کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ملال

علی حسن سمند طور


ڈاکٹر شیریں جمال، ڈاکٹر شیریں جمال، کی صدائیں اسپتال کے پبلک اناؤسمنٹ سسٹم پہ کئی بار سنائیں دیں اور ڈاکٹر شیریں جمال یہ پکار سن کر اپنے ادھ کھائے سینڈوچ کو ایک کاغذی نیپکن میں لپیٹ کر کیفے ٹیریا سے اٹھ گئی۔ وہ تیز قدموں سے چلتی اپنے ڈپارٹمنٹ تک پہنچی جہاں ڈاکٹر مرتضی بھٹی اس کا انتظار کر رہے تھے۔ ڈاکٹر مرتضی بھٹی کو امریکہ سے پلٹے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور شیریں آج کل ان ہی کی ماتحتی میں کام کر رہی تھی۔ ڈاکٹر شیریں جمال جوان اور خوش شکل تھی۔ ڈاکٹر مرتضی بھٹی اسے دیکھ کر مسکرائے اور اس سے کہا، "ڈاکٹر شیریں جمال، کیا آپ افتخار سے ملنا چاہیں گی؟ مجھے اس وقت ایک اور مریض کو دیکھنا تھا مگر وہ نہیں آیا ہے۔ اور افتخار بہت دیر سے یہاں آیا بیٹھا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ افتخار کو دیکھ لوں۔ آپ کو افتخار کا کیس تو یاد ہے نا؟ یہ دلچسپ کیس ہے۔"

افتخار سے ملنے کے سلسلے میں ڈاکٹر بھٹی نے شیریں سے اس کی مرضی ایسے ہی پوچھ لی تھی، ورنہ شیریں کو وہی کچھ کرنا تھا جو ڈاکٹر بھٹی کہہ رہے تھے۔

"ہاں، آپ افتخار کے کیس کے بارے میں کئی دفعہ بات کر چکے ہیں۔ میں یقیناً اس سے ملنا چاہوں گی۔" شیریں نے جواب میں کہا۔

"ڈاکٹر شیریں جمال آپ کو تو پتہ ہے کہ میں کس قدر خلاف ہوں دواؤں کے۔ زیادہ تر نفسیاتی مریضوں کو سائکو تھراپی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ انہیں سنا جائے۔ ان کی سوچ میں جو کیڑے پڑ گئے ہیں انہیں گفتگو کے ذریعے باہر نکالا جائے۔ گو کہ میں نے افتخار کو میتھاڈون پہ رکھا ہوا ہے مگر میری پوری دلچسپی اس کی بات سننے میں ہے۔ وہ مجھ پہ اعتماد کرنے لگا ہے۔"

ڈاکٹر بھٹی نے شیریں سے بات کرنے کے دوران اپنی میز پہ رکھی ایک موٹی سی فائل کے چند کاغذات الٹ پلٹ کر دیکھے۔

"میں چاہوں گا کہ افتخار سے ملنے سے پہلے آپ اس کی یہ فائل سرسری طور پہ دیکھ لیں۔"

یہ کہنے کے بعد ڈاکٹر بھٹی نے فائل اٹھا کر شیریں کی طرف بڑھا دی۔ شیریں اس وقت تک اپنا سینڈوچ ختم کر چکی تھی۔

شیریں نے فائل کو شروع سے دیکھنا شروع کیا۔

"جیسا کہ میں آپ سے تذکرہ کر چکا ہوں، یہ پیچیدہ کیس ہے۔ مریض نشے کا عادی ہے اور اپنے نشے کو پورا کرنے کے لیے اپنے ہی گھر میں چھوٹی موٹی چوریاں کرتا رہا ہے۔ اس کی چوریوں سے تنگ آ کر گھر والوں نے اسے گھر سے نکال دیا تھا ورنہ انہیں افتخار کی نشے کی لت کے بارے میں شاید خبر نہیں تھی۔ افتخار کا ایک دور پرے کا رشتہ دار اسے میرے پاس لایا تھا۔ پچھلی ملاقات میں افتخار نے مجھ سے بہت کھل کر بات کی تھی کہ وہ ہیروئن کہاں سے خریدتا تھا، اس نے اپنی بہن کے زیور چرانے کے بعد کتنا برا محسوس کیا تھا، وغیرہ وغیرہ۔"

ڈاکٹر شیریں جمال ڈاکٹر بھٹی کی باتیں سننے کے ساتھ ساتھ مستقل فائل کے صفحات پلٹتی رہی اور اب تقریباً فائل کے آخر تک پہنچ گئی تھی۔

"اگر آپ فائل دیکھ چکی ہیں تو چلیں اس آدمی سے مل لیں،" ڈاکٹر بھٹی نے شیریں سے کہا۔ 

یہ سن کر شیریں نے آخری چند صفحات ایک ساتھ ہی پلٹ دیے اور فائل بند کر کے کرسی سے کھڑی ہو گئی۔

 

وہ دونوں ڈاکٹر بھٹی کے دفتر سے نکلے اور چند ہی قدم کے فاصلے پہ ایک کمرے پہ پہنچے۔ ڈاکٹر بھٹی نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر سے "ہوں" کی ہلکی سی آواز سننے پہ دروازہ کھول دیا۔ اندر موجود ایک یک نشستی صوفے پہ خشخشی داڑھی والا ایک فربہ سا نوجوان بیٹھا تھا۔ شیریں کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے افتخار اسے دیکھ کر کچھ گھبرا گیا ہو۔

"افتخار، یہ ڈاکٹر شیریں جمال ہیں۔ یہ میرے ساتھ کام کرتی ہیں۔ میں ان کو اپنے ساتھ اس لیے لایا ہوں کیونکہ ان کی اسپیشلائزیشن ڈرگ ایڈکشن میں ہے اور یہ آپ کی بہت مدد کر سکتی ہیں۔"

ڈاکٹر شیریں جمال کے اس تعارف کے بعد بھی افتخار کے چہرے پہ تشویش کی ایک کیفیت موجود تھی۔ ڈاکٹر بھٹی کو مریض کو پرسکون کرنا آتا تھا۔ انہوں نے افتخار کے صوفے کے نیچے سے پاؤں ٹکانے کی روک برآمد کی اور ساتھ ہی اس کے صوفے کی پشت پیچھے کر دی۔

"افتخار تم آرام سے لیٹ جاؤ اور اپنی آنکھیں بند کر لو۔"

ڈاکٹر بھٹی کے کہنے پہ افتخار صوفے پہ آرام سے لیٹ گیا اور اس نے آنکھیں موند لیں۔

 

"افتخار، یہ سوچو کہ تم ایک چھوٹی سی سرسبز پہاڑی پہ کھڑے ہو۔ افتخار، نیچے دیکھو۔ وہاں ایک بہت خوب صورت جھیل ہے۔ نیلی، ساکت جھیل۔ پہاڑی سے نیچے جھیل کے ساحل تک جانے کے لیے پتھر کی سیڑھیاں بنی ہیں۔ ان سیڑھیوں کے دونوں طرف رنگ برنگے پھول لگے ہیں۔ افتخار، سوچو کہ تم آہستہ قدموں سے سیڑھیاں اتر رہے ہو، تم جھیل کی طرف بڑھ رہے ہو۔ افتخار، کیا تم یہ منظر سوچ سکتے ہو؟"

افتخار نے اثبات میں جواب دیا۔ "ہاں، میں یہ منظر سوچ سکتا ہوں۔"

"شاباش، افتخار۔ اب تم آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترتے ہوئے جھیل کے بالکل کنارے پہنچ گئے ہو۔ یہاں ساحل پہ لکڑی کی ایک بینچ پڑی ہے۔ موسم بہت خوشگوار ہے۔ دیکھو کتنا اچھا منظر ہے۔ ایک خوب صورت جھیل تمھارے سامنے ہے۔ تم آرام سے بینچ پہ بیٹھ جاتے ہو۔ تم جھیل کر طرف دیکھ رہے ہو۔ یہاں مکمل سکون ہے۔ تمھیں کسی قسم کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ تم بہت آرام سے وہاں بیٹھے ہو۔

افتخار، کیا تم یہ ساری باتیں محسوس کر رہے ہو؟"

افتخار نے ایک سہل "ہوں" کے ساتھ اعتراف کیا کہ ڈاکٹر بھٹی کا کھینچا ہوا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔

"افتخار، اب تم چاہتے ہو کہ تمھاری پوری زندگی ایسی ہی ہو جائے۔ پرسکون، پر اطمینان۔ تم اپنے ذہن میں موجود الٹی سیدھی پریشانیوں سے جان چڑھانا چاہتے ہو۔ تم ایسا ہی چاہتے ہو نا، افتخار؟"

افتخار نے ایک دفعہ پھر اثبات میں جواب دیا۔

"اور ذہنی پریشانیوں سے جان چھڑانے کے لیے ضروری ہے کہ جو بات دل میں چبھ رہی ہے اسے کسی کے سامنے بیان کر دیا جائے۔ افتخار، تم پچھلی دفعہ کوئی بات مجھے بتاتے بتاتے رک گئے تھے۔ تم آج سب کچھ کھول کر بیان کر دو۔ بغیر ڈرے، بغیر ہچکچائے۔"

افتخار نے اچانک آنکھیں کھول دیں اور نظر بھر کر ڈاکٹر بھٹی اور شیریں کی طرف دیکھا۔

"نہیں، افتخار، آنکھیں مت کھولو۔ آنکھیں بند رکھو۔ خوب صورت جھیل کا منظر اپنے سامنے رکھو۔ تم جھیل کے سامنے بینچ پہ بیٹھے ہو اور اپنے آپ سے باتیں کر رہے ہو۔ تم باتیں کر کے اپنے اندر کی بے کار الجھنیں نکالنا چاہتے ہو۔ تم ایسا ہی کرنا چاہتے ہو نا، افتخار؟"

"ہاں، میں ایسا ہی کرنا چاہتا ہوں، ڈاکٹر بھٹی۔ مگر یہاں آپ میری باتیں سنیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھ سےایک وعدہ کریں۔" افتخار کی آنکھیں اب بند تھیں۔

"کیسا وعدہ افتخار؟" ڈاکٹر بھٹی نے کسی قدر حیرت سے پوچھا۔

"آپ دونوں یہ وعدہ کریں کہ میں جو کچھ آپ کے سامنے بیان کروں گا اسے آپ راز ہی رکھیں گے اور کسی کو نہیں بتائیں گے۔ اور خاص طور پہ پولیس سے کوئی تذکرہ نہیں کریں گے۔"

افتخار کی اس آخری بات نے ڈاکٹر بھٹی کو کسی قدر پریشان کر دیا۔

"افتخار، میرے لیے تمھاری صحت اہم ہے، تمھاری سلامتی مجھے عزیز ہے۔ اگر تم خودکشی کی کوشش کرو گے یا کرنا چاہو گے تو میں ضرور پولیس کو بتا دوں گا۔ مگر اس کے علاوہ تم سے ساری گفتگو ہم تین لوگوں کے درمیان ہی محدود ہے۔ تم بالکل بے فکر ہو جاؤ۔" ڈاکٹر بھٹی نے کچھ سوچ کر افتخار کی بات کا جواب دیا۔

افتخار یہ جواب سن کر چپ ہو گیا۔

"ہاں، افتخار بتاؤ کہ تم نے پہلی دفعہ ہیروئن کب پی؟ یہ سلسلہ کیسے شروع ہوا؟"

"میں اس بات کو ذرا پیچھے سے شروع کروں گا۔" افتخار نے آہستہ آہستہ بولنا شروع کیا۔

" میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں، تین بہنیں اور دو بھائی۔ والد ٹی اینڈ ٹی میں کام کرتے تھے۔ ان کی تنخواہ معمولی تھی۔ ہم لوگوں کا گزارا بہت مشکل سے ہوتا تھا۔"

اور اس کے بعد افتخار نے جو داستان سنائی اس کہانی میں مرتضی بھٹی اور شیریں جمال پوری طرح کھو گئے۔ افتخار کی زندگی کا پورا نقشہ مرتضی بھٹی اور شیریں جمال کے سامنے کھنچ گیا۔

 

افتخار کے والد نے کسی طرح تنگی ترشی سے اپنے بچوں کی پرورش کی مگر اپنی تنگ دستی کے باوجود اپنے تئیں بچوں کی تعلیم کی طرف خصوصی دھیان دیا۔ افتخار پڑھائی میں کبھی اچھا نہیں رہا مگر وہ جماعت در جماعت آگے بڑھتا رہا۔

افتخار نے جس معاشرے میں آنکھیں کھولیں وہاں اس کے آس پاس کی دنیا بہت رنگین تھی۔ ہر طرف دولت کی چمک تھی۔ طرح طرح کے دیسی اور بدیسی ریستوراں تھے جہاں لوگ عیاشی سے کھانے کھاتے تھے۔ میک ڈانلڈ اور پیٹزا ہٹ اور ان کے سامنے رکنے والی چمکدار گاڑیاں، جن سے سجے دھجے لوگ نیچے اترتے اور اندر جا کر مہنگے کھانے کھاتے۔ یہ چمکدار، عیش و عشرت کی دنیا افتخار کے خاندان کی پہنچ سے باہر تھی۔ افتخار غالباً پندرہ سال کا تھا جب اس کو اپنے گھرانے کی کسمپرسی کا اندازہ ہوا۔ اس کی خواہش ہوئی کہ وہ بھی اور لوگوں کی طرح عیاشی کی زندگی گزارے۔ اس کو غصہ آیا کہ اس کے باپ کے پاس اتنا پیسہ کیوں نہ تھا کہ اپنے بچوں کو اچھے ریستورانوں میں مہنگے کھانے کھلا سکتا۔

 

پھر وہ وقت آیا جب افتخار نے بی اے مکمل کر لیا۔ اب اس کا مزید آگے پڑھنے کا ارادہ نہ تھا۔ افتخار نے نوکری کی تلاش شروع کی۔ نوکری ملنا بھی آسان کام نہ تھا مگر بہت سفارش سے اسے ایک بینک میں نوکری مل گئی۔ گھر والے خوش تھے کہ لڑکا کام دھندے سے لگ گیا تھا۔ پورے مہینے کام کرنے کے بعد افتخار کو تنخواہ ملی تو کل ملا کر سات ہزار روپے ہاتھ آئے۔ نوکری ملنے سے پہلے افتخار نے اپنے دوستوں سے وعدہ کیا تھا کہ پہلی تنخواہ ملنے پہ وہ دوستوں کو کسی اچھی جگہ کھانا کھلائے گا۔ پہلی تنخواہ کا جشن منانے کے لیے افتخار اپنے چار دوستوں کو لے کر پیٹزا ہٹ پہنچا۔ سب نے خوب کھل کر کھانا کھایا۔ بل چار ہزار روپے آیا۔ اس رات افتخار کو اندازہ ہوا کہ بینک میں نوکری کر کے ہوٹل بازی نہیں کی جا سکتی۔ اس قسم کی عیاشی کی زندگی جینے کے لیے کچھ اور کرنا پڑتا ہے۔