کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

طیراً ابابیل

فہمیدہ ریاض


نئے ہفتے کا پہلا دن سب سے مشکل تھا۔ دفتر میں چھ افراد پر مشتمل ایک پوری ٹیم اس کی منتظر تھی۔ نئی ڈکشنری کا پراجیکٹ شروع ہو چکا تھا۔ افسر خاتون سے فرمائش کی گئی تھی کہ پہلے وہ نئی ڈکشنری کے "اصولیات تالیف" بتائے۔

"اصولیات تالیف، یا خدا!" اس نے دل ہی دل میں سر پیٹ کر کہا تھا۔ "میرے فرشتوں کو بھی کسی نئی، یا پرانی ڈکشنری کے اصولیات تالیف کا بھلا کیا پتہ؟"

"پرانی ڈکشنریوں کے اصولیات پڑھ لیجیے۔" اس نے کہا تھا۔

"لیکن یہ تو نئی ڈکشنری ہے۔ یہ مختلف ہو گی، یہی تو ہمارا دعویٰ تھا، اسی پر تو پراجیکٹ ملا ہے۔"

عورت نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا جو بہرحال قمیص سے ڈھکا ہوا تھا۔ "یا پیٹ!" اس نے سوچا۔ "تیری خاطر میں نے ڈکشنری بنانے کی ملازمت کر لی۔" یہ ملازمت اسے ایک اچھی انگریزی میں لکھی ہوئی درخواست کی بنا پر دی گئی تھی، بلکہ دے ڈالی گئی تھی۔ اس احتمال کے ساتھ کہ اردو تو اسے خوب آتی ہی ہو گی۔ پیٹ پوجا کے چکر میں اس نے کبھی ایک بائی لنگوئل ڈکشنری پر تھوڑا سا کام بھی کیا تھا۔ لیکن اردو کی ڈکشنری! یا اللہ! یہ تو ایک بالکل دوسری دنیا تھی۔

"ہم جو دعویٰ کیا ہے، یعنی دعوے کی جو تفصیل ہے، اسے پڑھ کر اس کے مطابق بنانا شروع کر دیجیے۔ دس بارہ صفحات کے بعد دیکھیں گے کہ ہم نے کیا کیا ہے۔ وہی ہمارے اصولیات ہوں گے۔ پھر وہ ہم لکھ لیں گے۔" اس کے دماغ نے تیزی سے کام کرتے ہوئے اسے سجھایا تھا۔ یہی بات اس نے ٹیم کو بتا دی تھی۔ انھوں نے سو پچاس صفحات پر کام کر کے نئی ڈکشنری کے چار صفحے بنا ڈالے تھے۔ اور آج۔۔۔آج اسے ان پر بات چیت کرنی تھی۔ ڈسکشن۔۔۔جو دراصل بحث نہیں ہوتا۔ بحث کا کیا سوال؟ تبادلۂ خیالات؟ ایک بنائی ہوئی ترکیب جو دراصل اس کے کلچر میں نہیں ہوتا۔ مخالفت ہوتی ہے، جو بحث بنتی ہے اور پھر اس کے بعد ہوتی ہے لڑائی۔ ہا ہا ہا۔ عورت نے سوچا تھا۔

چہرے کو ٹشو پیپر سے صاف کرتے ہوئے چائے کی پیالی کا پہلا گھونٹ بھرتے ہوئے اس نے سوچا تھا۔ اگر میں آج نہ آتی؟ شہر میں ہر طرف قتل کی وارداتیں ہو رہی تھیں۔ جانے کب سے چل رہا تھا یہ سلسلہ؟عاشورہ کے روز خودکش دھماکوں سے تعزیتی جلوس میں چالیس سے زیادہ مرد عورتیں بچے جاں بحق ہوئے، یہ کوئی مہینہ بھر پہلے کی بات تھی۔ اس کے بعد ہر روز منتخب افراد کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا سلسلہ چل نکلا تھا۔ رات اس کے ایک دوست نے فون پر کہا تھا کہ شہر میں افواہ گردش کر رہی ہے کہ کل وارداتیں پوری شدت سے ہوں گی اور یہ کہ وہ احتیاط کرے۔ صبح عورت احتیاطاً تھوڑی دیر بستر میں لیٹی رہی تھی، پھر عاجز آ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ خودکش دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ تو ختم ہونے والا نظر آتا نہیں تو پھر کیا ہاتھ پیر توڑ کر گھر بیٹھ جایا جائے؟

باہر سے پھیری والے کی آواز آ رہی تھی، "لے لو آلو ، مٹر، ٹماٹر، گاجر"۔ آخر یہ کیوں نہ ڈرا؟ اس نے سوچا تھا۔ سبزی منڈی سے ٹھیلہ بھر کر آیا ہو گا۔ کراچی کے شہری سرعت سے ناگہانی موت کے امکان کے عادی ہو گئے تھے اور اپنے اپنے کام سے لگے رہے تھے۔ پس وہ بھی منھ پر چھپکا مار کر دفتر آ گئی۔

تو ایسے بسم اللہ! اس نے ٹیم کے ارکان سے کہا جو اس کے دفتر میں آ چکے تھے۔ ان کے چہروں پر ہمیشہ ایک دھند سی چھائی رہتی تھی جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہے ہوں۔ صرف کبھی کبھی ان کی آنکھوں میں ایک چمک کا شرارہ نظر آتا تھا۔ ان میں زیادہ تر باریش تھے۔ عورت کے سامنے سیاہ اور کھچڑی، گھنی اور پتلی داڑھیوں کا ایک جال سا پھیلا ہوا تھا۔ ڈسکشن کرنے کے لیے وہ گویا اپنے زمین دوز تہہ خانے سے نکل کر آئے تھے۔

"تو چلیے، بسم اللہ۔ الف مقصورہ" اس نے بہ آواز بلند کہا اور سوچا کہ اس الف سے کوئی قصور ہوا ہو گا۔ جب کہ الف ممدوحہ نے بڑے اچھے کام کیے ہوں گے جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا ہوتی ہے۔ اس کامیاب خیال پر وہ بے حد خوش ہوئی تھی۔ تب ٹیم کے ایک ممبر نے کہا، "ممدوحہ نہیں ممدودہ۔ حائے حطی نہیں اس لفظ میں۔"

"نہیں ہو گی۔۔۔" اس نے شرمندہ ہو کر کہا۔ سب سے پہلے وہ "اب" تک پہنچے۔

"ماخذ لکھ رہے ہیں نا؟" اس نے پوچھا۔

"جی ہاں۔ سب سے پہلے لکھ رہے ہیں۔"

اب کے آگے درج تھا، "قدیم آریائی۔"

"قدیم آریائی؟ یعنی سنسکرت سے بھی پرانا؟" عورت نے حیرت سے کہا۔

کمرے میں موجود سب لوگ مبہوت ہو کر' اب' کو دیکھتے رہے۔ اس کا اولین تلفظ "او" سامنے لکھا تھا۔ ہزاروں برس سے یہ ہندوستانیوں ، اور اب پاکستانیوں کے ساتھ لگا چلا آ رہا تھا۔ حیرت انگیز 'اب'! ماضی کے سارے ملبے کو چیرتا پھاڑتا، طوفانوں، زلزلوں ، آتش زنی سے بچ نکلتا۔ جب کہ پہاڑ ڈھے گئے تھے اور "اب" باقی تھا۔ کسی قدیم، دھندلائے ہوئے، مدفون ماضی کی یادگار ۔۔۔"میں تھا۔۔۔میں ہوں" کہتا ہوا ۔ کون کہتا ہے پتھر آدمی سے زیادہ دیر پا ہیں؟ انھوں نے سوچا تھا۔ پتھر ٹوٹ گئے ہیں، آدمی کے نطق سے بنا لفظ باقی ہے۔ یہ کہاں تک ہمارے ساتھ چلے گا، کون کہہ سکتا ہے؟ تہذیبیں مٹ جائیں گی ، خاک ہو جائیں گی۔ ہوسکتا ہے "اب' 'کپڑے جھاڑ کر نئے آنے والوں ، نئے لوگوں کی زبانوں پر دوبارہ دوڑتا پھرے، شاید وہ شکل بدل لے۔

"اب"!جس کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا۔ دن میں سیکڑوں بار تو اسے کہتے ہوں گے۔ اس قدر قدیم "اب' 'کی خاطر وہ انجانے میں احتراماً چند لمحے خاموش رہے، پھر عربی کے "ابّ' 'اور "ابّ و جد' 'کو جھک جھک کر آداب و تسلیمات کرتے آگے بڑھے۔

"ابتہاج آپ نے نہ ڈالا؟" افسر عورت نے پوچھا۔

"نہیں۔" انھوں نے کہا۔

"گڈ" عورت نے کہا۔ "یہ لفظ اب اردو میں کوئی استعمال نہیں کرتا، لیکن پھر ابتسام کیوں شامل کر لیا؟

داڑھیاں مسکرائیں، مگر خاموش رہیں۔

"میرے خیال میں اس کی ضرورت نہ تھی۔" ایک نے کہا۔

"تھی! تھی؟" دوسرے نے کہا۔ "دیکھیے جب لوگ بچے کا نام رکھنے کے لیے ڈکشنری دیکھیں گے تو۔۔۔یہ الفاظ تو ہونے چاہئیں۔"

"بچے کا نام رکھنے کے لیے وہ ہماری بڑی والی ڈکشنری دیکھ لیں۔" عورت نے خیال آرائی کی۔ اب اسے لگ رہا تھا کہ ابتہاج اور ابتسام دو چھوٹے چھوٹے بھائی ہیں۔ دو ننھے منے کھلنڈرے بچے جو کسی گیند کے پیچھے لڑکھڑاتے ہوئے دوڑ رہے ہیں اور اس نئی ڈکشنری میں داخل ہو گئے ہیں۔

اپنے بے قابو تصور کو لگام ڈال کر عورت نے کہا۔

"دیکھیے، رول آف دی تھمب یہی رکھیں کہ جو الفاظ 1901 سے اور اس کے بعد چھپی ہوئی کتابوں میں موجود ہیں، بس وہی رکھیں گے۔"

بات یہ تھی کہ یہ ادارہ باوا آدم کے زمانے سے اردو میں استعمال ہونے والے الفاظ کی ایک بائیس جلدوں والی ڈکشنری پہلے ہی بنا چکا تھا۔ اب منصوبہ یہ تھا کہ ایک مختصر ڈکشنری بنائی جائے جو محققوں کے علاوہ دوسروں کے بھی کام آسکے۔ منصوبہ ایک جلد کی ڈکشنری کا تھا، لہٰذا کثیر تعداد میں تراکیب اور الفاظ تو چھوڑنے ہی تھے۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ڈکشنری کو بالکل جدید طرز پر بنایا جائے گا۔ یعنی جیسے انگریزی، فرانسیسی وغیرہ کی جدید ڈکشنریاں ہوتی ہیں۔ دعوے میں "یوزر فرینڈلی" قسم کے الفاظ بھی لکھے گئے تھے۔

جب اس نے یہ تجویز رکھی تھی کہ یہ جنرل آئیڈیا لینے کے لیے کسی قسم کے الفاظ کو چھوڑا جا سکتا ہے، ٹیم کے سب ممبران (اور وہ خود) انگریزی کی قدیم ترین اور جدید ترین ڈکشنری کے دس بارہ صفحات کا تقابلی مطالعہ کریں تو ان میں سے ایک نے لال پیلا ہوتے ہوئے اور اکبر کی طرح غیرت قومی سے زمین میں گڑتے ہوئے کہا تھا۔

"گویا ہم ان کی نقل کریں؟ مکھی پر مکھی ماریں؟"

"تو پھر آپ کوئی راستہ بتائیں؟" عورت نے کہا تھا۔

چھ کارکنوں نے چھ راستے بتائے تھے۔ حاصل ان کا یہی تھا کہ کوئی لفظ چھوڑا نہیں جاسکتا۔ انھیں تمام الفاظ سے شدید جذباتی لگاؤ ہو چکا تھا۔ گفتگو کا حاصل یہی تھا کہ پرانی ڈکشنری کو پورے کا پورا دوبارہ لکھ ڈالا جائے۔

تو یہ خاتون ان سے کچھ کم جذباتی نہ تھیں، لیکن پریکٹیکل ہونا بھی تو کوئی چیز ہے دنیا میں۔ "ہم نقل نہیں کر رہے ہوں گے، لیکن سیکھنے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھنا بھی تو پڑتا ہے۔" اس نے بیچارگی سے کہا تھا۔ پھر اسے ایک کارگر مثال یاد آئی تھی۔ "آپ ہمارے ایٹم بم ہی کو دیکھ لیجیے۔ کیا اس کا نسخہ ہالینڈ سے نقل کر کے ایک کاغذ کا کارتوس بنا کر پاکستان اسمگل نہیں کیا گیا تھا؟ اور اب دیکھیے کہ اس نقل کے باعث ہم کیا سے کیا ہو گئے ہیں۔ مجال ہے کہ دشمن میلی آنکھ سے اب ہمیں دیکھے۔"

"وہ اور بات تھی اور یہ اور بات ہے۔" انھوں نے کہا۔

اس بات سے وہ انکار نہیں کرسکی تھی۔ بات تو واقعی وہ اور تھی، یہ اور ہے۔

"ہندوستانیوں کو ہی لیجیے۔" اس نے انھیں راضی کرنے کی کوشش جاری رکھتے ہوئے کہا تھا۔ "مار روسیوں کے ٹینکوں وغیرہ کو نقل کر کر کے دھڑا دھڑ ٹینک بنا رہے ہیں۔ بنا رہے ہیں کہ نہیں؟"

اس مثال سے وہ زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ جو کچھ دشمن کرتا ہے ، وہ کرنا مباح بلکہ عین شریعت ہے کہ اصول کے مطابق وہ انگریزی ڈکشنریاں پڑھنے پر آمادہ ہو گئے تھے اور پھر تو کام تیزی سے چل نکلا تھا۔

اچانک انھیں ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی۔ سب کے سب چونک پڑے۔ "یہ۔۔۔یہ کیا ہوا؟" چند لحظوں بعد عورت نے کہا۔

"کچھ نہیں۔" دروازے پر کھڑے نائب قاصد نے بتایا۔ "ایک دروازہ ذرا زور سے بند ہو گیا۔"

"افوہ!" انھوں نے کہا۔ ان کی جان میں جان آئی۔ وہ خوب ہنسے۔ انھوں نے پانی پیا، جب ان کے بلیوں اچھلتے دل قرار پر آئے تو عورت نے سب کے لیے چائے منگوائی۔ اب وہ آگے چلے۔

"ابابیل" سے وہ سرسری گذر رہے تھے کہ عورت کو اچانک خیال آیا۔ نہ جانے کب سے اس کے ذہن میں ایک خلش سی تھی جو اس نےکہہ ڈالی۔

"دیکھیے انگریزی ڈکشنری میں ہر پرندے، پھول، درخت وغیرہ کے ساتھ لاطینی میں اس کی اصل نسل وغیرہ درج ہوتی ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم بھی ڈکشنری استعمال کرنے والے کو کسی بھی لفظ کی بہترین معلومات دیں گے۔ کیا ہم یہ سائنسی توضیح ان ناموں کے ساتھ شامل نہیں کرسکتے؟"

"سائنسی توضیح کہاں سے لائیں؟" انھوں نے کہا۔

"پلاٹس میں دیکھیے۔" کسی نے مشورہ دیا۔ پلاٹس میں "ابابیل" کا چھوٹا سا مطلب Swallowلکھا تھا ۔ اس کی سائنسی توضیح جدید انگریزی ڈکشنری میں موجود تھی، کوئی لاطینی نام تھا۔

عورت سوچ میں ڈوبی بیٹھی تھی۔ اس نے کہا، "بھائیو! یہ کوئی انگریزی چڑیا ہے۔ زمین کے مختلف حصوں میں ایک سے چرند پرند نہیں ہوتے۔ ہندوستانی ابابیل وہ نہیں ہوسکتی جو انگلستان کے مرغزاروں میں اڑتی پھرتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ان کا کوا کچھ اور ہے اور ہمارا کوا کچھ اور۔۔۔میں نے خود دیکھا ہے۔"

"تو نسل میں جو فرق ہے، جغرافیائی۔۔۔وہ ہمیں بتانا چاہیے نا۔"اس نے آنکھیں پھیلا کر کہا۔

وہ "ابابیل" کے مختلف اندراجات غور سے دیکھنے لگی، یہ دیکھ کر اسے خوشی ہوئی کہ توضیحات میں قرآنی آیت کا ذکر تھا کہ اردو میں ابابیل کی تقریباً مقدس حیثیت ہے کہ کنکریوں کی بارش سے اس نے ابرہہ کے لشکر کو مجروح کر دیا تھا جو خانۂ کعبہ پر یورش کرنے کے ارادے سے نکلا تھا۔ "ابابیل" کا ماخذ عربی درج تھا۔

"گڈ" اس نے کہا۔ "یہ اہم توضیحات ہیں، انھیں ضرور شامل ہونا چاہیے۔"

وہ سب داڑھیوں میں مسکرائے۔ انگریزی میں Swallowکے ساتھ ضرب المثال لکھی تھی۔ "ون سوالو ڈز ناٹ میک سپرنگ"۔ یہ پڑھ کر انھوں نے کہا۔ گویا بہار کے آغاز میں یہ پرند آتے ہوں گے۔ یوں سمجھیے کہ سردیوں کے اختتام پر۔۔۔دیکھیے یہ ہم نے بھی لکھا ہے۔ اس کا نام "ابابیل کوچی" ہوتا ہے، یعنی جو آتا ہے اور پھر چلا جاتا ہے۔

عورت نے "ابابیل کوچی" کے معنی دیکھے۔ "سیاہ پرند، جس کے پر دولخت ہوتے ہیں اور گردن پر سرخ ڈوری ہوتی ہے۔ یہ سردیوں کے آغاز پر شہروں میں آتا ہے۔"

"لیکن انگریزی پرندہ سردیوں کے آغاز میں نہیں، گرمیوں کے آغاز پر آتا ہے۔"

عورت نے غور کرتے ہوئے کہا۔ یہ دو مختلف پرندے معلوم ہو رہے ہیں۔ ان کے عادات و خصائل جدا ہیں۔ "سیر الطیور میں کوئی نسل نہیں دی گئی۔" ان میں سے ایک نے کہا۔

"وہ جو دس بارہ برس پہلے ایک انگریز نے کتاب لکھی تھی، 'پاکستانی پرندے'، وہ ہے لائبریری میں؟"

"وہ تو نہیں ہے۔"

"تو فوراً منگوا لیجیے۔ مفید معلومات ملیں گی، بلکہ درختوں ، پھولوں کے بارے میں جو نئی کتابیں شائع ہوئی ہیں، وہ سب بھی منگوا لیجیے۔" پھر اس نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا۔ "سب انگریز کم بختوں نے لکھی ہوں گی وہ بھی۔" پھر اسے یاد آیا، "وہ جو ایک برڈ واچر ہیں انڈیا میں ۔۔۔کافی مشہور۔۔۔تو انھوں نے کوئی کتاب لکھی ہو تو منگوا لیں۔"

انڈین کے نام سے ان کے چہروں پر تذبذب پھیلنے لگا۔

"بھئی وہ مسلمان ہیں۔" عورت نے تسلی دی جس کا خاطر خواہ فائدہ ہوا۔

"ویسے نام ان صاحب کا کیا تھا؟ خیر نیٹ سے نکال کر بتا دوں گی۔" عورت نے سوچتے ہوئے کہا۔ اس کے نیٹ کے استعمال پر یہ ٹیم مرعوب رہتی تھی۔ اس بات سے عورت کو بہ یک وقت اطمینان، افسوس اور شرمندگی ہوتی رہتی تھی۔

ابابیل کے ضمن میں آگے" ابا بیلیہ" بھی تھا۔ ایک ایسا کبوتر جس کے پر اور دم ابابیل سے مشابہ اور ہم رنگ ہوتے ہیں۔

"ہم م م م۔۔۔" عورت نے کہا۔ "بہت خوب!" لیکن اب اس کے دماغ میں مزید جغرافیائی الجھنیں آ چکی تھیں۔ اس نے کہا، "ہندوستانی پاکستانی پرندے۔۔۔ضروری نہیں کہ عرب سر زمینوں پر بھی ہوں یا بلکہ نہیں ہوتے۔ یہ ہمارے جنگلات کے باسی ہیں۔ اچھا دیکھتے ہیں عربی ڈکشنری میں ابابیل کے لیے کیا لکھا ہے؟"

عربی ڈکشنریاں لائبریری سے فوراً منگوائی گئیں۔ دس پندرہ منٹ کی ورق گردانی کے بعد بھی کمرے میں سناٹا تھا۔ لغت نویسوں کے چہروں پر عجب پریشانی طاری ہو چکی تھی۔

"کیوں؟ کیا لکھا ہوا ہے؟" عورت نے پوچھا۔

"لفظ تو ہے۔ یہ "بیل" کی جمع ہے۔ اور "بیل کا مطلب ہے گروہ یا جھنڈ، پرندوں، چو پایوں کا۔"

"اور وہ جو قرآن شریف میں ہے کہ۔۔۔" عورت نے ہکلاتے ہوئے آیت یاد کی۔

"وہی۔۔۔طیراً ابابیل۔"

"جی ہاں!" ایک عربی داں لغت نویس نے کہا۔ "یعنی پرندوں کا جھنڈ۔"

"اور قرآن میں یہ نہیں ہے کہ وہ کون سے پرندے تھے؟" عورت نے مزید حیران ہو کر پوچھا۔

"جی نہیں۔۔۔یہ نہیں بتایا گیا ہے۔ عربی لغات کی روشنی میں تو بات واضح ہے۔"

چند منٹ کمرے میں خاموشی رہی۔ لغت نویس اور ان کی افسر عورت ساکت و صامت، حیرت اور کچھ مایوسی میں غرق تھے۔ آخر افسر عورت نے گہری سانس بھرکر کہا۔

"اور میں۔۔۔ساری عمر سمجھتی رہی کہ وہ ابابیلوں کا لشکر تھا جس نے ابرہہ کی فوج پر کنکریاں برسائیں۔"

"صر ف آپ ہی نہیں، آپ کے ابّ وجد اور ان کے ابّ وجد نے بھی ایسا ہی سمجھا۔" کسی نے چپکے سے اس کے کان میں کہا، "جب غیر عربوں نے قرآن کریم پڑھا تو ابابیل کو ایک چڑیا سمجھا۔ تیرہ چودہ برس پہلے پھر انھوں نے ایک خوش نما سیاہ پرند کو یہ نام دے دیا اور یقین کر لیا کہ کنکریاں برسانے والا پرند یہی تھا۔ وہ پرند۔۔۔جو نہ صرف عرب میں نہیں، بلکہ کہیں بھی نہیں تھا۔ اس طرح ایک چڑیا کو یہ نام ملا اور وہ چڑیا ابابیل بن گئی جس نے کنکریاں برسائی تھیں۔"

عورت کو یاد آیا۔ اس نے تو ایک عرب مصنف کی انگریزی میں لکھی کتاب میں یہ بھی پڑھا تھا کہ ابرہہ کا لشکر دراصل چیچک کا شکار ہو گیا تھا۔

مکہ کے باسیوں نے ہاتھیوں کی طرح چیچک کو بھی پہلے نہ دیکھا تھا۔ وہ اس موذی مرض سے ناواقف تھے۔ انھیں بالکل ایسا نظر آیا تھا جیسے لشکر کے سپاہیوں کے جسموں پر ننھی ننھی کنکریوں نے زخم ڈال دیے ہوں۔ عربوں کے شاعرانہ تخیل نے اس بیماری کے اثرات کے لیے یہی تشبیہ تراشی تھی۔

ذہن میں تیرتی کتاب کی اس یاد کو اس نے پرے دھکیل دیا، وہ باریش لغت نویسوں کے سامنے یہ کفر کے کلمات نہ کہنا چاہتی تھی۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ انسانی تخیل کس قدر اہم ہوتا ہے اور کتنا طاقت ور تخلیق کار! مثال تو سامنے تھی۔ یہ تخیل ہی تو تھا جس کے باعث ابابیل ایک جیتا جاگتا پرند بن گیا جس کا رنگ سیاہ، دم اور پر دولخت ہیں اور جو ہندوستان اور پاکستان اور ترکی اور ایران میں رہتا ہے۔ وہی پرندہ، جس نے ابرہہ کے لشکر پر کنکریاں برسائی تھیں۔

"میں کچھ نہیں کہوں گی۔" اس نے سوچا، " نہ نہ بابا، میری توبہ! میرے باپ دادا کی توبہ۔"اس نے دل میں کہا اور سوچا کہ تو بہ ہمیشہ باپ دادا کی کی جاتی ہے، ابّ وجد کی نہیں ۔ نہ جانے کیوں؟ معنی تو دونوں کے بالکل ایک ہیں۔ شاید ایک ترکیب دوسری ترکیب کا لفظی ترجمہ ہو۔ اس کے باوجود۔۔۔اس کے باوجود کسی قدر باریک پھر بھی کتنا واضح فرق موجود تھا۔ باپ دادا سے ہم زیادہ بے تکلف ہیں۔ اس کی توبہ بلاتے رہتے ہیں۔

"چونکہ لفظ عربی ہے، لہٰذا ماخذ عربی ہی رہے گا۔" ان میں سے ایک نے کہا۔

"درست" عورت نے کہا۔

"لیکن ابابیل کوچی کا ماخذ کیا ہو گا؟ فارسی ترکیب ہے۔"

"ماخذ فارسی لکھ دیجیے۔ تراکیب کا ماخذ اگر اصل لفظ سے مختلف ہے تو وہ لکھا جائے گا، لکھ لیجیے اصولیات تالیف میں۔۔۔"

وہ جلد ہی چار صفحوں کے اختتام تک پہنچ گئے۔ افسر عورت ان کے کام پر بے حد مسرور تھی۔ سو پچاس صفحات کو دو تین صفحوں میں اس طرح سمیٹنا کہ ہر ضروری لفظ شامل رہے، کوئی معمولی کارنامہ نہ تھا۔ انگریزی اور اردو انگریزی جدید لغات میں الفاظ کو دیکھتے رہنے کا فائدہ ہوا تھا۔ مثلاً اُبال میں وہ حرارت کے ایک خاص درجے کا ذکر شامل کرسکے تھے، جیسا کہ انگریزی ڈکشنری میں بوایل کے معنوں میں درج تھا جب کہ اردو کی پرانی ڈکشنریوں میں نہیں تھا۔ کہیں کہیں فونٹ کو گاڑھا کر کے، مختلف بریکٹوں کا استعمال کر کے، کوما اور سیمی کولن کا ہر لفظ کے معانی میں یکساں استعمال کر کے، انھوں نے معنی تخلیق کیے تھے جو صرف اسی ڈکشنری سے مخصوص تھے۔ (یہ ایک شان دار معنی آفرینی ہے، عورت نے سوچا تھا۔)

وہ پرانی ڈکشنری میں ادھر اُدھر بکھرے محاورات ، ضرب الامثال اور تراکیب کو کھینچ لائے تھے اور ہیڈ ورڈ کے تحت درست ترتیب میں انھیں جما دیا تھا۔ عورت کی ترکیب کامیاب رہی تھی کیوں کہ تکنیکی اصولیات کیے ہوئے کام سے نکل رہے تھے۔ اس کامیابی پر عورت کو تعجب بھری خوشی ہو رہی تھی۔ ٹھیک ہی تو کہتے تھے چچا کارل مارکس ، پیٹ بھرنے کے لیے کام کرنے سے انسان نے علم حاصل کیا۔ اس نے دل ہی دل میں مارکس کی تصویر کو پیار بھری نظروں سے دیکھا، جو اس کے دل ہی میں تھی۔ نوجوانی میں، اسے یاد آ رہا تھا ، وہ مارکس اور اینجلز کی تصویریں اپنی امی کو دکھا کر کہا کرتی تھی "دیکھیے یہ بھی صوفیا کرام ہیں۔ ذرا ان کی نورانی داڑھیاں دیکھیے۔" امی ہنس کر اس سے کہتی تھیں، "بکو مت۔ یہ اور قسم کے لوگ ہیں۔"

اس کا بے چارگی سے ٹیم سے یہ کہنا، "کون سا لفظ لینا ہے اور کون سا نہیں، بالآخر یہ فیصلہ آپ کو ہی کرنا پڑے گا"، سود مند ثابت ہوا تھا۔ اب وہ ہر لفظ میں گہری دلچسپی لے رہے تھے اور سچ تو یہی تھا کہ اس کے سوا اور چارہ بھی کیا تھا؟ لفظوں کے بارے میں اگر حتمی فیصلہ افلاطون بھی آ کر صادر کرتا تو اسے بھی چیلنج کیا جاسکتا تھا ، جب کہ افسر عورت کو افلاطونیت کا دعویٰ بھی نہ تھا۔ (یہ دعویٰ کرنے سے وہ بال برابر ہچکچاتی تھی۔)

عورت کو اپنی ٹیم پر بے حد پیار آ رہا تھا۔ کتنے ذہین ، محنتی اور من موہنے ہیں یہ لوگ!

اس نے ڈکشنریاں اور کاغذات اپنی بڑی سی میز پر رکھنے کے لیے میز پر کھلے ہوئے اخبار کو تہہ کر کے ایک طرف رکھا جو سارا ٹارگٹ کلنگ خبروں سے بھرا پڑا تھا۔ دو تین دن سے میڈیا کے ذریعے یہ بھید نہیں کھل رہا تھا کہ کون کس کو مار رہا ہے۔ آیا شیعہ سنیوں کو یا سنی شیعوں کو قتل کر رہے ہیں یا مہاجر پٹھانوں کو یا سندھیوں کو یا سندھی یا پٹھان مہاجروں کو قتل کر رہے ہیں۔ یا یہ سب ایک دوسرے کو ہر قتل کے انتقام کے لیے گولی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تیسری صورت یہ بھی ممکن تھی یہ کہ قتال خود ایجنسیوں کا کھیلا ہوا ایک تماشا تھا جو کسی خاص مقصد بر آری کے لیے منعقد کیا جا رہا تھا۔ چوتھی صورت حال یہ بھی تھی کہ اس کے پیچھے کوئی غیر ملکی ہاتھ ہے۔ شاید یہ باہر والوں کو یہ باتیں بہت مضحکہ خیز لگیں لیکن انھیں کیا پتہ بھئی، کسی کو کیا خبر۔ یہاں کے حالات تو مدت سے بس ایسے ہی ہیں۔

کتابیں میز پر اوپر تلے رکھ کر، تشکر سے پر لہجے میں عورت نے کہنا شروع کیا۔

"سمجھ میں نہیں آتا، میں آپ لوگوں کی کیسے تعریف کروں۔ پہلے مجھے فکر تھی کہ پتہ نہیں جو ذمہ داری ہم نے لی ہے، جدید طرز کی ڈکشنری بنانے کی، آپ اسے پورا بھی کرسکیں گے یا نہیں؟" پھر وہ جوش مسرت میں ان سے مذاق کرنے لگی، "مثلاً میں تو آپ لوگوں کے حلیے سے خوف زدہ رہتی تھی۔ ڈرتی تھی کہ کہیں کوئی خود کش بمبار تو آپ میں نہیں؟"

وہ مسکرائے۔ انھوں نے کہا، "وہی تو ہیں ہم لوگ۔" اور اپنی کرسیوں پر جنبش کی۔

پھر نہ وہ کمرہ تھا اور نہ کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگ۔ صرف ایک زور دار دھماکہ تھا جو شہر میں گونج رہا تھا۔ ڈکشنریوں کے پرخچے دور دور تک اڑ رہے تھے۔ تنہا ابتہاج اور اس کا چھوٹا بھائی ابتسام فضا میں اچھال دیے گئے تھے۔ ان کے ننھے منے کپڑوں پر بنے ہاتھی گھوڑوں کی تصویریں بھڑکتے ہوئے شعلوں خاکستر ہو چکی تھیں۔

ابّ وجد کے ہاتھ پاؤں جسم سے علیحدہ بکھرے پڑے تھے۔ ایک تصور سے حقیقت بن جانے والی ابابیلیں جھلس کر مر گئی تھیں۔ قدیم آریائی گھڑ سوار 'اب' کا حال ابتر تھا۔ اس کا اشو یا اسپ الف ہو کر ہنہنا رہا تھا۔ بھڑکتے شعلوں سے اس کی آنکھیں خوف زدہ ہو کر پھیل گئی تھیں۔ اب کے قدیم بلم بھالے لٹوؤں کی طرح چکراتے دور دور تک منتشر ہو چکے تھے۔ اس کا حلق خوف سے خشک ہو گیا تھا۔ وہ بیٹھی ہوئی آواز میں مسلسل چلا رہا تھا۔

"اب کیا ہو گا؟ اب کیا ہو گا؟"

ایک اور زوردار دھماکہ۔۔۔اور اب کی بار وہ بھی اپنے رہوار سمیت بھک سے اڑ گیا۔

٭٭٭