کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

فعل متعدی

فہمیدہ ریاض


ٹھیک دس بج کر تیرہ منٹ پر میں نے یہ آواز سنی۔

"تو اے عورت! اب کیا ہونا چاہیے اور اس کے لیے کیا کرنا لازم ہے۔"

جیسا کہ آپ نے پہلے ہی بخوبی اندازہ لگا لیا کہ یہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ اسی شے کی تھی جسے راجندر سنگھ بیدی نے اپنے ایک افسانے میں انتر آتما کا نام دیا۔ حیرت انگیز طور پر یہ آواز غیرنسوانی تھی۔ وہ مجھے "اے عورت" بھی محض عادتاً کہہ رہی تھی۔ تو کیا عورت کی آتما، جس میں کہ انتر آتما ہوتی ہے، عورت نہیں ہوتی ؟ میں نے اسی لمحے کچھ حیرت سے سوچا۔ ایسا ناچیز کا خیال نہیں۔ ناچیز کا خیال تو یہ ہے کہ عورت کی آتما بالکل عورت ہی کی شکل و صورت کی ہوتی ہے۔ یعنی اگر آپ اِسے شکل و صورت دے سکیں تو وہ عورت ہی جیسی بن سکتی ہے۔ لیکن یہاں تو معاملہ انتر آتما کا تھا۔

تو یہ کوئی" سیکس لیس" سی شے تھی۔ اس موضوع پر غور کرنا چھوڑ کر میں نے اس کے پوچھے ہوئے سوال پر غور کرنا شروع کیا۔

میں اردو ڈکشنری بورڈ کے بڑے کمرے میں ایک بڑی میز کے سامنے بڑی کرسی پر بیٹھی تھی۔ مجھے اِس کا مدیر اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر عرض گذاری تھی کہ اردو ڈکشنری بنانا میرے بس کی بات کیوں کر ہوسکتی ہے، جب کہ مجھے تو یہ علم بھی نہیں کہ فعل متعدی کیا بلا ہے۔ میرے علم کے مطابق تو صرف بیماریاں متعدی ہوتی ہیں جو شامل فعل نہیں ہوتیں۔

میرے ایک ذہین و ہونہار جواں سال دوست نے ماتھے پر علامہ اقبال کی طرح انگلی رکھ کر سوچتے ہوئے کہا تھا۔

"جو فعل متعدد بار کیا جائے وہ فعل متعدی ہوسکتا ہے۔"

"نہیں" میں نے اسے درست کیا تھا۔ "وہ فعل متعددی ہو گا۔"

"یا تو پھر فعل بد یا فعل قبیح ہوتا ہے" اس نے کہا۔

"شش !" میں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا۔ "یہ سرکاری دفتر ہے۔ یہاں واہیات باتیں نہ کرو۔"

"اچھا ! باہر نکل کر کریں گے۔"

"شش !" میں نے اسے پھر چپ کرایا۔

"امید ہے کہ ڈکشنری میں اس قسم کے فعلوں کا ہر گز کوئی تذکرہ نہ ہو گا۔" میں نے کہا۔

وہ تو چائے پی کر اور کراچی کی نم ہواؤں سے بھورے پانی میں تبدیل ہو جانے والے بسکٹ کھا پی کر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے تسلی کے لیے ڈکشنری کی جلدیں کھول کھول کر افعال قبیح کو چیک کیا۔ تمام کے تمام اپنی جملہ تفصیلات کے ساتھ موجود تھے بلکہ اسناد کے طور پر اردو کی قدیم ترین کتابوں سے لیے ہوئے اشعار بھی درج تھے۔

جس پر "اے عورت" نے پرمسرت قہقہہ لگایا۔ہنس کر، ٹشو پیپر سے چہرہ پونچھ کر اور ایک گلاس پانی پی کر میں ڈکشنریوں کی ورق گردانی کرنے لگی۔ کسی دوسرے دفتر میں ایک مضمون لکھنے کے سلسلے میں اس کی ایک آدھ جلد کو میں نے دیکھا تھا۔ لیکن اس وقت یہ پوری کی پوری اکیس جلدیں میرے سامنے تھیں اور میں جستہ جستہ ان کے اوراق پڑھ رہی تھی۔

تھوڑی ہی دیر میں "اے عورت" کی انتر آتما متحرک ہو گئی۔ سکتے کے سے عالم میں بیٹھی تھی میں وہاں، کیسا عجیب اتفاق! ریوڑیوں کی طرح عہدے بانٹنے کی اندھا دھندی کہیے، ادھر میری ملازمت حاصل کرنے کی ضرورت کی مجبوری ، لیکن تقدیر کے کسی پھیر نے مجھے مولوی عبدالحق کی کرسی پر لا بٹھایا تھا اور میرے سامنے تھیں ان کی آغاز کردہ ڈکشنری کی اکیس جلدیں۔ وہ ڈکشنری جو قدیم گریٹر آکسفورڈ ڈکشنری کے تاریخی یا لسانی اصولوں کے تحت بنائی گئی تھی، جس کے مطابق زبان کے تمام یا تقریباً تمام الفاظ اپنے آغاز اور بدلتے ہوئے یا وسعت پذیر معنوں کے ساتھ، اس طرح درج تھے کہ مختلف ادوار کی کتابوں اور مخطوطات ، غرض ہر دستیاب تحریر سے لفظ کے استعمال اور معنی کی اسناد بھی مندرجات میں شامل تھیں۔

"اے اللہ پاک !" میں نے کہا۔ (ایسے موقعوں پہ یہ ملحد و مشرک کافر عورت اس نوعیت کے کلمات لب پر لاتی ہے۔) کبھی کسی نے ایک شاندار کارنامہ کرنے کی ٹھانی تھی۔ ایک شاندار خواب دیکھا تھا اور وہ پورا ہو رہا ہے! ایک مسلسل ناکام ہوتی ہوئی ریاست میں۔۔۔جس کی کوئی کل سیدھی نہیں رہی، جس سے کسی خیر کی توقع بھی کوئی اب نہیں کرتا۔۔۔ وہاں یہ کام ہوتا رہا اور ہوتا رہا، اور اب تکمیل پانے والا ہے۔ اس کو کسی چھوٹے ہوئے معجزے کا نام دیا جا سکتا ہے۔

پل کی پل میں وہ مضحکہ خیز طور پر بڑا کمرہ، اس کے گرد آلود پیلے پردے، بدرنگ قالین، مضحکہ خیز طور پر بڑی جسامت کی میز اور اس پر رکھا ہواسستا، واہیات دفتری سامان، سب کچھ غائب ہو گئے۔ اب یہاں بیتی ہوئے زمانوں کی خوشبو تھی۔ گم گشتہ صدیوں کی روح تھی۔ چلے جانے والوں کی ارواح اس کمرے میں گردش کر رہی تھیں اور بہت قدیم کتابوں کے زرد مسکتے کاغذوں کی مہک!

"اس ڈکشنری کی جلدوں میں" چار دن بعد وزارت سے آنے والے بندے سے میں نے کہا۔

"ہندوستان کا ہزار سالہ تمدن اور تہذیب محفوظ ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ…!"

یہ صاحب جو وزارت سے آئے تھے، انہیں وزارت کی اصطلاح میں اب "بندہ" کہا جاتا ہے۔ یہ پنجابی کا لفظ ہے۔ شاید علامہ اقبال نے پہلی بار اردو میں استعمال کیا تھا۔ تعجب ہے کہ اب تک ہمارے کراچوی کانوں کو عجیب سا لگتا ہے۔ شروع میں تو سمجھے بھی نہیں تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب لڑکپن میں، میں نے اقبال کا یہ شعر پڑھا تھا۔

جمہوریت اِک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

تو میرے ذہن میں "بندوں" کا مطلب یہی بیٹھا تھا کہ علامہ اللہ کے بندوں کا ذکر کر رہے ہیں، کیونکہ ہماری طرف کی اردو میں تو بندے صرف اللہ ہی کے ہوتے ہیں۔ "ارے بھئی، اللہ کے بندے! میری بات تو سنو۔ "اس طرح کہا جاتا ہے، لیکن یہ صاحب یا شخص تو کچھ کچھ بندے جیسے لگ بھی رہے تھے۔ یعنی وہ بندہ جو پنجابی میں ہوتا ہے جسے اس طرح کہتے "ہمارا ایک بندہ آئے گا۔" بغیر استری کے عوامی سوٹ میں ملبوس اور چہرے پر ایسا دیہاتی تاثر جسے کلوز شیو کے ذریعے بدلا نہیں جا سکتا۔ لیکن پھر بھی میری مدد کرنے آئے تھے اس لیے میرا کراچوی دل انہیں بندہ کہنے پر آمادہ نہیں تھا۔

ان صاحب نے ہزار سالہ تاریخ کے الفاظ سن کر کہا۔ "اتنی پرانی تو خیر اردو نہیں۔"

"جی ہاں، مگر جو کچھ لکھا گیا، جب سے لکھا گیا، وہ تو پرانے زمانوں کے نہ صرف بارے میں تھا بلکہ پرانے زمانے میں وہ چیزیں بھی موجود تھیں۔ داستانوں ہی کو لیجیے۔ اب شہزادی نے کردھنی پہن رکھی ہے۔ تو کیا کردھنی ہزار برس پہلے نہ تھی؟"

پھر کچھ مورتیاں یاد کرتے ہوئے میں نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیا۔

"بالکل موجود تھی۔ ٹیکسلا کے فریسکوز میں بعض عورتوں نے کردھنی پہن رکھی ہے۔"

مولوی عبدالحق اردو کے شیدائی تھے۔ ڈکشنری کی ورق گردانی کرتے ہوئے میں نے دیکھا تھا۔ بعض جگہوں پر خالص ہندوستانی الفاظ کو دیوناگری رسم الخط میں لکھا گیا تھا تاکہ پڑھنے والا بالکل صحیح تلفظ سے واقف ہوسکے۔ دیوناگری میں!! پور ڈیئر اولڈ سول! ان کو کیا پتہ، بھولے بھالے انسان کو، اردو سے عشق کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے کہ آگے چل کر اس رسم الخط کو قابل نفرت قرار دیا جا سکتا ہے جو اسلام اور نظریۂ پاکستان کے حق میں زہر قاتل مانا جائے۔

ایسا کچھ میں سوچ رہی تھی۔ تب عورت نے اضافہ کیا۔

"جس طرح ہندوستان میں اردو کے رسم الخط کو ہندو دھرم اور ہندوستان کی اکھنڈ ایکتا کے خلاف سمجھا گیا جس سے کہ پوتر ہندو دھرم فی الفور بھرشٹ ہو جائے!تو انسان اتنے تنگ دل ہیں۔ اتنے کم ظرف ہیں۔ تعصب ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ دل کو کشادہ نہیں کرتے۔ دل کو کشادہ!"

مجھے یاد آ رہا تھا۔ چند برس پہلے اسلام آباد میں ہونے والی کئی روزہ اردو کانفرنس میں اس قسم کی قرارداد پیش کی جا رہی تھی۔اردو میں پاکستان کی دوسری قومی زبانوں، مثلاً پنجابی، پشتو وغیرہ کی شمولیت کی ہمت افزائی کی جائے۔ یہ سن کر مجھے کتنی سخت کوفت ہوئی تھی۔ ہمت افزائی کرنا کیا معنی! بھئی جو الفاظ آ جائیں گے سو آ جائیں گے۔ میں سوچ رہی تھی۔ بس یہ کسر رہ گئی ہے کہ قرارداد میں یہ شق بھی شامل کر دی جائے کہ ٹکسالی زبان درست لہجے میں بولنے پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

مگر میں کچھ بولی نہیں تھی۔ بس چپ بیٹھی رہی تھی۔ تو کیا میں دل کو کشادہ نہیں کر رہی تھی۔ واہ یہ بھی بھلی چلائی۔ دل کو کشادہ کرنے کے لیے ہم ہی رہ گئے ہیں؟ ہونہہ، پھر دل ہی دل میں تحریک پاکستان چلانے والے یو پی، سی پی، بہار کے جلوسوں کا منھ بھی چڑایا تھا (ب) اور بنایئے اردو کو پاکستان کی قومی زبان! بقول پنجابی محاورہ "ہور چوپو!" اب بنوایئے اردو کی درگت! یہاں پھول کو پول کہیں گے اور بھائی کو پائی یا بائی، اور کہنے پر کیا مقدور ہے، کچھ دنوں میں یہی لکھا بھی جانے لگے گا۔ اِسی اردو کو بچانے کے لیے بنوایا تھا پاکستان؟ یہاں تو کوئی سوچنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ عظیم الشان ملک کی قومی زبان جائے بھاڑ میں، اس آبادی میں اب کوئی کروڑ بھر لوگوں کی مادری زبان بھی تو ہے اردو۔۔۔

اس وقت تو یہی خیالات دماغ میں آئے تھے۔

عین ان گھڑیوں میں شاید تمام زبانوں کے ان گنت الفاظ اپنی بولیوں سے نکل نکل کر دوسری بولیوں میں کھٹا کھٹ داخل ہو رہے تھے۔ انھیں نہ قرارداد کی ضرورت تھی اور نہ کسی پروانۂ راہداری کی حاجت۔ آدمی بول رہے تھے۔ گلیوں اور بازاروں میں رُلتے کھلتے آدمی، گھروں میں ملازماؤں سے بتیاتی عورتیں، ڈانٹتی پھٹکارتی، دلار کرتی۔ انسانوں کی جہد ، ہمیشہ کی طرح سماجی عمل سے بے نیاز اور مخالف!

"ہم جو چاہتے ہیں تو بے نیاز ہوتے ہیں کہ ہم اس کے اُلٹ ہی عمل کرتے ہیں۔" عورت نے مشاہداتی بیان جاری کیا۔

اور پھر اردو ! اجی صاحب کیا بات ہے اردو کی۔۔۔

عورت نے سنجیدگی بھر تخفیف تبسم سے یاد کیا۔

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

تو لکھوا دیا جائے یہ شعر اس عمارت کے ماتھے پر ؟ پھر سوچا، نہیں اوچھا پن لگے گا۔ اردو اور دوسری زبانوں کے لسانی پہلوان رانوں پر ہاتھ مارتے اکھاڑے میں اتر آئیں گے اور دھر دھر کے پٹخیں گے ایک دوسرے کو۔ یہ تصور کر کے عورت ہنسنے لگی۔

وزارت سے آنے والے صاحب حیران ہوئے کہ یہ جو بیٹھی ہیں تو کردھنی پر کیوں ہنس رہی ہیں۔

"کر ۔۔۔ دھنی۔" انہوں نے تذبذب سے کہا۔

"جی ہاں ۔۔۔ ایک بار میں نے بھی خریدی تھی۔"

"چاندی کی تھی۔۔۔" اسے یاد آ رہا تھا، یہ تقریباً پچھلے جنم کی بات تھی۔ مگر کتنی خوبصورت !

"پھر کیا ہوا ؟" ان صاحب نے پوچھا۔

"ہونا کیا تھا ۔۔۔کچھ دنوں تک پہنی۔"

وہ پھر اپنے خیالوں میں گم۔

" ارے بھئی ریختہ میں شاعری کرنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ اپنے فارسی دارسی میں کہہ کہا لیجیے۔"

کیا غالب نے کسی نا لایق شاگرد کو مشورہ دیا تھا؟ ریختہ کے تمھیں استاد نہیں ہو غالب ، تو گویا اردو میں کوئی خاص بات تھی؟ بہت ہی خاص بات! محاورے کا مزہ۔ کہنے کا خاص انداز۔ جی ہے کہ اُمڈا آتا ہے۔۔۔ کھائیں گے تو گھی سے نہیں تو جائیں گے جی سے۔ کیسا جی ہو رہا ہے؟ جی نہیں چاہتا۔

اچھا ؟ تو گویا نہایت ہی گنگا جمنی تھی اردو۔۔۔ (پھر وہی گنگا پھر وہی جمنا۔) یعنی ہندوستانی بوٹا جس میں فارسی شاخوں کی پیوندکاری کی گئی۔ تو اس نہایت ہندوانہ لفاظی کو صرف مسلمانوں کے ملک کی قومی زبان بنانے کی کیا تک تھی؟

اس نے سوچا۔پھر خود ہی جواب دیا۔ "تک تھی رسم الخط۔ جو فارسی تھا۔ یعنی عربی کی ایک شکل اور عربی قرآن شریف کی زبان ہے۔"

اب تک وہ صاحب جو کہ وزارت سے آئے تھے نہ جانے کیا کچھ سوچ کر اداس ہو چکے تھے اور زیرلب کہہ رہے تھے، " اب پنجابی زبان کو دیکھیے، ہمارے ہاں ایک لفظ ہے "ون" انھوں نے نون کی آواز میں ڑے کو گھول کر کہا۔" اب اسے ہم کیسے لکھیں گے؟"

عورت نے کاغذ پر سندھی کا رونڑ بنایا اور کہا۔

"سندھی میں اس طرح لکھتے ہیں۔ نون کے پیٹ میں طوے بنا دیتے ہیں۔"

"اور ایک لفظ ہے "جنا" (پھر ڑے کی آواز نون میں شامل تھی) جس کا مطلب ہے کوئی پچیس سے تیس تک کا بڑا تگڑا جوان۔ اس کا تو کوئی متبادل ہی نہیں اردو میں۔ اور اردو اسکرپٹ میں تو اسے لکھا ہی نہیں جا سکتا۔"

"آپ لوگوں کو۔۔۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے یعنی۔۔۔ آپ سندھی رسم الخط اپنا سکتے ہیں۔"

پھر اضافہ کیا۔" اردو سے یہ آوازیں نکل گئیں۔۔۔یہ ایک شہری زبان ہے دراصل۔۔۔"

پھر یہ سوچ کر کچھ گھبرائی اور کچھ شرمندہ ہوئی کہ اس کی کہی ہوئی بات سے ایک عجب قسم کا احساس برتری اور سرپرستانہ تفاخر تو نہیں جھلک رہا، جلدی سے ان صاحب کی طرف دیکھا۔ مگر وہ اتنے حساس نہ تھے۔ یوں نہیں لگ رہا تھا جیسے انھوں نے برا منایا ہو۔ وہ کچھ متفکر لگ رہے تھے۔ مگر وہ اس کی مہمانداری پر خوش تھے اور اسے پسند کر رہے تھے۔ عورت بے حد مشکور ہوئی۔ کیسا پیارا سا آدمی تو بیٹھا تھا اس کے سامنے۔ ساری جوانی، وزارت میں بتا کر اس نے پبلک ایڈمنسٹریشن کے ان گنت قوانین یاد کیے تھے۔ وہ اس کی مدد کرنے آیا تھا۔ عورت کی درخواست پر اس نے بہت ہمدردی اور فخر سے اس کے لیے اس ڈکشنری بورڈ کا نیا آرگینو گرام بنا دیا تھا۔ عورت کو تو نہیں پتہ تھا نا کہ کون سے عہدے کو کس بی ایس گریڈ میں ہونا چاہیے۔ پھر پروموشن کے لیے کون سے دوسرے عہدے ہونے چاہئیں۔ کتنے فیصد باہر سے لیے جائیں اور کتنے پروموشن کے ذریعہ بھریں، وغیرہ۔

پنڈی گھیب میں کہیں ان کا گاؤں تھا، نہیں، پوٹھوہار نہیں۔۔۔ یہ مرکزی خاص الخاص پنجاب ہے۔ اس نے بتایا تھا۔ کوئی گاؤں، جس میں وہ درخت ہوں گے جن کا نام وہ لے رہا تھا، اور جہاں گبھرو جوان رہتے ہیں۔ جیسا وہ خود کبھی رہا ہو گا۔ اس نے وزارت کی راہداریوں اور دم گھونٹ دینے والے ایئرکنڈیشنڈ کمروں کو یاد کیا، جن کو اس نے کبھی دیکھا تھا۔ یہ ایسے کیوں ہو گئے ہیں؟ کیا یہ ہر ملک میں ایسے ہی ہوتے ہیں ؟ جیسے کافکا کے تخیل نے وہاں انسانوں کو کیچوا بنتے دیکھا؟

وہ وزارت کے صاحب کو چھوڑنے ایئرپورٹ تک آئی، تھینک یو … تھینک یو… تھینک یو سو مچ !!

تو اس طرح میں اس چیستان میں داخل ہوئی۔ کیوں اور کیسے؟ جاننا چاہیں تو آگے پڑھ لیجیے۔

قسمت کے اس عجیب و غریب چکر نے مجھے اس کرسی پر لا بٹھایا اور ایسے دروازے کھولے اور اس دنیا میں جھانکنے کے سوا کوئی راستہ نہ چھوڑا جو میرے خواب و خیال میں بھی کبھی نہیں تھا۔ میں نے تو سوچا تھا کہ ملازمت مل گئی تو کچھ دن سکون کے گذاروں گی اور پھر وہ کام کروں گی جو میں کرنا چاہتی ہوں کبیر! مگر یہ کیا! یہ تو کچھ اور ہی دنیا نکلی۔ ماسوا اس عجیب اتفاق کے، کہ عبدالحق اس ڈکشنری کا نام "لغت کبیر" رکھنا چاہتے تھے۔ جیسے رومی کے دیوان شمس تبریز کو دیوان کبیر کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ پڑھ کر آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ پورا صفحہ بھیگ گیا کبیر، پھر مجھے لگا جیسے ہوا کے جھونکے کی طرح تم کمرے میں آ گئے ہو اور ہنس رہے ہو، اور کہہ رہے ہو،" سی مام ! آئی ایم وِد یو۔"

اچھا تو کبیر ، یوں ہی سہی، تو اب سنو۔

مولوی عبدالحق نے ڈکشنری پر کام تو بہت پہلے شروع کر دیا تھا، پاکستان بننے سے بھی پہلے لیکن بعد میں جب وہ پاکستان آ گئے تو کچھ عرصہ انجمن ترقی اردو کے ساتھ کام کرتے رہے۔ پھر 8591 میں اردو ڈیولپمنٹ بورڈ بنا اور ڈکشنری کا کام باقاعدہ شروع ہوا۔ اس کی لائبریری میں جو قدیم کتابیں اور مخطوطات ہیں وہ غالباً مولوی صاحب نے ہی جمع کی تھیں۔ اپنی کتابوں کا ذخیرہ وہ ہندوستان سے ساتھ لے آئے تھے۔

پھر ایوب خاں کا دور شروع ہوا اور پاکستان کا دارالخلافہ نو تعمیر شہر (یا چھاؤنی) اسلام آباد لے آیا گیا۔ کراچی میں رہ جانے والا یہ ادارہ اس کے بعد عجیب کس مپرسی کا شکار رہا۔ عشرہ بعد عشرہ اس کے عہدے ختم کیے جاتے رہے۔ اردو کے متعدد عالم بہرحال اس سے چمٹے رہے، رفتہ رفتہ ان میں کئی دنیا سے رخصت ہوئے لیکن ڈکشنری کا کام آہستہ آہستہ جاری رہا۔ گو اسلام آباد میں وزارت تعلیم کو اس سے چنداں دلچسپی نہیں رہی تھی۔ وہ اسے ایک خواہ مخواہ کا ادارہ سمجھنے لگے، اپنے بجٹ پر ایک فضول بوجھ! یہاں اب جو لوگ آ چکے تھے وہ اکتا کر پوچھتے تھے کہ آخر ڈکشنری ختم کیوں نہیں ہو رہی؟ کیا یہ بڈھے جان بوجھ کر کام کو لمبا نہیں کیے جا رہے؟ سوچتے ہوں گے ڈکشنری ختم ہو گی تو ان کی نوکریاں بھی ختم ہو جائیں گی۔

رفتہ رفتہ اس ادارے کا تمام تر انتظامی ڈھانچہ ختم کر دیا گیا، حتیٰ کہ یہاں کسی اکاؤنٹینٹ تک کی ضرورت نہیں سمجھی گئی، مالی، نائب قاصدوں اور لوئر ڈویژن کلرک کے علاوہ اب یہاں صرف لغت نویس تھے۔ چند ڈسٹری بیوٹر اور کمپوزیٹر تھے جو اس زمانے میں رکھے گئے تھے جب ابھی دھات کے حروف سے چھپائی ہوتی تھی۔

کئی برس تک لغت نویس اکاؤنٹینسی کرتے رہے اور ملازمین کی چھٹیوں کا حساب رکھتے رہے۔

تب عورت نے کچھ کارکنوں کو طلب کیا۔ وہ سہمے ہوئے داخل ہوئے۔

" اے وہ شخص، جس نے کل مجھے بجٹ دکھایا تھا، سچ بچ بتاؤ ، تم کون ہو؟"

" میں کمپیوٹر آپریٹر ہوں حضور۔" نوجوان نے ادب سے جواب دیا۔

" یعنی کمپیوٹر پر کمپوز کرتے ہو؟"

" نہیں تو۔۔۔!" اس نے کہا۔

" پھر کیا کرتے ہو؟۔"

" اے جی پی آر میں ہر مہینہ اخراجات کی برابری کرتا ہوں۔ بجٹ بناتا ہوں، یعنی اکاؤنٹینسی کا تمام کام کرتا ہوں۔"

" اور تم؟" عورت نے ایک لغت نویسہ سے پوچھا۔

" جی میں۔۔۔ ایسا ہے کہ میں انتظامیہ کے دیگر امور نمٹاتی ہوں، منسٹری سے خط و کتابت بھی تو کرنی پڑتی ہے۔"

" وہ انگریزی میں ہوتی ہے ناں؟ لیکن تمہیں تو انگریزی ٹھیک سے نہیں آتی۔"

" باہر سے لکھوا لیتی ہوں محترمہ۔۔۔" لغت نویسہ نے رو کر کہا۔

" تم بھی باہر سے کام کرواتے ہو؟" عورت نے کمپیوٹر آپریٹر سے پوچھا۔

" نہیں۔۔۔" اس نے کہا۔ " میں تو سیکھ ہی گیا سب کام، جب سرپر پڑتی ہے تو کرنا ہی پڑتا ہے۔"

عورت نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ ایک اچھی شخصیت کا نوجوان تھا۔ ہنس مکھ، توانائیوں سے مملو، آگے بڑھنے کا مشتاق۔

تب اس نے ایک لمبا سانس بھر کر کہا۔ " اب آپ جا سکتے ہیں۔"

گویا "تخلیہ" کہہ کر تالی بجائی۔

پھر اس نے مولوی صاحب کو جادو سے بلایا۔

" میں فعل متعدی سے ناواقف ہوں۔" اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے کہا۔ " لیکن جو میں کرسکتی ہوں وہ اب کرنے جا رہی ہوں۔"

اتنا کہہ کر وہ وزارت تعلیم کے سیکرٹری کو خط لکھنے بیٹھ گئی۔

"یہ بات ناقابل یقین ہے کہ سالہا سال سے ایک ادارے کی یہ درگت بنا دی گئی ہے کہ اس کے انتظامی ڈھانچے کو بالکل ختم کر کے رکھ دیا گیا۔ فوری طور پر۔۔۔ بالکل فوری طور پر اس کو ری اسٹرکچر کیا جائے۔۔۔ ورنہ !"

تب انہوں نے فون کیا تھا " ہمارا ایک بندہ آ رہا ہے۔"

اور یہ لغت نویسہ تھی کہ جب سے میں آئی تھی روئے چلی جا رہی تھی۔ میرے آنے سے پہلے وہ قائم مقام مدیر اعلیٰ تھی۔ اسے امید دلائی گئی ہو گی کہ بالآخر وہ سچ مچ ترقی دے کر مدیر اعلیٰ بنا ہی دی جائے گی کہ اچانک مجھے اس پر نازل کر دیا گیا۔ لہٰذا وہ اپنی پرانی کرسی پر بیٹھی روئے جا رہی تھی۔

عورت نے دوسری عورت کو ڈانٹا۔ " اب بند کرو یہ رونا دھونا۔ تمہارے کوئی بھی اختیارات ختم نہیں کیے جا رہے۔ تمہاری پہلی حیثیت برقرار ہے۔ اب روئیں تو اے سی آر خراب کر دوں گی۔"

" میں نے بتیس برس یہاں کام کیا ہے۔"لغت نویسہ نے سہم کر کہا۔

" بتیس برس!" عورت نے مرعوب ہو کر دہرایا۔

" تو میں تمہاری پروموشن کرواتی ہوں۔ اس کے لیے اِس ادارے میں نئی پوسٹ بنانی پڑے گی۔"

دوسری عورت خاموشی سے باہر چلی گئی اور نئی آنے والی کے خلاف خاموش سازشوں میں سے مصروف ہو گئی۔

" شاباش ! کچھ تو کرو۔" میں نے کہا۔ " اِٹ اِز اونلی نیچرل !"

اس کے آگے گلیاں تھیں اور گلیارے۔۔۔اور ہر گلی ایک بند گلی تھی، جن میں گاڑھا کہرا اتر رہا تھا۔

" یہاں کچھ پروموشنز کیے جائیں۔ نئی پوسٹیں دیجیے۔"

" مگر یہ پرانے سروس رُولز میں نہیں آتے۔"

" تو نئے سروس رولز بنا لیتے ہیں۔"

" آپ بنائیں گی ؟"

" ہاں ! آپ کی مدد سے۔"

" تو یہ کاغذات لے جایئے۔ پھر ہمیں خط لکھیے گا۔"

" پھر آپ مجھے خط لکھیں گے۔ پھر میں آپ کو خط لکھوں گی۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ تب تک یہ حکومت ختم ہو جائے گی۔ میں خط و کتابت کی شوقین نہیں۔ سروس رولز اسی دفتر میں، آپ کی موجودگی میں بنا لیتے ہیں۔"

سیکشن آفیسر سخت گھبرایا۔

" نہیں جی۔ یہ یہاں نہیں بن سکیں گے۔"

" تو کہیں اور چلتے ہیں۔"

اس پر پاس کھڑا نائب قاصد، یعنی کبوتر ہنس پڑا۔

سیکشن آفیسر خوب شرمایا، اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ وہ عورت کے ساتھ بیٹھ کر نئے سروس رولز بنانے پر تیار ہو گیا۔

چار پانچ دن میں سروس رولز بن گئے۔

عورت انہیں لے کر خوشی خوشی سیکرٹری ایجوکیشن کے پاس پہنچی۔ سیکرٹری ایجوکیشن ایک نازک ڈیل ڈول کے انسان تھے۔ ان کے نقوش بھی نازک اور دلچسپ تھے۔ گھنے ابرو اور پلکیں، چمکتی آنکھیں ، خوب فراخ دہانہ، لمبی سی ستواں ناک جو اوپر کی طرف مڑی ہوئی تھی۔ گویا ان کا ایک "ولندیزی" قسم کا چہرہ تھا۔ عورت کو یہ بات دلچسپ لگتی تھی۔ اس نے پنجاب میں چند ایسے دوسرے چہرے بھی دیکھے تھے۔ پنجاب میں نسلیں کسی درجہ مخلوط ہیں۔ اس نے سوچا اور سروس رولز ان کی طرف بڑھائے۔ سیکرٹری ایک خوش مزاج بھلے مانس تھے۔ وہ عورت سے شفقت اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔ انہوں نے ہمدردی سے کاغذات پر نظر ڈالی اور کہا۔

" آپ نئے عہدے مانگ رہی ہیں۔ پرانے عہدوں کی ہی خیریت نہیں۔"

پھر انھوں نے کہا۔

" آپ فنانس اور اسٹیبلشمنٹ سے ملیے۔"

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا مینجمنٹ اور سروسز پر، یعنی وِنگ۔ ہر وزارت کئی پروں سے اڑتی ہے۔

جوائنٹ سیکرٹری ایک مائل بہ فربہی، چالیس کے پہئے میں، ایک اداس اور کچھ فلسفیانہ خو بو کی شخصیت نکلے۔

انہوں نے اداسی سے مجھے دیکھا۔

" کیا آپ اس ادارے کی پنشنوں کی ادائیگی کے لیے آئی ہیں؟"

" نہیں۔۔۔لیکن وہ بھی ہو جائے تو کیا ہرج ہے۔ وہ فائل بھی لائی ہوں۔"

" لیکن محترمہ ۔۔۔ یہ ادارہ تو بائیس برس سے ہمارے نزدیک ۔۔۔وجود نہیں رکھتا۔"

" وجود نہیں رکھتا ؟ مگر یہ تو ہے۔"

" کیا ثبوت ہے۔"

" بھئی یہ باقاعدہ ہے۔ کوئی پچپن لوگ کام کر رہے ہیں یہاں۔"

" یہ وجود کا ثبوت نہیں۔"

" تو پھر کیا ہے؟"

" بائیس برس پہلے، یعنی 1986میں وزارت تعلیم نے اس کے کارکنوں کے وجود کے تسلسل کے لیے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔"

"اور تب سے اب تک نہیں کیا؟"

" نہیں ۔۔۔ لہٰذا جہاں تک ہمارا تعلق ہے، مالی سے لے کر لغت نویسوں تک ، کوئی عہدہ وجود نہیں رکھتا۔"

" نہیں رکھتا …! لیکن انھیں ہر سال بجٹ مل جاتا ہے۔ اس میں سب کی تنخواہیں ہوتی ہیں۔"

" اس کے لیے وزارت معیشت سے پوچھیے۔" جوائنٹ سیکرٹری نے اضمحلال سے کہا۔

مشیر وزارت معیشت گہرے سانولے چہرے پر تھکن کے آثار۔۔۔ چہرے کے موزوں نقوش پر قبل از وقت بڑھاپے کی پرچھائیں۔ کمرے کے در و دیوار سے فائلیں گویا اُگ رہی تھیں۔ ہر گوشے میں اور تمام میزوں پر فائلوں کے انبار تھے۔ ان کا ایک نیم دیہاتی پختون اسسٹنٹ ایک قدیم صوفے پر براجمان۔

" میں ذرا وضو کرنے جا رہا ہوں۔"

عورت نے سینے پر ہاتھ رکھ کر آمنّا اور صدقّنا کہا۔

انتظار طویل نکلا۔۔۔ دراصل وہ نماز پڑھنے گئے تھے، کہتے ہوئے ہچکچائے۔ اس ہچکچاہٹ کی عورت نے دل سے قدر کی۔ بالآخر وہ واپس پہنچے۔

" مینجمنٹ اور سروسز ونگ سے کاغذات ہمارے پاس آتے ہیں، چونکہ وہاں نہیں پہنچے، اس لیے ہمارے نزدیک بھی بائیس برس سے اس ادارے کا وجود نہیں ہے۔"

" لیکن آپ ہر سال انہیں تنخواہیں دیتے ہیں۔"

"ہمارے پاس کسی کمپیٹنٹ اتھارٹی نے یہ ہدایات نہیں بھیجی ہیں کہ بجٹ دینا بند کر دیا جائے۔ اس لیے بجٹ جاری کرتے رہتے ہیں۔"

عورت چکرا کر انہیں دیکھتی رہی۔

"مگر تنخواہوں میں اضافہ یا پروموشن۔۔۔ یا نئے عہدے۔۔۔ اس کے لیے وجود کا ثبوت درکار ہے۔" انھوں نے کہا۔

عورت مبہوت ہو کر جوائنٹ سیکرٹری کو تکتی رہی۔ پھر اسے شدید غصہ آیا۔ یقیناً یہ تو اردو سے دشمنی تھی۔"اردو سے یہ بہ اکھیای" اس کے دماغ نے سوچا جس میں سندھی بھ