کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بھوک

علی حسن سمند طور


کوثر بارہ برس کی عمر میں امریکہ پہنچی تھی۔ کوثر کا باپ ڈاکٹر تھا اور امریکی امیگریشن کی ویزا لاٹری میں اس کا نام نکل آیا تھا۔ کوثر اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔اپنے ماں باپ کے ساتھ امریکہ پہنچنے پہ کوثر کو اس نئے ملک کی ہر چیز مختلف لگی تھی۔ پڑھائی کا انداز بھی کچھ جدا تھا مگر کوثر ہمیشہ سے پڑھنے میں اچھی رہی تھی۔ وہ نئے نظام سے جلد مانوس ہو گئی اور اپنی جماعت کے سنجیدہ طلبا میں گنی جانے لگی۔

دن ہفتے، ہفتے ماہ، اور ماہ سال بن کر گزرتے رہے اور کوثر ایک ایک جماعت کر کے آگے بڑھتی رہی۔ ان کا خاندان سال دو سال میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے پاکستان جاتا مگر پھر وقت گزرنے کے ساتھ اس طویل السفر ملاقات کے درمیانی وقفوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ اور اسی درمیان کوثر شناخت کے بحران کا بھی شکار ہوئی۔ جب ہر طرف سے اس پہ شناخت کے سوالات کی بوچھاڑ ہوئی تو اس نے بھی اپنے آپ سے سوال کیا کہ وہ کون تھی۔ کیا تھی؟ اس کا تعلق کس نسلی، لسانی گروہ سے تھا؟ وہ سفید فام نہ تھی، سیاہ فام نہ تھی، چینی نہ تھی۔ یہ سب نہ ہونے کے باوجود وہ کس بڑے گروہ سے زیادہ قریب تھی؟ وہ کس گروہ کے چمکدار ستاروں کی طرف راہ نمائی کے لیے دیکھے؟ اپنے رول ماڈل کن لوگوں میں تلاش کرے؟ اچھا ہوا کہ کچی عمر کے اس ذہنی بحران میں کوثر کو مدد میسر تھی۔اس کی بنیاد اچھی تھی، اس کے آس پاس لوگ سمجھ دار اور پڑھے لکھے تھے ، متمول تھے اور اس لحاظ سے مضبوط تھے۔ کہ جب آپ اپنے ساتھ کے دوسرے لوگوں سے معاشرے کے مروجہ معیار کے حساب سے آگے ہوں تو آپ کو کیا ضرورت ہے ایسے سہارے تلاش کرنے کی جن کی تلاش کمزوروں کو پڑتی ہے؟ کہ آپ کو کیا ضرورت ہے ان خانوں میں گھسنے کی جو دنیا والوں نے اپنے ذہنوں میں بٹ دیے ہیں؟ کوثر پراعتمادی سے آگے بڑھتی رہی اور اس نے بارہویں جماعت بھی پاس کر لیا۔

ہائی اسکول کرنے کے دوران ہی جب کوثر آگے کی تعلیم کے بارے میں غور کر رہی تھی، اور یہی سوال اس کے والدین کے ذہنوں میں بھی تھا تو ایک دن رات کے کھانے کے بعد کوثر نے اپنے باپ سے کہا تھا۔

"ابو، آپ کو یاد ہے نا کہ جب ہم ایک دفعہ چھٹیوں میں پاکستان گئے تھے؟ وہاں سخت گرمی پڑ رہی تھی۔ ہم ایک روز بازار میں چلتے چلتے تھک گئے تھے اور ہم نے ایک جگہ رک کر ایک ائیر کنڈیشنڈ دکان سے آئسکریم کھائی تھی۔ اس دکان کے لانبے لانبے شیشوں سے پرے ایک چھ آٹھ سال کی بچی کھڑی ہم دونوں کو آئسکریم کھاتا غور سے دیکھ رہی تھی۔ پھر جب ہم آئسکریم کھا کر نکلے تھے تو اس بچی نے بھیک کے لیے ہماری طرف ہاتھ اٹھایا تھا۔ اور میں دنیا کی اس ناانصافی پہ رو پڑی تھی۔ مجھے لگا تھا کہ وہ ہاتھ بھیک کے لیے نہیں بڑھایا گیا تھا بلکہ ایک ایسی بددعا کے لیے اٹھا تھا جو دنیا کے ہر اس شخص پہ پڑے گی جو صاحب استطاعت ہے، با زور ہے، مگر دنیا سے ظلم اور نا انصافی کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کرتا۔ کہ جو کچھ اسے محض ایک اتفاق سے مل گیا ہے اس پہ اکڑتا ہے اور اپنے سے کمزور لوگوں کو دھتکار کر ایک طرف کر دینا چاہتا ہے۔ ابو، میں اس چھ سال کی بچی کی بد دعا سے بچنا چاہتی ہوں۔ میں پناہ مانگتی ہوں اس عذاب سے جو دنیا کے تمام کم حیثیت لوگوں کی بد دعاؤں سے کسی وقت بھی ہم پہ پڑ سکتا ہے۔ میں ڈرتی ہوں اس جھٹکے سے کہ جس میں ہمارے ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے گا اور ہم محتاج ہو جائیں گے۔

ابو، میں اس گتھی کو سلجھانا چاہتی ہوں۔ میں کالج اس لیے نہیں جانا چاہتی کہ کمینگی سے اپنے لیے ایک ایسی راہ منتخب کروں جس میں صرف میرا مالی فائدہ ہو۔ میں عمرانیات، معاشیات، اور سیاسی علوم پڑھنا چاہتی ہوں۔ نہ جانے میرے اندر اتنی طاقت ہے یا نہیں کہ میں دینا سے بھوک کا خاتمہ کر سکوں، مگر میں یقیناً اس خواب کو پانے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہوں۔"

کوثر کے باپ نے اس انسان ہمدرد بالغ سوچ پہ کوثر کو شاباش دی اور کوثر کے تعلیمی شعبے کے انتخاب پہ اپنے تحفظات کے باوجود زیادہ حیل و حجت نہیں کی۔ وہ چاہتا تھا کہ کوثر بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی کی تعلیم حاصل کرے۔ البتہ اس نے پدرانہ شفقت سے کوثر کو سمجھا دیا کہ عمرانیات پڑھنے کے بعد کوثر کے لیے نوکری تلاش کرنا آسان نہ ہو گا۔ اور یہ کہ ڈوبتے کو بچانے کی خواہش رکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اسے خود تیرنا آتا ہو۔

کوثر نے اپنے باپ کو بتایا کہ وہ یہ ساری باتیں سمجھتی تھی۔ کہ وہ کالج کی تعلیم کے دوران ایسے ہنر ضرور سیکھے گی کہ جن سے وہ مالی منفعت حاصل کر سکے اور ہر ماحول میں اپنے لیے روزگار کا انتظام کر سکے۔

ہائی اسکول کے دوران ہی کوثر نے کئی معروف جامعات سے خط و کتابت کی تھی اور تھوڑی سی تگ و دو کے بعد اس کی خواہشات کے عین مطابق اس کا داخلہ جامعہ اسٹینفرڈ کے شعبہ عمرانیات میں ہو گیا تھا۔ یہ جشن کا موقع تھا۔ گھر پہ ایک بڑے کھانے کا اہتمام کیا گیا جس میں دوست و اقارب بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

وقت گزرتا رہا۔ کالج کی چار سالہ تعلیم کے دوران بھی کوثر پاکستان جاتی رہی۔اپنے قیام کے دوران وہ وہاں ایسے غیر حکومتی اداروں [ این جی اوز] سے رابطہ کرتی جو ملک میں غربت اور بھوک کے خاتمے کے لیے کام کر رہے تھے۔ مگر ان غیر حکومتی اداروں کے ساتھ تھوڑا بہت کام کرنے میں ہی کوثر کو اندازہ ہو گیا کہ ایسے ادارے چلانے والے بہت سے لوگ محض فیشن کے طور پہ یہ سماجی خدمت کر رہے تھے، ان میں سے اکثر کے ذہن میں یہ بات واضح نہ تھی کہ مسائل کو کیسے حل کیا جائے۔ پھر کوثر کو ایسے لوگ بھی ملے جو غریبوں کی مدد کرنے کے ڈھونگ میں خود اپنی جیبیں بھر رہے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ ایسے تھے جن کی ساری توانائیاں مغربی اداروں کے لیے پروپوزل لکھنے اور ان اداروں سے امداد اکھٹا کرنے میں صرف ہو رہی تھی۔ 

کالج کے چوتھے سال تک پہنچتے پہنچتے کوثر نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ پاکستان میں کسی قائم شدہ غیر حکومتی ادارے کا حصہ بنے بغیر خود اپنے طور پہ کام کرے گی۔ وہ مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنا چاہتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ مزدوروں کی سستی محنت کے سہارے سرمایہ دار امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے تھے، کہ اگر مزدوروں کو صحیح معاوضہ ملے تو وہ غربت کے ظالم دائرے سے باہر نکل سکتے تھے، اپنی بھوک مٹا سکتے تھے، اور اپنے بچوں کے لیے تعلیم کا انتظام کر سکتے تھے۔

پھر عمل کا وقت آ گیا۔ کوثر نے کامیابی سے تعلیم مکمل کر لی تھی۔ کالج سے سند حاصل کرنے پہ کوثر اپنی طویل منصوبہ بندی کے تحت پاکستان پہنچ گئی۔ وہ وہاں ایک سال لگانا چاہتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ ایک سال میں وہ اپنی صلاحیتوں کو آزما سکے گی۔ مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کر سکے گی۔ ایک سال گزارنے کے بعد وہ اپنی کارکردگی کو دیکھ کر فیصلہ کرے گی کہ اس کا پاکستان میں رہنا کس قدر سود مند ثابت ہو رہا تھا۔

کوثر کے خانو ادے نے جب پاکستان چھوڑا تھا تو کوثر کا چچا کراچی میں گاڑیوں کے فاضل پرزوں کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتا تھا۔ گزرے سالوں میں کوثر کے چچا نے مالی طور پہ بہت ترقی کر لی تھی۔ اب اس کی شہر میں چار دکانیں تھیں اور وہ ایک بڑی کوٹھی میں رہتا تھا۔ چچا کے دونوں لڑکے تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک جا چکے تھے۔ کوٹھی میں چچا چچی نوکروں کی ایک فوج کے ساتھ رہتے تھے۔ کراچی پہنچ کر کوثر اپنے چچا کے پاس رہنے لگی۔

کوثر نے کراچی میں موجود اپنے دوستوں سے رابطے کیے اور مشورہ کرنے لگی کہ وہ کس طرح اپنا فلاحی کام شروع کرے۔ شہر بھر میں تعمیراتی کام زوروں پہ تھے اور اسی طرح کے ایک تعمیراتی کام میں ایک دن کوثر کو بھی اپنے کام کا سرا مل گیا۔

وہ اپنے چچا کے گھر کے قریب ایک زیر تعمیر گھر پہ ہونے والے کام کو دیکھ کر وہاں رک گئی تھی۔

ایک چھوٹا کانکریٹ مکسر بھک بھک کالا دھواں اڑا رہا تھا۔ مکان کی تیسری منزل کی چھت پڑ رہی تھی۔ تیسری منزل سے نیچے زمین تک مزدور مختلف سطحوں پہ لکڑی کے پٹھوں پہ کھڑے تھے۔ مکسر سے نکلنے والا کانکریٹ پراتوں میں ہاتھ ہاتھ ہوتا تیسری منزل کی چھت تک پہنچتا تھا۔

ہر دفعہ جب اونچائی پہ کھڑا مزدور ہاتھ بڑھا کر اپنے سے نیچے مزدور سے کانکریٹ کی پرات لیتا تو کوثر کو ڈر لگتا کہ کہیں وہ گر نہ پڑے، کہ مزدور کسی قسم کے روک سے نہ بندھے تھے۔ مزدوروں میں عورتیں بھی شامل تھیں۔ کوثر وہاں کھڑے ہو کر بہت غور سے اس پوری کاروائی کو دیکھنے لگی۔

کوثر کو اس طرح وہاں کھڑا دیکھ کرسفید شلوار قمیض میں ملبوس ایک آدمی اس کے پاس پہنچا۔ وہ ٹھیکیدار تھا اور تمام مزدور اس کی نگرانی میں کام کر رہے تھے۔ ٹھیکیدار نے کوثر سے پوچھا کہ آیا کوثر ان لوگوں کو جانتی تھی کہ جن کا وہ مکان تھا۔ کوثر نے اسے ٹالنے کے لیے کہہ دیا کہ اسے عمارت سازی میں دلچسپی تھی اور وہ یوں ہی اس عمل کو دیکھنے کے لیے کھڑی ہو گئی تھی۔

ٹھیکیدار بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ اسی اثنا میں کوثر کو ایک مزدور عورت مکسر کے پاس کھڑی نظر آئی تو کوثر چلتی ہوئی اس تک پہنچ گئی۔ اس نے مزدور عورت کا نام پوچھا۔ عورت کا نام وزیراں تھا۔ کوثر نے معلوم کیا کہ وہ کہاں رہتی تھی۔ وزیراں نے یہ معلومات فراہم تو کر دی مگر وہ کوثر کی اس بازپرس پہ بہت حیران تھی۔ کوثر اسے اسی طرح حیران چھوڑ کر گھر روانہ ہو گئی۔

شام کے وقت کوثر وزیراں کے بتائے ہوئے پتے پہ اس کے گھر پہنچی۔ جنت کالونی نامی وہ محلہ ایک کچی بستی تھی ۔ چھوٹے چھوٹے مکانوں کے درمیان پتلی گلیاں تھیں جہاں ادھ ننگے بچے کھیل رہے تھے۔ وزیراں کا دروازہ کھٹکھٹانے پہ ایک آدمی باہر نکل کر آیا۔ کوثر نے وزیراں کا پوچھا۔ وہ آدمی اندر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وزیراں دروازے پہ آئی۔ ایک بچہ اس کی گود میں تھا۔ کوثر نے گھر کے اندر آنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس درمیان راہ چلتے کچھ اور لوگ وہاں کھڑے ہو گئے تھے۔ کوثر نے جینز کے اوپر کرتا پہنا ہوا تھا اور شاید اپنے اسی لباس کی وجہ سے وہ لوگوں کی دلچسپی کا مرکز تھی۔ اس محلے کے لوگ کوثر کے حلیے کی عورت کو وہاں دیکھنے کے عادی نہ تھے۔

کوثر کو اس گھر کے چھوٹے سے صحن میں بٹھایا گیا۔ ذرا سی دیر میں گھر کے تمام افراد کوثر کے گرد جمع ہو گئے۔ ان میں سے بیشتر کے پاس سے پسینے کے بھبکے اڑ رہے تھے۔ کوثر کے لیے یہ غربت کا سب سے گھناؤنا روپ تھا۔ کوثر نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ ان مزدوروں کے پاس سے بدبو اس لیے آ رہی تھی کیونکہ ان کے پاس نہانے کے لیے پانی نہیں تھا۔ ان کو اپنی محنت کی صحیح اجرت ملے تو وہ اپنے لیے پانی جیسی آسائش حاصل سکیں۔

وہ مزدور جاننا چاہتے تھے کہ کوثر کون تھی اور ان سے کیا چاہتی تھی۔ کوثر نے انہیں بتایا کہ اسے مزدوروں کو ان کے جائز حقوق دلوانے میں دلچسپی تھی اور یہ کہ وہ دنیا سے بھوک کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہتی تھی۔ کوثر نے انہیں مطمئن کرنے کے لیے کچھ اپنے بارے میں بتایا اور ساتھ ہی ان کے بارے میں بھی پوچھا۔

ان لوگوں کا تعلق بھاولپور کے قریب ایک گاؤں سے تھے۔ اس چھوٹے سے گھر میں تین خاندان رہتے تھے۔ اکثر مرد اور عورتیں عمارت سازی کا کام کرتے تھے۔

کوثر نے ان کی دہاڑی پوچھی اور معلوم کیا کہ انہیں ہفتے میں کتنے دن کام ملتا تھا۔

انہیں دن کے سو روپے ملتے تھے اور عموماً ہفتے میں چار دن اس طرح کی دہاڑی والا کام مل جاتا تھا۔ اس حساب سے ان کی ماہانہ آمدنی سولہ سو روپے تھی۔ اس آمدنی میں وہ بہت مشکل سے اپنا گزارا کرتے تھے اور کئی دفعہ انہیں بھوکا سونا پڑتا تھا۔

کوثر نے وہیں بیٹھ کر ان کے سامنے ایک کاغذ پہ حساب کیا کہ اگر وہ ٹھیک طریقے سے اچھا کھانا کھائیں جن میں دودھ اور پھل شامل ہوں، اور آرام سے رہیں تو ان میں سے ہر کو ماہانہ چھ ہزار چھ سو روپے بنانے چاہئیں۔ اور اس حساب سے ان کی دہاڑی سو روپے کے بجائے چار سو بارہ روپے ہونی چاہیے۔ کوثر کی اس آخری بات پہ وہاں موجود سب لوگ ہنس پڑے۔

سو روپے تو طے شدہ دہاڑی تھی۔اگر باقی مزدور سو روپے میں کام کرنے کو تیار تھے تو کوئی انہیں چار سو روپے کیوں دے گا؟

کوثر نے انہیں یونین کا تصور سمجھانے کی کوشش کی۔ کہ اگرسارے مزدور متحد ہو جائیں اور تہیہ کر لیں کہ وہ ایک خاص تنخواہ سے کم پہ کام نہیں کریں گے تو وہ ٹھیکیداروں سے اپنی بات منوا سکتے تھے۔

اسی درمیان وزیراں کے شوہر نے محلے کے ایک گھر سے فرید کو بلوا لیا۔ فرید چھریرے بدن کا ایک نوجوان تھا۔ اس نے چھ جماعتیں پڑھی تھیں اور وزیراں کے شوہر کا خیال تھا کہ کوثر جو کچھ انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی وہ فرید کو زیادہ آسانی سے سمجھ میں آ جائے گا۔

فرید کوثر کے قریب ایک چارپائی پہ بیٹھ گیا۔ وہ بہت غور سے کوثر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کوثر نے اس کو پوری بات سمجھائی کہ کس طرح ٹھیکیدار مزدوروں کے ساتھ زیادتی کر رہے تھے۔ اور کس طرح بہتر تنخواہیں مزدوروں کا حق تھیں۔

اس روز کوثر بہت دیر تک ان لوگوں کے ساتھ بیٹھی رہی اور ان کے مسائل سمجھتی رہی۔ ساتھ ساتھ وہ اپنی حکمت عملی بھی بناتی رہی کہ ان مزدوروں کو ان کا جائز حق کیسے دلوایا جا سکتا تھا۔

 

اگلے کئی دن کوثر اس محلے میں جاتی رہی اور وہاں مزدوروں سے بات کرتی رہی۔ کوثر کی کئی ہفتوں کی کوششوں سے بستی میں رہنے والے راج اور مزدوروں کی ایک یونین بن گئی۔ فرید ان کا لیڈر تھا جب کہ کوثر مشیر کے فرائض انجام دے رہی تھی۔ یونین نے فیصلہ کیا کہ مزدور ایک خاص تنخواہ سے نیچے کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ مزدور اپنی تنخواہوں میں اضافہ رفتہ رفتہ کروائیں گے۔ پہلے مرحلے میں وہ سو روپے کے بجائے ایک سو پچیس روپے دہاڑی مانگیں گے اور اس سے کم میں کام کرنے سے انکار کر دیں گے۔

 

پھر محاذ آرائی کا پہلا مرحلہ آن پہنچا۔ بستی کے قریب بننے والے ایک مکان میں ٹھیکیدار کو مزدوروں کی ضرورت پڑی تو اس نے اپنے ایک آدمی کے ذریعے جنت کالونی پیغام بھیجا کہ اسے آٹھ لوگ چاہئیں۔ فرید کو ملا کر آٹھ مزدور زیر تعمیر مکان پہ پہنچ گئے۔ کوثر کی ہدایت کے مطابق فرید نے ٹھیکیدار سے نرم لہجے میں بات کی اور گرانی کا رونا رونے کے بعد ٹھیکیدار کو بتایا کہ مزدور سو کے بجائے ایک سو پچیس روپے دہاڑی پہ کام کریں گے۔ یہ بات سن کر ٹھیکیدار سخت غصے میں آگیا۔

"پورے شہر میں مزدوری کا ریٹ سو روپے ہے۔ اور یہ بات تم لوگ بھی اچھی طرح جانتے ہو۔ اگر تمھیں سو روپے پہ کام کرنا ہے تو کرو ورنہ میں دوسری جگہ سے مزدوروں کا انتظام کر لوں گا۔"

ٹھیکیدار کا خیال تھا کہ یہ بات سن کر وہ آٹھوں مزدور ہار مان جائیں گے اور سو روپے فی نفر فی دن پہ کام شروع کر دیں گے، مگر کوثر نے مزدوروں کو اچھی تعلیم دی تھی۔ فرید ٹھیکیدار سے معذرت کر کے مزدوروں کے ساتھ واپس پلٹ گیا۔ 

ٹھیکیدار نے اپنے آدمی کے ذریعے جنت کالونی کے اور مزدوروں کو بلا بھیجا مگر مزدوروں کی اس دوسری جماعت نے بھی وہی ایک سو پچیس روپے دہاڑی والی بات کی۔

"تم سب لوگوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ میں دوسری بستی سے مزدوروں کا انتظام کر لوں گا۔" ٹھیکیدار نے نہایت غصے میں ان سے کہا اور انہیں واپس روانہ کر دیا۔

قصہ مختصر یہ کہ پورا دن ضائع ہو گیا اور ٹھیکیدار کا کام نہ ہو پایا۔

اگلے دن ٹھیکیدار نے ایک دوسری بستی سے مزدوروں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی مگر وہ بستی دور تھی۔ مزدور آنے جانے کے کرائے کے بغیر ٹھیکیدار کی جگہ پہ کام کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔

بالا آخر ٹھیکیدار نے ہار مان لی اور جنت کالونی کے مزدوروں کو سو کے بجائے ایک سو پچیس روپے دہاڑی دینے پہ آمادہ ہو گیا۔

یہ جنت کالونی کے مزدوروں کے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔ کوثر اس کامیابی پہ پھولی نہ سماتی تھی۔

 

وقت گزرتا گیا۔ مزدوروں کے ساتھ کوثر کی مصروفیات بھی بڑھتی رہیں۔ فرید کوثر کو دوسری مزدور بستیوں میں لے جاتا رہا۔ راج اور مزدوروں کے نئے ریٹ کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔

 

اسی درمیان کوثر نے غور کیا کہ فرید اس میں دلچسپی لے رہا تھا۔ وہ جب مزدوروں سے بات کرنے پہنچتی تو دیکھتی کہ فرید کوشش کر کے کوثر کے بالکل پاس بیٹھتا تھا۔ دوسرے مزدور چلے جاتے مگر فرید وہیں موجود رہتا اور کسی نہ کسی بہانے سے کوثر سے گفتگو جاری رکھنے کی کوشش کرتا۔ کوثر کو فرید میں ذاتی طور پہ کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر فرید اس کے لیے اہم تھا۔ فرید اپنی تعلیم کی وجہ سے کوثر کی بات سمجھتا تھا اور مزدوروں کے درمیان رہنے کی وجہ سے ان کو اپنی بات سمجھا سکتا تھا۔ ایک آدھ دفعہ جب فرید نے کوثر سے زبردستی ہاتھ ملانے کی کوشش کی تو کوثر کو خیال ہوا کہ وہ اسے ڈانٹ کر پیچھے ہٹا دے مگر پھر اپنے اور مزدوروں کے درمیان اس رابطے کو کھو دینے کے خیال سے اس نے ایسا نہیں کیا۔

 

راج اور مزدوروں کی یونین مضبوط ہوتی رہی۔ دوسری بستیوں کے مزدور جنت کالونی یونین میں شامل ہوتے رہے۔

 

پھر ایک دن کوثر کی مزدوروں سے ملاقات کے بعد فرید نے کوثر کو بتایا کہ اس نے ایک دوسری بستی کے مزدوروں سے بات کی تھی مگر وہ مزدور اس کی بات نہیں سمجھ رہے تھے اور اس سلسلے میں اسے کوثر کی مدد کی ضرورت تھی۔ ان دنوں فرید ایک زیر تعمیر فیکٹری میں چوکیدار کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ فرید نے کوثر سے درخواست کی کوثر اگلے روز فیکٹری آ جائے جہاں وہ دوسری بستی کے مزدوروں کو بھی بلا لے گا۔ پھر کوثر انہیں یہ بات سمجھا سکے گی کہ کس طرح دوسرے مزدوروں کے ساتھ چلنے میں ان کا فائدہ تھا۔ کوثر نے اس تجویز پہ آمادگی ظاہر کی۔ اگلے روز مقررہ وقت پہ کوثر زیر تعمیر فیکٹری پہنچ گئی۔ فیکٹری کا آہنی گیٹ کھٹکھٹانے پہ فرید اندر سے وہاں آ پہنچا۔ اس نے گیٹ کھول کر کوثر کو اندر آنے کا موقع دیا۔

فرید نے بتایا کہ مزدور اب تک نہیں آئے تھے اور ان دونوں کو کچھ انتظار کرنا ہو گا۔ آہنی گیٹ کے ساتھ ہی چوکیدار کا چھوٹا سا کمرہ تھا۔ فرید نے کوثر کو کمرے میں آنے کی دعوت دی۔ کوثر تھوڑا ہچکچائی مگر پھر اعتماد کے ساتھ کمرے میں داخل ہو گئی۔

کمرے میں ایک طرف چارپائی پڑی تھی۔ چارپائی کے ساتھ ہی ایک ٹوٹی کرسی موجود تھی۔ دیوار کے ساتھ دو اینٹوں پہ مٹی کا ایک گھڑا رکھا تھا جس کو تام چینی کی طشتری سے ڈھانکا گیا تھا۔ طشتری کے اوپر ٹین کا ایک مگ اوندھا پڑا تھا۔ کوثر نے ٹوٹی کرسی پہ بیٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے پلٹ کر دیکھا تو فرید کمرے کے دروازے پر پہنچ کر اب دروازہ بند کر رہا تھا۔ کوثر گھبرا گئی مگر اس نے کوشش کر کے ایک پراعتماد بلند آواز میں کہا،

"فرید، دروازہ کیوں بند کر رہے ہو؟ ابھی تو تمھارے دوسرے مہمانوں کو آنا ہے۔"

یہ کہتے ہوئے کوثر نے کرسی پہ بیٹھنے کی کوشش ترک کر دی تھی اور اب مکمل چوکنا کھڑی تھی۔ اسے خطرے کا احساس ہو چلا تھا۔ 

فرید ایک جھٹکے سے دروازے پہ کنڈی جکڑنے کے بعد پلٹا اور بولا۔

"نہیں، اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔"

پھر وہ تیزی سے کوثر کی طرف جھپٹا اور اس نے کوثر کو مضبوطی سے دبوچ لیا۔ کوثر نے اپنے بازؤں کو فرید کی گرفت سے آزاد کرنے کی کوشش کی مگر فرید کی گرفت آہنی تھی، کوثر اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہو پائی۔

"چھوڑو، مجھے چھوڑو۔" کوثر چیخی۔

فرید نے کوثر کے دونوں بازو اپنے باہنے ہاتھ سے کوثر کے پیچھے باندھے اور سیدھے ہاتھ سے ایک چانٹا کوثر کو مارا۔

" چپ کر جاؤ۔ تم نے کہا تھا نا کہ تم امریکہ سے ہماری بھوک ختم کرنے یہاں آئی ہو۔ تو یہ بھی تو ہماری بھوک ہے۔ آج تمھیں میری یہ بھوک ختم کرنا ہو گی۔" فرید نے کوثر کو اپنے سے لگاتے ہوئے کوثر کے کان میں کہا۔

کوثر کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا اور اگلے ہی لمحے وہ ہوش کھو بیٹھی۔