کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

طالبان

علی حسن سمند طور


یوں تو دفتر میں یہ خبر کئی ہفتوں سے گردش میں تھی کہ کامران سمیت سینکڑوں لوگوں کی نوکریاں خطرے میں ہیں مگر جس روز کامران کو برخاستگی کا پروانہ ملا اس دن کامران کو بہت زمانے بعد ایک گہرا صدمہ ہوا۔ اسے یوں لگا کہ جیسے وہ اس دنیا کی سب سے ناکارہ شے ہو۔ برطرفی کا نوٹس ہاتھ میں پکڑانے کے ساتھ اسے محافظوں کی نگرانی میں عمارت کے باہر پہنچا دیا گیا۔ کامران کو اچھی طرح پتہ تھا کہ یہ احتیاط اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جس میں برخاست کیے جانے والے ملازم نے اپنے کمپیوٹر کے ذریعے پوری کمپنی میں وائرس دوڑا دیا یا کسی اور طور سے اپنے اوپر کی جانے والی زیادتی کا انتقام لیا۔ یہ علم رکھنے کے باوجود کامران نے یوں عمارت سے بے دخل کیے جانے پہ اپنی ہزیمت محسوس کی۔

کامران کے اگلے دو دن اس تذبذب میں گزرے کہ وہ کیا کرے۔ کامران نے سوچا کہ نوکری لگی رہے تو کس قدر آسان ہوتا ہے زندگی کی دوڑ میں جتے رہنا۔ روز کا ایک معمول بنا ہوتا ہے اور انسان ان خرافات سے کہ زندگی کا کیا مقصد ہے، ہم کہاں سے آئے ہیں، کہاں جا رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے۔

کامران سوچتا رہا کہ ساٹھ سال کی اس عمر میں نوکری چھٹنے پہ کیا کیا جائے۔ گھر ادا شدہ تھا۔ بچے کالج میں تھے۔ اور اس خانگی فراغت کے ساتھ کامران کی نوکری یوں اچھے طور پہ چھٹی تھی کہ برخاسگتی کے پروانے کے ساتھ اسے ایک موٹا تازہ چیک پکڑایا گیا تھا۔ اب واحد مسئلہ یہ تھا کہ وقت کیسے کاٹا جائے۔ اور وقت کاٹنے کے لیے گھر سے باہر کی مصروفیت ضروری تھی کیونکہ نوکری چھٹنے کے تیسرے روز شازیہ بیگم نے کامران کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ انہیں شازیہ کے کاموں میں کامران کی دخل اندازی بالکل زہر لگتی تھی اور اگر کامران نے کوئی کام تلاش نہ کیا تو شازیہ گھر سنبھالنے کی ذمہ داری کامران کو دے کر خود کوئی نوکری کر لیں گی۔

کامران کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ کامران کوئی کاروبار کر لے۔ کسی دوسرے کے کاروبار میں ملازم لگنے سے زیادہ اچھا ہے کہ انسان خود کاروبار کرے اور دوسروں کو ملازم رکھے۔ بات کامران کے دل کو لگی مگر پھر سوال یہ پیدا ہوا کہ کس قسم کا کاروبار کیا جائے۔ 

 

بہت سوچنے پہ کامران کو یہ بات سمجھ میں آئی کہ وہ ایسا کاروبار کرنا چاہتا تھا جس میں لوگوں سے خوب ملنا جلنا ہو۔ ساتھ کھانا پینا بھی ہو تو اور بھی اچھا ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ پرچون کی دکان کھولی جائے یا ریستوراں۔ پھر رفتہ رفتہ کامران کا ذہن بنتا گیا کہ وہ ایک ریستوراں کھولے گا۔

 

جب کامران نے ریستوراں کھولنے کی خواہش دوستوں کے سامنے ظاہر کی تو ہر شخص نے اپنی رائے بڑھ چڑھ کر بیان کی۔ ۔ کسی نے کہا، ریستوراں نہ کھولنا، بہت نقصان کا سودا ہے، پچھتاؤ گے، جمع جوڑی ساری رقم ہاتھ سے نکل جائے گی۔ کسی اور نے سمجھایا، ہاں ریستوراں ضرور کھولو۔ مگر کوئی نئی چیز سامنے لاؤ گے تو ریستوراں بہت چلے گا۔

غرض کہ جتنے مہہ اتنی باتیں۔

 

پھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ کامران کی ملاقات شفیق سے ہو گئی۔ شفیق کی ساری عمر ریستوراں کے کاروبار میں گزری تھی۔ وہ ابھی بھی ایک ریستوراں کا مینیجر تھا اور ایک عرصے سے خود اپنا ریستوراں کھولنے کی خواہش دل میں رکھتا تھا۔ مگر شفیق کے پاس اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جیب میں رقم نہ تھی۔ کامران کی ملاقات شفیق سے یوں ہوئی کہ جیسے پھکڑ تجربہ، غیر تجربہ کار سرمائے سے مل جائے۔ اب کامران اور شفیق باقاعدگی سے ملنے لگے۔ وہ دیر تک ریستوراں کھولنے کی جزئیات پہ غور کرتے۔ اور پھر رفتہ رفتہ ان کی گفتگو میں ریستوراں کے خد و خال واضح ہونا شروع ہو گئے۔ ریستوراں میں کس قسم کے کھانے ہوں گے؟ ریستوراں میں دیسی صحت بخش کھانے ہوں گے۔ کیا دیسی صحت بخش کھانے کی ترکیب اندرونی تضاد رکھتی ہے؟ نہیں، دیسی کھانا صحت بخش ہوسکتا ہے اگر کم چکنائی سے تیار کیا جائے۔ کیا ریستوراں تینوں وقت کھانے کے لیے کھلے گا؟ نہیں ریستوراں صرف ظہرانے اور عشائیے کے لیے کھلے گا اور اوقات کار محدود ہوں گے۔ باورچی کا انتظام کیسے کیا جائے گا؟ شفیق کئی باورچیوں کو جانتا ہے وہ انتظام کر لے گا۔ ریستوراں میں کتنے ملازم ہوں گے؟ ابتدا میں باورچی کے علاوہ دو اور ملازم ہوں گے۔ ساتھ کامران اور شفیق بھی لگے رہیں گے۔ شروع شروع میں کامران شفیق کے ساتھ ساتھ ہو گا لیکن ساری باتیں سمجھ جانے پہ ایک وقت کے کھانے پہ کامران مینیجری کرے گا اور دوسرے وقت شفیق۔

یہاں تک تو ساری باتیں افہام و تفہیم سے طے پا گئیں۔ مگر ریستوراں کے نام کا سوال اٹھا تو کسی نام پہ اتفاق نہ ہو پایا۔

گھسے پٹے ناموں یعنی تاج محل، پیکاک، مینار، دریا سے لے کر چونکا دینے والے نام مثلاً لالو کھیت، املی، ملاقات وغیرہ پہ خوب بحث ہوئی مگر کسی ایک پہ کامران اور شفیق متفق نہ ہو پائے۔

پھر ایک ایسے روز جب گلابی جاڑوں کے دن بارش ہونے کے ساتھ سخت سردی میں تبدیل ہو رہے تھے اور باہر کی ٹھنڈک سے کھڑکیوں پہ بھاپ جم چکی تھی کامران کو یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر ریستوراں کا چونکا دینے والا نام ایسا ہو جو در نوک زباں ہو تو عوام الناس میں اس کی قبولیت آسان ہو گی۔ تو پھر ریستوراں کا نام طالبان کیسا رہے گا۔ صحت مند دیسی کھانوں کا شاندار مرکز، طالبان ریستوراں، ماؤنٹین ویو۔

پہلے تو کامران کو ریستوراں کے اس نام پہ بہت ہنسی آئی مگر پھر اس نام کے فائدے سوچ سوچ کر یہ ارادہ اس کے ذہن میں پختہ ہونا شروع ہو گیا کہ ریستوراں کا نام طالبان ہی ہونا چاہیے۔ اس نے جھٹ شفیق کو فون ملا دیا۔ شفیق نے اس تجویز کو ایک مذاق کے طور پہ لیا۔ مگر کامران بالکل سنجیدہ تھا۔ کامران نے شفیق کو ایک دن کا موقع دیا کہ وہ اس تجویز پہ سنجیدگی سے غور کرے۔ یا تو شفیق اس ٹکر کا دوسرا نام لائے ورنہ ہار مان جائے اور طالبان ریستوراں کو خدمت کا موقع دے۔ 

 

یہ نام شفیق کو تو بالکل نہ بھایا تھا مگر جب شفیق نے اس کا تذکرہ اپنی بیوی سے کیا تو بیگم صاحبہ نے نام کو بہت پسند کیا۔ اور یوں جولائی ۴ کے روز ماؤنٹین ویو کی ایک سڑک پہ طالبان ریستوراں کھل گیا۔ نام اچھوتا تھا اس لیے ذرا سی دیر میں ریستوراں کا چرچا ہو گیا۔ لوگ تجسس میں وہاں آتے اور پھر احمد شاہ نامی باورچی کے کمال کھانے کھا کر ریستوراں کے باقاعدہ گاہک بن جاتے۔ مگر ہر نیا آنے والا شخص کامران اور شفیق سے یہ سوال ضرور کرتا کہ انہوں نے اپنے ریستوراں کے لیے یہ نام کیوں چنا تھا۔ 

اور صرف ریستوراں کا نام ہی اچھوتا نہ تھا بلکہ یہاں کھانے بھی عجیب و غریب ناموں والے تھے۔ اسامہ قورمہ، ملا عمر نہاری، الزواہری پلاؤ، تورا بورا لیمونیڈ، وغیرہ وغیرہ۔ نان کی دو قسمیں تھیں، امر بالمعروف سادہ نان اور نہی عن المنکر روغنی۔ طالبان ریستورں میں اس قسم کی آوازیں سنائی دیتیں کہ ایک اسامہ، دو پلیٹیں زواہری، دو امر بالمعروف اور دو نہی عن المنکر، اور تورا بورا کے دو گلاس مگر برف کم۔

 

پھر جب شہر کے سب سے بڑے اخبار میں طالبان ریستوراں پہ تبصرہ چھپا تو ریستوراں کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ اب دیسیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں گورے، کالے، اور چینی بھی نظر آنے لگے۔ اب جو سوال پوچھے جاتے وہ اور بھی تیکھے ہوتے۔

کیا تم لوگ طالبان سے کسی قسم کی ہمدردی رکھتے ہو؟

ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کے متعلق تمھارا کیا خیال ہے؟

کیا تمھیں معلوم ہے کہ اسامہ بن لادن کہاں چھپا ہوا ہے؟

کامران اور شفیق وضاحتیں کرتے نہ تھکتے کہ انہوں نے ریستوراں کا نام یونہی روز کی خبروں سے متعلق ہو کر رکھ لیا تھا۔ نہ انہیں طالبان میں کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی سیاست میں۔

مگر کامران اور شفیق کی وضاحتیں دیر تک کارگر نہ رہیں اور ایک دن کامران کو اپنی گاڑی پہ وائپر کے نیچے ایک رقعہ ملا جس پہ انگریزی جلی حروف میں لکھا تھا کہ 'امریکہ میں طالبان ک ٹھکانہ بند کرو، ورنہ۔۔۔۔۔'

کامران رقعہ لے کر پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔ پولیس نے کاغذ کا بطور معائنہ کیا مگر کسی نتیجے پہ نہ پہنچ پائی۔ دو دن کے بعد پولیس کا ایک افسر ریستوراں پہنچ گیا۔

اس افسر نے پوری سنجیدگی سے شفیق سے پوچھا کہ آخر کس عقلمند نے ان حالات میں انہیں ریستوراں کا یہ نام رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔