کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خدا کے چنیدہ بندے

علی حسن سمند طور


کے بی سہیل کا اصل نام خدا بخش سہیل تھا مگر امریکہ آنے سے پہلے ہی اس کا اپنے نام کے بارے ميں خیال تھا کہ اللہ دتا اور غلام نبی جیسے ناموں کی طرح "خدا بخش" پرانے وقتوں سے تعلق رکھنے والا نام تھا۔ پھر جب امریکہ آنے کے بعد خدا بخش سہیل کو اس کے پہلے نام سے پکارا گیا اور کئی جگہ وہ "خدا" کہلایا تو اس کو خیال ہوا کہ اس کو اپنے نام کے ساتھ کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا۔ تب ہی اس نے "خدا بخش سہیل" کو "کے بی سہیل" کر دیا۔ کے بی سہیل ان لوگوں میں سے تھا جو ایک ڈگر پکڑتے ہیں تو ثابت قدمی سے اس پہ چلتے رہتے ہیں، جس جگہ رہنا شروع ہو جائیں وہاں سالوں رہتے رہتے رہیں، جو نوکری کریں اس پہ وفاداری سے چمٹے رہتے ہیں۔ اب کیلی فورنیا تھا، کے بی سہیل تھا، ایک نوکری تھی، اور سہیل کے اپارٹمنٹ کے قریب واقع مسجد میں سہیل کے چکر تھے۔ کے بی سہیل نجمی کو اس وقت سے جانتا تھا جب نجمی کیلی فورنیا میں نیا نیا آیا تھا۔ نجمی نے ٹیکسس سے ایم ایس کی سند حاصل کی تھی اور اب یہاں کیلی فورنیا پہنچ کر نوکری تلاش کر رہا تھا۔ وہ رمضان کا مہینہ تھا۔ کے بی سہیل کی طرح نجمی بھی ہر شام مسجد پہنچ جاتا۔ مسجد میں مفت افطاری کا انتظام ہوتا اور دوسرے رضاکاروں کے ساتھ نجمی اور کے بی سہیل لوگوں کو کھانا دینے کے کام میں مسجد کی انتظامیہ کا ہاتھ بٹاتے۔ رمضان ختم ہونے کے بعد بھی نجمی مسجد میں آتا رہا۔ وہ کے بی سہیل کو اکثر جمعے کی نماز میں ملتا۔ پھر چند ماہ گزر گئے اور کے بی سہیل نے غور کیا کہ اس نے بہت عرصے سے نجمی کو نہیں دیکھا تھا۔ یہ احساس کرنے کے بعد کے بی سہیل نے اگلے کئی جمعوں میں نجمی کی باقاعدہ تلاش کی مگر وہ سہیل کو مسجد میں نہیں ملا۔

پھر ایک روز کے بی سہیل کسی دوست کو فون کرنے کے لیے اپنی فون کی ڈائری میں اس دوست کا نمبر تلاش کر رہا تھا کہ اس کی نظر نجمی کے نمبر پہ پڑ گئی۔ کے بی سہیل نے فورا اسے فون گھما دیا۔ اس نمبر پہ کسی اختر صاحب نے سہیل سے بات کی۔ اختر صاحب نے اسے بتایا کہ نجمی بہت عرصے پہلے وہ اپارٹمنٹ چھوڑ کر جا چکا تھا اور اختر صاحب دو کمروں کے اس اپارٹمنٹ میں نجمی کی جگہ ہی آئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نجمی کو نوکری ملے ایک عرصہ ہو گیا تھا اور وہ اب کہیں اور رہتا تھا۔ اختر صاحب کے پاس نجمی کا نیا نمبر نہیں تھا۔ سہیل کو نجمی سے ملنے کی ایسی کوئی تڑپ نہیں تھی کہ ادھر ادھر فون گھما کر اس کا نمبر ضرور ہی حاصل کرتا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ اس واقعے کے بہت عرصے بعد ایک روز جب کے بی سہیل گاڑی کے ٹائر خریدنے کے لیے سئیرز نامی دکان گیا تو وہاں اسے نجمی مل گیا۔ وہ کے بی سہیل سے تپاک سے ملا۔

"ارے سہیل بھائی، آپ کہاں تھے؟ یقین جانیں ابھی دو دن پہلے ہی آپ کو یاد کر رہا تھا،" اس نے سہیل کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔

"نجمی، تم ایسے پکے جھوٹے ہو کہ خدا کی پناہ۔ تمھارے پاس تو میرا فون نمبر ہے۔ اگر میری یاد میں ایسا ہی تڑپ رہے تھے تو مجھے فون کر لیتے،" کے بی سہیل نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔

"نہیں، سہیل بھائی، میرے پاس واقعی آپ کا نمبر نہیں ہے۔ کسی زمانے میں تھا مگر مستقل اپارٹمنٹ بدلنے پہ کہیں ادھر ادھر ہو گیا۔" نجمی نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

کے بی سہیل نے اس کی بات کا اعتبار کر لیا۔ وہ دونوں دیر تک ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے رہے۔

"سہیل بھائی، آپ کیا کر رہے ہیں ابھی؟" نجمی نے کے بی سہیل سے پوچھا۔

"کیا مطلب کہ کیا کر رہا ہوں؟ یہاں ٹائر تلاش کرنے آیا ہوں۔ اگر قیمت مناسب معلوم ہوئی تو خرید لوں گا اور پھر ان ہی لوگوں سے نئے ٹائروں کو گاڑی میں نصب کرواؤں گا۔" کے بی سہیل نے جواب دیا۔

"اچھا، ایسا کریں کہ آپ ٹائر دیکھ لیں۔ اگر ٹائر پسند آ گئے تو نصب کروانے کے لیے گاڑی چھوڑ کر میرے ساتھ گھر چلیے گا۔ ہم دونوں بیٹھ کر کچھ کھائے پئیں گے اور گپ لگائیں گے۔" نجمی نے صلح دی۔

یہ خیال کے بی سہیل کو اتنا برا نہ معلوم دیا۔ بہت عرصہ ہو گیا تھا کے بی سہیل کو یاروں دوستوں میں بیٹھے۔ اس نے حامی بھر لی۔ سہیل نے دکان میں رکھے ہوئے ٹائر دیکھے۔ وہاں ٹائروں کی قیمتیں کچھ زیادہ معلوم دیں اس لیے کے بی سہیل نے وہاں سے ٹائر خریدنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ نجمی کا کام پہلے ہی ختم ہو چکا تھا۔ وہ کاکنگ گن لینے وہاں آیا تھا جو وہ خرید چکا تھا۔ نجمی اس اسٹور سے زیادہ فاصلے پہ نہیں رہتا تھا۔ اس نے سہیل کو اپنے گھر کا راستہ سمجھایا اور کے بی سہیل اپنی گاڑی میں نجمی کی گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچ گیا۔ نجمی اب ایک باقاعدہ گھر میں رہتا تھا جو اس نے مہینہ بھر پہلے ہی خریدا تھا۔

نجمی نے بہت چاہ سے سہیل کو اپنا گھر دکھایا۔ وہ دو خواب گاہوں والا چھوٹا سا گھر تھا۔ گھر کی اچھی بات یہ تھی کہ گھر کے تین اطراف اچھی کھلی جگہ تھی۔ کے بی سہیل نے دل کھول کر اس کے گھر کی تعریف کی۔

وہ دونوں بیٹھک میں آ گئے اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔

"نوکری مل گئی تو تمھاری ساری دعائیں قبول ہو گئیں اور تم نے مسجد آنا چھوڑ دیا۔" کے بی سہیل نے کافی دیر کے بعد نجمی سے وہ بات کہی جو اس سے ملتے ہی سہیل کے ذہن میں آ گئی تھی۔

"نہیں، یہ بات نہیں ہے،" نجمی نے بات کی نفی کی۔ پھر وہ کچھ رک کر بولا۔

"سہیل بھائی، بس میں دیکھتا ہوں۔ لوگوں کے تضادات پہ غور کرتا رہتا ہوں۔"

"کیا دیکھتے ہو؟ کن تضادات کی بات کر رہے ہو؟" کے بی سہیل نے تجسس سے نجمی سے پوچھا۔

"چلیں چھوڑیں۔ کوئی اور بات کرتے ہیں؟" نجمی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

کے بی سہیل نے بھی مناسب خیال نہ کیا کہ اس موضوع کو زیادہ گھسیٹے۔ سہیل کا مشاہدہ تھا کہ دوستوں کو زیادہ پند و نصیحت کی جائے تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ دونوں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔

"آپ کو یاد ہے کہ دو سال پہلے جون میں ایک مصری کو مسجد میں دل کا دورا پڑا تھا،" کچھ دیر بعد نجمی نے سہیل سے پوچھا۔

"ہاں، میں نے سنا تھا۔ میں ان دنوں شہر سے باہر تھا۔ کیا بنا اس مصری آدمی کا؟" حالانکہ وہ قصہ کے بی سہیل کو کسی حد تک معلوم تھا مگر وہ قصے کو نجمی کی زبانی سننا چاہتا تھا۔

"سہیل بھائی، اس مصری کو دل کا دورہ پڑا تو کسی نے اپنے موبائل فون سے نو گیارہ کو فون کر دیا۔ پانچ منٹ میں ایمبولینس آ گئی مگر اس وقت تک وہ آدمی مر چکا تھا۔ ایمبولینس کے ساتھ آنے والے عملے نے اس مصری کو سی پی آر دینے کی کوشش کی مگر اس کی جان نکلے کچھ دیر ہو چکی تھی۔ پھر ایمبولینس کے عملے نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کہ انہوں نے دل کا دورہ پڑنے والے شخص کو فورا ابتدائی طبی امداد کیوں نہیں دی۔ وہاں موجود نمازیوں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ شاید ان میں سے کسی کے پاس بھی طبی امداد کی تربیت نہیں تھی۔ مصری شخص کو اسپتال لے جایا گیا مگر ظاہر ہے کہ اب صرف آٹوپسی ہوسکتی تھی۔" نجمی کا دکھ اس کے لہجے سے ظاہر تھا۔

نجمی کی یہ بات مکمل ہونے کے بعد دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔ کے بی سہیل دل میں سوچتا رہا کہ نجمی نے یہ پرانا قصہ کیوں چھیڑا تھا۔

"آپ کو پتہ ہے کہ پچھلے سال جولائی میں یہاں پہاڑی علاقے میں کیا واقعہ ہوا؟" کچھ دیر بعد نجمی نے کے بی سہیل سے پوچھا۔

"نہیں، مجھے نہیں معلوم۔ کیا ہوا؟" کے بی سہیل حیران تھا کہ مسجد میں موت کے واقعے سے پہاڑی علاقے میں ہونے والے کسی واقعے کا کیا تعلق ہو سکتا تھا۔

سہیل بھائی، آپ کو تو پتہ ہے کہ انسانی آبادی بڑھتی جا رہی ہے اور جانوروں کے رہنے کی جگہ تنگ پڑتی جا رہی ہے۔ پچھلے سال جولائی میں یہاں پہاڑی علاقے میں ایک روز ایک ہرن کو کسی گاڑی نے ٹکر مار دی۔ ہرن زخمی ہو کر بیچ سڑک میں گر گیا۔ ہرن کو ٹکر مارنے والی گاڑی کا بہت نقصان ہوا تھا، وہ گاڑی سڑک کے ایک طرف کھڑی ہو گئی۔ اور ٹریفک بھی ٹھہرنا شروع ہو گیا۔ کسی نے پولیس کو فون کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں وہاں پولیس کی ایک گاڑی آ گئی۔ پولیس اہلکار نے زخمی ہرن کا جائزہ لیا۔ یہ بات سامنے آئی کہ وہ ہرن نہیں ہرنی تھی اور ہلاک نہیں ہوئی تھی بلکہ شدید زخمی تھی۔ سپاہی کی رائے میں ہرنی اس بری طرح زخمی تھی کہ اس کے بچنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ سپاہی کی رائے تھی کہ ہرنی کو زخموں کی تکلیف سے جلد از جلد نجات دلا دی جائے۔ وہاں کھڑے مجمع میں موجود کچھ اور لوگ بھی جانوروں کا اچھا علم رکھتے تھے۔ انہوں نے ہرنی کی تکلیف دیکھ کر پولیس اہلکار کی ہاں میں ہاں ملائی۔ اہلکار نے اپنی پستول نکالی اور ہرنی کو گولی مار دی۔ درد سے کراہتی ہوئی ہرنی وہیں ٹھنڈی ہو گئی۔ وہاں موجود لوگوں نے ہرنی کے مرنے کا افسوس کیا۔ پھر کسی نے ہرنی کے متعلق ایک اور مشاہدہ کیا۔ ہرنی مر چکی تھی مگر اس کا پیٹ زور زور سے ہل رہا تھا۔ وہاں موجود لوگوں میں سے ایک شخص فارم پہ پلا بڑھا تھا۔ اس نے خیال کیا کہ مرنے والی ہرنی حاملہ تھی۔ وہ شخص جلدی سے اپنی گاڑی سے ایک شکاری چاقو نکال لایا۔ ہرنی کے پیٹ کو چیرا گیا تو اندر سے ایک بچہ نکلا۔ ہرنی کو مرے اب کچھ دیر ہو چکی تھی اور ہرن بچہ مردہ نظر آتا تھا۔ یقیناً ہرنی کی موت کے بعد اس کے دوران خون کے بند ہونے سے بچے کو آکسیجن پہنچنا بند ہو گئی تھی۔ فارم کے تجربہ کار شخص نے ہرن بچے کو منہ سے سانس دینا شروع کی۔ نوزائیدہ بچہ خون میں لتھڑا تھا مگر وہ شخص اس امر سے بے نیاز ہرن بچے کے خون آلودہ منہ کو اپنے منہ میں دبائے بچے کو زور زور سے سانس دے رہا تھا اور اس کا سینہ دبا رہا تھا۔ وہاں موجود تمام لوگ دم بخود یہ تماشہ دیکھ رہے تھے۔ پھر کچھ دیر میں ہرن بچے نے جھرجھری لی اور بچے کی سانس بحال ہو گئی۔ ہرن بچے نے آنکھیں کھول کر اپنے آس پاس کھڑے لوگوں کو دیکھا۔ فرط جذبات سے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ سخت گرمی کے دن تھے۔ ایک شخص اپنی گاڑی سے پانی کی بوتل لے آیا۔ پانی کے قطرے ہرن بچے کے منہ میں ٹپکائے گئے۔ پھر فارم کے تجربہ کار شخص نے عقلمندی کا ایک اور مظاہرہ کیا۔ اس نے ہرن بچے کا منہ مری ہوئی ہرنی کے تھن سے لگا دیا۔ تھن میں کچھ دودھ تھا جو بچے نے فورا چوس لیا۔ اب ہرن بچے کے جسم میں کچھ جان پڑ چکی تھی۔ اخبار کی اطلاع کے مطابق ہرن بچے کو جانوروں کے اسپتال پہنچا دیا گیا اور دو دن بعد اس شخص کے حوالے کر دیا گیا جس نے اس بچے کی جان بچائی تھی،" نجمی نے پورا واقعہ نہایت تفصیل سے سنایا۔

پھر کسی قدر توقف سے نجمی پھر بولنا شروع ہوا۔

"کچھ لوگوں کا ہیرو وہ موٹا مولوی ہے جس کے ماتھے پہ کثرت عبادت سے سیاہ گٹا پڑ گیا ہے مگر جو مسجد میں دل کا دورہ پڑنے والے ایک شخص کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ میرا ہیرو وہ شخص ہے جس نے کبھی کوئی نماز نہیں پڑھی مگر جو ایسا اوتار ہے کہ مری ہوئی حاملہ ہرنی کے پیٹ سے بچے کو نکال کر اسے اپنے منہ سے سانس دے کر اس کی جان بچا لیتا ہے۔ صبح و شام مساجد کا چکر لگانے والے لوگ شاید اپنی سگی اولاد سے بھی ایسی انسانیت کا مظاہرہ نہ کر سکیں۔" نجمی نے کسی قدر جذباتیت سے کہا۔

"نجمی، تم دو مختلف چیزوں کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کر رہے ہو۔ خدا کی عبادت کرنا ایک چیز ہے اور دنیاوی علم حاصل کرنا اور دل میں دوسروں کا درد رکھنا ایک دوسری چیز ہے۔" کے بی سہیل نجمی کی عجیب و غریب باتوں سے پریشان ہو گیا تھا۔

"یہی میری اور آپ کی سوچ کا فرق ہے۔ میرا خیال ہے کہ علم حاصل کرنا اور دوسروں کے لیے درد رکھنا ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔ " نجمی نے اطمینان سے جواب دیا۔ لگتا تھا کہ نجمی کے بی سہیل سے اپنے دل کی بھڑاس نکالنا چاہتا تھا۔

"سہیل بھائی، میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ میرے پاس جو مہمان آتے ہیں ان کی دو واضح قسمیں ہیں۔ ایک وہ ہوتے ہیں جو فورا مسجد کا پتہ پوچھتے ہیں اور معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ حلال گوشت کہاں سے ملتا ہے، اور دوسرے وہ ہوتے ہیں جو اسٹینفرڈ اور برکلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور ان دونوں اقسام کے مہمانوں میں فکر کی کوئی بھی قدر مشترک نظر نہیں آتی۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میرا تعلق اس دوسری قسم کے لوگوں سے ہے اور رہنا چاہیے،" نجمی نے کہا۔

کے بی سہیل کے پاس مزید وقت نہ تھا کہ وہ نجمی سے الجھتا۔ اس نے دل میں دعا کی کہ خدا تعالی نجمی کو نیک راستے پہ چلنے کی توفیق دے۔ مغرب کی نماز کا وقت نکل رہا تھا۔ کے بی سہیل نجمی سے اجازت لے کر مسجد کی طرف چل پڑا۔