کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آئی ایس او نو ہزار

علی حسن سمند طور


بورڈ کی میٹنگ جاری تھی اور دو چپڑاسی مستقل اندر باہر ہو رہے تھے۔ وہ دونوں کمرے میں موجود لوگوں کو چائے اور ٹھنڈا پیش کرنے کے کام پہ معمور تھے۔ میٹنگ کا موضوع کارخانے کے لیے آئی ایس او نو ہزار کی سند کا حصول تھا۔ یہ اس سلسلے کی تیسری بڑی میٹنگ تھی۔ جب یہ سلسلہ چھ ماہ پہلے شروع ہوا تھا تو تمام بورڈ ممبران میں جلد ہی یہ اتفاق رائے ہو گیا تھا کہ آئی ایس او نو ہزار کی سند کمپنی کی ساکھ کے لیے بہت اہم تھی۔ تجارتی دنیا جس رخ پہ جا رہی تھی وہاں اس بات کی اہمیت تھی کہ بین الاقوامی کاروبار کرنے والی کمپنیاں معیار کی ضمانت کے لیے اپنے سے معاملہ کرنے والے اداروں سے اس قسم کی اسناد کا مطالبہ کریں۔اب اس تیسری میٹنگ میں آئی ایس او نو ہزار سند کے حصول کے لیے ہونے والی کوششوں پہ نظر ثانی ہو رہی تھی۔ مختلف شعبوں کے مدیر بورڈ ممبران کے سامنے اپنے اپنے شعبوں کی پیش رفت بیان کر رہے تھے۔ بورڈ کے منتظم اعلی اور دیگر عہدیداران کام کی رفتار سے مطمئن نظر آتے تھے۔ ان کی کمپنی جو کھاد بنانے کی کئی فیکٹریوں کی مالک تھی، صنعت و حرفت کے معاملات میں اعلی معیار رکھنے کی شہرت کی حامل تھی۔ باہر سے دیکھنے والوں کو کمپنی کے اندر ہر چیز قاعدے سے ہوتی نظر آتی تھی۔ اور اب کمپنی کو آئی ایس او نو ہزار کی صورت میں اپنے اسی قرینے کی سند حاصل کرنا تھی۔

اوپری منزل کے جس کانفرینس روم میں بورڈ کی یہ میٹنگ ہو رہی تھی اس سے قریباً چار سو گز کے فاصلے پہ ایک دوسری عمارت میں دو کارندے ویلڈنگ کے ایک کام کے لیے کمپنی کے باہر سے لائے گئے تھے۔ وہ دونوں کچھ سہمے ہوئے نظر آتے تھے۔ وہ اس لیے ڈرے ہوئے نہیں تھے کہ انہیں اپنے کام کی طرف سے کسی قسم کا خوف تھا۔ ان خطرات کے بارے میں تو وہ آگاہ ہی نہیں تھے۔ دراصل وہ دونوں کمپنی کے ماحول سے سہم گئے تھے۔ اس طرح کی جگہ پہ وہ پہلے کبھی نہ آئے تھے۔ جب کچھ دیر پہلے وہ کمپنی کے استقبالیہ پہ پہنچے تھے تو وہاں موجود لڑکی نے ان سے پوچھا تھا۔

"مے آئی ہیلپ یو؟"

ان دونوں کو یہ بات تو سمجھ میں آ گئی کہ ان سے کچھ انگریزی میں پوچھا گیا تھا مگر کیا پوچھا گیا تھا، وہ یہ نہ سمجھ پائے۔

ان میں سے ایک نے، جس کا نام محمد منیر تھا، بغیر کچھ کہے انگریزی بولنے والی لڑکی کی طرف وہ پرچہ پکڑا دیا جس پہ اردو میں "ممتاز حسین" لکھا تھا۔ لڑکی نے پرچہ منیر کے ہاتھ سے لے کر اسے غور سے پڑھا۔

"اچھا، آپ لوگ ممتاز حسین سے ملیں گے؟" لڑکی نے انگریزی لہجے میں اٹک اٹک کر اردو بولتے ہوئے پوچھا۔

ان دونوں نے اثبات میں سر ہلا دیے۔

محمد منیر اور اس کا ساتھی اکرام اللہ دراصل اپنے دوست احسان کے توسط سے یہاں آئے تھے۔ احسان چند ماہ سے اس کارخانے میں ملازم تھا۔ احسان کے سپروائزر ممتاز حسین نے احسان سے تذکرہ کیا تھا کہ اسے دو ویلڈروں کی فوری ضرورت تھی۔ احسان نے محمد منیر اور اکرام اللہ سے رابطہ کیا تھا۔ ان دونوں نے ویلڈنگ کا کام کچھ عرصے پہلے ہی سیکھا تھا۔ وہ فورا کام کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ احسان نے ایک پرچے پہ اپنے سپروائزر ممتاز حسین کا نام لکھ دیا تھا، اور اب یہاں پہنچ کر محمد منیر نے وہی پرچہ استقبالیہ پہ بڑھا دیا تھا۔

لڑکی کے فون کرنے پہ کچھ ہی دیر میں ممتاز حسین وہاں آگیا۔ ممتاز حسین کی عمر تیس پینتیس برس رہی ہو گی۔ اس کی ابھرتی توند نے بش شرٹ کو کمر سے اس کے گرد تنگ کر دیا تھا۔ اس کی پتلون پہ کئی جگہ کالک کے دھبے لگے تھے۔ ممتاز حسین کی پوشاک میں سب سے معیاری چیز اس کے جوتے تھے جو اسے کمپنی کی طرف سے ملے تھے۔ ممتاز حسین نے استقبالیہ پہ موجود ایک رجسٹر میں منیر اور اکرام کے نام درج کیے اور ان کو دوسرے دروازے سے کمپنی کے اندر لے گیا۔ اندر جانے سے پہلے منیر اور اکرام نے ویلڈنگ کا ٹرانسفارمر اٹھا لیا تھا جسے استقبالیہ میں گھسنے سے پہلے وہ باہر چھوڑ آئے تھے۔ وہ تینوں ایک لمبی راہ داری سے گزرتے ہوئے عمارت کے دوسری طرف سے باہر آ گئے۔ اکرام اللہ اور محمد منیر اس کمپنی کی صاف ستھری دھلی دھلائی چمکیلی چیزوں سے متاثر تھے۔ پھر لمبی راہ داری سے گزرتے ہوئے انہیں چند ایسے لوگ ملے تھے جوآپس میں انگریزی میں باتیں کر رہے تھے۔ یہ ماحول انہیں خوف زدہ کر دینے کے لیے کافی تھا۔

ان دونوں کا خیال تھا کہ ان کی ملاقات احسان سے ہو جائے گی مگر ممتاز حسین انہیں سیدھا کام کی جگہ پہ لے گیا۔ وہ ایک ٹینک تھا جس کے اوپری حصے پہ ویلڈنگ کر کے ٹانکا لگانا تھا۔

"یہ کس چیز کا ٹینک ہے؟" منیر نے ممتاز حسین سے کام سمجھنے کے بعد جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا۔

"اس ٹینک میں پہلے تو گیس تھی مگر پھر گیس لیک کرنے لگی اس لیے اس ٹینک کو خالی کر دیا گیا۔ اب یہ خالی ہے۔" ممتاز حسین نے انہیں بتایا۔

ان دونوں نے کبھی کسی ٹنکی کی ویلڈنگ تو نہیں کی تھی مگر انہیں یہ کام گرل اور کھڑکیوں کی ویلڈنگ سے بہت زیادہ مختلف دکھائی نہ دیا۔ ٹینک جس جگہ سے لیک کر رہا تھا وہ ایک لمبی لکیر میں صورت ٹنکی کے ایک جوڑ پہ صاف نظر آ رہی تھی۔ وہ سیڑھی سے ٹینک کے اوپر چڑھے تھے۔ انہوں نے ٹرانسافارمر بھی اوپر چڑھا لیا تھا اور اکرام نے ممتاز حسین سے پوچھ کر ٹرانسفارمر سے نکلنے والے تار کو بجلی سے جوڑ دیا تھا۔ منیر اور اکرام ٹنکی کے اوپر بیٹھ کرویلڈنگ کرنے لگے۔ ممتاز حسین نے کچھ دیر تو انہیں کام کرتے دیکھا تھا مگر پھر وہاں سے روانہ ہو گیا تھا۔ منیر اور اکرام ٹنکی کے ایک طرف سے شروع ہوئے اور ویلڈنگ کرتے ہوئے دوسری طرف پہنچ گئے۔ کام مکمل ہونے پہ منیر اور اکرام نے ٹنکی پہ کھڑے ہو کر کارخانے کا جائزہ لیا۔ انہیں دور سے ممتاز حسین اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔

"ہو گیا کام؟" قریب آنے پہ ممتاز حسین نے ان سے پوچھا۔

"ہاں جی۔ آپ آ کر دیکھ لیں۔" منیر نے جواب دیا۔

ممتاز حسین سیڑھی کے ذریعے ٹنکی پہ چڑھا اور اس نے ٹانکے کا جائزہ لیا۔ ٹانکا اچھا لگا تھا مگر ممتاز حسین کی توقع کے خلاف یہ کام بہت پہلے ختم ہو گیا تھا۔

"ایسا کرو کہ اسی ٹانکے کے اوپر ایک اور ٹانکا لگا دو تاکہ جوڑ مضبوط ہو جائے،" ممتاز حسین نے ان سے کہا۔

"ٹانکے کے اوپر دوسرا ٹانکا تو نہیں لگایا جاتا،" منیر نے احتجاج کیا۔

"یہ دیکھو، یہاں۔" منیر نے ٹنکی پہ بیٹھ کر ٹانکے کے ابھار کی طرف اشارہ کیا،"ٹانکا اچھا ہے مگر یہ اور بھر جائے تو اور بھی مضبوط ہو جائے گا۔"

اس کام کے مد میں منیر اور اکرام کو پورے دن کا معاوضہ ملنا تھا اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ دوسرا ٹانکا لگانے بیٹھ گئے۔ ممتاز حسین ایک بار پھر وہاں سے روانہ ہو گیا۔

اس وقت تک ٹینک میں بچ جانے والی گیس پوری طرح مبحوس ہو چکی تھی۔ ویلڈنگ جاری تھی اور ٹنکی میں بند گیس کو مستقل گرمائش پہنچائی جا رہی تھی۔ گرمی سے گیس پھیل رہی تھی اور ٹنکی سے باہر نکلنے کے لیے بے تاب تھی۔مگر باہر نکلنے کے تمام راستے بند ہو چکے تھے اور پھیلتی گیس کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔

پھر ایک زوردار، کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ اس کی آواز بورڈ کی میٹنگ کے شرکا تک پہنچی۔

اپنے اوسان بحال ہونے پہ ممتاز حسین دھماکے کی جگہ کی طرف دوڑا۔ کارخانے کے دوسرے مزدور بھی اس طرف بڑھے۔ دھماکے کی جگہ پہنچنے پہ ان لوگوں کو پورا معاملہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہ لگی۔ ویلڈنگ کیے جانے والے ٹینک اور اس کے ساتھ دونوں ویلڈروں کے پرخچے اڑ چکے تھے۔ ٹینک کے تین اطراف موجود دیواروں میں بھی دراڑیں پڑ گئیں تھیں۔ ٹنکی کے ٹکڑے دیواروں اور چھت سے ٹکرا کر پورے میں بکھر گئے تھے۔ اسی ملبے کے ساتھ ہی اکرام اللہ اور محمد منیر کے جسموں کے مختلف اعضا بھی پورے میں پھیلے ہوئے تھے۔

ذرا سی دیر میں حادثے اور دو ہلاکتوں کی خبر بورڈ ممبران تک پہنچ گئی۔ اس وقت تک میٹنگ کی کاروائی مکمل نہیں ہوئی تھی۔اس ہنگامی صورت حال کو دیکھتے ہوئے منتظم اعلی نے میٹنگ میں دو گھنٹے کے وقفے کا اعلان کیا۔ طے پایا کہ دو گھنٹے بعد وہ سب لوگ پھر اسی کمرے میں جمع ہوں گے۔

میٹنگ سے نکل کر تمام شرکا حادثے کی جگہ پہ پہنچے۔ وہ روح فرسا منظر تھا۔حادثے والے شعبے کے مدیر نے جلدی جلدی انتظامات کیے کہ ہلاک ہو جانے والوں کے اعضا کو کس طرح جمع کیا جائے گا، گوشت کے ٹکڑوں اور خون کو کس طرح دیواروں اور چھت سے کھرونچا جائے گا۔ اور یہ "لاشیں" کس طرح ورثا کے حوالے کی جائیں گی۔

اور اسی بھاگ دوڑ میں دو گھنٹے گزر گئے۔ بورڈ کی میٹنگ پھر شروع ہوئی۔

صبح کے اجلاس کے مقابلے میں اب شرکا کے منہ لٹکے ہوئے تھے۔

"میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے تو ہمیں متاثرین کی مالی مدد کا اعلان کرنا چاہیے۔"

منتظم اعلی نے شرکا کی طرف ایک نظر دوڑاتے ہوئے انگریزی میں کہا۔ سب لوگوں نے تائید میں اپنے سر ہلائے۔

"ہلاک ہونے والے دونوں لوگوں کے خاندانوں کو پچاس پچاس ہزار روپے دیے جائیں گے۔" منتظم اعلی نے رقم کا اعلان کیا۔

"سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حادثہ ہوا کیوں؟" ایک نوجوان شریک نے منتظم اعلی کی طرف دیکھ کر پوچھا۔

"ظاہر ہے کہ اس بارے میں تحقیقات کی ضرورت ہے۔" کارخانے کے جس شعبے میں حادثہ ہوا تھا اس کے مدیر نے نوجوان کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

"ہاں وہ تحقیقات تو ہوں گی ہی مگر اب اس حادثے کی وجہ سے ہماری کمپنی کو آئی ایس او نو ہزار کی سند ملنے میں مشکل ہو گی،" نوجوان شریک نے اپنا خیال پیش کیا۔

نوجوان کی اس بات پہ میٹنگ کے تمام شرکا سوچ میں پڑ گئے۔

"آپ کی یہ بات درست ہے، عرفان۔ اور اسی وجہ سے ہمیں آج اس میٹنگ میں چند اہم فیصلے کرنے ہیں،" منتظم اعلی نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔

"ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہماری کمپنی اور ہمارے ملک کا بلند تر مفاد کس چیز میں ہے؟ کیا ہماری قوم کا بلند تر مفاد اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اس حادثے کو خوب اچھالا جائے اور پورے میں اس کا شور ہو یا ہمیں خاموشی سے اس حادثے سے سبق حاصل کر کے آگے بڑھ جانا ہے۔

اگر اس حادثے کا شور ہوتا ہے اور اس وجہ سے ہماری کمپنی آئی ایس او نو ہزار کمپنی نہیں بن سکتی تو اس میں کس کا نقصان ہے؟ نقصان یقیناً کمپنی کے لیے کام کرنے والے لوگوں کا ہے کیونکہ وہ ٹھیکے جو کمپنی کو آئی ایس او نو ہزار ہونے کی صورت میں ملتے وہ ہمیں نہیں ملیں گے۔ ہمارا کاروبار نہیں بڑھے گا۔ اور کاروبار نہ بڑھنے کا نقصان صرف کمپنی کے عملے کو نہیں ہو گا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت پہ نمودار ہوں گے۔ گویا اس حادثے کو اچھالنے میں پوری قوم کا نقصان ہے۔ چنانچہ عقل مندی کا تقاضہ یہی ہے کہ اس بات کو دبا دیا جائے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم اس واقعے سے سبق حاصل نہ کریں۔ ہم اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرائیں اور ایسے ضوابط تشکیل دیں جن سے یقین دہانی ہو کہ آئندہ اس قسم کا کوئی واقعہ نہ ہو گا مگر اس کے ساتھ اس واقعے کو اخبارات کی زینت نہ بننے دیں۔ اس حادثے کو اپنے لیے جگ ہنسائی کا سامان نہ بنا لیں۔ اسی حکمت عملی میں ہماری کمپنی اور ہمارے ملک کی آن بان ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ آپ سب لوگ میری اس منطقی بات سے اتفاق کریں گے۔" اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد منتظم اعلی نے ایک ایک شریک کی طرف دیکھ کر اس کا ذہن ٹٹولنے کی کوشش کی۔ زیادہ تر لوگ اپنے سامنے موجود کاغذوں پہ کچھ لکھ رہے تھے۔ جن لوگوں سے منتظم اعلی کی نظریں چار ہوئیں انہوں نے سر ہلا کر منتظم اعلی کی بات کی تائید کی۔