کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ٹھہرو!

محمد شفیع بلوچ


قسم ہے طور (سینا) کی

قسم لکھے نوشتے کی

ورقہائے کشادہ میں

قسم آباد گھر کی ہے

قسم ہے سقف بالا کی

قسم بحرِ لبالب کی

دریں چہ شک عذاب آنے ہی والا ہے ترے رب کا

نہیں ہے کوئی اس کو ٹالنے والا

لرز کر، کپکپا کرآسماں جس روز ڈانواں ڈول ہو گا

اور پربت پھٹ پڑیں گے

شامت اس دن آئے گی جھٹلانے والوں کی

جو اس بے ہودگی کے مشغلے میں گرم جولاں ہیں

دھکیلا جائے گا نارِ جہنم کی طرف جس دن انہیں

یہ آگ ہے وہ جس کو جھٹلاتے تھے تم

(الطور، منظوم ترجمہ:عبدالعزیز خالد)

’’___اور مجھے یوں لگا جیسے صورِ اسرافیل پھونکا جا چکا ہو۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اُڑ رہے تھے۔ وہ دھرتی جس پر مجھے بہت مان تھا اور جس پر میں سینہ پھیلا کے یوں اکڑ کر چلتا تھا جیسے میں ہی اس زمین کا مالک ہوں ، اب مجھے سات ربڑی گیند کی طرح اُچھال رہی تھی۔ ہر طرف ہیبت ناک چیخ پکار تھی۔ اسی اثنا میں فرشتوں کا ایک گروہ مجھے گھسیٹتا ہوا اُس میدان کی طرف لے آیا جہاں ایک بہت بڑی عدالت لگی ہوئی تھی۔

’’اپنا دفترِ عمل پیش کرو___!’‘

ایک رُعب دار آواز آئی۔

’’مم___میں ___میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ___!’‘

کوئی شئے جیسے میرے گلے میں اٹک گئی ہو۔

’’___خالی ہاتھ گیا تھا اور خالی ہاتھ ہی لَوٹا ہوں۔ ‘‘

’’جھوٹ بولتے ہو تم، بہت گل کھلائے ہیں تم نے وہاں !’‘

’’حضور ! میں جھوٹ تو نہیں بول رہا، میں تہی داماں ہوں ، وہاں تو میں نے محبت کا درد سمیٹا اور بس___یہی میری نیک کمائی ہے۔ ‘‘

’’ہم تمھیں صفائی کا پورا پورا موقع دیں گے، جو کچھ بیان کرنا چاہتے ہوکھل کر بیان کرو۔ ‘‘

’’میری حیات کے مالک! میں کیا اور میری حقیقت کیا!!’‘

اب میں کچھ کچھ بولنے کے قابل ہو چلا تھا۔

  ’’___اُس وقت بھی تو تمھارا دور دورہ تھا جب میں نے تمھیں جاننے بلکہ پہچاننے کی کو شش کی۔ تم تک پہنچنے کے لیے کتنی صلیبوں ، کتنی چتاؤں ، آگ کے کتنے دریاؤں کو عبور کیا مگر تم ہر مرتبہ دوسرا کنا رہ ہی دکھائی دیے۔ ‘‘

میں نے خشک زبان ہونٹوں پر پھیری اور ماتھے پر سے پسینے کے سیلاب کو پونچھتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا

’’___تمھارے میرے بیچ نور کے دھارے تھے کہ حقیقت کے سراب، اس کا ادراک مجھے آج تک نہ ہوسکا اور ہوتا بھی کیسے ؟تمھارے لیے میرے جذبے جو ابتدا میں آگ تھے اب راکھ ہو چکے ہیں۔ اب تو میں بگولوں کی صورت اُڑتاپھرتا ہوں ___زمین سے تا بہ فلک مٹی کا گردش کرتا ہواغبار___! اور اپنے ساتھ جانے کتنے خوابوں ، کتنے سرابوں کے کچرے اُڑائے پھرتا ہوں۔ میں اپنے آپ کو کہاں سے شروع کروں اور کہاں پہ ختم؟میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا___!محبت کے کیسے کیسے حسیں درد میرے مقدر ہوئے!!’‘

میں نے ایک طویل ٹھنڈا سانس کھینچا۔

’’بولو، بولو، بلاتامل بولتے جاؤ___!’‘

اُدھر سے آواز آئی اور میں پھر گویا ہوا:

’’___وہ دور بھی کیا دور تھا___کن فیکونی دور___تمھارے میرے بیچ فاصلہ ہی کتنا تھا، ایک سانس کا___پلک جھپکنے کا___یا اس سے بھی کم۔ پھر مجھے میرے ہونے کی خواہش نے اوج ثریا سے زمین پر دے مارا۔ مجھے تم سے بچھڑنے کا بے حد دکھ ہوا۔ میں تمھاری تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا، پھرتا رہا، نوری سالوں جتنا عرصہ بیت گیاکہ میں نے تمھاری پرچھائیں اپنی ماں کے چہرے پر دیکھ لیں ، بس پھر کیا تھا، اُسی کا ہو کے رہ گیا، اُس کا چہرہ ہوتا اور میری آنکھیں۔

ایک روز پتہ ہے کیا ہوا؟ماں سخت بیمار ہو گئی!یہاں تک کہ اس کی صر ف نبض ہی تو چل رہی تھی اور___بس!!مجھے اس خوف نے آلیا کہ ماں مری کہ مری، پھر تمہیں کہاں دیکھوں گا، کس

کے چہرے پہ؟میں باہر نکل گیا، جنگل کی طرف اور اتنا رویا جتنا کوئی غمِ ہجراں میں رو سکتا ہے۔ جب میری آنکھوں میں کچھ نہ بچا تو سر جھکائے واپس آگیا۔ مجھے یوں لگا جیسے اماں کی چارپائی دشتِ ماریہ میں پڑی ہو۔ میں نے چارپائی کے گرد دیوانہ وار دوڑنا شروع کر دیا، پتہ نہیں کتنے چکر کاٹے کہ اماں نے ایک دم آنکھیں کھول دیں۔ میری خشک آنکھوں میں پھر سے ہریالی عود کر آئی اور___مجھے یوں لگا جیسےکن فیکونی دور پھر سے لوٹ آیا ہو!!’‘

’’پھر___؟’‘

’’پھر یوں ہوا کہ میرے پاؤں زمین پر جمنے لگے، پھیلنے لگے تو ماں میرے لیے دوسرا کنا رہ بنتی گئی۔ اب میرے اور اس کے درمیان خواہشوں کا عفریت آگیا جس نے چھوٹی چھوٹی معصوم خواہشوں کو نگل لیا۔ ماں دوسرے کنارے پر بیٹھی میری واپسی کا انتظار کرتی رہی۔  اس کی آنکھیں میرا بچپنا دیکھنے کے انتظار میں روہی بن گئیں۔ میں ماں تک نہ پہنچ سکا۔ تم تک نہ پہنچ سکا۔ ‘‘

٭٭

’’توکل، قناعت اور درویشانہ استغنا اس شخص میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ فی الواقع ’’بابا’‘ تھا اور میرا تو حقیقی بابا۔ وہ دنیاداری کے گورکھ دھندوں کو تمہاری حقیقت تک پہنچنے کی راہ میں رُکاوٹ سمجھتا تھا۔ ان پڑھ صوفی تھا وہ!!اُس نے مجھے کبھی بھی دنیا داری کے متعلق کچھ نہ بتایا، شاید اُسے اس کا علم ہی نہ تھا۔ اس نے تو میری قسمت کی اُنگلی پکڑ کر تقدیر کے راستے پر چلانے اور تمہاری طرف اچھالنے کی بساط بھر کوشش کی۔ جتنا مجھے وہ اچھالتا اتنا ہی میں اس کی بانہوں میں آ گرتا اور اس کی گردن سے چمٹ جاتا۔ وہ مجھے بھینچتا، پیار کرتا، میرا ما تھا چومتا۔ اس کی یہ درویشانہ وارفتگی مجھے نرگسیّت کا شکار کر گئی۔ وہ مجھ سے بے پناہ محبت کرتا تھا اور میں اماں کو سب کچھ سمجھتا تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ تم اس کے ہاں بھی ڈیرہ جمائے ہوئے ہو۔ وہ یہ سب کچھ دیکھتا رہا۔ اس نے مجھے کچھ بھی تو نہ کہا۔ اس کی وارفتگی میں کوئی فرق نہ آیا اور میری نرگسیت امربیل کی طرح میری شخصیت کے گرد لپٹتی گئی۔ ‘‘

’’ایک دن ہوا یہ کہ میرے اس چاہنے والے ان پڑھ صوفی کی سیاہ آنکھیں سبزی مائل ہوتی گئیں۔ میں نے اُسے پہلی اور آخری بار آواز دی۔ اس آواز میں شاید کوئی کرب انگیز لذت تھی کہ وہ منہ ہی منہ میں بڑ بڑایا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ پھر کیا تھا!تقدیر کے آہنی ہاتھ تھے اور میرا دریدہ دامن___اس نے جب مجھے لٹو کی طرح گھمایا اور جھٹکے پہ جھٹکا دیا تو مجھے وہ مستغنی درویش بہت یاد آیا۔ جب تقدیر کی گرفت کچھ ڈھیلی پڑ گئی تو میں اپنے ہونے کے آسیبی سائے میں آگیا۔ مجھے بابا بھول گیا۔ بابا کیا بھولا مجھے تم بھی بھول گئے۔

٭٭

باجی نے مجھے تم سے ہمکلام ہونا سکھایا۔ پہلے پہل وہ مجھے جھوٹ موٹ کی کہانیاں سنا کر کبھی ہنسا دیتی، کبھی رلا دیتی اور کبھی ٹرخا دیتی۔ جب میں سکول میں پڑھتا تھا تو وہ ہر روز عصر کی نماز کے بعد مجھے کہتی:

’’آؤ بھولے خدا سے باتیں کریں !’‘

’’تم پڑھتی تو قرآن ہو اور کہتی ہو خدا سے باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ خدا ہے کہاں ؟’‘

میں اناپ شناپ سوال کرتا۔

’’تمہارے قریب___بلکہ قریب تر!!’‘

’’میرے قریب تو تم ہو لیکن تم خدا تو نہیں ہو، تم تو میری بہن ہو، میری اچھی بہن، اماں کے بعد ایک اور چھوٹی اماں ، ہے ناں ؟’‘

’’ تو تو واقعی بھولا ہے، نرا بدھو!!’‘وہ مجھے چوم لیتی، پھر کہتی:

’’آکھ غلام فرید، الف’‘

’’مگر