کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

واپسی

علی حسن سمند طور


جمشید نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے گیراج کے ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبایا اور گیراج کا دروازہ کپکپاتا ہوا اوپر کی طرف اٹھنے لگا۔ دروازہ قد بھر سے اوپر ہوا تو جمشید کو گھر کے دروازے میں یاسمین کھڑی نظر آئی۔ اس نے یاسمین کو دیکھ کر یوں آنکھیں موند لیں جیسے لوگ "ارے ، نہیں" کہہ کر حقیقت کا سامنا نہ کرنے کی نیت سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ جمشید اور یاسمین کی شادی کو ستائیس برس ہو چکے تھے اور ازدواج میں اتنا لمبا عرصہ گزر جائے تو لوگوں کا خود بخود یہ خیال ہو جاتا ہے کہ مذکورہ شادی بہت کامیاب جا رہی ہے مگر جمشید اور یاسمین کے درمیان حقیقت یہ تھی کہ قریباً پچھلے سال بھر سے میاں بیوی کے تعلقات میں سخت کشیدگی تھی۔ یہ ازدواجی ناچاقی اس وقت شروع ہوئی تھا جب سال بھر پہلے ایک دن جمشید نے اچانک یاسمین سے پوچھ لیا تھا۔

"تمھارا پاکستان واپس جا کر رہنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟"

اس وقت دونوں بیٹھک میں موجود تھے اور ایک ایسا ٹی وی پروگرام دیکھ رہے تھے جس میں دونوں کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جمشید نے یہ سوال ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے ہی یاسمین نے پوچھا تھا اور یاسمین نے بالکل اسی طرح اپنا منہ بدستور ٹی وی کی طرف رکھتے ہوئے جواب دیا تھا۔

"یہ ایسا مکروہ خیال ہے کہ جسے سوچ کر ہی جھرجھری آتی ہے۔ لوگ پاکستان سے نکل نکل کر ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں اور تم مجھ سے وہاں واپس جانے کے خیال کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ آئے دن کے بم دھماکے، خود کش حملے، چوری چکاری، ہڑتالیں، توڑ پھوڑ۔ کوئی چیز بتاؤ اس ملک کی جو اچھی ہو۔"

"ہمارے لوگ۔ ہمارے رشتہ دار۔ ہمارے چاہنے والے،" جمشید نے فورا وہ ایک نکتہ بیان کیا جو اس کے خیال میں پاکستان واپس جانے کے سلسلے میں سب سے با وزن دلیل تھی۔

" تمھارے لوگ، تمھارے چاہنے والے؟ یہ رشتہ داروں وغیرہ سے ساری محبت دور سے اچھی ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ جا کر چند دن تو ہنسی خوشی گزریں گے، پھر سب ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے۔ اس لیے بہتر ہے کہ چند دن ہی کی ملاقات کر کے واپس اپنے ٹھکانے پہ پلٹ آؤ،" یاسمین نے اطمینان سے جواب دیا۔ 

بات آئی گئی ہو گئی، مگر جمشید کے ذہن میں پاکستان واپس جانے کا خیال مستقل پلتا رہا۔

اور یہ موضوع ہفتے بھر بعد پھر اس وقت سامنے آیا جب جمشید اور یاسمین ایک دعوت سے واپس گھر پلٹ رہے تھے۔ جمشید گاڑی چلا رہا تھا اور یاسمین اپنی اونچی ایڑی کی جوتیاں اتار کر سر نشست کی پشت سے ٹکائے آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی۔

"یاسمین، میری عمر اس وقت باون سال ہے۔ میں صرف آٹھ سال میں ساٹھ سال کا ہو جاؤں گا۔ میں اپنی ساٹھویں سالگرہ اس ملک میں نہیں منانا چاہتا۔ یاسمین، میری بات مان جاؤ۔ چلو ہم لوگ واپس پاکستان چلتے ہیں۔"

جمشید کی بات ختم ہونے پہ یاسمین نے آنکھیں کھول کر جمشید کی طرف دیکھا اور پھر ایک ٹھنڈی سانس بھری۔

"کیوں جمشید، تم یہاں کیوں نہیں رہنا چاہتے؟ آخر تمھیں یہاں کیا تکلیف ہے؟" اس نے جمشید سے پوچھا۔

"مجھے یقیناً یہاں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ بلکہ اس ملک نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔ مگر میں اپنی ماں کی عمر دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ ان کی عمر کے اس حصے میں واپس جا کر ان کے ساتھ رہوں۔"

 

جمشید کے والد کا انتقال پانچ سال پہلے ہوا تھا۔ وہ رمضان کا مہینہ تھا۔ ڈاکٹر کی اس تاکید کے باوجود کہ جمشید کے والد روزے نہ رکھیں وہ پورے روزے رکھ رہے تھے۔ تقریباً روز ہی جمشید کی بات اپنے والدین سے ہوتی تھی۔ دونوں طرف عید کا انتظار تھا۔ پھر اچانک ایک دن وہ روح فرسا خبر ملی جس کا خیال جمشید کو ہمیشہ رہتا تھا۔ ایک دن جمشید کے والد ٹہلنے کے لیے نکلے اور کہیں ٹھوکر لگ کر گر  گئے؛ شاید ٹھیک اسی وقت انہیں دل کا دورہ بھی پڑا کہ جب تک وہ اسپتال پہنچائے جاتے وہ دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ اپنے والد کی رحلت کی خبر سن کر جمشید نے فورا کام سے رخصت لی اور گھنٹوں کے اند پاکستان کے لیے روانہ ہو گیا۔ وہ شدید گرمی کا موسم تھا۔ جمشید کراچی میں اپنے گھر پہنچا تو وہاں اس کے والد کو دفنانے کی جلدی پڑی ہوئی تھی۔ جمشید دوپہر کے وقت کراچی پہنچا اور شام کو والد کی تدفین کے انتظامات میں شریک ہو گیا۔ جمشید کام سے صرف ہفتے بھر کی چھٹی پہ آیا تھا۔ پانچ دن بہت تیزی سے گزر گئے، پھر وہ واپس امریکہ روانہ ہو گیا۔ والد کے انتقال کے بعد جمشید نے بہت کوشش کی کہ اس کی والدہ امریکہ آ کر اس کے ساتھ رہیں۔ وہ ایک دفعہ تو امریکہ آئیں مگر یہاں مستقل رہنے کے لیے تیار نہیں ہوئیں۔ انہیں امریکہ میں بہت تنہائی محسوس ہوتی تھی۔

"میرے لیے تو اپنا ملک ہی اچھا ہے۔ گھر پہ مستقل لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ یہاں تو ہفتوں تین لوگوں کے علاوہ چوتھے کی صورت دیکھنے کو نہیں ملتی،" جمشید کی والدہ شکایت کرتیں۔ جمشید کے گھر دو ماہ رہنے کے بعد وہ کراچی روانہ ہو گئیں۔

 

یاسمین نے جمشید کے منہ سے اپنی ماں کے ساتھ وقت گزارنے والی بات پہنے بھی سنی ہوئی تھی۔ اس نے اس موضوع پہ گفتگو کرنے کے بجائے اپنا مدعا بیان کرنا زیادہ بہتر خیال کیا۔

"دیکھو جمشید، زندگی میں ایک ایسا موقع آتا ہے کہ جب انسان اپنی زندگی سے بہت خوش ہوتا ہے۔ وہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ کچھ اور کرنے، کچھ اور پانے کی خواہش نہیں ہوتی، بلکہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ مسرت کا وہ لمحہ جو حال ہے بس جس قدر دیر تک قائم رہ سکتا ہے رہے۔ میں اپنی زندگی کا ایسا ہی پرمسرت دور گزار رہی ہوں۔ میں اس نشاط انگیز دورانیے کو ارادتاً ختم نہیں کرنا چاہتی۔ میں یقیناً پاکستان جا کر نہیں رہنا چاہتی۔ اور میں تم سے درخواست کروں گی کہ تم بھی یہ الٹے سیدھے خیالات اپنے ذہن سے نکال دو۔"

جمشید نے یاسمین کی اس پر زور بات کے جواب میں کچھ کہنا مناسب خیال نہیں کیا۔ مگر وقتی پسپائی اس کو اپنے ذہن سے پاکستان واپسی کا خیال نکالنے پہ مجبور نہ کر پائی۔

پھر ایک دن جمشید نے یاسمین کو کسی ای میل کے ساتھ آنے والی وہ پاور پوائنٹ نمائش دکھائی جس میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات دکھائے گئے تھے اور نمائش کے آخر میں باور کرایا گیا تھا کہ وہ خوب صورت تصاویر سوئٹزرلینڈ کی نہیں تھیں بلکہ پاکستان کی تھیں۔ یاسمین کو وہ پاور پوائنٹ نمائش دکھانے کے بعد جمشید نے یاسمین کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھا تھا۔ مگر یاسمین کے چہرے سے واضح تھا کہ وہ ان دلکش مناظر کی تصاویر سے زیادہ متاثر نہیں ہوئی تھی۔

یاسمین نے جمشید کو سمجھایا تھا، "جمشید، یہ خوب صورت پہاڑ اور برف پوش چوٹیاں جغرافیائی وحدتیں ہیں۔ ان کا تعلق کسی مملکت سے جوڑنا حماقت ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی یہ جھیل یہ پہاڑ ایسے ہی تھے۔ اشوکا کی حکومت کے وقت بھی یہ ایسا ہی تھا۔ مغلوں کے زمانے میں یہ بھی جغرافیہ ایسے ہی قائم تھا۔ اور جس وقت رنجیت سنگھ اس علاقے پہ حکومت کر رہا تھا اس وقت بھی یہ چیزیں اپنی جگہ پہ ایسی ہی تھیں۔ جھیل اور پہاڑ کی خوب صورتی میں پاکستان کا کوئی کمال نہیں ہے۔ ہاں پاکستان کی چھاپ ان مناظر قدرت پہ ایک اور طریقے سے ہے۔ تمھیں یاد ہو گا ہم وادی کاغان گئے تھے اور دریائے کہنار کو دور سے دیکھنے پہ اس شوخ و چنچل دریا کی خوب صورتی سے متاثر تھے۔ پھر ایک دن ناران میں جب ہم دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ چلے تھے تو ہمیں اندازہ ہوا تھا کہ اس دریا کی خوب صورتی کو صرف دور سے سراہنا اچھا تھا کیونکہ دریا کے پاس پورے میں گوہ کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ پاکستان نے اپنے لوگوں کو یہ تمیز نہیں سکھائی کہ انسانی ضروریات کس طرح پوری کی جائیں کہ اس سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔ یہ ہے پاکستان کی چھاپ ان دریاؤں، پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں، اور خوب صورت جھیلوں پہ۔ بد انتظامی کی یہ مہر ہے جو پاکستان نے اس خوب صورت جغرافیے پہ لگائی ہے۔

 

پھر ایک دن جمشید نے گھر پہ چند لوگوں کو مدعو کیا تھا۔ بات سیاست سے چلتی اس موضوع تک پہنچی کہ کس طرح ترقی پذیر ممالک تارکین وطن کی صورت میں اپنا قیمتی ذہنی سرمایہ ترقی یافتہ دنیا کے ہاتھوں گنوا دیتے ہیں۔

"اب آپ مجھے دیکھیں۔ میں تیس سال پہلے یہاں پڑھنے کے لیے آیا تھا۔ پھر ادھر ہی کا ہو رہا،" جمشید نے کسی قدر تاسف سے کہا۔

"ہاں ہم سب یہاں پڑھنے کے لیے ہی آئے تھے۔ مگر کیا کریں، ہم میں سے جن لوگوں نے وطن واپس جا کر وہاں رہنے کی کوشش کی، انہوں نے منہ ہی کی کھائی۔ یہاں رہتے ہوئے ہماری عادتیں خراب ہو گئی ہیں۔ یہاں کی زندگی وہاں کی زندگی کے مقابلے میں بہت آسان ہے۔ یہاں ہر چیز کا ایک نظام بن گیا ہے۔ کیونکہ مغربی ممالک میں ان لوگوں نے جو الٹے سیدھے تجربات کرنے تھے، وہ کر لیے۔ انہیں بہت پہلے یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ طریقے سے زندگی کیسے گزاری جا سکتی ہے،" جمشید کے ایک دوست نے جمشید کی بات کا جواب دیا۔ یہ آدمی کچھ ہی عرصہ پہلے پاکستان میں دو سال گزار کر آیا تھا۔

یاسمین بھی وہاں موجود تھی، مگر وہ اس بحث میں شریک نہ ہوئی۔ اسے جمشید کے ذہن میں پکنے والے خیالات کا اندازہ تھا۔ اسے تشویش ہوئی کہ جمشید کے ذہن میں واپسی کا خیال اب بھی پوری شدت سے موجود تھا۔ پھر جب سب مدعو حضرات و خواتین اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے اور یاسمین اور جمشید مل کر باورچی خانے کے معاملات کو سلجھانے لگے، تو یاسمین نے ایک لحظے کے لیے رک کر جمشید سے کہا۔

 

تم اپنے ذہن سے پاکستان واپیس کا یہ خناس نکال دو۔ وہاں جاؤ گے تو مارے جاؤ گے۔ گھر سے باہر نکلو گے تو کوئی ٹی ٹی تمھارے سر پہ رکھ کر تم سے تمھارا بٹوہ چھین لے گا۔ کسی بازار میں ہو گے اور کوئی خود کش حملہ ہوا تو اس میں ہلاک ہو جاؤ گے۔ بہتر ہے کہ اپنی جان بچاؤ اور چپ چاپ ادھر ہی رہتے رہو۔ کولمبس کے بعد کون ایسا ہے جو یہاں آنے کے بعد واپس گیا ہو؟" جمشید نے یاسمین کی بات کا جواب نہ دینے میں مصلحت جانی۔ مگر یاسمین اپنے تمام دلائل جمشید تک پہنچانے کے من میں تھی۔ 

"جمشید، تمھیں یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ پاکستان میں ایک عام شخص بہت خراب زندگی گزارتا ہے؟ وہاں مستقل بجلی، پانی کا مسئلہ رہتا ہے۔ یہاں بھی بجلی جاتی ہے مگر بہت کم، اور پھر جانے کے کچھ ہی دیر بعد آ جاتی ہے۔ پاکستان میں جاتی زیادہ ہے اور آتی کم ہے۔ اور پھر تم اس ملک کو اپنا کیوں کہتے ہو؟ کیا ہے وہاں تمھارا؟ تمھارا  کیا بس چلتا ہے وہاں؟ وہ ملک ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اسے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ اگر تمھیں ملک کا صدر یا وزیر اعظم بنا کر بٹھا دیا جائے تو تم ضرور پاکستان جاؤ۔ مگر حکومتی بد انتظامی کی وجہ سے پیدا ہونے والی اذیت سہنے کیوں جاؤ؟ سڑنے کے لیے پاکستان کیوں جاؤ؟ اور اگر ہمیں سڑنے کے لیے ہی کہیں جانا ہے تو اتنا دور کیوں جائیں؟ نکاراگوا کیوں نہ چلے جائیں؟"

جمشید چپ چاپ کام میں مشغول رہا، مگر یاسمین بولتی رہی۔

"اور تم نہ جانے کس جگہ کی محبت اپنے دل میں لیے بیٹھے ہو؟ تمھیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ملک مستقل تبدیل ہوتے رہتے ہیں؟ آج کا پاکستان وہ پاکستان نہیں ہے جو تم نے تیس برس پہلے چھوڑا تھا۔ جس طرح تم عمر کےتیس سال گزار کر کچھ سے کچھ ہو گئے ہو اسی طرح پاکستان بھی تیس سال گزار کر کچھ سے کچھ ہو گیا ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس ملک میں پچھلے تیس سالوں میں معاملات خراب ہی ہوئے ہیں۔"

 

پھر ایک آدھ دفعہ نہ چاہتے ہوئے بھی جمشید یاسمین سے الجھ پڑا۔ اس نے جھنجھلا کر کہا کہ یاسمین اس کی ہر بات میں کیڑے نکالتی تھی۔ اور ایک ایسی ہی بحث کے بعد دونوں میاں بیوی میں بات چیت بند ہو گئی۔

 

وقت گزرتا گیا۔ پھر جمشید اور یاسمین کی شادی کی سالگرہ قریب آئی تو یاسمین کو خیال ہوا کہ اس موقع پہ جمشید پہل کرے گا اور دونوں میں بات چیت بحال ہو جائے گی۔ مگر معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ ایک دن اچانک ہی جمشید گھر سے غائب ہو گیا۔

 

یاسمین کسی کام سے گھر سے باہر تھی۔ وہ واپس آئی تو جمشید گھر پہ نہیں تھا۔ تعجب کی بات یہ تھی کہ جمشید کی گاڑی موجود تھی۔ یاسمین نے خیال کیا کہ شاید جمشید ٹہلنے کے لیے کہیں باہر گیا ہو گا، حالانکہ جمشید یوں ٹہلنے کے لیے باہر نہیں نکلتا تھا۔ پھر تقریباً آدھے گھنٹے بعد جب وہ باورچی خانے میں کوئی کام کر رہی تھی تو اس کی نظر مائکرو ویو اوون پہ رکھے ایک پرچے پہ پڑی۔ وہ رقعہ جمشید کی طرف سے تھا۔ اس کاغذ پہ لکھا تھا۔

"یاسمین، تم گھبرانا نہیں۔ میں جلد تمھیں خیریت کا فون کروں گا۔"

یاسمین کو یہ بات بہت عجیب معلوم دی۔ جمشید چند گھنٹے میں فون کرے گا، یا چند دنوں میں؟

پوری رات گزر گئی مگر جمشید واپس گھر نہ آیا۔ رات گئے کسی وقت یاسمین کی آنکھ لگی مگر پھر کچھ ہی دیر بعد فورا کھل گئی۔ اس وقت صبح کے پانچ بجے تھے۔ جمشید کمرے میں نہیں تھا۔ یاسمین نے بستر سے اٹھ کر پورے گھر کی تلاشی لی۔ جمشید کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ یہ واضح تھا کہ جمشید واپس پلٹ کر نہیں آیا تھا۔

یاسمین نے پولیس کو فون کر دیا۔ پولیس نے یاسمین سے مختصرا چند سوالات کیے اور پھر ایک سپاہی کو یاسمین کے گھر بھیج دیا۔ 

"کیا آپ میاں بیوی کی کوئی لڑائی ہوئی تھی؟" سپاہی نے یاسمین کی بات سننے کے بعد سوال کیا۔

"نہیں، ایسی کوئی خاص بات تو نہیں،" یاسمین نے گول مول جواب دیا۔ وہ اپنے گھرکی نجی باتیں اوروں سے نہیں کرنا چاہتی تھی۔

سپاہی انگریزی میں لکھے رقعے کو دیر تک دیکھتا رہا۔

"یہ گم شدگی کا کیس ہرگز نہیں ہے۔ یہ واضح ہے کہ ایک آدمی اپنی مرضی سے کہیں گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ ان کے فون کا انتظار کریں، جیسا کہ اس رقعے میں لکھا ہے،" یہ کہہ کر سپاہی وہاں سے روانہ ہو گیا۔

اس وقت تک صبح کے آٹھ بج چکے تھے۔ یاسمین نے ہلکا سا ناشتہ کیا اور پھر نو بجے کے بعد جمشید کے دوستوں کو فون گھمانے شروع کیے۔ اس نے پہلے قریب کے دوستوں کو فون کیے اور پھر دوسری ریاستوں میں رہنے والے لوگوں سے بات کی۔ کسی کو جمشید کی کوئی خبر نہیں تھی۔

پھر اس پریشانی کی حالت میں یاسمین نے دانیال کو فون ملا دیا۔ جمشید اور یاسمین کا اکلوتا لڑکا، دانیال کالج میں دوسرے سال کا طالب علم تھا۔ دانیال نے فون نہیں اٹھایا اور یاسمین نے مختصر پیغام چھوڑ دیا۔ کچھ ہی دیر میں دانیال کا فون آگیا۔ ماں بیٹے کے درمیان کھل کر ساری باتیں ہوئیں۔

"امی، کیا میں گھر آ جاؤں؟" دانیال نے ماں کی پریشانی بھانپ کر کہا۔

"نہیں، دانیال، تم یہاں آ کر کیا کرو گے؟ ویسے بھی تمھارے امتحانات سر پہ ہیں۔ تم ادھر ہی رہ کر امتحان کی تیاری کرو۔ تمھارے ابا کوئی چھوٹے بچے نہیں ہیں۔ گھر آ ہی جائیں گے۔" یاسمین نے دانیال کو سمجھایا۔

 

یاسمین کے اگلے دو دن اضطراب کی حالت میں گزرے۔ اور اپنی اس پریشانی پہ اسے خود بھی تعجب ہوا۔ اس سے پہلے اسے اندازہ نہ تھا کہ وہ جمشید کی عدم موجودگی سے اس قدر بے سکون ہو جائے گی۔

جمشید کی گمشدگی کے دوسرے دن ایسے وقت فون کی گھنٹی بجی جب یاسمین کو کسی فون کا انتظار نہ تھا۔ 

کالر آئی ڈی پہ جو فون نمبر آیا وہ یاسمین کو کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ مگر یاسمین کو خیال ہوا کہ وہ فون جمشید کا ہو گا۔ اور وہ واقعی جمشید کا فون تھا۔

"یاسمین، مجھے معاف کر دو۔ مگر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں،" جمشید نے فون پہ کہا۔

"جمشید، تم نے یہ کیسی بچوں والی حرکت کی ہے۔ تم کہاں غائب ہو گئے ہو؟ تمھیں پتہ ہے کہ پچھلے دو دن میں نے اور دانیال نے کتنی پریشانی میں گزارے ہیں؟" یاسمین نے غصے سے کہا۔

"یاسمین، میں نے جو کچھ کیا، وہ کرنے کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں اس وقت ہندوستان میں ہوں، شاہ باغ میں،" جمشید نے جواب دیا۔

شاہ باغ یوپی کا وہ چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں سے جمشید کی والدہ کا تعلق تھا۔

یاسمین جمشید کے اس انکشاف پہ حیرت زدہ رہ گئی۔

"اب میں ادھر ہی رہوں گا، اور چاہوں گا کہ تم بھی میرے پاس یہاں آ جاؤ۔ میں نے وہ گھر دیکھا ہے جو میری ماں نے بارہ سال کی میں چھوڑا تھا۔ میں کوشش کر کے اپنی ماں کو واپس یہاں بلا لوں گا۔ اس جگہ جہاں ان کے پرکھے زمین میں گڑے ہیں۔ میں اس وقت تک یہاں رہتا رہوں گا جب تک کہ میرا یا میری ماں کا بلاوا نہیں آ جاتا،" اتنی بات کہنے کے بعد جمشید رک گیا تا کہ یاسمین کو اپنی بات کرنے دے، مگر یاسمین کی زبان گنگ تھی۔

"یاسمین، میں پھر تم پہ زور دوں گا کہ تم یہاں میرے پاس آ جاؤ،" جمشید یہ کہنے کے بعد ایک بار پھر رک گیا۔ یاسمین اس وقت تک اپنا مختصر جواب سوچ چکی تھی۔

"اچھا۔ میں تمھیں سوچ کر بتاؤں گی،" یاسمین نے بہت کوشش سے اپنا لہجہ سپاٹ رکھتے ہوئے جواب دیا۔

فون بند ہو گیا۔

فون رکھنے کے بعد یاسمین صوفے پہ بیٹھی بہت دیر تک سوچتی رہی۔ اس نے ہمت جمع کر کے دانیال کو فون کر دیا۔ دانیال بھی جمشید کی ہندوستان میں موجودگی کا سن کر بہت حیران ہوا۔ اس رات جب یاسمین سونے کے لیے لیٹی تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے جھڑی لگ گئی۔ اسے یاد نہ رہا کہ اس کے آنسو کب رکے اور آنکھ کب لگی۔

اگلی صبح خاموش گھر کے پرسکون ماحول میں یاسمین آہستگی سے بیدار ہوئی۔ وہ دیر تک بستر پہ بے حس پڑی رہی۔ کچھ دیر بعد اس نے بستر کے سرہانے میز کے ساتھ پڑی گھڑی کی طرف دیکھا۔ اس وقت ساڑھے نو بج چکے تھے۔ سند باد ٹریول ایجنسی کھل گئی ہو گی، اس نے دل میں سوچا۔ پچھلے دس بارہ سالوں سے جمشید اور یاسمین سندباد ٹریول ایجنسی سے ہی جہاز کے ٹکٹ لیتے آئے تھے۔ یاسمین ہمت کر کے بستر سے اٹھی اور سند باد ٹریول ایجنسی کو فون کرنے کے ارادے سے بیٹھک کی طرف چل پڑی۔