کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بستی کی آخری بدصورتی

علی حسن سمند طور


بیداراحمد موڑ کاٹ کر بڑی سڑک پہ آ گئے۔ اس دور رویہ سڑک کے دونوں طرف پیدل چلنےوالوں کے لیے ایسی راہ گزر تھیں جن کے اوپر مختلف بیلوں کی چھت تنی تھیںاور یوں اس چھت کے نیچے راستے، سایہ دار تھے۔ بیدار احمد سڑک کے بائیں طرفوالی راہ گزر پہ چل رہے تھے۔ اس طرف کی بیل اوپر لگی جالی پہ پوری طرح نہمنڈھ پائی تھی اور خالی حصوں سے گزرنے والی دھوپ راستے پہ پڑ رہی تھی۔ آجگرمی کا ایک اور دن تھا اور دھوپ اپنے اندر تپش رکھتی تھی۔ دھوپ کی تمازتسے بچنے کے لیے بیدار احمد نے سڑک پار کر لی اور اب سڑک کے دائیں طرف چلنےلگے۔ یوں تو اس طرف کی بیل بھی پوری طرح چھت کی جالی میں گندھی ہوئی نہیںتھی مگر دھوپ کا رخ یوں تھا کہ اس طرف لگے بڑے بڑے درخت راستے کو سایہ دارکیے ہوئے تھے۔ بیدار احمد کو اس چھاؤں میں چھلنے میں بہت لطف آ رہا تھا۔ان میں سے بیشتر درخت بہت پہلے انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے لگائے تھے۔اپنے ہاتھ سے لگے درخت بڑے ہو جائیں اور سایہ دینے لگیں تو بہت اچھا احساسہوتا ہے۔ یوں جیسے کہ وہ بچے جنہیں آپ نے بہت محنت سے پالا پوسا ہو، ایکدن بڑے ہو کر آپ کے کام آنے لگیں۔ یا وہ طمانیت جو اپنے ہاتھ سے گھر بناکر اس گھر میں رہنے میں ہے۔ بیدار احمد فخر کے احساس سے سرشار چلے جا رہےتھے۔ دو رویہ سڑک پہ گاڑیوں کے چلنے کی جگہ بہت زیادہ چوڑی نہ تھی۔ سڑکاور پیدلی راہ گزر کے درمیان سائیکلوں کے چلنے کا راستہ تھا۔ سڑک پہگاڑیاں تو بہت بہت دیر بعد اکا دکا ہی نظر آتی تھیں مگر سائیکلیں مستقلگزر رہی تھیں۔ کئی سائیکل چلانے والوں نے بیدار احمد کو پہچان کر ہاتھ کےاشارے سے انہیں سلام کیا۔

بیدار احمد نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ ابھی چاربجے تھے۔ انہیں پانچ بجے تک بستی کے مرکزی ہال تک پہنچنا تھا۔ یہ فاصلہقریباً دو کلومیٹر کا تھا مگر یہ سفر پا پیادہ طے کرنے کے لیے ان کے پاسایک گھنٹہ تھا۔ بیاسی سال کی عمر میں وہ اتنا پیدل چلنے کی سکت تو رکھتےتھے، بیدار احمد نے دل میں سوچا۔

اور بیدار احمد کے لیے پانچ بجے تکمرکزی ہال میں پہنچنا اور وہاں تک پیدل جانا بہت ضروری تھا۔ وہ اس پیدلسفر میں اپنی پچیس سالہ شب و روز محنت کا پھل دیکھ کر اس تقریب میں پہنچناچاہتا تھا جہاں ان کے تخیل کے حساب سے بنی بستی کا جشن منایا جا رہا تھا۔

بیداراحمد آہستہ آہستہ چلتے رہے۔ کچھ آگے جا کر دائیں ہاتھ پہ ایک میدان آگیا۔کھیل کے اس میدان میں لگی مخملیں ہری گھاس بہت بھلی لگ رہی تھی۔ یہ منظربھی ان کا کارنامہ تھا۔ انہوں نے دس سال پہلے بہت تحقیق سے کئی طرح کےاقسام کے اختلاط سے گھاس کی یہ قسم بنائی تھی جو شدید گرمی کو سخت جانی سےبرداشت کرنے کی اہلیت رکھتی تھی۔ بیدار احمد نے پورے میدان پہ طائرانہ نظرڈالی۔ گھاس کے اس وسیع قطعے میں انہیں کوئی بھورا خطہ نظر نہیں آیا۔ میدانکے ایک کونے میں جھولے پڑے تھے۔ وہاں کئی چھوٹے بچے اپنی ماؤں کے ساتھموجود تھے۔ میدان کے دوسرے کونے میں کچھ لڑکے فٹ بال کھیل رہے تھے۔

میدانختم ہونے پہ گھروں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان گھروں کی تعمیر اول درجےکی تھی۔ وہ ڈھلواں چھتوں والے گھر گڑیوں کے گھروندے معلوم دیتے تھے۔ اورگھروں کے سامنے نہایت سلیقے سے لگی کیاریوں میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئےتھے۔ وہ گھر زیادہ بڑے نہ تھے مگر ہر دو گھروں کے درمیان کچھ فاصلہ تھا۔گھر کی اراضی کی حدود کسی چہاردیواری کے بجائے درختوں کی قطار سے مختص کیگئیں تھیں۔ یہ سارے درخت تقریباً ایک اونچائی کے تھے۔ درخت کے سامنے لگیبیلیں درختوں کے تنوں پہ چلنے کے بعد شاخوں کے راستے ایک درخت سے دوسرےدرخت پہ کود گئیں تھیں اور اس عمل سے درختوں کی اس باڑھ نے ہر دو گھروں کےدرمیان ایک پردہ سا تان دیا تھا۔

کچھ آگے چلنے کے بعد سڑک کے دونوں طرفگھروں کی قطار ختم ہو گئیں اور ایک ایسا پارک شروع ہو گیا جس میں اونچےاونچے درخت لگے تھے۔ سڑک سے کئی پگڈنڈیاں پارک کے اندر جاتی تھیں اورلہراتی بل کھاتی تین سو گز آگے موجود گھنے درختوں کے درمیان گم ہو جاتیتھیں۔ اس مصنوعی جنگل میں کچھ آگے جا کر ایک آبشار بھی تھی۔ وہ آبشار بھیبیدار احمد کی ڈیزائن کی ہوئی تھی۔ جمشید نے ایک لمحہ ٹھہر کر آبشار کیآواز کو سننے کی کوشش کی۔ عمر گزرنے کے ساتھ ان کی سماعت پہ بھی اثر پڑاتھا۔ بیدار کو ایک مدھم سی آواز سنائی دی۔ وہ یہ فیصلہ نہ کر پائے کہ آیامدھم آواز آبشار ہی کی تھی یا پھر آبشار کی آواز سننے کی توقع ہی ان کےدماغ میں کسی جگہ ٹکرا کر ان کے کانوں تک پہنچی تھی۔ وہ پھر چلنا شروع ہوگئے۔ پارک ختم ہونے پہ بستی کا کاروباری مرکز شروع ہو گیا۔ اس تجارتی مرکزکی تعمیر بہت منفرد تھی۔ سڑک کے ایک طرف پستہ قد عمارتیں تھیں اور دوسریطرف طویل قامت دفتری پلازا اور رہائشی مراکز۔ اور تمام عمارتوں کے رنگبالکل جدا جدا تھے۔ وہاں موجود اتنے مختلف رنگوں کے جاذب نظر امتزاج اوران کی ترتیب طبیعت کو خوش کرتی تھی۔ اونچی عمارتوں میں ہر ساتویں منزل ایکپارک تھی۔ ان پارکوں میں لگے اونچے درخت عمارتوں کا ایک اچھوتا منظر پیشکرتے تھے۔ رہائشی مراکز میں بڑی تعداد میں لوگ آباد تھے مگر نیچے زمین پہاکا دکا ہی لوگ ٹہل رہے تھے۔

کچھ آگے جا کر سڑک ایک گول دائرے پہ ختمہو گئی۔ اس گول دائرے پہ پہنچ کر سڑک کا دایاں حصہ گولائی کھا کر بایاںحصہ بن جاتا تھا۔ گول دائرے کے سامنے ہی بستی کا مرکزی ہال تھا۔ بیداراحمد دائرے تک پہنچے اور پھر مرکزی ہال کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ اس وقت پانچبجنے میں چند منٹ تھے۔ اسی وقت اور لوگ بھی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔ ان میںسے ایک آدھ نے "بیدار صاحب" کہہ کر بیدار کو تپاک سے سلام کیا۔ بیدار احمدنے ان میں سے کسی کو نہ پہچاننے کے باوجود ہر ایک سے ہاتھ ملایا۔ ایک شخصنے بیدار کو بازو سے پکڑ لیا اور سیڑھیاں چڑھنے میں ان کی مدد کرنے لگا۔اب سے چند سال پہلے جب ایسا پہلی بار ہوا تھا تو بیدار نے اپنا بازوچھڑانے کی کوشش کی تھی۔ وہ اس بات کو ذہنی طور پہ قبول کرنے کے لیے تیارنہ تھے کہ اپنی اس سن رسیدگی میں انہیں اب سہارے کی ضرورت تھی۔ مگر پھررفتہ رفتہ انہیں احساس ہوا تھا کہ واقعی ان کے جسم میں طاقت کی کمی تھیاور سیڑھیاں چڑھنے جیسے مشکل عمل میں انہیں مدد کی ضرورت تھی۔

بیداراحمد مرکزی ہال میں داخل ہوئے تو پانچ بجا ہی چاہتے تھے۔ ہال بستی کےمعززین سے بھرا ہوا تھا۔ بیدار احمد کو اسٹیج تک پہنچا دیا گیا۔ ٹھیک پانچبجے تقریب شروع ہو گئی۔ سب سے پہلے بستی کے ناظم کی تقریر تھی۔ ناظم نےسلائڈ کی مدد سے حاضرین کو بستی کی چیدہ چیدہ خصوصیات کے بارے میں بتایااور پھر مجوزہ عمارتوں اور پارک کے نقشے دکھائے۔ ناظم کے بعد مہمان خصوصیکی تقریر ہوئی۔ وہ قریبی شہر سے آئے تھے۔ مہمان خصوصی نے بستی کی تعریفمیں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔ وہ بستی کی صفائی ستھرائی اور خوشانتظامی سے بہت متاثر تھے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ کاشپورا ملک ہی اس بستی کی طرح ہو جائے۔ مہمان خصوصی کی تقریر کے بعد بیداراحمد کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔ بیدار اپنی کرسی سے اٹھے اور آہستہآہستہ چلتے ہوئے پوڈیم تک پہنچے۔ پھر بیدار احمد نے دھیمے لہجے میں بولناشروع کیا۔

"خواتین و حضرات، آپ میں سے اکثر لوگ میری کہانی سے اچھی طرحواقف ہیں۔ اور بستی کے جن مکینوں نے یہ کہانی براہ راست مجھ سے نہیں سنی،ان تک یہ خبر اور طریقوں سے پہنچی ہو گی۔ مگر آج بستی کے پچیس سال مکملہونے پہ میں یہ کہانی ایک دفعہ پھر آپ کو سنانا چاہوں گا۔ کہ عمر کے ہرحصے میں جب پلٹ کر دیکھو تو گزرے واقعات کے متعلق ایک مخصوص جدا تاثر قائمہوتا ہے۔

آپ لوگ جانتے ہیں کہ میں پیشے کے لحاظ سے آرکیٹیکٹ ہوں۔ مجھےخوب صورت عمارتیں، دلکش گھر، اور جدید بستیاں تعمیر کرنے میں بہت لطف آتاہے۔ میں بیس سال کی عمر میں ولایت چلا گیا تھا۔ اتنی کم عمری میں ملکچھوڑنے کی وجہ سے میرے دل میں وطن کے لیے ہمیشہ نرم گرم جذبات رہے تھے۔ولایت میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں کئی سالوں تک وہاں کام کرتا رہا۔ اسدرمیان میں جب کبھی وطن واپس آیا مختصر مدت ہی کے لیے آیا۔ اور ہر دفعہچھٹیوں میں یہاں آنے پہ مجھے لگا کہ جیسے میں یخ بستہ موسم میں محبت کےکنکنے پانی میں گردن تک گھس گیا ہوں۔ مجھے وطن کی ہر چیز بہت حسین لگی۔ولایت میں بہت سال کام کرنے کے بعد جب میرے پاس کچھ رقم پس انداز ہو گئیتو میں نے وطن واپس جا کر اپنا مستقل ٹھکانہ یہاں بنانے کے بارے میں سوچا۔اور یوں میں واپس چلا آیا۔ اس بات کو آج پچیس سال سے اوپر ہو گئے ہیں۔ وطنواپس پہنچ کر پہلے دو ماہ تو بہت اچھے گزرے مگر پھر رفتہ رفتہ کر کے اسجگہ کی بدصورتی مجھ پہ عیاں ہو گئی۔ اس معاشرے کے ہزار ہا عیب جن پہ اب تکمیری اندھی محبت نے پردہ ڈالا ہوا تھا اب میری نظر میں واضح ہونا شروع ہوگئے۔ میں کوفت اور مایوسی کا شکار ہو گیا۔ جگہ جگہ لگے کوڑے کے ڈھیر جو نہجانے کس طرح اب تک مجھ سے پوشیدہ رہے تھے اب اچانک میرے سامنے آ گئے۔ سڑکوںپہ رعونت سے دوڑتی طاقت ور اور امیر لوگوں کی بڑی بڑی گاڑیاں؛ جا بہ جاابلتے ہوئے گٹر؛ عورتوں، بچوں، معذوروں، اور معاشرے کے دوسرے کمزور لوگوںپہ ظلم ڈھانے والے نفرت انگیز کڑیل مرد، اس معاشرے کی کون سی ایسی بات تھیجو مجھے پریشان نہ کرتی تھی۔ میں ظلم و زیادتی کے اس پورے ماحول سے اس قدرعاجز آیا کہ واپس ولایت جانے کے بارے میں سوچنے لگا۔ اور مجھے اپنے آپ پہغصہ آیا کہ آخر یہاں واپس آ کر میں نے اپنی سوچ میں بسنے والی وطن کیمعصوم محبت کا گلا کڑوی حقیقت کے ہاتھوں کیوں گھونٹ دیا۔

مگر ابھی میںولایت واپس جانےکے اپنے ارادے پہ غور کر ہی رہا تھا کہ مجھے انسان کے روپمیں ایک فرشتہ ملا۔ وہ شخص میری طرح بہت عرصہ ولایت میں رہ کر آیا تھا۔مگر وہ میری طرح کم ہمت نہ تھا۔ وہ مرکز شہر میں ذہنی طور پہ معذور لوگوںکو معاشرے کا فعال رکن بنانے کی تعلیم دینے والا ایک ادارہ چلایا کرتاتھا۔ میں اس فرشتہ صفت شخص سے مل کر بہت متاثر ہوا۔ اس شخص نے مجھ پہ زوردیا کہ میں ولایت واپس نہ جاؤں بلکہ یہیں رہوں اور بھلائی کا کوئی کامکروں۔ اس نے مجھے احساس دلایا کہ ولایت کو میری ضرورت نہ تھی جب کہ اس جگہکو مجھ جیسے لوگوں کی اشد ضرورت تھی۔

میں نے اس شخص سے گفتگو کے دوراناس شکست خوردہ معاشرے کا بغور مشاہدہ کیا۔ اور اپنے تجزیے سے مجھے یہ باتسمجھ میں آئی کہ زمانے میں فیض اور قہر لہروں کی صورت چلتے ہیں۔ ایک دفعہفیض کی ایک لہر ایک جگہ سے اٹھے تو وہ ایک آدمی سے ہوتی دوسرے تک پہنچتیہے اور یوں رفتہ رفتہ پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح قہر کیلہر بھی ایک مقام سے چل کر پورے معاشرے میں پھیل جانے کی سکت رکھتی ہے۔میں نے غور کیا کہ ہمارے وطن میں پے درپے ناکامیوں کے بعد اب فیض کی لہریںبہت کم ہیں، جب کہ قہر کی موجیں بے شمار اور بہت قدآور ہیں۔ میں نے ہر طرفپریشان لوگوں کو دیکھا اور اپنی پریشانی کی وجہ سے ان کو غصے میں پایا۔ اسحالت میں ہر شخص اپنا غصہ دوسرے پہ اتار رہا تھا۔

تب میں نے اپنے آپسے سوال کیا کہ میں اپنے طور پہ معاشرے میں فیض کی ایک چھوٹی سی لہر کیسےبپا کر سکتا ہوں۔ میری ساری عمر کیونکہ عمارتوں کی منصوبہ بندی اور عمارتسازی میں گزری ہے اس لیے مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ میں اپنے اس تجربےکو استعمال میں لاتا ہوا کوئی اچھا کام کر سکتا ہوں۔

بہت غور و خوض کےبعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں پورے معاشرے کو تو بدل نہیں سکتا مگر اس بڑیجگہ کے ایک کونے میں ایک ایسا چھوٹا خوب صورت ٹکڑا ضرور بنا سکتا ہوں جسکی دل کشی پائیدار ہو۔ اس فیصلے پہ پہنچنے کے بعد ایک بستی کے خدوخال میرےذہن میں واضح ہونا شروع ہو گئے۔ بستیاں گھروں اور عمارتوں سے نہیں بلکہلوگوں سے بنتی ہیں۔ اسی لیے میں اس نتیجے پہ پہنچا کہ اپنے تخیل میں موجودبستی کی خوب صورتی کو ثبات بخشنے کا طریقہ یہ ہو گا کہ اس بستی میں صرفتعلیم یافتہ اور معاشرتی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کو آنے دیا جائے۔ کہجن لوگوں کو اس بستی کا انتظام دیا جائے وہ دل و جان سے اس جگہ کی قدرکرتے ہوں اور سمجھتے ہوں کہ جدید دنیا کس طرح کام کرتی ہے۔ اور یہی وجہ ہےکہ اس بستی کا حصہ بننے کے لیے آپ میں سے ہر شخص کو کئی امتحانوں اورانٹرویو سے گزرنا پڑا۔ اور اسی محنت کا صلہ آج یہ ہے کہ آپ کی، ہماری یہبستی اس پورے جغرافیائی خطے میں سب سے منفرد، سب سے حسین ہے۔ بستی کے ناظمصاحب کی طرح مجھ سمیت بستی کے دوسرے بانیوں کو اس جگہ پہ بے انتہا فخر ہے۔یہ ہمارے حسین ترین خوابوں کی بہترین تعبیر ہے۔

میں آج بستی کے درمیانسے چلتا ہوا یہاں اس مرکزی ہال تک پہنچا ہوں۔ مجھے یہاں خوب صورتی کےعلاوہ کچھ نظر نہیں آیا۔ خوب صورت درخت، خوب صورت عمارتیں، خوب صورت پودے۔اور سب سے بڑھ کر آپ تمام خوب صورت لوگ۔ اس بستی میں ہر جگہ زندگی نظر آتیہے، توانائی نظر آتی ہے، جوانی نظر آتی ہے۔ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ اسجغرافیائی خطے میں رہنے کے لیے یہ بستی بہترین جگہ ہے۔"

اپنی تقریر میںیہاں تک پہنچتے پہنچتے بیدار احمد تھک گئے تھے۔ ایک لمحے کو انہیں محسوسہوا کہ وہ چکر کھا کر گر پڑیں گے۔ وہ کچھ دیر کے لیے رک گئے۔ انہوں نےپوڈیم کو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے تھام لیا۔ انہوں نے سوچا کہ وہ سرگھما کر ناظم سے پانی کی فرمائش کریں۔ مگر پھر انہوں نے اپنی تقریر کو ختمکرنا زیادہ مناسب خیال کیا۔ انہوں نے ایک گہری سانس لے کر اپنے حواس درستکیے، اور پھر ایک جملے میں تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

بیدار احمد کی تقریر ختم ہونے پہ ہال تالیوں سے گونج گیا۔

بیدار آہستہ آہستہ چلتے ہوئے واپس اپنی کرسی تک پہنچ گئے۔

ناظم صاحب دوبارہ پوڈیم پہ پہنچے۔ بیدار احمد کی ہدایت پہ وہ ایک اہم چیلنج لوگوں تک پہنچانا چاہتے تھے۔ وہ بولنا شروع ہوئے۔

"خواتینو حضرات، ایک دفعہ پھر زور دار تالیاں بجا کر بیدار احمد صاحب کی خدمات کااعتراف کریں کیونکہ آج ہم سب ان کی محنت کی وجہ ہی سے یہاں ہیں۔"

ہال میں موجود تمام لوگوں نے ایک دفعہ پھر جان دار تالیاں پیٹیں۔

تالیوں کی آواز تھمنے پہ ناظم نے پھر بولنا شروع کیا۔

"خواتینو حضرات، آج سے پچیس سال پہلے اس جگہ گندے پانی کا ایک جوہڑ تھا۔ یہ بیدارصاحب کی دوربینی ہے کہ انہوں نے اس جگہ کو ایک خوب صورت بستی بنانے کے لیےچنا۔ بیدار صاحب نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر بہت محنت کی ہے۔ گو کہ میںبیدار صاحب کا ایک ادنی شاگرد ہوں مگر مجھے فخر ہے کہ میں بھی ان کی ٹیمکا فعال حصہ رہا ہوں۔ اس ٹیم نے ایک ایک کر کے اس جگہ سے ساری گندی، ساریبدصورتی ہٹا دی۔ پھر اس جگہ کو خوب صورتی بخشی۔ اور اب ہم اس جگہ کو مستقلبہتر سے بہتر بنا رہے ہیں، توانا بنا رہے ہیں، جواں تر بنا رہے ہیں۔ بیدارصاحب کا اور ہماری پوری ٹیم کا آپ کا کو چیلنج ہے کہ اس پورے ماحول میںاگر آپ کو کوئی چیز بد نما اور ناتواں نظر آئے تو آپ فورا اس کی نشاندہیکریں۔"

اس آخری بات پہ تمام لوگوں کی نگاہیں بیدار احمد کے بوڑھے،جھریوں سے بھرے چہرے کی طرف یوں اٹھ گئیں کہ جیسے وہ پوچھے جانے والے سوال کا جواب اس چہرے پہ پا چکے ہوں۔