کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چاہے کچھ ہو جائے

اشتیاق احمد


خوف زدہ ہونے سے کام نہیں چلے گا جناب۔۔ آپ سب کو پوری طرح ہوشیار رہنا ہو گا۔۔ چوکنے رہیے۔۔ نہ جانے وہ کس رخ سے وار کرے گا کم از کم رات کے وقت کسی کے بھی کمرے میں ہم اسے واردات نہیں کرنے دیں گے۔۔ اس کا انتظام ہم سونے سے پہلے کر ڈالیں گے کوئی شخص رات کو اپنے کمرے کا بیرونی دروازہ ہرگز نہیں کھولے گا۔۔ غسل خانے والے مشترکہ دروازے کو کھولنے کی اگر کسی کو ضرورت پیش آئے گی تو وہ پہلے اپنے بیرونی دروازے پر دستک دے کر ہمیں خبردار کرے گا۔۔

تو کیا آپ ساری رات جاگتے رہیں گے خان بدیع نے حیران ہو کر کہا۔۔ چند انسانی جانوں کو بچانے کے لیے اگر ہمیں چند راتیں جاگنا پڑے تو یہ سودا مہنگا نہیں کیا خیال ہے۔۔ آپ کا ؟ فاروق نے شوخ آواز میں کا۔۔

آپ لوگ بہت اچھے ہیں۔۔ بہت نیک ہیں طاؤس جان نے فوراً کہا۔۔ بس اب آپ ہماری تعریف نہ کریں ہمیں کام کرنے دیں ہاں تو جس کسی کو غسل خانے جانے کی ضرورت پیش آئے وہ پہلے اپنا بیرونی دروازہ کھٹکھٹائیں۔۔ ہم فوراً دروازے پر پہنچیں گے۔۔ ہم تینوں یا کوئی ایک پہنچے گا یہ ضروری نہیں کہ تینوں پہنچیں۔۔ پہلے ہم ان کے ساتھ والے کو جگائیں گے۔۔ اس کے ذریعے غسل خانے کا دروازے کھلوائیں گے۔۔ اور جب تک دوسرا شخص غسل خانے میں رہے گا پہلا ہماری نظروں میں رہے گا۔۔ اس احتیاط سے کم از کم غسل خانوں کے راستے کوئی گڑ بڑ نہیں ہو گی۔۔

لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ صرف اور صرف اس راستے گڑ بڑ کرنے کی کوشش کرو راج دیو نے برا سا منہ بنایا۔۔

ایسے میں قدموں کی آواز سنائی دی۔۔ انہوں نے انسپکٹر خادم حسین کو آتے دیکھا۔۔ آئیے انسپکٹر صاحب آپ کی کار گزاری کہاں تک پہنچی۔۔۔ میں نے پورے سبزہ زار کا ایک چکر لگایا ہے۔۔ امکانات کا جائزہ لیا ہے باہر سے کسی قاتل کے آنے کے بہت سے راستے بنتے ہیں اور ہمیں ان تمام راستوں کو بند کرنا ہو گا۔۔۔ کیا مطلب ؟ محمود نے حیران ہو کر کہا۔۔ سبزہ زار کے درخت بہت بلند اور گھنے ہیں ان کی شاخیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں۔۔ اور کئی درخت عمارت کی چھت تک پہنچے ہوئے ہیں ان درتوں کے ذریعے چھت پر اترنا حد درجے آسان ہے۔۔

لیکن چھت پر اتر کر کوئی شخص زیادہ سے زیادہ اس صحن میں آ سکتا ہے اور صحن میں ہم موجود ہوں گے۔۔ فاروق نے کہا میں نے تو صرف یہ بتایا ہے کہ باہر سے اگر کوئی شخص اندر آنا چاہے تو یہ کام اس کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔۔ خادم حسین نے کہا۔۔ ہوں خیر دیکھا جائے گا۔۔ فرزانہ نے کندھے اچکائے ویسے میرا خیال ہے قاتل کہیں باہر سے نہیں آئے گا وہ آپ سات میں سے کوئی ایک ہے۔۔ انسپکٹر خادم حسین نے پر یقین انداز میں کہا۔۔

نن۔۔ نہیں۔۔ نہیں ہم میں سے کوئی ایک کیوں دوسروں کو ہلاک کرنے کی کوشش کرے گا۔ ہماری تو آپس میں قطعاً کوئی دشمنی نہیں ہے ہم تو گہرے دوست ہیں۔۔ بعض گہری دوستیوں میں گہری دشمنیاں چھپی ہوتی ہیں۔۔ انسپکٹر نے  کہا بہر حال ہمیں کرنا ہے بچاؤ۔۔ اور وہ ہم کریں گے کھانا لگ گیا ہے جناب ایک ملازم نے آ کر بتایا۔۔ وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔۔

رات کا کھانا کھانے کے بعد کافی کا دور ہو گا۔۔ سردی بہت ہے کافی بہت مزا دے گی تاہم اگر کسی صاحب کو کافی پسند نہ ہو تو ان کے لیے چائے بنوائی جا سکتے ہے۔۔ خان بدیع نے اعلان کرانے کے انداز میں کہا۔۔ کوئی کچھ نہ بولا شاید انہیں کافی یا چائے کی بجائے صرف اور صرف یہ فکر تھی کہ قاتل کس طرف سے حملہ آور ہو گا۔۔ کھانے کے کمرے میں وہ میز کے گرد بیٹھے تھے کھانا پہلے ہی میز پر لگا دیا گیا تھا ان سب کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھے ہی تھے کہ محمود پکار اٹھا۔۔

کھانے سے پہلے کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ۔۔۔اس نے جملہ درمیاں میں چھوڑ دیا اور سب پر ایک نظر ڈالی سب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔ کیا کہنا چاہتے ہیں الجھن میں کیوں مبتلا کر رہے ہیں طاؤس جان نے انہیں گھورا۔۔ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ کھانا چیک کر لیا جائے۔۔ کیا مطلب وہ ایک ساتھ بولے۔۔

یہ ضروری نہیں کہ قاتل غسل خانوں کے راستے اپنا کام کرے آخر وہ یہ کام زہر دے کر بھی تو کر سکتا ہے۔۔ یہ طریقہ تو اس کے لیے بہت زیادہ آسان ہو گا۔۔

کیا !!! وہ سب چلا اٹھے۔ اف مالک آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔ افسوس کہ میرا دھیان اس طرف کیوں نہ گیا انسپکٹر خادم حسین راہی نے کہا اس میں افسوس کی کوئی بات نہیں جناب ایسا ہوتا ہے فرزانہ مسکرائی۔۔ یہ معقول تجویز ہے رومو بابا طوطوں کا پنجرہ لاؤ خان بدیع نے کہا مالی فوراً باہر نکل گیا جلد ہی طوطوں کا پنجرہ لے آیا۔۔ ہر قسم کا کھانا ان کی پیالیوں میں ڈالا جائے۔۔ انہوں نے کہا ایک ملازم نے تھوڑا تھوڑا کھانا ہر ایک ڈش سے طوطوں کی پیالیوں میں ڈال دیا طوطے کھانے لگے اچانک وہ درد ناک انداز میں چلائے اور قیں قیں کرتے پنجرے کے اندر ڈھیر ہو گئے۔۔

اف مالک یہ تو سب مر گئے۔۔ تو ہمارا اندازہ درست نکلا۔۔ اس ہال میں ہم سب کی موت واقع ہو چکی تھی اگر ہم آپ لوگوں کو نہ روکتے۔۔ محمود نے پرسکون آواز میں کہا۔۔ راج دیو اور طاؤس جان نے انہیں تیز نظروں سے دیکھا پھر راج دیو نے مسکرا کر کہا۔۔ آپ لوگوں کے بارے میں جیسا سنا تھا ویسا ہی آپ کو پایا آپ نے ہم سب کی زندگیاں بچا لیں۔۔ سب کی نہیں جناب۔ کیا مطلب ؟

قاتل خود زندہ رہتا وہ اس کھانے کو ہاتھ بھی نہ لگاتا بس صرف منہ چلاتا رہتا۔۔

اوہ ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔۔ راج دیو نے کہا۔۔

معاف کیجیے گا آپ ہندو ہیں ؟

ہاں بالکل۔۔۔ کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے یا آپ اس بنیاد پر مجھے شک کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ کہ میں ہندو ہوں۔

شک کی نظروں سے تو ہم سب کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ اس بارے میں فکر مند نہ ہوں محمود نے مسکرا کر کہا۔۔ کیا مطلب۔ سب کو کیوں۔۔ واردات اگر ہو گی تو کرنے والا تو صرف ایک ہو گا۔۔ طاؤس جان بولا۔

لیکن ہم نہیں جانتے وہ کون ہو گا۔۔ فرزانہ نے بھنا کر کہا۔۔

خیر۔۔۔ خیر۔۔۔ یہ آپ کا کام ہے۔ اس کا پتا لگائیں۔۔ لیکن آپ سب کو تو قاتل خیال نہ کریں۔۔ راج دیو نے کہا۔۔

ہم سب پر صرف شک کر رہے ہیں یہاں تک کہ خان بدیع پر بھی۔۔

سوائے اپنے آپ پر شک کر نے کے۔۔ گویا آپ ہر ایک پر شک کر رہے ہیں ؟ انسپکٹر خادم حسین ہنسا۔۔ ہاں انسپکٹر صاحب یہ ہمارا اصول ہے۔۔ اصول تو خیر سنہری ہے خود میں بھی اس پر عمل کرتا ہوں۔۔ عین اسی وقت باہر کسی گاڑی کے رکنے کی آواز سنائی دی ان سب نے چونک کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔ یہ۔۔ یہ کون آ گیا۔۔ ڈابر شاہ کانپ کر بولا۔۔ شاید قاتل صاحب تشریف لائے ہیں۔۔ محمود بولا۔۔ ارے۔ باپ رے۔۔ تو آپ لوگ کچھ کریں نا۔۔ فکر نہ کریں ہم بھی فکر نہیں کر رہے۔۔ فاروق مسکرایا یونی اب ہم فکر بھی نہ کریں یہ کیسے ہو سکتا ہے ہونے کو اس دنیا میں کیا نہیں ہو سکتا۔۔ جانو دیکھو باہر کون ہے۔۔ اپنی بندوق ہاتھ میں لے کر جانا۔۔ بہت بہتر جناب ملازم نے کہا اور فوراً باہر چلا گیا جلد ہی بھاری قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔۔۔ تین آدمی اندر داخل ہوئے۔۔۔ جانو ان کے پیچھے تھا۔۔ محمود ،، فاروق ، خان رحمان اور پروفیسر داؤد تھے۔۔

السلام علیکم۔۔ تم لوگوں کی کار بے کار دیکھی تو ہم نے خیال کیا۔۔۔ تم ضرور یہاں موجود ہو گے اور ٹائر حاصل کرنے کے سلسلے میں یہاں آئے ہو گے لیکن تمہیں تو کافی دیر پہلے یہاں سے گزر جانا چاہیے تھا۔۔ ظاہر ہے ان لوگوں نے انکار تو کیا نہیں ہو گا۔۔ انسپکٹر جمشید نے جلدی جلدی کہا۔۔ نن۔۔ نہیں۔۔ ابا جان محمود بولا۔۔

ابا جان۔۔۔ اوے۔۔۔۔۔ تو کیا یہ انسپکٹر جمشید ہیں۔۔ کئی آوازیں ابھریں۔۔ جی ہاں اور یہ ہمارے انکلز ہیں۔۔ خان رحمان اور پروفیسر داؤد۔۔

اوہ اوہ۔۔ ان کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔۔ ان سب نے ان سے ہاتھ ملائے پھر ان کے لیے بھی کرسیاں رکھی گئیں۔۔ یہاں کی فضا کچھ خوش گوار نہیں لگتی کوئی حادثہ ہو گیا کیا۔۔ ارے ان طوطوں کو کیا ہوا۔۔ اوہو۔۔۔ کھانا انہیں چیک کرایا گیا ہے۔۔ کیا کوئی شخص آپ لوگوں کو زہر دینا چاہتا ہے انہوں نے جلدی جلدی کہا۔۔

بھئی واہ۔۔ کس قدر جلد اندازہ لگا لیا آپ نے۔۔ خان بدیع بولے۔۔ یہ ہمارا دن رات کا کام ہے۔۔ وہ مسکرائے۔۔ کوئی نامعلوم شخص ان میں سے چھے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔۔ لیکن یہ تو آٹھ ہیں۔۔ گویا باقی دو بچیں گے۔۔ ان میں سے یہ انسپکٹر خادم حسین راہی ہیں۔۔ یہاں ہونے والی واردات کے خوف سے انہوں نے پولیس کمشنر کو فون کیا تھا کمشنر صاحب نے انسپکٹر خادم حسین کو بھیج دیا۔۔ محمود نے بتایا۔۔

معاملہ کیا ہے۔۔ وہ بولے۔۔

اب انہیں پوسٹر کے بارے میں بتایا گیا۔۔ میں وہ پوسٹر دیکھنا چاہتا ہوں۔۔ محمود انسپکٹر جمشید پریشان ہو کر بولے۔۔ اس پر کسی کی انگلیوں کے نشانات نہیں مل سکے۔ ابا جان میں ابھی لاتا ہوں۔۔ یہ کہہ کر محمود اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔ اور پوسٹر لیے واپس آیا۔۔ انسپکٹر جمشید چند منٹ تک اس کو بغور دیکھتے رہے پھر انہوں نے کہا۔۔

جس شخص نے یہ پوسٹر لکھا ہے اپنے دائیں ہاتھ سے نہیں لکھا اور دوسری بات یہ ہے کہ اس نے بائیں ہاتھ سے لکنے سے پہلے دستانے چڑھا لیے تھے اس طرح پوسٹر پر انگلیوں کے نشان نہیں آئے۔ گویا وہ سوجھ بوجھ والا آدمی ہے اور سب سے بڑھ کر ایک بات بتاؤں۔۔ جی فرمائیے۔۔ وہ ایک ساتھ بولے۔۔

کھانے میں زہر مجرم نے آپ لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے نہیں ملایا تھا۔۔ جی کیا مطلب۔۔ تو پھر ؟

اس حرکت سے وہ صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ قتل کی واردات ضرور کرے گا۔۔ چاہے کچھ ہو جائے۔۔ نن۔۔۔ نہیں۔۔ وہ ایک ساتھ چلائے۔۔

میں زخمی ہوں۔

کمرے میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی۔۔ پھر محمود بولا۔۔

لیکن آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کھانے میں زہر ملانے سے اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ دوسروں پر واضح کر دے کہ وہ قتل کی واردات ضرور کرے گا۔ کیا وہ جانتا تھا۔۔ کھانا چیک کر لیا جائے گا۔۔

ہاں وہ جانتا تھا۔۔ یہاں محمود ،، فاروق ، فرزانہ اور ایک سراغ رساں انسپکٹر خادم حسین موجود ہیں۔۔ لہذا کھانا چیک ہوئے بغیر نہیں کھایا جائے گا۔۔ وہ بس یہ چاہتا تھا کہ ہمیں یقین ہو جائے کہ وہ واردات ہر حال میں کرے گا۔۔ اور وہ۔۔ یہ یقین کیوں دلانا چاہتا ہے۔۔ آخر یقین دلا کر وہ کیا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے ؟

وہ ان سب کے چہروں پر خوف کے سائے دیکھنے کا خواہش مند ہے وہ چاہتا ہے مرنے سے پہلے ان سب لوگوں کو تھر تھر کانپتے ہوئے دیکھے۔۔ لرزتے ہوئے دیکھے۔۔ زندگی کے لیے انہیں ترستے ہوئے دیکھے۔۔ پتا نہیں۔۔ اس قدر انتقامی جذبات اس میں کہاں سے آ گئے۔۔

انتقامی جذبات۔۔ کئی آوازیں ابھریں۔۔

ہاں انتقامی جذبات۔۔ وہ کسی سے کوئی انتقام لینا چاہتا ہے۔۔

آپ کا مطلب ہے کسی ایک سے یا چھ سے۔۔ دونوں باتیں ہو سکتی ہیں۔۔ لیکن۔۔

لیکن کیا ؟

لیکن یہ کہ میں یہ بات ضرور یقین سے کہہ سکتا ہوں۔۔ یہ کیس ہے انتقام کا۔۔ اگر انتقام کا نہ ہوتا تو وہ اپنا کام چپ چپاتے کر سکتا تھا۔۔ کسی کو بتائے بغیر کانوں کان کسی کو پتا نہ لگتا لیکن پوسٹر لگا کراس نے سب کو خبر دار کر دیا۔۔ چوکنا کر دیا۔۔ بلکہ سب سے بڑھ کر یہ کہ خوف زدہ کر دیا۔۔ اور یہی اس کی خواہش تھی۔۔ وہ آپ سب کو خوف زدہ دیکھنا چاہتا ہے۔۔ تو ہم اس کے لیے ویسے ہی بہت زیادہ خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔۔ فاروق نے فوراً کہا۔۔ محمود اور فرزانہ مسکرا دیے۔۔

اس طرح اس کا اطمینان نہیں ہو گا۔۔ خون کی پیاس بجھا کر ہی اسے سکون ملے گا۔۔ وہ انتقام کی آگ میں جل رہا ہے۔۔ آپ میں سے کوئی ایسا ضرور ہے جس نے کسی کا دل بہت زبردست طریقے سے دکھایا ہے۔۔ جلدی سے غور کریں صرف اسی صورت میں ہم اس کے وار سے بچ سکتے ہیں۔۔ ورنہ

ورنہ کیا ؟

وہ وار کرنے کے لیے بالکل تیار ہے اور اس کا وار خالی نہیں جائے گا۔۔ آپ کی موجودگی میں بھی ہاں میری موجودگی میں بھی اس لیے کہ میں شروع سے یہاں نہیں ہوں۔۔ اگر میں شروع میں ہی یہاں آ گیا ہوتا تو شاید ایسا نہ ہونے دیتا۔۔ لیکن ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوا بس چند طوطے مارے گئے ہیں۔۔ بھئی اس نے اپنی تیاریاں مکمل کر رہی ہیں وہ بے چارگی کے عالم میں بولے

لیکن آپ اس کی تیاریوں کو ملیا میٹ تو کر سکتے ہیں نا۔۔ ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں۔۔ کیوں کہ ہم نہیں جانتے مجرم کس رخ سے وار کرے گا۔۔ تب پھر آپ پوری عمارت اور سبزہ زار کا جائزہ لے لیں۔۔ شوبی تارا نے فوراً کہا۔۔ میں ایسا ضرور کروں گا۔۔ لیکن آپ لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ وہ کہتے کہتے رک گئے۔۔ کہیے آپ رک کیوں گئے یہاں سے فوراً شہر چلے جائیں۔۔ اپنے اپنے گھر۔۔ تو کیا اس طرح مجرم اپنا پروگرام روک دے گا خان بدیع نے فوراً کہا۔۔ نہیں۔۔ پروگرام تو وہ نہیں روکے گا۔۔ تب پھر ہم یہیں کیوں نہ اس کا سامنا کریں۔۔ اب تو آپ لوگ بھی یہاں آ گئے ہیں۔۔ اپنے اپنے گھر میں ہم الگ الگ ہو جائیں گے آپ جیسے لوگ ہم اور کہاں سے لائیں گے۔۔ خیر آپ کی مرضی ہو گا تو وہی جو اللہ کو منظور ہو گا۔۔ محمود اس کھانے کے نمونے محفوظ کر لو۔۔ اور ہر ایک کمرے کی تلاشی لے ڈالو دیکھو زہر کس کے کمرے میں موجود ہے۔۔ انہوں نے کہا۔۔ جی بہتر باقی سب لوگ یہیں موجود رہیں گے۔۔ انسپکٹر جمشید سرد آواز میں بولے۔۔ محمود ، فاروق اور فرزانہ فوراً کمروں کی طرف مڑ گئے اور لگے ایک ایک کمرے کو چیک کرنے  لیکن انہیں زہر کی کوئی شیشی کسی کمرے میں نہ ملی انہوں نے باورچی خانے کا بھی جائزہ لیا باورچی اس وقت وہیں تھا فاروق نے اسے گھورتے ہوئے کہا ہاں جناب آپ کیا کہتے ہیں زہر میں کھانا کس طرح مل گیا۔۔ جی زہر میں کھانا یا کھانے میں زہر اس نے حیران ہو کر کہا۔۔ ایک ہی بات ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑ جائے گا کھانا تم نے تیار کیا تھا پھر اس میں زہر کس طرح مل گیا ؟

میں خود حیران ہوں۔۔

تم اس دوران باورچی خانے سے کہیں گئے تھے ؟ جی ہاں ایک دو بار جانا تو پڑا تھا سٹور میں سے کچھ چیزیں نکالنے کے لیے۔۔ باورچی خانے سے متعلقہ چیزیں وہی رکھی ہیں۔۔ تب تو مجرم کے لیے بہت آ سانی تھی زہر ملانا اس کے لیے مشکل نہیں تھا خیر اب تم بہت دھیان رکھو گے کوئی چیز بھی تیار کرو اس کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤ گے۔۔ جانا ہی پڑ جائے تو باورچی خانے کے دروازے کو تالا لگا کر جاؤ گے۔۔ یہ زندگی اور موت کا سوال ہے کوئی خان صاحب اور ان کے دوستوں کی جان لینے کے درپے ہے۔۔ ارے ہاں خان صاحب اور دوسرے لوگوں کی آمد سے پہلے کیا تم لوگ نہیں آئے تھے۔۔ یہاں ؟ محمود نے کہا۔۔ جی نہیں خان صاحب ہر سال یہاں دعوت سے ایک دن پہلے آ جاتے ہیں ہمیں اپنے ساتھ ہی لاتے ہیں اپنے سے الگ ہمیں یہاں نہیں بھیجتے۔۔

ہوں۔۔ جب آپ سب لوگ آئے اور دروازہ کھولا تو وہ پوسٹر لگا ہوا تھا؟ بالکل لگا ہوا تھا۔۔

شکریہ بہت بہت محمود نے کہا اور باہر نکل آئے۔۔

مجرم کے لیے اندر آ کر پوسٹر لگانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔۔ جیسا کہ ہم جان چکے ہیں۔ کئی درخت چھت تک آئے ہوئے ہیں۔۔ تو کیا زینے کا دروازہ کھلا ملا تھا۔۔ اسے ؟

آؤ دیکھتے ہیں زینہ بند ہونے کی صورت میں وہ صحن میں کس طرح اترا ہو گا۔۔ وہ چھت پر آئے زینے کا دروازہ اندر سے بند نہیں تھا انہوں نے منڈیر کا اچھی طرح جائزہ لیا۔۔ اور پھر زور سے اچھلے۔۔ منڈیر پر شیشے کے ٹکڑے لگائے گئے تھے۔۔ ان شیشوں پر ایک جگہ خون لگا ہوا صاف نظر آ رہا تھا۔۔ ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔

اس کا مطلب ہے۔۔ زینہ دوسرے طرف سے بند تھا مجرم کو منڈیر کے ذریعے نیچے اترنا پڑا تھا۔۔ اس نے درخت کی شاخ سے رسی باندھی اور اس کے ذریعے نیچے سرک گیا۔۔ لیکن ایسا کرتے وقت منڈیر کا شیشہ اس کے جسم میں چبھ گیا اور وہ زخمی ہو گیا۔۔ اس کے باوجود وہ نیچے اترا اور پوسٹر لگا کر واپس زینے کے راستے چھت پر آ گیا۔۔ اس نے رسی اتار لی اور درخت کی شاخ کے ذریعے لوٹ گیا۔۔ تب پھر۔۔ ہمارا مجرم زخمی ہے۔۔ فرزانہ بولی۔۔ لیکن۔۔۔ ہم ان میں کسی کو زخمی نہیں دیکھا۔۔ ہو سکتا ہے زخم ایسی جگہ لگا ہو جو کپڑوں سے ڈھکی ہوئی ہو ہمیں کس طرح پتا چل سکتا ہے بھلا۔۔ یہ تو ہمیں دیکھنا ہو گا۔۔ ویسے اس زخم نے ہمارا کام بہت آ سان کر دیا ہے۔۔ ہاں لیکن یہ ترکیب سچنا ہو گی کہ اس زخم کا پتا کس طرح چلایا جائے۔۔ ترکیب کیا کیا ہے۔۔ فرزانہ ہمارے ساتھ ہے۔۔ ترکیبوں کا پٹارا اس کے پاس ہے ابھی اپنا پٹارا کھولے گی اور اس میں سے ترکیب نکال کر ہمارے سامنے رکھ دے گی۔۔ کیوں فرزانہ ؟ فاروق نے شوخ آواز میں کہا۔۔ کبھی تم دونوں بھی اپنے دماغ سے کوئی ترکیب نکال دیا کرو۔۔ فرزانہ نے جل بھن کر کہا۔۔ اچھی بات ہے آج ہم ترکیب سوچیں گے اور تم سنو گی۔۔ فاروق نے جل بھن کر کہا۔۔ خوشی ہو گی۔۔ فرزانہ مسکرائی۔۔

آؤ۔۔۔ ابھی سب کے سامنے ترکیب بیان کرتے ہیں۔۔ محمود نے جلدی سے کہا۔۔ وہ اس کمرے میں آئے جس میں سب جمع تھے۔۔ انسپکٹر جمشید ان کی طرف دیکھ کر بولے معلوم ہوتا ہے کوئی خاص بات معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہو۔۔ جی آپ یہ بات کہ سکتے ہیں ۔۔ ہم نہیں۔۔ فاروق نے کہا۔۔ یہ کیا بات ہوئی۔۔

پتا نہیں۔۔ وہ خاص بات ہے یا نہیں ویسے ہم مجرم کو اب بہت آسانی سے پکڑ سکتے ہیں۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی خطرناک قدم اٹھائے کسی کی زندگی سے کھیلے ہمیں اسے پکڑ لینا چاہیے۔۔ ہم سب یہی تو چاہتے ہیں۔۔ خان بدیع نے کہا تو پھر آ پ لوگوں کو ہماری ترکیب پر عمل کرنا ہو گا۔۔ترکیب کیسی ترکیب۔۔ کئی آوازیں ابھریں۔۔

ہمارا مجرم زخمی ہے۔۔ لیکن زخمی اس کے جسم کا کوئی ایسا حصہ ہے جو کپڑوں کے نیچے ہے۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ زخمی کون ہے۔۔

ایک منٹ ایک منٹ۔۔ طاؤس خان نے گھبرا کر کہا۔ جی فرمائیے۔۔ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔۔ ہاں ! یہ بات آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ مجرم زخمی ہے۔۔ اور یہی کہ کوئی ایسا شخص جو مجرم نہیں زخمی ہو ہی نہیں سکتا۔۔ تینوں چکرا کر رہ گئے انہیں گھبراہٹ میں دیکھ کر انسپکٹر جمشید مسکرا دیے۔۔

ان تینوں نے اگر یہ بات کہی ہے تو اس کی معقول وجہ بھی ہو گی۔۔ اب رہی یہ بات کہ زخمی کوئی اور شخص بھی ہو سکتا ہے اس صورت میں زخمی ایک سے زیادہ آدمی ہوں گے۔۔ ہم دونوں یا تینوں زخمیوں کو الگ کر سکتے ہیں۔۔ اس طرح باقی لوگ شک کی زد سے نکل جائیں گے۔۔ اور تفتیش صرف ان تک رہ جائے گی۔۔ بالکل ٹھیک خان رحمان نے پر جوش انداز میں کہا۔۔ تو پھر اب آپ لوگ اعلان کریں آپ میں سے کون کون زخمی ہیں اگر اعلان نہیں کریں گے تو ہم ڈاکٹر صاحب کے ذریعے چیک کروائیں گے پھر نہ کہیے گا ہمارے بے عزتی ہو گئی۔۔ یہ مسئلہ ہے زندگی اور موت کا۔۔

ٹھیک ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں خان بدیع بولے۔۔ میں۔۔ میں زخمی ہوں۔۔ طاؤس جان نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔۔ شکریہ زخم آپ کے جسم پر کہاں ہے ؟ دائیں رات پر۔ ران کے اوپر کی طرف یا نیچے کی طرف ؟ انسپکٹر جمشید نے کچھ سوچ کر پوچھا۔۔

محمود ، فاروق اور فرزانہ نے حیران ہو کر ان کی طرف دیکھا ، کیونکہ انہوں نے ابھی منڈیر پر خون لگا ہونے کے بارے میں کسی شخص کو کچھ نہیں بتا یا تھا۔۔ اور یہ سوال وہی شخص کر سکتا تھا جسے یہ بات معلوم ہو اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے والد نے اندازہ لگا لیا تھا اور اندازے لگانے کے وہ یوں بھی ماہر تھے۔۔ اوپر کی طرف۔۔ کسی اور کے جسم پر زخم ہے ؟ ڈاکٹر صاحب آپ ذرا خان صاحب کے دوستوں کے جسموں کو الگ کمرے میں جا کر چیک کر لیں۔۔ انسپکٹر جمشید بولے۔۔

اچھی بات ہے انہوں نے کہا۔۔ انسپکٹر جمشید نے یہاں پہنچنے کے بعد ڈاکٹر کو فون کر دیا تھا۔ کیونکہ قاتل کا وار ہونے کی صورت میں ڈاکٹر کی فوری ضرورت پڑ سکتی تھی۔۔ اور ڈاکٹر کا انتظار جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔۔

ڈاکٹر صاحب خان بدیع کے دوستوں کو لے کر جانے لگے تو انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کا۔۔ آپ نہیں جائیں گے۔۔ خان صاحب۔۔ جی۔۔ کیا مطلب۔ کیا میں بھی خود کو چیک کراؤں۔ جی ہاں۔ کیوں نہیں اس کیس کے مجرم آپ بھی ہو سکتے ہیں۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔ میں کوئی غلط بات نہیں کہ رہا یہ ہمارا اصول ہے کیس سے متعلق ہر آدمی پر شک کرتے ہیں۔۔ یہ اچھا اصول ہے میں تو ان سب کا میزبان ہوں میں بھلا انہیں گھر بلا کر ہلاک کروں گا۔۔ جی ہاں اس کا بالکل امکان ہے۔۔۔ انسپکٹر جمشید نے نرم آواز میں کہا۔۔ آپ عجیب ہیں  بہت عجیب وہ بولے میں صرف عجیب نہیں غریب بھی ہوں انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔۔ اچھی بات ہے۔۔ اگر آپ کا اطمینان اسی طرح ہو سکتا ہے تو میں بھی خود کو چیک کرا لیتا ہوں۔۔

انہوں نے منہ بنا کر کہا اور اس کمرے میں چلے گئے جس میں ڈاکٹر صاحب باقی لوگوں کو لے گئے تھے۔۔ اب وہ تینوں ، انسپکٹر جمشید ، پروفیسر داؤد ، خان رحمان اور انسپکٹر خادم حسین رہ گئے۔۔ آپ براہ راست کمشنر صاحب کے ماتحت ہیں ؟ انسپکٹر جمشید نے ان سے پوچھا جی ہاں یہی بات ہے اس نے کہا آپ اب تک کس نتیجے پر پہنچے ہیں ؟ اس پر کہ کسی نے ان کے ساتھ مذاق کیا ہے لیکن مذاق کرنے کے لیے اس قدر لمبا چوڑا منصوبہ بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔۔ اس سلسلے میں بھلا ہم کیا کہ سکتے ہیں کہ ضرورت تھی یا نہیں۔۔ یہ تو مجرم ہی بتا سکے گا۔۔ تھوڑی دیر بعد ہی ڈاکٹر صاحب باقی لوگوں کے ساتھ اس کمرے سے نکلے ان کے چہرے پر انہیں مایوسی ہی مایوسی نظر آئی۔۔ ان میں سے صرف طاؤس جان کی ران پر ہی زخم ہے باقیوں میں سے کسی کے جسم پر کوئی زخم نہیں ہے۔۔ اوہ۔۔۔ ان کے منہ سے ایک ساتھ نکلا پھر ان کی نظریں طاؤس جان پر اٹک گئیں۔۔