کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خلفشار

علی حسن سمند طور


ہارون شاہ کا تعلق پنڈ دادن خان سے تھا مگر وہ لوگوں سے کہتا تھا کہ وہ جہلم کا رہنے والا ہے۔ ہارون شاہ نے مشکل سے چار جماعتیں پڑھی تھیں اور ایک عرصہ پنڈ دادن خان میں اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ آوارہ گردی کرنے کے بعد فوج میں بھرتی ہو گیا تھا۔اب وہ کیپٹن طارق کی ماتحتی میں ایک سپاہی تھا۔ ہارون شاہ اخبار پڑھ سکتا تھا اور مختلف اردو اخبارات کی ورق گردانی کی وجہ سے اس کو دنیا کے سیاسی حالات میں کچھ دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ آج صبح جب اس کو کیپٹن طارق کی طرف سے یہ حکم ملا کہ اسے دوسرے سپاہیوں کے ساتھ جا کر دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے پہ حملہ کرنا ہے اور دہشت گردوں کو اس علاقے سے نکال باہر کرنا ہے تو رات سونے کے لیے لیٹنے سے پہلے ہارون شاہ نے اپنے ساتھی جوان عبدالحمید سے پوچھا تھا کہ وہ دہشت گرد کون تھے جن پہ ان سپاہیوں کو حملہ کرنے کو کہا جا رہا تھا۔

"سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ لوگ واقعی دہشت گرد ہیں؟ وہ تو اسلامی نظام چاہتے ہیں، وہ تو ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔ کیا ہم ان پہ اس لیے حملہ کریں کیونکہ امریکہ ہمیں ان پہ حملہ کرنے کے لیے مجبور کر رہا ہے؟" ہارون شاہ نے اپنی مونچھوں پہ تاؤ دیتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے عبدالحمید سے یہ سوال کیا تھا۔

ٹھیک اسی وقت کراچی میں ہونے والے ایک مذاکرے میں پچاس لوگ شریک تھے۔ سامعین کے سامنے تین مقرر ایک میز کے پیچھے موجود تھے۔ ایک مقرر بول رہا تھا۔

"پاکستان آج جس اندرونی خلفشار کا شکار ہے اس سے نکلنے کے لیے سب سے پہلا کام ہمیں یہ کرنا ہو گا کہ جنگ بخلاف دہشت گردی یعنی وار آن ٹیرر سے فوری طور پہ جان چھڑانی ہو گی۔ امریکہ کو صاف منع کرنا ہو گا کہ وہ ہمارے معاملے میں ٹانگ نہ اڑائے۔ یہ دھمکی دینی ہو گی کہ آئندہ اگر کوئی ڈرون پاکستانی سرحد میں داخل ہوا تو اسے مار گرایا جائے گا۔ اور ہمیں امریکہ کو اس طرح کا صاف جواب اس لیے دینا ہو گا تا کہ سب پہ یہ بات واضح ہو جائے کہ طالبان سے جنگ ہماری اپنی جنگ ہے، اس عمل میں امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہمارا مقصد ہرگز نہیں ہے۔ امریکہ کو اس جھگڑے سے باہر کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ آج جب ہم طالبان کے خلاف بات کرتے ہیں تو ہم پہ الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ ہم بیرونی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔

پھر جب ہم امریکہ کو اپنے اندرونی معاملے سے باہر نکال دیں تو قومی سطح پہ کھل کر یہ بحث کریں کہ ہم کن قوانین کے تحت زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور طالبان کے اسلام کو ہم جھوٹا اسلام کیوں سمجھتے ہیں۔"

اور ٹھیک اسی وقت لاہور میں ایک انگریزی اخبار میں باقاعدگی سے کالم لکھنے والا ایک صحافی لکھ رہا تھا۔

"آیا ہمارے پیغمبر کی دعوت کی صورت میں آنے والی وسیع النظری کا یہ مقصد تھا کہ لوگ زمانہ جہالت سے نکل کر ساتویں صدی میں پہنچ جائیں مگر پھر وہیں ٹھٹھک کر کھڑے ہو جائیں، یا اسلامی وسیع النظری کا یہ مطلب ہے کہ ہم وقت کے ساتھ مستقل آگے بڑھتے رہیں؟ ہمارے درمیان موجود دانا لوگ قوم کو اس جھوٹ سے کیوں نہیں نکالتے جس میں ایک خاص ذہن کے مذہبی راہ نماؤں نے ہمیں پھنسا دیا ہے؟ یہ بات کھل کر کیوں نہیں کہتے کہ کوئی مذہب بشمول 'اسلام' مکمل ضابطہ حیات نہیں ہے؟ کہ قانون سازی ایک مستقل عمل ہے اور ہر عہد کے لوگوں کو اپنے عہد کے تقاضے دیکھتے ہوئے قانون سازی کا مشکل کام خود کرنا ہو گا؟ یہ بات واضح کیوں نہیں کرتے کہ کسی جدید ریاست میں عقائد اور مذاہب شہریوں کا نجی معاملہ ہونا چاہئیں، ریاست اس جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتی کہ فیصلہ کرے کہ کون سچا ہندو ہے اور کون صحیح مسلمان؟ یہ بات کھل کر کیوں نہیں کہتے کہ کوئی کتاب بشمول کوئی آسمانی کتب، اپنے اندر تمام مسائل کے حل نہیں رکھتی اور نہ رکھ سکتی ہے؟ 

طالبان جس خرافات کو اسلام کا خوشنما نام دے کر ہم تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ محض ماضی پرستی اور جہالت ہے۔ ہمیں وقت میں آگے بڑھنا ہے نہ کہ پیچھے جانا ہے۔ طالبان سے جنگ ہماری اپنی جنگ ہے کیونکہ یہ لڑائی جدید دنیا کے ساتھ چلنے والوں اور ماضی پرستوں کے درمیان ہے۔ اس جنگ میں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ آیا ہمیں ان لوگوں کی قیادت قبول ہے جو موجودہ زمانے کی کوئی سمجھ نہیں رکھتے اور جن سے آپ کوئی عقل کی بات نہیں کر سکتے، یا ہمیں وسیع النظر لوگوں کے پیچھے چلنا ہے جو آج کی اس دنیا میں ہمارا اپنا منفرد مقام بنانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم موجودہ عہد کے حقوق نسواں کے علم بردار ہیں یا اپنے ملک کی آدھی آبادی کو باندھ کر رکھنا چاہتے ہیں؟

یہ لوگ ہم سے جھوٹ بولتے ہیں کہ عورت کا برقعے میں رہنا عورت کے لیے اچھا ہے اور پردے میں ڈھکی چھپی عورت دراصل اتنی آزاد ہے کہ جتنا کہ ایک مغربی عورت تصور بھی نہیں کر سکتی۔ پردے کے حق میں یہ دلیل جھوٹ اور فریب کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ اگر پردہ ہی عورت کی آزادی کی معراج ہے تو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں پردہ دار خواتین آگے سے آگے نظر آنی چاہئیں۔ کہ اسلامی ممالک میں سر سے پاؤں تک ڈھکی عورتیں کامیابی کے نت نئے جھنڈے گاڑتی نظر آنی چائیں۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہے اور یہی مشاہدہ پردے کی عظمت کی دلیل کی نفی کرتا ہے۔ عورت کا پردہ عورت کی اپنی مرضی سے نہیں ہے بلکہ مرد کے زور سے ہے۔ ایک ایسا مرد جو عورت کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے اور جس طرح وہ اپنے دوسرے قیمتی مال کو چوری سے بچانے کے لیے ڈھانپ کر رکھتا ہے اسی طرح وہ اپنی عورت کو بھی ڈھانپ کر رکھنا چاہتا ہے۔ 

ہمارے لیے اسلام ایک بہت پسندیدہ خیال کا نام ہے۔ مگر جب ہم ان جاہلوں کا 'اسلامی نظام' دیکھتے ہیں تو ہمیں جھرجھری آتی ہے۔ ان کے نام نہاد اسلامی نظام میں عورتوں پہ ہرطرح کی پابندیاں ہیں اور کوڑے، سنگ ساری، اور قطع ید جیسی قرون وسطی کی سزائیں بے مہار اور بلا تحقیق ہیں۔ یہ لوگ جہاں اپنا نام نہاد اسلامی نظام نافذ کرتے ہیں وہاں سے لوگ بھاگ جاتے ہیں اور ان علاقوں میں کوئی شخص پھٹک کر بھی نہیں جانا چاہتا۔ ان لوگوں نے اسلام کے نام پہ فراڈ کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ یہ یوں ہے جیسے ایک بوتل میں زہر بھر کر اوپر 'شہد' کا لیبل لگا دیا جائے۔"

اور ٹھیک اسی وقت اسلام آباد میں ایک شخص انگلستان میں موجود اپنے دوست سے فون پہ بات کر رہا تھا۔

"ہم اپنے حکمرانوں سے خوش نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جنہیں اپنے منصب کی ذمہ داری سے خوف آئے کہ سترہ کروڑ لوگوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانا کس قدر مشکل کام ہے۔ یہ لوگ تو اپنے عہدوں پہ صرف اس لیے بیٹھے ہیں کہ یہ گلچھرے اڑا سکیں۔ ہم ایک منصف حکومت چاہتے ہیں۔ برصغیر کے تمام لوگ، مختلف لسانی گروہ، مختلف قومیتیں، مختلف مذہبی عقائد رکھنے والے لوگ، اچھی حکومت چاہتے ہیں۔ ایک ایسی حکومت جو ان پہ ظلم نہ کرے، جس حکومت پہ ان لوگوں کا بس چلے۔ ایسی حکومت کہ جس پہ بھروسہ کیا جا سکے۔ کہ جب ہم اپنی سخت محنت سے اس حکومت کو صبح سو روپے دیں تو شام کو پورے سو روپے کا حساب مل جائے۔ ہم ایسے لوگوں کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں جو ہمیں محنت سے رزق کمانے کی سہولت دیں۔ ایسی حکومت کہ جس کے زیر اثر لوگ آزادی سے بلا خوف اپنی بات کر سکیں۔ ان کو کسی قسم کے تشدد کا ڈر نہ ہو۔ ہم بس ایسی حکومت چاہتے ہیں۔ جو گروہ ہمیں ایسی حکومت دینے کی اہلیت رکھتا ہو، ہم اس کے ساتھ ہیں۔ مگر ہم نے جھوٹے وعدے بہت سنے ہیں۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ وعدہ کرنے والا گروہ اپنے عمل سے پہلے یہ ثابت کرے کہ وہ ایسی منصف حکومت قائم کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ آج جو مختلف گروہ ہم سے ایسے وعدے کر رہے ہیں، ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی جگہ اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ہر سیاست داں، ہر مذہبی گروہ کا ایک مخصوص علاقہ ہے۔ ان سب لوگوں کو یہ چیلنج ہے کہ وہ اپنے اثر والے علاقے میں وہ مثالی معاشرہ قائم کر کے دکھائیں جسے وہ پورے ملک میں قائم کرنے کی تمنا رکھتے ہیں ۔ جب وہ اپنے اختیار کے علاقے میں ایسا دل پسند معاشرہ قائم کر دیں گے کہ جہاں جانے کے لیے لوگ بےتاب ہوں گے، کہ جہاں کے عدل کے قصے ہر زبان پہ ہوں گے، کہ اخبارات اس نظام کی تعریف میں رطب السان ہوں گے، ٹی وی اس معاشرے کی ویڈیو دکھاتے نہ تھکتے ہوں گے، تو پھر ہم اس گروہ کو اپنے اوپر حکمرانی کا اہل جانیں گے اور آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے چل پڑیں گے۔"

ہارون شاہ عبدالحمید کی طرف غور سے دیکھتا رہا مگر اسے عبدالحمید کی طرف سے کسی جواب کی توقع نہیں تھی۔جب کہ عبدالحمید کا خیال تھا کہ ہارون اخبار پڑھ پڑھ کر کچھ زیادہ سوچنے سمجھنے لگا تھا۔

"چل سوجا۔ صبح محاذ پہ جانا ہے،" عبدالحمید نے ہارون شاہ کو مشورہ دیا اور کروٹ بدل کر سو گیا۔