کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نن۔۔۔ نہیں

اشتیاق احمد


چند لمحے تک مکمل سکوت طاری رہا۔۔ پھر خان بدیع نے کہا۔

واقعی۔۔ ان کی حیرت انگیز صلاحیتیں دیکھ کر ہم حیران ہو رہے تھے۔۔ اب بات سمجھ میں آئی۔۔ یہ تو اس سے کہیں زیادہ صلاحیتوں کے لوگ ہیں۔۔ تب پھر میری اب یہاں کیا ضرورت۔۔ میں چلتا ہوں۔ آپ کا مسئلہ تو یہ چٹکی بجاتے میں حل کر دیں گے۔۔ خیر ہم اس قدر جلد باز بھی نہیں ہیں کہ چٹکی بجاتے میں کیس حل کر دیں۔۔ محمود نے شرما کر کہا۔۔

خیر خیر۔۔ چٹکی بجاتے تو میں نے ایسے ہی کہ دیا۔۔ مطلب یہ تھا کہ بہت جلد اور بہت آ سانی سے یہ یہاں کا مسئلہ حل کر دیں گے لہذا میں چلتا ہوں۔۔ آپ شاید ناراض ہو گئے ہیں حالانکہ انہیں ہم نے بلایا نہیں۔۔ یہ اتفاقی طور پر یہاں آئے ہیں۔۔

اور کیا۔ اور اگر آپ کو ہماری موجودگی گراں گزر رہی ہے تو لیجیے ہم چلے جاتے ہیں۔۔ محمود نے کہا۔۔ نہیں نہیں۔۔ آپ اس طرح نہیں جا سکتے اور نہ مسٹر خادم حسین جا سکتے ہیں۔۔ آپ چاروں مل کر ہمارا مسئلہ حل کریں۔۔ خان بدیع نے جلدی جلدی کہا۔۔ چلیے ٹھیک ہے۔۔ محمود نے فوراً کہا۔۔ اس پوسٹر کا چکر ہے کیا ؟ خادم حسین بولا۔۔ اب خان بدیع نے انہیں پوسٹر کے بارے میں بتایا۔۔ سب سے پہلے تو ہم اس پوسٹر کو محفوظ کرنے کی اجازت چاہیں گے۔۔ محمود نے کہا۔۔ مطلب یہ کہ دیوار پر لگا ہوا یہ غائب بھی ہو سکتا ہے۔ آخر اس پر قاتل کے ہاتھ کی تحریر ہے۔۔ یہ ضروری نہیں کہ تحریر اس نے خود لکھی ہو دوسری بات یہ کہ آپ ابھی اسے قاتل نہیں کہہ سکتے۔۔ اوہ ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے۔۔ یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کاغذ پر لکھی تحریر ہمارے کام کی چیز ہے۔۔ اس کو محفوظ کر لینا چاہیے۔۔ خادم حسین نے کہا۔ وہ دیوار کے پاس آئے۔۔ خادم حسین پوسٹر اتارنے کے لیے آ گے بڑھا ہی تھا کہ محمود بول اٹھا ایک منٹ ٹھریں۔۔ اس طرح تو پوسٹر پر آپ کی انگلیوں کا نشان آ جائے گا اور قاتل کی انگلیوں کے نشانات مٹ سکتے ہیں۔۔ آخر اس کاغذ پر اس کی انگلیوں کے نشانات تو ہیں نا۔۔

ہاں بالکل۔۔ واقعی آپ اپنے اس میدان کے بہت ماہر کھلاڑی ہیں۔ ہر چھوٹی چھوٹی بات کی طرف دھیان دیتے ہیں۔ خادم حسین نے ان کی تعریف کی۔ شکریہ اب آپ کیا کریں گے ؟

میں میں کچھ نہیں کروں گا پوسٹر آپ لوگ دیوار سے اتاریں۔۔ اچھی بات ہے ہمارے پاس انگلیوں کے نشانات ابھارنے والا پاؤڈر موجود ہے ہم ابھی اس پر سے نشانات اتار لیتے ہیں۔۔ محمود نے کہا۔۔ پھر پوری احتیاط سے پوسٹر اتار لیا۔ اسے ایک میز پر رکھا اس پر پاؤڈر چھڑکا اور کیمرے سے اس کی تصاویر لے لیں۔۔

فاروق ان سب کی انگلیوں کے نشانات لے لو۔۔ اچھی بات ہے۔۔ یہ۔۔ یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔۔ ہماری انگلیوں کے نشانات کیا کریں گے آپ۔۔ خان بدیع نے گھبرا کر کہا۔۔

یہ اندازہ لگانا ہے کہ آخر کون ہے جو اس گھر کی خوشیوں کو چھین لینا چاہتا ہے۔۔ فاروق مسکرایا۔

بالکل۔۔ آپ یہ نہ بھولیں کہ قاتل میرا مطلب ہے ہونے والا قاتل آپ میں سے ایک بھی ہو سکتا ہے۔۔ ہاں ! یہ بات آپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں۔۔ خیر ہمیں کیا۔۔ ہم نشانات دے دیتے ہیں۔۔ بالکل شاکان جاہ نے کہا۔۔ کم از کم میں نہیں دوں گا۔۔ نشانات۔۔ طاؤس جان بولا۔۔ کیا مطلب۔۔ میں جب تک اپنے وکیل سے مشورہ نہ کر لوں نشانات نہیں دوں گا۔۔ آپ کے وکیل کہیں نہ کہیں نشانات تو آپ کو دینے ہوں گے اس لیے کہ آپ تفتیش میں روڑے نہیں اٹکا سکتے۔۔ یہ چھے آدمیوں کے قتل کا معاملہ ہے۔۔ خادم حسین نے تیز لہجے میں کہا۔۔ ہاں بالکل۔۔ آپ نے ٹھیک کہا۔۔ فاروق بولا۔ اچھی بات ہے لے لیں پھر نشانات۔۔ فاروق نے ان سب کے نشانات لے لیے۔۔

اب آپ لوگ ایک کام اور کریں۔۔ اور وہ کیا ؟ وہ چونکے۔۔

اپنی اپنی تحریر بھی ذرا دے دیں۔۔ مہربانی فرما کر ہر شخص انہی الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر لکھ دیں اس طرح آسانی ہو جائے گی۔۔ یہ اتنے خوفناک الفاظ ہم کس طرح لکھ دیں۔۔ خان بدیع نے کانپ کر کہا۔۔ آپ کی تحریر کا نمونہ حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔۔ اچھی بات ہے۔۔ طاؤس جان نے جھلا کر کہا اور سب نے ان الفاظ میں تحریر بھی لکھ دی ہم ذرا اپنا کام مکمل کر لیں۔۔ آپ ان سے جو سوالات وغیرہ کرنا چاہیں کریں۔۔ محمود نے خادم حسین سے کہا۔۔ خادم حسین سر ہلا کر رہ گیا اور وہ ایک کمرے میں آ گئے۔۔ انہوں نے دروازہ بند کر لیا۔۔ یہ انسپکٹر ہم سے آگے نکلنے کے چکر میں ہے لیکن ہم اسے نکلنے دیں گے نہیں۔۔ فرزانہ بولی۔۔

ایسی کیا بات ہے۔۔ ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ بے چارے بچ جائیں۔۔ نامعلوم قاتل ناکام ہو جائے۔۔ اور بس ہمیں اس سے کیا غرض کہ کون سے مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔۔ اچھا ٹھیک ہے۔۔ آؤ کام کریں۔۔ انہوں نے فلم نکال کر دھوئی۔۔ پوسٹر کی تحریر اب انہیں صاف نظر آنے لگی۔۔ لیکن پورے پوسٹر پر ایک انگلی کا نشان بھی نہیں تھا۔۔ اس کا مطلب ہے۔۔ ہمارا مجرم کچی گولیاں نہیں کھیلا ہوا۔۔ محمود بڑبڑایا۔۔ خیر کوئی بات نہیں۔۔ اب ذرا تحریر کی چھان بین کرو۔۔ انہوں نے سب کی تحریر اس پوسٹر کی تحریر سے ایک ایک لفظ کے حساب سے ملا کر دیکھی لیکن پوسٹر والی تحریر سے کوئی تحریر بالکل بھی ملتی جلتی نظر نہ آئی۔۔ اب تو وہ پریشان ہو گئے۔۔ کھیل آسان نہیں مجرم بہت ماہر لگتا ہے۔۔ دیکھا جائے گا۔۔ فرزانہ نے کندھے اچکائے۔۔

انہوں نے تمام تحریروں ، تصاویر اور پوسٹر کا ایک پیک بنایا اسے سیل کیا اور اپنے کمرے کی الماری میں رکھ دیا۔۔ اب ہمیں ذرا اس عمارت کا جائزہ لینا چاہیے۔۔ ہاں قاتل کے لیے تمام راستے بند کر دینے چاہییں تاکہ وہ اندر داخل ہو ہی نہ سکے۔۔ انہوں نے پوری عمارت کا جائزہ لیا عمارت میں کل پندرہ کمرے تھے۔۔ ہر کمرے کا دوسرے کمرے سے تعلق درمیانی دروازے سے تھا۔ پھر ہر دو کمروں کا باتھ روم ایک تھا گویا تمام کمرے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔۔ اس صورت حال نے انہیں پریشان کر دیا۔۔

قاتل کے لیے تو بہت آسانی ہے۔۔ فرزانہ نے گھبرا کر کہا۔۔

ہم اس کا بندوبست کر لیتے ہیں۔ تم فکر نہ کرو پہلے جائزہ مکمل کر لو۔۔ محمود نے کہا۔۔ عمارت سے باہر نکلنے کا ایک راستہ پچھلی طرف سے بھی تھا اس راستے سے کوئی آسانی سے اندر آ بھی سکتا تھا۔۔ اور باہر جانا بھی بہت آسان تھا۔۔ کیونکہ پچھلی طرف گھنا جنگل تھا۔۔وہ اور بھی پریشان ہوئے اور اس کمرے میں آئے جہاں سب مہمان جمع تھے خادم حسین اس وقت وہاں نہیں تھا۔۔

یہ مسٹر خادم حسین کہاں گئے ؟

کافی دیر تک ہم سے سوالات کرتے رہے۔ اب انہوں نے سر میں درد محسوس کیا تو کچھ دیر آرام کرنے کے لیے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔ اور ان کے کمرے کا نمبر ؟

بارہ وہ بولے۔۔ شکریہ آپ کی یہ عمارت بالکل غیر محفوظ ہے۔۔ کیا مطلب ؟ ایک تو اس میں پچھلی طرف جو دروازہ ہے وہ کسی مجرم کے بہت کام آ سکتا ہے۔۔ تو اس کو بند کروا لیتے ہیں۔۔ اندر کی طرف تالا لگوا دیتے ہیں۔۔ اس سے بھلا کیا ہو گا تالا کھولنا مشکل کام نہیں ہوتا خاص طور پر جرائم پیشہ افراد کے لیے۔۔ آپ نے دیکھا نہیں تھا ہم نے کار کا دروازہ کس تیزی سے کھول لیا تھا۔۔ محمود نے کہا۔۔ لل۔۔۔ لیکن آپ لوگ جرائم پیشہ تو نہیں ہیں۔۔ انہوں نے گھبرا کر کہا۔۔ جرائم پیشہ تو ہم سے بھی زیادہ ماہر ہوتے ہیں محمود بولا۔۔۔ تب پھر کیا کروں ؟ اس وقت تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔۔ ہاں ، ایک ترکیب ہے۔۔ آپ اس دروازے پر دو تالے لگوا دیں۔۔ ایک اندر کی طرف ایک باہر کی طرف۔۔ اور دونوں کی چابیاں ہمیں دے دیں۔۔ چلیے ٹھیک ہے۔ میں کرا دیتا ہوں۔ اب دوسری مصیبت جس کا کوئی حل نہیں۔۔ فاروق نے کہا۔۔۔ اور وہ کیا ؟

تمام کمرے چوکور حالت میں ہیں۔۔ یعنی مربع شکل میں اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اگر غسل خانوں کے دروازے بند نہ ہوں تو ایک کمرے سے چل کر اندر ہی اندر آخری کمرے تک پہنچا جا سکتا ہے۔۔ قاتل کے لیے یہ صورت حال بھی بہت سود مند ہے۔۔

آپ تو مجھے ڈرائے دے رہے ہیں۔۔ خان بدیع نے گھبرا کر کہا۔۔ اب فرض کریں۔۔ آپ لوگوں میں سے ہی کوئی شخص یہ جرم کرنا چاہتا ہے تو وہ ان کمروں میں آرام سے اپنا کام کرے گا اور واپس جا کر اپنے بستر پر سو جائے گا۔ صبح سب کے ساتھ اٹھے گا اور قتل کی خبر پر زور سے اچھلے گا۔۔ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔۔ خان بدیع اور بھی گھبرا گئے۔۔ باہر سے تو ہم کسی قاتل کو اندر آنے سے روک سکتے ہیں لیکن اندر موجود قاتل کا ہم کیا کریں۔ یہ آپ ہمیں بتائیں۔۔ محمود نے کہا۔۔

آخر آپ اس بات پر کیوں تل گئے ہیں کہ قاتل اندر کا ہی آدمی ہے۔۔ کیا اس پوسٹر کی تحریر کسی کی تحریر سے مل گئی ہے۔۔ افسوس یہ نہیں ہو سکا اگر ہو گیا ہوتا تو ہم کیوں پریشان ہوتے۔۔ پھر آپ بتائیں۔۔ میں کیا کروں۔۔ پہلی بات پچھلے دروازے میں اندر اور باہر تالا لگوا دیں۔۔ صدر دروازے پر بھی ایسا ہی کریں۔۔ چلیے یہ ہو جائے گا۔۔ اور کچھ۔۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ تالوں کی چابیاں ہمیں دے دیں اور ایک بار اور ہر مہمان اپنے کمرے میں اپنی طرف سے دروازے بند کر کے رکھے۔۔

اس طرح باتھ روم کس طرح استعمال ہو سکیں گے۔۔ انہوں نے گھبرا کر کہا۔ کوئی باتھ روم استعمال کرنا پڑے تو اس کے لیے پہلے ہمیں خبر کی جائے ہم دوسری طرف جائیں گے تب باتھ روم استعمال کیا جا سکے گا۔۔

ہوں ! آپ لوگ واقعی عقلمند ہیں۔ ان ترکیبوں پر عمل کر کے واقعی قاتل سے بچا جا سکتا ہے۔۔

اور آپ کے سراغ رساں کہاں ہیں انہوں نے اب تک کیا کیا ہے۔۔

وہ قاتل کا کھوج لگانے کی فکر میں ہیں انہوں نے ہم سے سوالات کیے ہیں ادھر ادھر کا جائزہ لیا ہے آپ کی طرح انہوں نے بتایا۔۔ تو کیا انہوں نے بھی کمروں اور دروازوں کے بارے میں یہی باتیں بتائی ہیں ؟

ابھی تک تو انہوں نے ہمیں کچھ نہیں بتایا۔۔ اچھا خیر ایک سوال ہم بھی آپ سے کرنا چاہتے ہیں۔۔ کہیے وہ بولے آپ ساتوں میں سے کون سا شخص ایسا ہو سکتا ہے جسے باقی چھے کو ہلاک کرنے سے کوئی خاص قسم کا فائدہ پہنچتا ہو۔۔ کوئی نہیں ہم اس پہلو پر بھی سوچ چکے ہیں۔۔ وہ بولے۔۔ لیکن ایک بات آپ بھی سن لیں۔۔ بغیر وجہ کے کبھی کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا قتل کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے اور جب کوئی وجہ نہیں ہوتی تو پھر قاتل جنونی ہوتا ہے لیکن اس تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ وہ کسی جنونی آدمی کی نہیں ہے ویسے بھی آپ میں اور آپ کے دوستوں میں جنون کی کوئی علامت نظر نہیں آئی۔۔ نہیں۔۔ یہ ٹھیک ہے ہم میں سے کوئی بھی جنونی نہیں ہے وہ بولے۔۔ تب پھر قتل کی وجہ۔۔ ضرور ہو گی۔۔ اور میں کہتا ہوں کہ یہ ضرور کسی کا مذاق ہے یہاں کوئی قتل نہیں ہونے والا۔۔

یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔۔ ہمیں اپنی طرف سے بچاؤ کی کوشش تو کرنا ہی ہو گی نا۔

ہاں کیوں نہیں۔۔ یہ تو ہمارا فرض ہے آپ کو ایک خاص بات بتائیں جناب محمود مسکرایا۔۔

ضرور بتائیے وہ فوراً بولے۔۔

پوسٹر جو لگا ہوا  آپ کو نظر آیا تھا نا اس پر کسی کی بھی انگلی کا کوئی نشان نہیں ملا۔۔

کیا مطلب وہ چونکے۔۔؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ قاتل بہت چالاک ہے ہر بات کو بخوبی جانتا ہے۔۔ وہ اپنے جرم کا کائی نشان تک نہیں چھوڑنا چاہتا۔ اور وہ واردات ہر حال میں کرے گا۔۔

نن۔۔۔ نہیں۔۔

خان بدیع نے خوف زدہ آواز میں کہا۔۔ ان کی آنکھیں پوری طرح پھیل گئیں۔۔۔