کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بجنگ آمد

علی حسن سمند طور


گاڑی اونچی اونچی عمارتوں کے حلقے سے نکلی اور شہر کے مضافاتی علاقے کی طرف تیزی سے دوڑنے لگی۔ یہ تیسرا موقع تھا کہ جو میلک شہر سے پرے موجود محنت کشوں کی بستی کی طرف جا رہا تھا۔ جو میلک کا اصل نام یوسف ملک تھا۔ وہ یوسف سے جوزف سے جو بنا اور ملک کی انگریزی شکل میلک ہو گئی۔ اور یوں وہی شخص جو انگلستان میں پاکستانی نژاد یوسف ملک تھا اب دبئی میں انگلستانی پاسپورٹ کا حامل جو میلک بن کر ایک مراعات یافتہ زندگی گزار رہا تھا۔ جو میلک انگلستان سے دبئی اس لیے پہنچا تھا کیونکہ کالج سے اس کے ساتھ فارغ التحصیل ہونے والے کئی دوست دبئی گئے تھے اور اب انگلستان میں اپنی آمدنی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تنخواہیں بنا رہے تھے۔ مزید یہ کہ دبئی میں انہیں کسی قسم کا کوئی ٹیکس بھی نہیں دینا پڑ رہا تھا۔ اور پھر اس پہ مزید مزے یہ کہ انگلستان کے شہری ہونے کے ناتے دبئی میں ان کا ایک خاص اعلی مقام تھا۔ ایک ایسا اعلی مقام جو بظاہر صرف کتابوں میں امریکہ کی تاریخ کے اس دور کے حوالے سے ملتا ہے کہ جب سفید فام لوگ معاشرے میں سب سے اونچے درجے پہ تھے اور سیاہ فام لوگ ان مالکان کی مستقل خدمت کرنے کے لیے خون پسینہ بہاتے تھے۔ یہاں دبئی میں اماراتی لوگوں کے ساتھ مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کا بھی ایک جدا مقام تھا۔ اس سے نیچے درجے پہ مشرق وسطی کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ ان کے مزید نیچے فلیپینو اور مشرق بعید سے تعلق رکھنے والے لوگ۔ اور سب سے نیچے درجے پہ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، اور سری لنکا کے باشندے تھے۔ اس سب سے نیچے والے درجے پہ موجود لوگوں کی زندگی کا واحد مقصد سب سے اوپر درجے کے لوگوں کے لیے مستقل سہولت پیدا کرنا تھا۔ اس بالا طبقے کے ساتھ نوکروں کی ایک فوج صاحب لوگوں کو خوش رکھنے کے لیے جتی رہتی تھی۔

 

جب جو میلک پہلی بار دبئی پہنچا تھا تو اسے بغور دیکھا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ جو شکل سے انگریز نظر نہ آتا تھا۔ مگر اس ظاہری کمی کے باوجود اس نے انگلستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان اپنی جگہ بنا لی تھی۔ وہ انگلستان میں پلا بڑھا تھا اس لیے خاص کرارے انگریزی لہجے میں بات کرتا تھا، انگریزوں کا مذاق رکھتا تھا، وہی ٹی وی شو دیکھ کر بڑا ہوا تھا جو دوسروں نے دیکھے تھے، انہیں کی طرح کے کھانے کھاتا تھا، اور جو کی پسند و ناپسند بھی ایک عام انگریز کی تھی۔ ہاں البتہ ایک راز تھا جواس نے کبھی اپنے انگریز ساتھیوں کو نہ بتایا تھا۔ اور وہ یہ کہ گو کہ وہ انگلستان میں پلا بڑھا تھا مگر اپنے ماں باپ کے پنجابی ہونے کی وجہ سے وہ اٹک اٹک کر پنجابی بول سکتا تھا۔ اور اس نے اس بات کو اپنے ساتھیوں سے یوں پوشیدہ رکھا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اگر اسے کبھی پنجابی بولتے دیکھ لیا گیا تو اس پہ فورا "مختلف" ہونے کا ٹھپہ زور سے لگ جائے گا۔ پھر یہ طے ہو جائے گا کہ وہ اپنے ساتھ کے دوسرے انگریزوں کی طرح نہ تھا ۔ جو کا خیال تھا کہ صرف رنگ انیس بیس ہو تو بات چل جاتی ہے، مگر پھر آپ زبان بھی کچھ اور بولنے لگیں تو معاملہ کچھ بگڑ جاتا ہے۔

 

جو میلک کو دبئی کی مکمل عیش و آرام کی زندگی بہت پسند آئی۔ یہاں معاملہ لندن کی طرح نہیں تھا کہ ہفتہ بھر کام کرنے کے بعد دو دن اپنی ٹوٹ پھوٹ کو پورا کرنے میں گزار دو۔ کپڑے دھوؤ، انہیں استری کرو، جوتے پالش کرو، گاڑی کو صاف کرو، اس میں کوئی مرمت کا کام ہو تو وہ کرواؤ، اور ساتھ ایک ایک پاؤنڈ کو مٹھی میں بھینچ کر خرچ کرو۔ یہاں دبئی میں تو اس پہ درہم کی بارش ہو رہی تھی۔ اور جتنی رقم وہ چند گھنٹے میں بناتا تھا اتنی رقم میں پورے ماہ کے لیے نوکر دستیاب تھے۔ محنت سے کام کرنے والی فلیپینو خواتین جو بغیر چوں چراں کیے گھنٹوں صفائی میں لگی رہیں گی، سری لنکا سے تعلق رکھنے والا وہ ڈرائیور جو ہر وقت جو میلک کی خدمت کے لیے موجود تھا۔ اور جب آپ ان سارے نوکروں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیں، انہیں چھوڑ کر، ٹیکسی پکڑ کر کہیں نکل جائیے اور وہاں سے آپ کی نجی زندگی شروع ہو جائے گی۔ پیسہ آپ کی جیب میں اور ہر قسم کی عیاشی آپ کی دسترس میں۔ دبئی میں داخلے کے کچھ ہی عرصے میں جو نے اپنے سارے شوق پورے کر لیے۔ مہنگے سے مہنگے سوٹ خریدے، ایسی نرم ٹائیاں خریدیں کہ جنہیں انگلی پہ لپیٹا جا سکتا تھا، ایسے جوتے لیے کہ لگے کہ آپ کا پاؤں ایک نرم دستانے میں گھس گیا ہے۔ 

 

اور اگر عیاشی تن کا شوق ہو تو دبئی میں سیاہ فام سے لے کر سفید فام تک بھانت بھانت کی طوائفیں موجود تھیں۔ اس سلسلے میں جو میلک کا شوق کچھ ہی دنوں میں پورا ہو گیا۔ رومانیہ سے تعلق رکھنے والی کوسمینا وہ واحد طوائف تھی جس کے ساتھ سلسلہ ہفتہ بھر چلا۔ پھر اتنے قریبی تعلقات میں یوں رقم کا لین دین اور تجارت کی سرد مہری جو میلک کی نظروں سے اتر گئی۔

 

یہ ساری عیاشیاں کرنے کے بعد ایک روز جو میلک کو خیال ہوا کہ دبئی میں کوئی ایسی بات تھی جو اس کے دل میں ایک کسک بن کر موجود تھی۔ جو نے ایک دفعہ دوپہر کا کھانا اپنے دفتری ساتھی ٹام کے ساتھ کھانے کے بعد اس سے پوچھا تھا۔

"کیا تمھیں لگتا ہے کہ ہم لوگ کچھ زیادہ مزے میں ہیں؟ یہ سارے لوگ"، جو میلک نے دیوار کے ساتھ کھڑے بیروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،"یہ سارے لوگ، تیسرے درجے کے انسان ہیں، اور ہم اول درجے کے۔ ایسا کیوں ہے؟"

ٹام نے پانی کا ایک گھونٹ پینے کے بعد کہا،"جو، یہ ایک اچھا سوال ہے۔ ہمیں کیا پتہ کہ دوسرے لوگ بھی اس سلسلے میں پریشان ہیں، جس بارے میں تم پریشان ہو۔ ہم اماراتیوں سے زیادہ بات چیت نہیں کرتے، وہ بس اپنے آپ میں رہتے ہیں، اور نہ ہی ہم فلیپین، سری لنکا، ہندوستان، پاکستان، سے تعلق رکھنے والے نوکروں سے کوئی بات کرتے ہیں۔ یہ لوگ بس مشین کی طرح ہیں۔ یہ بظاہر ہماری طرح کے انسان ہیں مگر ہمیں بالکل نہیں پتہ کہ ان کے ذہنوں میں کیا کلبل ہوتی ہے۔ کیا ان کے بھی جذبات ہیں، کیا یہ لوگ بھی ہماری طرح سوچتے ہیں؟ شاید، اس ساری فکر میں گھلنا ہمارا کام نہیں ہے۔ ہم تو یہاں ہیں، خوب پیسے بنا رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، اور کام ختم ہونے کے بعد خوب عیاشی کرتے ہیں۔ ہر قسم کا کھانا یہاں دستیاب ہے۔ طرح طرح کی شرابیں پانی کی طرح بہتی ہیں۔ یوں کہو کہ ہم بس خوش قسمت ہیں۔ کیا ہم اپنی خوش بختی پہ شرمندہ ہوں؟ نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم بس قدرت کے احسان مند ہیں کہ اس نے ہمیں یہاں پہنچا دیا جہاں یہ سسٹم بنا ہوا ہے کہ ہم خود بخود ایک مراعات یافتہ طبقے میں شامل ہیں۔"

وہ دونوں کھا کر ریستوراں سے اٹھ گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔ مگر کچھ ہی دنوں میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے جو میلک کے سوچ کا دھارا ایک بالکل نئے رخ پہ موڑ دیا۔

 

جو میلک کی ماتحتی میں ایک مصری سپروائزر کام کرتا تھا۔ اس مصری کے نیچے کام کرنے والا تمام عملہ دیسی تھا۔ ان مزدوروں میں چار بہاری تھے، دو پنجابی، اور دو تامل۔ 

جو میلک ایک روز سائٹ پہ موجود تھا جہاں کام زور و شور سے جاری تھا۔ ایک موقع پہ مصری سپروائزر نے ایک پنجابی مزدور کو زور سے آواز دی۔ مزدور کسی کام میں مصروف تھا اور عمارت سازی کے شور شرابے میں اسے شاید اپنے سپروائزر کی بات سنائی نہ دی۔ ایک دو آوازیں دینے کے بعد سپروائزر نے قریب پڑی لوہے کی ایک سلاخ کھینچ کر مزدور کو ماری۔ مزدور کو وہ سلاخ ٹانگوں پہ لگی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو سپروائزر نے اسے خوب کھری کھری سنائیں۔ جو میلک کو مصری سپروائزر کا مزدور کے ساتھ یہ ظالمانہ سلوک بالکل پسند نہ آیا۔

 

کچھ دیر بعد جو میلک اس مزدور کے پاس گیا جسے اس کے سپروائزر نے کھینچ کر سلاخ ماری تھی۔

"کی نا ہے تاڈا؟" جو نے مزدور سے پوچھا۔

جو کے پنجابی بولنے پہ یوں لگا کہ جیسے اس مزدور پہ حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔شاید اس مزدور کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کے سپروائزر کا باس جو انگریز تھا اس سے پنجابی میں بات کر رہا تھا۔ 

جو نے مزدور کو مختصراً بتایا کہ وہ تھوڑی بہت پنجابی بول لیتا تھا۔ مزدور کا نام محمد رمضان تھا۔ رمضان کا تعلق رحیم یار خان سے تھا۔ وہ یہاں مصفح نامی آبادی میں رہتا تھا۔

محمد رمضان سے بات کرنے کے بعد جو کا خیال تھا کہ وہ کسی اتوار کے روز مصفح جائے گا مگر ایسا موقع جلد نہ آ پایا۔ ہر ویک اینڈ پہ جو کے کچھ نہ کچھ پروگرام بن جاتے اور پھر ذرا سی دیر میں پیر کا دن آ جاتا۔

 

پھر ایک روز دوپہر کے کھانے پہ جو نے ٹام سے کہا تھا۔

" ہم جن لوگوں سے اپنی عمارتوں پہ کام کرواتے ہیں وہ مزدور ہیں یا غلام؟"

"کیا مطلب کہ وہ مزدور ہیں یا غلام؟ غلامی اس دنیا سے ختم ہو چکی ہے۔ " ٹام نے جواب دیا تھا۔

"میرا مطلب ہے کہ ہم اگر نوکری کرتے ہیں تو اپنی عزت نفس کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس اکڑ کے ساتھ کرتے ہیں کہ اگر ہمیں کام پسند نہ آیا تو نوکری چھوڑ دیں گے۔" جو نے کہا۔

"تو ایسا ان مزدوروں کے ساتھ بھی ہے۔ ہماری طرح یہ لوگ بھی اپنے اپنے ملکوں سے اپنی مرضی سے یہاں آئے ہیں۔" ٹام نے جو کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ 

"نہیں، یہ لوگ غلام ہیں۔ یہ اپنی مرضی سے یہاں آئے ہیں مگر اب ان کے پاسپورٹ ضبط ہیں، اب یہ یہاں سے نہیں جا سکتے۔" جو نے اپنے سامنے سے پلیٹ ہٹاتے ہوئے کہا۔

"مگر یہ مزدور یہاں سے جانا بھی نہیں چاہتے۔ یہاں ان کے حالات شاید اس قدر اچھے نہیں ہیں مگر ان کے اپنے ملک میں ان کی حالت اس سے بھی زیادہ خراب تھی۔" ٹام اب تک جو کی طرف غور سے دیکھ رہا تھا۔

"شاید ان کے اپنے ملک میں ان کی مالی حالت خراب ہو مگر یہ لوگ وہاں پہ اپنے چاہنے والوں کے درمیان تو تھے۔" جو نے ریستوراں کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

 

پھر ایک پارٹی میں بھی جو میلک دوسرے لوگوں کے ساتھ یہ موضوع لے بیٹھا تھا۔ وہاں جو میلک کو ایک نئی بات سننے کو ملی۔

"ترقی کرنے کے لیے غلام تو چاہیے ہوتے ہیں۔ امریکہ نے بھی غلامی کے بل بوتے پہ ترقی کی ہے۔ تو اب شیخوں کو بھی ایسا کرنے دو۔" مارٹن نامی شخص نے جو سے کہا تھا۔

"نہیں، ایسا ہر گز نہیں ہے کہ ترقی کے لیے غلام چاہیے ہوتے ہیں۔ اور اگر کسی زمانے میں یہ کلیہ صحیح بھی تھا تو آج کے زمانے میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔" جو میلک نے زور دے کر کہا تھا۔

"کچھ عرصے پہلے یہ اماراتی جنگلی تھے۔ یہ بھوکے رہتے تھے۔ اب ان کے حالات پلٹ گئے ہیں۔ ایک زمانے میں ہندوستان ایک امیر ملک ہوتا تھا، اب وہاں کے لوگ ذلت و خواری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اور یہ اماراتی ہندوستان کے لوگوں کو جانوروں کی طرح ہانکتے ہیں۔ تو بس یہی دنیا ہے۔ یہ اونچ نیچ تو ہوتی رہتی ہے۔ کچھ دن اور گزریں گے، یہ معاملہ بھی ختم ہو جائے گا۔ کوئی اور صورت بنے گی۔" اس میز پہ بیٹھے ایک ادھیڑ عمر شخص نے اولڈ مونک کے دو  شاٹ یکے بعد دیگرے حلق سے اتارنے کے بعد جو سے کہا تھا۔

مگر میں کچھ دن گزرنے کا انتظار نہیں کرنا چاہتا۔ باپو نے کہا تھا کہ، تم وہ تبدیلی بن جاؤ کہ جس کی خواہش تم دل میں رکھتے ہو۔ میں وہ تبدیلی خود بن جانا چاہتا ہوں۔ جو میلک نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔

"اگر تمھیں انقلاب لانے کا شوق ہے تو ان ملکوں میں جاؤ جہاں سے مزدور یہاں آتے ہیں۔ وہاں کے حالات صحیح کرو تا کہ ان علاقوں کے عوام مجبور ہو کر دوسرے ملکوں کی طرف نہ بھاگیں اور استحصال کے جال میں پھنس جائیں۔" ادھیڑ عمر شخص نے جو میلک کے ذہن میں ہونے والی کش مکش کو بھانپ کر اس سے کہا تھا۔

 

اس نوعیت کی کئی بحثیں جو نے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی کیں۔ اور ہر ایسی بحث میں جو کو اندازہ ہوا کہ جو لوگ عیاشی کی زندگی گزار رہے تھے انہیں معاشرے کے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی کوئی خاص پرواہ نہ تھا۔

 

پھر ایک روز سائٹ پہ جو میلک کو محمد رمضان دوبارہ نظر آ گیا۔ اس بار رمضان سے جو کی بات تو نہ ہوئی مگر جو نے پورا تہیہ کر لیا کہ وہ اگلے اتوار کے روز مصفح جا کر مزدوروں کے رہن سہن کے انداز دیکھے گا۔ جو نے کام پہ ٹام سے اپنا یہ ارادہ ظاہر کیا تھا۔

"مو۔سا۔فا جاؤ گے؟ آخر کیوں؟ وہ مزدور بستی ہے نا؟ وہاں یا تو مزدور جاتے ہیں یا وہ پاگل مغربی صحافی جو دنیا کے حقائق کو نہیں سمجھتے اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ دبئی کے مزدوروں کی حالت زار لکھنے سے دنیا میں کوئی انقلاب آ جائے گا۔"

جو میلک نے معاشرے میں انصاف کی ضرورت پہ بات کرنے کی کوشش کی تو اسے جواب ملا کہ،

"یار یہ دنیا، بے منصف جگہ ہے۔ یہاں انصاف تلاش کرنا فضول ہے۔ شیر ہرن کو کھا جاتا ہے۔ اب تم ہرن کی ہمدردی میں شیر کو سبزی خور نہیں بنا سکتے۔"

جو نے ٹام کی باتیں تو سن لیں مگر ٹام کی منطق اسے کچھ سمجھ میں نہ آئی۔ دنیا میں تبدیلیاں تو آتی ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ انسان ہر ظلم کی طرف سے آنکھیں پھیر لے اور یہ کہہ کر قسمت پہ قانع ہو جائے کہ دنیا تو ہے ہی بے انصاف جگہ؟ اور اگر آج کے مجبور اور مظلوم افراد کی جگہ آپ ہوں تو آپ کیسا خیال کریں گے؟ کیا آپ اپنے حالات میں جلد از جلد تبدیلی نہ دیکھنا چاہیں گے؟

 

اس گفتگو کے بعد آنے والے اتوار کو جومیلک مصفح پہنچ گیا۔ وہ حد نظر پھیلی ایک ایسی خستہ حال بستی تھی جس کا تعلق چمکتے دمکتے دبئی سے زیادہ کسی مفلس ملک سے نظر آتا تھا۔ جو میلک کو وہاں محمد رمضان تو نہ ملا مگر پاکستان سے تعلق رکھنے والے دوسرے لوگ مل گئے۔ وہ ان کے ساتھ دیر تک بیٹھا ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا۔ ان محنت کشوں میں سے اکثر دبئی کی زندگی سے تنگ ہونے کے باوجود حالات کے ہاتھوں بندھے ہوئے تھے۔ اپنے ملک سے دبئی کے لیے روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے ایجنٹوں کو ادھار لے کر کمیشن کے طور پہ رقم دی تھی۔ اب ان لوگوں کو اپنے قرضے چکانے تھے اور ساتھ ہی خاندان والوں کی اعلی توقعات پہ پورا اترنا تھا۔ وہ جبر واستحصال کے ظالم چنگل میں پھنس چکے تھے۔

 

تو آج جب جو میلک تیسری دفعہ مصفح جا رہا تھا تو اس کے ذہن میں ایک بغاوت کے خدوخال واضح ہونا شروع ہو گئے تھے۔ دبئی میں لوگوں کی کل آبادی کیا ہے؟ ان میں سے کتنے فی صد لوگ مقامی یعنی اماراتی ہیں؟ ان اماراتیوں میں کتنے حکومت کے وفادار ہیں؟ اگر منصوبہ بنا کر شیخ کا تختہ الٹا جائے تو کون لوگ اس بغاوت میں تختہ الٹنے والوں کا ساتھ دیں گے؟ اماراتی فوج میں کتنے لوگ ہیں؟ فوج میں باہر کے لوگوں کا تناسب کیا ہے؟ جو میلک مصفح جاتے ہوئے ان ساری باتوں کے متعلق سوچتا رہا۔

 

پھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ جو میلک کو ایسے اماراتی ملنا شروع ہو گئے جو شیخ کے مخالف کیمپ سے تعلق رکھتے تھے۔ اب جو میلک کی ایک سیاسی زندگی کا آغاز ہو رہا تھا۔ تین چار لوگوں کی ایسی محفلوں میں شیخ کا تختہ اکھاڑ پھینکنے کی بات کبھی کھل کر تو نہ ہوئی مگر اس بارے میں ضرور بات ہوئی کہ دبئی میں ایک غیر استحصالی معاشرہ قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں مراعات لوگوں کے ملکی تعلق کی بنیاد پہ نہ ہوں۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب جو میلک نے متحدہ عرب امارات کی فوج میں شامل پاکستانی جوانوں سے رابطہ کرنے کے سلسلے میں اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ 

 

یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومت الٹنے کی براہ راست اور برسر عام بات نہ کرنے کے باوجود جو میلک کی سیاسی سرگرمیوں کی خبر حکام بالا تک کیسے پہنچی مگر ایک روز جب جو میلک کام سے واپس پلٹا تو اس کے اپارٹمینٹ کے باہر چار لوگ موجود تھے۔ ان میں سے ایک نے جو میلک کو اپنا پولیس کا بیج دکھایا اور جو کو ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ جو میلک نے مزاحمت کی کوشش کی تو ایک اور شخص نے پستول جیب سے نکال کر جو میلک پہ تان لی۔ جو میلک موقع کی نزاکت سمجھ کر ان لوگوں کے ساتھ چلنے پہ راضی ہو گیا۔

 

جو میلک نے اگلے تین روز ایک چھوٹی سی جیل میں گزارے۔ وہاں اسے سونے یا کسی قسم کا آرام کرنے کا موقع مشکل ہی سے ملتا۔ اس پہ تشدد تو نہیں کیا گیا مگر کچھ کچھ دیر بعد اسے پوچھ گچھ کے لیے بلایا جاتا۔ جو میلک سے معلوم کیا گیا کہ وہ انگلستان میں کتنے عرصے سے تھا، اس کے والدین کون تھے، ان کا تعلق کہاں سے تھا، جو میلک جن مقامی اماراتیوں کو جانتا تھا انہیں کیسے جانتا تھا، کیا جو میلک کے پاس کسی قسم کے ہتھیار تھے، وغیرہ، وغیرہ۔ جو میلک کو یہ جان کر تعجب ہوا کہ مقامی اماراتیوں سے ہونے والی اس کی کئی ملاقاتوں کی گفتگو پولیس والوں کے پاس ٹیپ کی صورت میں موجود تھی۔

 

گرفتاری کے چوتھے روز جو میلک کو لندن جانے والی ایک پرواز میں بٹھا کر ملک بدر کر دیا گیا۔