کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کہانی کی تلاش میں

محمد شفیع بلوچ


 اپنی صحافیانہ زندگی میں پہلی بار مجھے اپنے کالم کے لیے موضوع کی پیاس محسوس ہوئی تو میں کہانی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا…میں چلتا رہا…چلتا رہا…حتیٰ کہ صدیاں بیت گئیں ، لیکن سفر تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ پھر ایکا ایکی یوں ہوا کہ سفرختم ہو گیا اور میں شہر کے چوک میں پہنچ گیا، جہاں بہت گہما گہمی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے شہر کا شہر چوک میں اُمڈ آیا ہو۔ میں نے ایک آدمی سے پوچھا کہ شہر یہاں اتنی بھیڑ کیوں ہے؟

’’تمہیں نہیں معلوم؟’‘

اس نے آنکھیں جھپکاتے ہوئے حیرانی سے میری طرف دیکھا۔ ’’مجھے تو کسی بات کا علم نہیں۔ ‘‘

’’چار درندوں نے گیا رہ برس کی ایک معصوم بچی پر اتنا ظلم ڈھایا کہ وہ مر گئی۔ انہوں نے اپنی بربریت چھپانے کے لیے اسے ایک اندھے کنویں میں پھینک دیا۔ پولیس قاتلوں کو تلاش کرنے میں ابھی تک ناکام ہے۔ ‘‘

میں نے آسمان کی طرف دیکھا لیکن سورج ابھی تک سوانیزے پہ نہیں آیا تھا۔ ’’لیکن یہ اتنے لوگ؟’‘

’’یہ اس سفاکی پر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ‘‘

’’کیا غم و غصے سے دکھ کا مداوا ہو جاتا ہے؟’‘

میں نے حیرانی کے عالم میں ایک اور آدمی کی طرف دیکھا تو وہ ہنس پڑا، اس نے ایک ہاتھ سے اپنے تہبند کو پکڑ رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے تنکے چن رہا تھا، مجھے حیران دیکھ کر کہنے لگا:

’’آگ کا تو کام ہی جلانا ہوتا ہے؟’‘

٭٭

 

’’کہانی مل گئی ہے…!’‘

یہ سوچ کر میں واپس جانا چاہتا تھا کہ دور سے مجھے ایک شناسا چہرہ نظر آیا۔ کوئی پچّیس تیس برس کی ایک خاتون اپنے دو بیٹوں کے ساتھ کھڑی شاید کسی کا انتظار کر رہی تھی۔ میں جب اس کے قریب سے گزرا تو مجھے پہلے والی کہانی بھول گئی۔ اس نے کئی برس پہلے مجھے اسی چوک کے ایک ہوٹل میں کہا تھا کہ محبت کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ آدمی جسمانی ضروریات کا غلام بن کر رہ جائے۔ روح کی خوشی سے بڑھ کر کوئی اور خوشی نہیں ہوسکتی اور میری روحانی خوشی اس میں ہے کہ تم اس سے شادی کرنا، جو تمہیں سب سے زیادہ چاہتا ہو، نہ کہ اس سے جسے تم سب سے زیادہ چاہتے ہو۔ ‘‘

’’…لیکن کیا یہ فلسفہ تم پر لاگو نہیں ہوتا؟’‘

’’نہیں میری بات اور ہے۔ ‘‘…اور میں خاموش رہا۔

   آج جب وہ اچانک ملی تو میرے ذہن میں ایک ہی سوال باقی رہ گیا تھا، میں اس سے پوچھتا چاہتا تھا کہ:

’’کیا مجھ سے بڑھ کر تمہیں اور کوئی چاہنے والا مل گیا ؟’‘

لیکن میں یہ سوال پوچھ نہ سکا، کیونکہ اسے سب سے زیادہ چاہنے والا اس کے پیچھے کھڑا تھا…ہاں …ایک بات ضرور تھی، اس کی آنکھوں میں ایک جواب چھپا ہوا تھا:

’’میری بات اور ہے۔ ‘‘…اور میں آگے چل دیا۔

محبت ہوا کا تازہ جھونکا ہوا کرتی ہے…!

٭٭

 

’’کیا محبت کہانی بھی ہو سکتی ہے…؟’‘

میں یہی سوچتاسوچتا چلتا رہا، تلاش کرتا رہا …برسوں کے سفر کے بعد جب تھک گیا تو برگد کے ایک پیڑ کے نیچے جا بیٹھا۔

’’پریم کی خاطر تو دنیا بنائی گئی ہے…بس اسی کا الکھ جگائے رکھو!’‘

ایک جوگی اپنے چیلے کو صوف کے رموز سے آگاہ کر رہا تھا:

’’کچھ حاصل کرنا چاہتے ہو تو ’’میں ‘‘کو منج کی طرح کوٹو، پہلے اپنا آپ تلاش کرو، تب حقیقت ملے گی…!انسان کیا ہے؟…خاک کا پتلا، گھگھو گھوڑا، گوشت کا لوتھڑا، سرا ب، دھوکا، فریب، کچھ بھی تو نہیں …!!مٹی کی حقیقت ہی کیا ہے؟… کیا کہانی ہو سکتی ہے مٹی کی؟’‘

جب جوگی کی نظر مجھ پر پڑی تو دڑوٹ گیا اور اس نے عشق کا خلاصہ جان بوجھ کر نہ کھولا۔

کیا واقعی مٹی کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور یہ کہ محبت کہانی نہیں بن سکتی؟؟

لیکن مٹی بے حقیقت تو نہیں ہوتی، یہ سوچ کر میں آگے چل دیا۔

٭٭

 

اصل میں کہانی تو میں نے کب کی تلاش کر لی تھی لیکن اب میں ایسے ہی آوا رہ گردی کر رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ کہانی میری روح کی گہرائیوں میں اُتر جائے لیکن روح کے کسی خانے سے ایک ہوک سی اُٹھتی کہ کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ کیسے نہیں ہوئی …یہ مجھے معلوم نہیں تھا۔

سامنے ایک ہال پر فلسفے کی کسی کتاب کی تقریبِ رونمائی کا اشتہار لگا ہوا تھا۔ میں خاموشی سے ہال میں داخل ہو گیا۔ ایک نقاد کہہ رہا تھا:

’’زندگی فلسفہ ہے اور فلسفہ زندگی…زندگی کیا ہے، یہ کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں پہ جا کر ختم ہوتی ہے؟؟؟…کون جانے!جاننے والے بہت دور بستے ہیں اور بہت نزدیک بھی…انسان تمام عمر ایک ہی سفر میں گزار دیتا ہے، کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی چکر پر چلتا رہتا ہے۔ جب زندگی کا سراغ پاتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے کیونکہ جہاں سے وہ چلا تھا ،وہاں ہی پہنچ کر زندگی اختتام پذیر ہوتی ہے…یہ ہوئی زندگی، لیکن فلسفہ کیا ہوا؟…فلسفہ بجائے خود زندگی ہے، دل دریا ہے جو سمندر سے بھی گہرا ہے۔ فلسفہ پانی ہے جس کی قسمت میں ہمیشہ کا سفر لکھا ہوا ہے۔ فلسفے کی ابتدا بھی سمندر ہے اور انتہا بھی سمندر۔ فلسفہ بادل ہے، پہاڑ ہیں ، ندی نالے ہیں ، حسین مناظر ہیں۔ فلسفہ سب کچھ ہے…فلسفہ کچھ بھی نہیں۔ ‘‘

دانشور کی باتیں جب میری سمجھ سے بالاتر ہونے لگیں تو میں ہال سے باہر نکل آیا اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری روح کی حسرت ختم ہو گئی ہو۔ اس کا مطلب تو یہ تھا کہ کہانی مکمل ہو گئی تھی…شاید…مجھے کیا پتہ؟میں تو تھک گیا تھا…ٹوٹ پھوٹ گیا تھا…بکھر گیا تھا۔ اسی حالت میں ، مَیں گھر پہنچ گیا جہاں سے کہانی کی تلاش میں نکلا تھا۔

’’کہاں گیا تھا؟’‘…اماں نے مجھ سے پوچھا۔

’’کہانی کی تلاش میں !’‘…میں نے سوتے جاگتے کی کیفیت میں جواب دیا۔

’’تمہاری طبیعت آج پھر ٹھیک نہیں …تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ دھوپ میں نہ چلا کرو!’‘

لیکن مجھے تو نیند آ گئی تھی، پر کوئی میرے کانوں میں اونچی آواز میں کہہ رہا تھا:

’’آگ، ہوا، مٹی اور پانی سے بنا ہوا انسان ہی تو اصل میں کہانی ہوتا ہے۔ ‘‘

اچانک میری آنکھ کھل گئی۔         ٭٭٭