کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شاید…!

محمد شفیع بلوچ


اس دنیا کے بیشتر انسانوں کے مقدر کی طرح کی وہ بھی ایک گہری سیاہ رات تھی۔ باہر کے اندھیرے نے بلندی اور پستی کے فرق کو مٹا دیا تھا، جب کہ اندر کی روشنی اتنی مدھم تھی کہ اپنا آپ بھی اس میں کم کم سُجھائی دیتا تھا۔ اندھیرا… جو لمحہ لمحہ روشنی کو قتل کر کے ظلمت کی سلطنت کا بے تاج بادشاہ ٹھہرتا ہے، اسی اندھیرے کی سیاہ دھند میں لپٹا، وہ اپنے آپ کو ٹٹولتا، اِدھر اُدھر دیکھتا چلا جا رہا تھا۔

اُس نے بھی تو یہی سیاہ چادر اوڑھنے کے لئے دن کے کتنے پہروں کو ہلاک کیا تھا تب جا کے کہیں رات نے اپنی باہیں وا کی تھیں …اور پھر بالآخر وہ اس دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا جہاں پہلے سے ہی دو ہیولے کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے۔

کوئی یونہی کسی در پہ دستک دینے نہیں پہنچ جاتا۔ جذبوں کی کوئی کششِ ثقل، کوئی مقناطیسیت، طالب اور مطلوب کے درمیان ضرور کارفرما ہوتی ہے اور یوں بھی کسی عورت اور مرد کے مابین محبت اور جذباتیت کا جو رشتہ استوار ہوتا ہے اس کے پیچھے دونوں کی معروضی اور داخلی شخصیّت کی ترتیب اور فکری ہم آہنگی کی طاقت ہی تو کام کر رہی ہوتی ہے، یہی طاقت دلچسپی کی راہ سے گزر تی ہوئی تقریبِ ملاقات پہ منتج ہوتی ہے۔ ہجر اور گیان کی ماری دوپیاسی روحیں جب یک جا ہو جائیں تو وہ اپنی تشنگی کی تطہیر کیسے کرتی ہیں ؟بس یہی ایک روشن واقعہ تھا جو اس اندھیری رات کے بطن میں ایک مردہ بچے کی طرح اٹک کر رہ گیا تھا۔

’’آ جاؤ!’‘دروازے میں کھڑے ایک ہیولے کی سسکی اُبھری۔

’’ادھر بیٹھو!’‘دوسری سسکی اُبھری۔

وہ خاموش تھا۔ اپنی متاہلانہ زندگی کی طرح۔

’’دیکھو کیسا معرکہ سر ہو گیا!’‘ایک ہیولے نے دوسرے کو چھیڑتے ہوئے کہا۔

’’اچھا تم دونوں بیٹھو، میں تمہارے لئے پانی وانی لاتی ہوں۔ ‘‘…اور ایک ہولا دور ہوتا گیا۔

’’یہاں بیٹھو…ادھر…میرے پاس!’‘

وہ مشینی انسان کی طرح اُٹھا جیسے اس کا ریموٹ کنٹرول اس ہیولے کے ہاتھ میں ہو، اور اس کے قریب جا کے بیٹھ گیا۔ دوسرے کمرے سے معمولی سی روشنی نیم وا دروازے سے چھن کر اندر آ رہی تھی۔ اس نے غور سے اسے دیکھا۔ ’’مونا  لیزا…سوہنی…ہیر!!!’‘اس نے دل ہی دل میں سوچا اور کمرے کی دیوار کو غور سے دیکھنے لگا۔ دیواری گھڑی پر دس بج رہے تھے۔

’’کیاسوچ رہے ہو؟’‘

’’تمہیں …!’‘

’’ڈائیلاگ؟’‘

’’نو…بائی گاڈ نو!’‘

’’کمال ہے!’‘-----ایک شادی شدہ انٹلیکچول جوڑا ایک دوسرے سے محو گفتگو تھا جو یونیورسٹی کے ہم جماعت تھے۔ اتنے میں دوسرا ہیولا کوک لے کر آیا اور ان دونوں کے قریب ہی بیٹھ گیا۔

’’پیو!’‘

اور وہ ایک ہی سانس میں کوک کی بوتل چڑھا گیا۔

’’بہت پیاس تھی کیا؟’‘

’’پیاس؟…بُجھی کب ہے!سمندر بھی اگر میرے اندر گرے تب بھی شاید نہ بُجھے۔ ‘‘

’’بھئی اپنی سمجھ سے تو بالاتر ہے آپ کا یہ عارفانہ کلام۔ ‘‘دوسرے ہیولے نے کندھے اچکائے اور خالی بوتل واپس لے کر چلی گئی۔

’’کیا فِگر ہے یہ بھی!’‘

’’کون سا؟’‘

’’یہی تمہاری پردہ پوش خاتون، راز دار کا…ہیروئن کا مددگار کریکٹر…!’‘

’’تمہارا اس کریکٹر سے کوئی تعلق نہیں بنتا کیا؟’‘

’’میری تو محسنہ ہے محسنہ!یہ نہ ہوتیں تو جُگوں پہ یہ بھاری رات کب ہمارے نصیب میں ہوتی۔ ‘‘

’’بڑی شانت قسم کی ہے میری یہ کزن…سہیلی…کچھ بھی سمجھ لو۔ ‘‘

’’یہ رشتوں کو اگر کوئی نام نہ بھی دیا جائے تب بھی وہ اپنی جگہ قائم دائم تو رہتے ہی ہیں۔ ‘‘

’’اچھا تو سنایئے پھر کیسے گزری …ہمارے بعد؟’‘

’’جو ہم پہ گزری سو گزری …’‘

’’…مگر شب ہجراں !’‘-----ہیروئن نے درمیان سے ہی مصرع اچک لیا۔

’’تمہیں بھلاتے ہوئے، اپنے آپ کو سمجھاتے ہوئے بالآخر لکھے پہ قانع ہونا ہی پڑا۔ ‘‘

’’قناعت کے لئے ہم تم ہی رہ گئے تھے کیا؟’‘

’’مجھے نہیں معلوم، لیکن کوئی کر بھی کیا سکتا ہے؟’‘

’’بیوی کیسی ہے، بچے کیسے ہیں اور …اور کیا تم نے ماحول میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کر لیا ہے؟؟؟’‘

’’بیوی…؟جیسی بیویاں ہوا کرتی ہیں ، ارینج میرج والی…اور بچے؟بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں۔ پھول جہاں بھی کھلیں خوبصورت لگتے ہیں۔ رہا مسئلہ ماحول سے ہم آہنگی کا تو بابا ہم فقیروں کا کیا ہے جہاں بیٹھ گئے سوبیٹھ گئے۔ ‘‘

’’اچھا فقیر صاحب ! یہ بتائیے کہ کوئی دشواری تو نہیں ہوئی یہاں تک پہنچنے میں ؟’‘

’’دشواری؟…یہ پوچھیے کہ ہجر کے کتنے صحراؤں کو عبور کرنا پڑا۔ ‘‘

’’یہ رومانیت نہ گئی تم سے۔ ‘‘

’’رومانیت وومانیت کچھ نہیں ، سیدھی سی بات ہے۔ ‘‘

’’اور میری مشکلوں کو کس کھاتے میں گنو گے۔ کتنے پاپڑ بیلنے پڑے تمہارا نمبر تلاش کرنے میں۔ کتنے عرصے بعد تم سے رابطہ ہوا اور ایک تم تھے کہ مان کے بھی نہیں دیتے تھے کہ یہ میں ہوں …کرن!…یونیورسٹی کے دنوں میں جس کا نام شمس کے ساتھ لیا جاتا تھا…وہی کرن پورے پانچ سال بعد تمہیں …’‘

’’کیسے یقین کر لیتا؟یوں کبھی ہوا نہیں تھا تبھی تو میں حیرتوں کے سمندر میں ڈوبا جا رہا تھا۔ ‘‘

’’پھر تم نے یقین کیسے کر لیا؟’‘

’’یقین…!پہلے امپریشن سے ہی میں یقین کے حصار میں آگیا تھا اور ویسے بھی اولین تاثر ہی حقیقی اور دیرپا ہوتا ہے اور اس پہلی لازوال حقیقت کو میں کیسے فراموش کرسکتا ہوں جب تم نے میرے سامنے لفظوں کو نغمگی بخشی:’’ایسی بھی کیا جلدی!’‘لفظوں کے یہی وہ پہلے پھول تھے جو تم نے مسکراتے ہوئے بکھیرے تھے۔  تمہاری وہ مسکراہٹ !کلی بھی ویسی کم کم مسکائی ہو گی۔ ‘‘صاحبِ علم مرد کی ذات سے ایک عاشق نے انگڑائی لی۔

’’ہاں ! مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا!!…یونیورسٹی کے گلوں بھرے سبزہ زار میں ہم آخری دن کی افسردگی کی بارش میں بھیگ رہے تھے۔ دوسال کی رفاقت کے حسین لمحات کو گھڑیوں کی گٹھڑی میں سمیٹا جا رہا تھا کہ تم نے ہی رخصت ہونے میں پہل کی تھی۔ ‘‘---

با ذوق خاتون لمحوں کے پھولوں پر یادوں کی قطرہ قطرہ شبنم برسا رہی تھی۔

’’ایک یہی تو بڑا عیب ہے ان چاہنے والوں میں کہ کم بخت بڑے جلد باز ہوتے ہیں۔ ‘‘

اور دونوں کے دھیمے دھیمے قہقہے کمرے کی دیواروں سے سر پھوڑنے لگے۔

٭٭

 

’’کبھی کبھی تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم کتنے دھوکے باز، مکار، فریبی اور منافق قسم کی مخلوق ہیں!’‘

’’وہ کیسے؟’‘

    ’’وہ ایسے کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ اور میں اپنے میاں کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہوں ، یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟’‘

’’شاید…!’‘وہ کچھ توقف کے بعد بولا۔

’’لیکن محبت…محبت جو دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے وہ کیا ہوئی؟’‘

’’یہ سچائی اس وقت تک عظیم ہے جب تک اس میں ہوس، لالچ اور لوبھ کی کھوٹ نہ ہو۔ کیا ہم اس کھوٹ سے پاک ہیں ؟بولو!’‘

’’ہم بہرحال انسان ہیں۔ ‘‘

’’اچھا اگر جنس کو محبت سے منہا کر دیا جائے تو پھر اس صورت میں بھی کھوٹ باقی رہے گی؟’‘

’’اگرچہ یہ ہے بہت مشکل لیکن ناممکن نہیں اور پھر وہ محبت جس میں جنسی آلودگی شامل نہ ہو وہ ہے بہت بالیدہ!لیکن ہم اپنی زندگی کے ساتھیوں کے مجرم تو پھر بھی رہیں گے۔ ‘‘

’’یہ سب سماجی جبر ہے، کتنا المیہ، کیسا ستم!!کہ ہم زندگی کی روشن روشن باتیں دن کی روشنی میں کہیں بھی نہیں کرسکتے۔ ‘‘------کمرہ ہوکے اور آہوں سے گرم ہو رہا تھا۔

٭٭

 

’’کب آنا ہے تمہارے ’’اس’‘نے کراچی سے؟’‘

’’شاید…کل پرسوں تک۔ ‘‘

’’اچھا تم یہ بتاؤ کہ اس کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے؟’‘

’’ایک دم اچھا۔ میں جو کہوں اسے وہ پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ‘‘

’’ویری سَیڈ۔ ‘‘

’’کیا مطلب ؟’‘

’’مطلب یہ کہ ایسے مخلص اور پیارے سے …’‘

’’یہی تو میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر تم میں ایسی وہ کیا اضافی خوبی ہے جو میرے شوہر میں نہیں۔ ‘‘

’’اور پھر تمہارے دو ننھے مُنے خوبصورت بچے؟’‘

’’تمہارے بھی تو ہیں۔ ‘‘

’’پھر …پھر یہ سب کچھ کیوں کر ہوا؟’‘

’’جسے ہم محبت کہتے ہیں ، وہ بہت سفّاک جذبہ ہے، بہت وحشی، بہت شہ زور!!تم جو مجھے اپنی آرزو کہتے تھے تو میں تمہارے وجود میں یا پھر اپنے آپ میں اک حسرت بن کر دفن ہو گئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ کب میں نے شوہر کے اعتماد اور ممتا کو جفا کا نشہ پلا کرسلا دیا ؟کب مجھ میں یونیورسٹی کی ادب کی طالبہ بیدار ہو گئی؟ویسے میں اب تک سوچتی ہوں کہ کوئی قیامت تو نہیں آ جانی تھی اگر تمہارے معاملے میں میرے والدین اثبات کا رویہ اختیار کرتے۔ لیکن شاید انہیں کوئی انٹلکچول اور مفکر قسم کا داماد نہیں چاہیے تھا۔ وہ تو چاہتے تھے کوئی بیوروکریٹ، کوئی سہگل ٹائپ بزنس مین اور بس…!بزنس مین…؟…ہونہہ!ہر جذبے اور ہر سوچ کو اشرفیوں میں تولنے والا پتھر آدمی…!’‘

’’تم اپنے شوہر کی توہین کر رہی ہو۔ ‘‘

’’اور جو میری توہین کی گئی مجھ پہ بھروسہ نہ کر کے…؟…میں اکثر سوچتی ہوں شمس کہ ہمارے معاشرتی رویوں میں اور کہیں استقلال ہو نہ ہو لیکن عورت کے معاملے میں شاید ہمارے تمام مکاتیبِ فکر کا اس سوچ پہ اجماع ہے کہ عورت بھروسے کے، اعتماد کے لائق نہیں اور پھر عورت سے فہم و ادراک اور علم و حکمت کی توقع تو کی ہی نہیں جا سکتی۔ ‘‘

’’ہاں کرن سچ کہتی ہو تم…یہ معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے۔ اگر عورت کو چیزے دیگری نہ سمجھا جائے تو وہ ہر میدان میں معرکے سر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ‘‘

’’ایسا ہو تب ہے ناں۔ ‘‘

’’دنیا میں صرف دو المیے ہوتے ہیں کرن…!’‘

’’کون سے؟’‘

’’ایک یہ کہ آدمی کو وہ نہ ملے جو وہ چاہتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ مل جائے۔ ‘‘

 ٭٭

 

’’اُف…دو بج گئے۔ ‘‘

’’کہاں ؟’‘

’’ادھر دیوار ی گھڑی پر۔ ‘‘

’’نو…!یار یہ وقت کی نبض اتنی تیز کیوں چل رہی ہے؟’‘

’’اسے بھی محبت کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ ‘‘

’’ہماری زندگیوں کا دارومدار وقت کی رحم دلی پر ہے۔ کوئی نہیں جو وقت کی باگیں کھینچے، کوئی نہیں جواِسے کہے یارذراآہستہ…!’‘

اچھا تم کوئی اور بات کرو۔ ‘‘

’’کیا؟’‘

’’وہ محبت اور ادب سے ہٹ کر ہونی چاہیے۔ ‘‘

’’اچھا…اوں …ہوں …نہیں یار…ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہم محبت اور ادب کے بغیر صفر ہیں۔ ‘‘

’’چلو یوں ہی سہی۔ تم کوئی شعر ویر سناؤ۔ ‘‘

’’شعروں ویروں کو چھوڑو۔ میں تمہیں ایک گیت سناتا ہوں۔ ایک نغمہ…!’‘

’’نغمہ…!یاد ہے تمہیں شمس کہ پروفیسر سارنگ نے ہمیں موسیقی اور شاعری پر ایک خصوصی لیکچر دیا تھا۔ پتہ نہیں کس کا حوالہ تھا ؟ شاید …مولانا ابوالکلام آزاد کا…!’‘

’’جن کا پورے بتیس چونتیس صفحات کا ایک خط موسیقی کے بارے میں ہے…غبارِ خاطر کا آخری خط…!’‘

’’ہاں ، ہاں …اسی خط میں مولانا نے کہیں یہ بات لکھی کہ طبیعت کا توازن اور فکر کی لطافت بغیر موسیقی کی ممارست کے حاصل نہیں ہوسکتی…’‘

’’کیا وہ فی الواقع مولوی تھے؟’‘

’’پتہ نہیں تھے یا نہیں پر انہوں نے خدا لگتی باتیں کہی تھیں کہ نغمہ بھی ایک شعر ہے لیکن اسے حرف و لفظ کا بھیس نہیں ملا، اس نے اپنی روح معنی کے لئے نواؤں کا بھیس تیار کر لیا…’‘

’’یار …یہ مولانا آزاد کہاں سے ٹپک پڑے؟چلو تم گیت سنو…وہ والا نہیں کہ کون ساگیت سنو گی انجم…بلکہ یہ تو نصرت فتح علی نے گایا ہے، بھئی کمال کی کمپوزنگ ہے!

سانوں اک پل چین نہ آوے سجناں تیرے بناں

دل کملا ڈُب ڈُب جاوے سجناں تیرے بناں

ہوکے ہاڑے ہجر تے اتھرو دے گیا یار سوغاتاں

مُڑ نہ آئے دل دے محرم بیت گیاں برساتاں

’’اور وہ سلمان شاہ کی گائی ہوئی بابا بلھے شاہ کی وہ کافی تم نے نہیں سنی:

اساں کو عشق مریندا ڈھولن ول ول قتل کریندا

’’بھئی مجھے تو وہ بہت پسند ہے…وہ…یار…کیا ہے…ہاں :

یار ڈاہڈھی آتش عشق نے لائی ہے

اساں کوں ہو گئی بے اختیاری

سینے دے وچ نہ سمائی ہے

’’ہر لَے کا اپنا ایک حُسن اور ابلاغ ہوتا ہے۔ ‘‘----وہ دونوں اپنی اپنی پسند سے اپنی شدت کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک سراپا ہجر…ایک سراپا سوز…!!

٭٭

 

’’اللہ اکبر…اللہ اکبر !!’‘----دور پار سے آواز آئی۔

’’زندگی صبح کی اذاں تک ہے…’‘

’’کبھی کسی کو مکمل زندگی ملی بھی ہے …زندگی تو رہی ایک طرف مکمل خوشی بلکہ مکمل غم بھی کسی کو نہیں ملا اور یہ زندگی …ہم نے اپنے اپنے روز و شب کو زندگی سمجھ رکھا ہے۔ ہماری سوئی اپنی ذات کے ریکارڈ پلے پر ہی اٹکی رہتی ہے۔ ہم اپنی ذات کے حصار سے نکل کر دیکھیں تو یہ کائنات بہت وسیع لگے، جہاں ایک طرف انسان مختلف سیاسی، سماجی، معاشی اور روحانی مسائل سے دوچار ہے تو دوسری طرف سائنس اور ٹیکنالوجی سورج کو کھینچ کر فرش نشیں کرنے میں جُتی ہوئی ہے اور پھر یہ الیکٹرانک میڈیا…؟دنیا سمٹ کر ڈرائنگ روم، بلکہ انسانی آنکھ کی دو پُتلیوں میں آبسی ہے۔ اس کے باوجود انسان کتنا تنہا ہوتا جا رہا ہے۔

’’کچھ علاج اس کا اے چا رہ گراں ہے کہ نہیں …!’‘

’’جتنا کسی نے اپنے آپ سمجھا ہے، جانا ہے، جتنی خودآگاہی حاصل کی ہے اتنا ہی وہ یکّا و تنہا ہوا ہے۔ ‘‘

’’گویا آگہی سب سے بڑا عذاب ہے۔ ‘‘

’’یقیناً…لیکن اس عذاب سے گزرنا ضروری ہوتا ہے اور یہ عذاب وہ عظیم روحانی تجربہ ہے جس سے گزر کر انسان صحیح معنوں میں کندن بنتا ہے…ایک کھرا انسان…سب آلائشوں سے پاک!!’‘

’’لا اِلہ الا اللہ…!’‘

’’لگتا ہے ہمارا وقت پورا ہو گیا ہے۔ ‘‘

’’ہاں …شاید…ہماری حالت اس بوڑھے غبی طالب علم کی سی ہے جو معلمِ عصر کے ہاتھوں طمانچے کھا کھا کر ڈھیٹ بن جاتا ہے اور پھر کتابِ زندگی سے جہالت، کینہ، بُغض، عناد، لُوٹ کھسوٹ، ریاکاری جیسے الفاظ کے معنی و مطالب جاننے کی کوشش میں انہیں دانتوں میں چباتا رہتا ہے، پیستا رہتا ہیاور اپنی مُٹھیاں بھینچ بھینچ کر ہوا میں لہراتا رہتا ہے۔ محض خالی خولی وقت پر غصہ نکالتا رہتا ہے۔ وقت……؟اے وقت، اے یارِ مہربان!!ہم ایسے محبت زدہ ’’بوڑھوں ‘‘پر تیرا یہ احسان کیا کم ہے کہ تُو نے اپنے لمحوں کے خزانوں میں سے قرنوں پہ بھاری ایک رات ہمیں بھی تحفے کے طور پر بخش دی۔ ہم نے یہ خزانہ، یہ تحفہ ضائع تو نہیں کیا۔ اے وقت۔ اے یارِ مہربان!!…پھر کب؟…کبھی تو پھر مہربان ہونا۔ ‘‘

ہوکے، آہوں اور حسرتوں سے اب کمرہ ناک ناک ڈوب چلا تھا۔

’’اچھا تو میں چلتا ہوں ……لیکن وہ ایک بات……جو ابھی باقی ہے……ہزار باتوں پہ بھاری ایک بات!……اس کے کہنے کے لیے تو صدیاں درکار ہیں ……اے زمانے……اے وقت……اے عصر……تو کیا کوئی امید رکھوں ……شاید……شاید……اچھا خدا حافظ…’‘

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہا تھا۔ ’’خدا ہی حافظ!!’‘

لفظ لرز رہے تھے۔ وہی دروازہ تھا۔ دروازے پر اسی طرح اندھیرے کا پہرہ تھا پر اب اس دروازے میں اسے الوداع کہنے کے لیے صرف ایک ہیولا کھڑا تھا……باہر ابھی تک سنّاٹا تھا……دور پار کہیں روشنی کے آثار نظر آ رہے تھے۔

٭٭٭