم جانتی ہو کہ میں نے تمہیں آنکھ کھول کر دیکھنے سے پہلے تمہارے شکم کی گرمی میں تمہیں اور تمہاری لازوال چاہت کو جانچا تھا … .. مجھے کہنے دو … .. آج مدرز ڈے ہے  … .. زندگی کا تھکا ہوا جلسہ … .. وہ قطرہِ زمزم جسکی ایوانِ حیات کے چہار کونوں میں جستجو کی گئی تھی … .. اُس کی سعی نامکمل رہ گی.

محبتیں بے زبان ہوتی ہیں ماں کی مامتا کی طرح … .. جو نہ کبھی محبتوں سے انکار کرتی ہے اور نہ نفرتوں کا اقرار … .. وہ میرا بچپنا … .. اُس سے الجھنا … .. کبھی کبھار روٹھنا۔ ۔ کھانا چھوڑ دینا … .. اور اچانک اُس کی ڈانٹ پر ٹوٹ جانا … .. اُسی کی طرف لپکنا اور پگھلتی ہوئی برف کی مانند اس کے فراغ سینے میں دوڑ کر  منہ چھپا کر اس کے حسین لمس کی گلاب پتیاں سمیٹ لینا کتنا حسینو قیامت خیز تھا … .. وہ منظر … .. وہ منظر  آج بھی میری آنکھ کی پتلی میں منجمد و مقید ہے  … .. میں جتنا سوچتی ہوں  … .. کھوجتی ہوں  … ..  اُس سے کہیں زیادہ کھو دیتی  ہوں .. ماں تم سے لازوال عشق کے بعد اب نظر میں کچھ نہیں سماتا … .. تم صدیوں کا   ورثہ ہو … .. مگر آج وقت کی  دہلیز پر جب میں تنِ تنہا کھڑی ہوں  … . جہاں وجود اور روح دونوں ہی میں سناٹا ہے۔ ۔ ۔ تو میری عظیم ماں تم یہ تو بتاؤ میں تمہارا ورثہ کیوں نہ بن سکی … ..

ماں! تم میری جنت تھیں۔ ۔ میری بساطِ حیات تمہارے نام سے بچھی تھی … .. میری عزتیں، میری راحتیں تم سے  تھیں اور تم ہی میں تھیں  … .. تم تو جانتی ہو اٹھارہ کے سن میں میرے وجود کا پہلا حصہ کھیل نہ تھا خوف تھا … .. عجیب سفر تھا … .. سمندروں کا۔ ۔ جزیروں کا … .. محبتوں سے بے اعتنائیوں تک کا۔ ۔ اک

لامتناہی سفر۔ ۔ جو اب اختتام پذیر ہے تو ایک عجیب سا احساس در آیا ہے   …   اک جستجو سی جاگ اُٹھی ہے   …   اک اور منزل آسمانوں سے پُکارتی ہے   …   کہ  …   اچانک ہی زمیں شق ہو جائے  …  آسماں دو حصوں میں منقسم ہو جائے اور کہیں تم مجھے مل جاؤ۔ ۔ اور وہ مامتا کی نوری بوندیں  … .. وہ اشک کا سنہرا ساگر … .. وہ میری ماں کی چمکتی آنکھیں  … .. جنہیں اب بھی میں اپنے سلگتے لبوں سے چوم لیتی ہوں  … .. ماں  … ..میری ماں تم جو جنت مکیں ہو کیا میرے سرد وجود میں پنہاں آخری گرم آرزو کو دیکھتی ہو  … . کیا عرش پہ تم میرے لبوں کی گرمی کو محسوس کرتی ہو  … ..

ماں! اب تم  سنو میرا احوال غم … .. تم بھی ماں اور میں بھی … .. پھر ہماری تقدیریں اتنی جدا جدا کیوں  … .. ماں جنت ہے  … .. ماں کائنات  ہے  … .. پھر میرے اور تمہارے درمیاں اتنا فرق کیوں  … .. کیا اسے نصیوں کا فاصلہ کہتے ہیں یا دور جدید کی ایجاد … .. میں جانتی ہوں یہ وسیلوں کا سفر  ہے جو صدیوں کی رہگزروں سے گزرتا ہے تو تکمیلِ عشق ہوتی  ہے  … .. جہاں رویوں کے تن اور درخت سایہ دیتے ہیں  … .. ہم کہ جو صدیوں کے کرب سے گزر کر یہاں پہنچے تو جلد ہی اِس احساس نے مار دیا کہ ہم سا تنہا کون ہو گا جو اپنی ماں کی مہد سے تو بچھڑ ہی گیا تھا اور اُسے اب اپنی ہی لحد کی فکر بھی ہے  … .. اور کیوں نہ ہو چار کندھا دینے والوں کی موجودگی کے باوجود اک خوف رگوں سے گزرتا ہے کہ کیسے گھر سے لہد کے سفر کی تکمیل ہو گی … .. یہ زندگی اب صرف درد، آہوں اور کراہوں میں گم ہے  … .. درد کا رشتہ … .. کربِ شکستہ جو  ہے  ذات سے پیوستہ … .. ماں کیسے میں بکھری  ہوئی ریت کی مانند صحرا ہو گئی اور زندگی سوالوں میں کیوں گھِر رہ گئی … .. اور کب تک گھری رہوں گی  … .. ہاں۔ یہ عہدِ جدید ہے  … ..  ایجادوں کی صدی … .. جس میں اِس ماں کا   اپنا اعزازِ ہی  کھو گیا … .. ایسا کیوں۔ ۔ آج … .. ایجادوں کے اِس عہد ساز دور میں ماں کیلے ایک پوری صدی کیوں نہیں مختص کی جاتی … .. کیا ماں صدیوں کی امیں نہیں بن سکتی … .. کوئی  کیوں نہیں سوچتا … ..

یہ سرد اُجالے میری محبت کی حدت کو کیوں نہیں پہچانتے  … .. کیوں نہیں مانتے  … .. یہ رخسار جو اب آنسو سنبھالتے ہیں  … .. یہ لب جو اب سسکیاں جذب کرتے ہیں  … .. ان میں اب امیدوں کے  روشن چراغ کیوں نہیں جلتے  …  اور یہاں یہی سوال میں اِس صدی کے سینے پر چھوڑتی  ہوں  … .. وہ لمحہ جب جنت میرے قدموں سے بے نشاں کی جا رہی تھی اُس   وقت ایک نسل جو جوانی کے خود سر گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑ  رہی تھی اُس نسل نے پلٹ کر آنے والے دور کے خطرے کو کیوں نہیں جانچا … . اگر میرے وجود کا وہ انمول حصہ خود آگہی رکھتا تو میری آنکھوں کے جگنو دمک رہے  ہوتے  …  اور ساحل پُر سکوں ہوتا … .. لیکن ایسا نہ ہوا … .. اور ماں  … .. میری ماں  میں پھر تنہا ہوں  … .. میں جانتی  ہوں ماں کہ تم سے بچھڑ کر بھی آج تک نہ بچھڑ سکی … .. لیکن میرے لعلوں نے مجھ سے بچھڑنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہ سوچا … .. ایسا کیوں  ہوا۔ ۔ ماں میں تمہارے جواب کا انتظار کروں گی  کہ  میرا سر ماؤف ہوا جاتا ہے۔ ۔ ۔ اُس اسٹور میں جہاں میں  کھڑی دیکھ رہی ہوں  … .. جہاں لوگ  اپنی اپنی  ماؤں کیلئے پھولوں کے گلدستے خرید رہے تھے  …  میں اداس کونے میں کھڑی وہ لمحے اپنی آنکھوں میں جذب کر رہی تھی.. کہ ایک بچی دوڑتی ہوئی میرے نزدیک آئی اور گلاب کی اک شاخ میری جانب بڑھائی …  اور بولی …

 "ہیپی مدرز ڈے  …  تم کیوں اداس ہو … ..‘ میرے لب بھی  میری روح کی طرح ساکت ہو گئے تھے . وہ پھول اور اس بچی کا امڈتا ہوا بے لوث پیار اور میری ممتا کی روٹھی ہوئی پکار … .. آنکھیں اشکبار.. دلِ سوگوار …  سوچتی تھی کہ آج کہاں کھڑی ہوں  …  میں تو وہاں بھی نہیں کھڑی جہاں سے ہجرت کا قصد کیا تھا … .. اور وہاں بھی نہیں ‌جہاں سے آغازِ حیات ہوا تھا … .. اور شاید وہ جگہ بھی کہیں کھو گئی جہاں کی مٹی اک مزار کی امیں تھی …  میں جو بے نشاں رہ گئی تھی  … .. زندگی کے حین منظر دیدۂ تر میں محفوظ کر کے آرزوؤں کو وقت کی گٹھری میں باندھ کر … .. میں چلی.. اپنی سرد ہتھیلیوں میں دُعاؤں کے خزانے لئے .. اپنے آقا کے حضور … .. کہ الٰہی.. تو اُن کو محفوظ رکھنا جنہیں میں نے اپنی کوکھ میں نو ماہ تک تیری رضا سے محفوظ رکھا … .. یہ بچے تیری دنیا میں میری امانت ہیں .. اور اُنہیں وہ دن کبھی  تصور میں بھی نہ دکھانا جو مجھ سے میری جنت چھین کر لے  گیا … .. کہ اب میرے پیروں تلے صرف زمیں رہ گئی ہے  …  چند انچ زمیں  …  جنت … .. ڈھل گئی …  کھو گئی.. یا پھر میرا مقدر ہی نہ تھی … .. بس زندگی ایک جوا تھا .. کھیل ہی کھیل میں   … .. میں ہر طرح سے ہار گئی..میرے بچو لوٹ آؤ اس سے قبل کہ میں لوٹ جاؤں۔ ۔ ٓ

ماں  … .. میری ماں  … .. آج  پھر مدرز ڈے پر تم سے ملنے کی آرزوئیں احتجاج کرتی ہیں کہ ماں لوٹ آؤ … .. گر تم نہ آ سکیں تو مجھے  تم سے ملنے کے لیے آسمانوں میں سفر کرنا  ہو گا اور میرے لعلوں کو اُس اداس بستی تک … .. آنکھیں سوکھ گئی ہیں  … .. خواب روٹھ رہے ہیں  … .. ماں اگر میں تمہیں کہیں بھی نہ مل سکوں تو تم مجھے اپنے قدموں میں تلاش لینا کہ وہیں ملوں گی تمہیں  ہیپی مدرز ڈے کہنے  … ..

٭٭٭