کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شکستِ آبرو!

محمد شفیع بلوچ


’’بکھرے ہوئے بال، آنکھوں میں رت جگوں کے ڈورے اور متفکر چہرہ! ‘‘…یہ تھا وہ انتہائی مطلوب مفرور قیدی جو ریاستی منتظمین کو درکار تھا۔ جدید الیکٹرانک سسٹم سے جس کا شعور سلادیا گیا اور لاشعور سے اپنے مطلب کی باتیں اگلوانے کے لیے اس سے سوالات کا سلسلہ شروع کر دیا۔

’’کیا نام ہے تمہارا؟’‘

’’میرا نام؟’‘

’’ہاں ، ہاں تمہارا؟…اور تمہاری ماں کا پوچھا ہے!’‘

’’سقراط!’‘

’’ایں …سقراط؟…مگر وہ تو صدیوں پہلے…؟’‘

’’جنابِ والا! ہر دور کا ایک سقراط ہوا کرتا ہے۔ میں عصرِ حاضر کا سقراط ہوں ، عصری ترجمان، سلطانی گواہ، ابدی حقیقتوں تک رسائی حاصل کرنے والا۔ مستقبل کے حسین خواب بُننے والا قلاش مگر روشن ضمیر بندہ!!’‘

’’کیابکواس شروع کر دی تُم نے؟’‘…تفتیشی افسر نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

’’یہ بکواس تو نہیں سرکار! اپنی ظاہری ہئیت کے بارے میں تو میں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں۔ میں بدصورت ہوں ، میری بیوی مجھ سے نفرت کرتی ہے، میری رگوں میں فلسفہ دوڑتا ہے اور میری آنکھوں کے آگے غبار چھایا رہتا ہے اور اس غبار میں امید کے کچھ جگنو ٹمٹماتے رہتے ہیں۔ میری بدقسمتی یہ ہے کہ میں صاحبِ اولاد ہوں اور وہ لوگ جو انصاف کے مفہوم سے بھی واقف نہیں وہ میرے منصف ہیں۔ ‘‘

’’ہم تمہارا نام پوچھتے ہیں اور تم اول فول بکے جا رہے ہو۔ سچ سچ بتاؤ کیا نام ہے تمہارا؟’‘

’’سچی بات تو یہ ہے سرکارکہ میرا کوئی نام نہیں۔ نام میں رکھا ہی کیا ہے؟کوئی بھی نام پکارو میں چونک اُٹھتا ہوں ، اِدھر اُدھر دیکھتا ہوں کہ شاید کسی نے مجھے پکارا ہو لیکن اپنا سامنہ لے کے رہ جاتا ہوں ، اس لیے کہ نہ تو کوئی مجھے پکار رہا ہوتا ہے اور نہ کوئی میری طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔

ایمان کی بات یہ ہے کہ مُجھے اپنے ہونے کا دُکھ سرے سے ہے ہی نہیں ، دوسروں کے دُکھ، حسرتیں ، آرزوئیں ، خواہشیں ، ارمان سب کچھ مجھے اپنے محسوس ہوتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے میں سب کا ہمزاد ہوں ، میں ارسطو کا فلسفہ ہوں ، میں ہی محبت کا دیوتا کیوپڈ، میں ہی وکٹر ہیوگو کا نوٹرے ڈیم کا کبڑا، میں ہی ایذرا پاؤنڈ کا کینٹو ہوں۔ باہو کا ’’ھُو’‘، شاہ حسین کا’’ فقیر نمانا’‘،  اقبال کا شاہین … یہ سب کردار اور علامتیں میری روح میں سرایت کیے ہوئے ہیں گویا میں ہی عصرِ موجود کی سچائی ہوں۔ اب آپ ہی بتائیں میرا کیا نام ہوسکتا ہے؟’‘

’’عمر کتنی ہے تمہاری؟’‘

’’میں اور میرا وطن ہم عمر ہیں۔ جسمانی لحاظ سے میری جوانی ڈھل چکی ہے اور ذہنی عمر ابھی حدِ بلوغت کو چھو رہی ہے۔ ‘‘

’’لعنت ہے تُم پر۔ ہم کچھ اور پوچھتے ہیں اور تو کچھ اور بکے جا رہا ہے۔ سیدھا سیدھا بکو یہ کوڈ ورڈوں میں بات نہ کرو!’‘

’’سرکار بات تو سیدھی سی ہے پر میں آپ کو کیسے سمجھاؤں ، کیسے بتاؤں کہ میں ایک ہی وقت میں رو بھی سکتا ہوں اور ہنس بھی سکتا ہوں۔ یہ کمال صلاحیت کم کم لوگوں کو نصیب ہوا۔ میرے اندر آگ پانی کا کھیل میرے ہونے سے شروع ہوا اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک میں ، میں نہ رہوں۔

میں جب کوئی رومانی ناول، افسانہ پڑھ رہا ہوتا ہوں یا کوئی ایسی ہی فلم دیکھ رہا ہوتا ہوں تو میں بیک وقت ہیرو اور ولن بن جاتا ہوں ، پھر تو میں لفظوں میں سما جاتا ہوں اور سکرین پر صرف میں ہی میں ہوتا ہوں۔ جب کہانی ختم ہوتی ہے تب مجھے اپنے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اپنے کو یوں تحلیل ہونے کی عادت نے مجھے بہت سی جگہوں پر شرمندہ کیا ہے۔ مثلاً میں ایک پبلک کال آفس میں ٹیلی فون کرنے گیا۔ ٹیلی فون ایک خاتون کے ہاتھ میں تھا۔ میں باری کے انتظار میں اس کے قریب کھڑا ہو گیا۔

    ’’او پلیز شاہد!تم آج شام کو ضرور آؤ۔ تمہارے بغیر یہ شام جانے کیسے گزرے گی؟آؤ گے ناں !پلیز شاہد ضرور آنا۔ وہ بھی کیا وقت ہو گا جب تم میرے پاس ہو گے!’‘…وہ خاتون نہ جانے اپنے ’’کس ‘‘کو فون کر رہی تھی۔

’’آپ کے پاس ہی تو کھڑا ہوں۔ ‘‘میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔

’’او یو شٹ اپ۔۔ ایڈیٹ۔۔۔ کیسے کیسے جاہل، جانور نما انسان بیچ میں ٹپک پڑتے ہیں۔ ‘‘…اور وہ ریسیور کو کریڈل پر زور سے پٹختی، جوتے چٹخاتی بوتھ سے باہر چلی گئی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ میں اپنے آپ میں واپس آ چکا تھا ورنہ معلوم نہیں کیا ہو جاتا۔

’’ٹھیک ہی تو کہا تھا اس معزز خاتون نے۔ تم تو ہو ہی جاہل، نِرے چگل۔ ہم پوچھتے ہیں وہ کیا کہانی ہے جسے تم ہر ایرے غیرے کو سناتے پھرتے ہو اور ریاست کی بدنامی کا باعث بن رہے ہو۔ ‘‘

’’کہانی وہانی کچھ نہیں سرکار!وہ تو کچھ بین ہیں …سسکیاں ہیں …اور صاحب! سسکنا کوئی جُرم تو نہیں۔ ‘‘

’’مُحکم خان!تُم اس اُلو کے پٹھے کی باتیں ریکارڈ کرتے جاؤ اور جب یہ ٹر ٹر بند کر دے تو اس کی کیسٹ مجھے سنادینا۔ ‘‘

’’او کے سرجی!’‘

’’چل اوے شروع ہو جا!’‘

٭٭

 

’’گاؤں کے باہر برف کے پھٹے پر، سُنا ہے، کسی نوجوان لڑکی کی لاش پڑی ہے۔ ‘‘…صبح صبح ایک آدمی نے مجھے بتایا تو میں تقریباً بھاگتا ہوا وہاں پہنچا۔ مجمع لگا ہوا تھا وہاں تو!۔ بہت سے آدمیوں کو دھکیلتا ہوا جب میں پھٹے کے قریب پہنچا تو مجھے لگا کہ کسی نے مسجدِ قرطبہ کو اصطبل میں بدل دیا ہو۔ جیسے غرناطہ کی آبروریزی میں میرا بھی ہاتھ ہو اور اب میں ’’الحمرا’‘ کی لاش پر ابو عبداللہ کی طرح مگر مچھ کے آنسو بہا رہا ہوں۔

اس نوجوان لڑکی کو جنسی تشدد سے ہلاک کیا گیا تھا۔

’’اسے ہم سب نے مارا ہے، ہم نے، تُم نے…’‘میں چیخا

’’وہ کیسے بھائی صاحب؟’‘

’’ہم نے ہی تو اسے مارا ہے۔ یہ لچر گیت، بلیو فلمیں ، لو لیٹر، سبز باغ…یہی تو جنسی درندگی کے شاخسانے ہیں۔ ‘‘

’’بس رہنے دو اس تقریر کو ورنہ مفت میں مارے جاؤ گے۔ ‘‘ایک دو آدمی چِلاّئے۔

’’پہلے کب زندہ ہوں !’‘

’’یہ تو ہے ہی پاگل!’‘

 ’’ہاں ، ہاں میں پاگل ہوں …مر جو گیا ہوں ، اگر زندہ ہوتا تو تمہیں بتاتا کہ زندگی کو مارنا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا موت کو مارنا مشکل ہوتا ہے۔ موت ہی تو سب سے بڑی سچائی ہے۔ بھلا سچائی کو کون مارسکتا ہے، ہے ناں ؟’‘

’’ہاں بھئی صحیح کہتے ہو، مگر خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ اور ہمیں کچھ کرنے دو۔ ‘‘

’’کیا کر لو گے تم؟پہلے کیا کر لیا جو، اب کرو گے، کوئی کچھ نہیں کرسکتا…سب باتیں ہیں اور باتوں کا کیا ہے؟’‘

’’اے بھائی صاحب!خدا کے لیے …خدا کے لیے’‘…اب مجمع میں بھنبھناہٹ سی شروع ہو گئی تھی۔

’’اچھا اچھا میری تجہیز و تکفین تو کرو، میرا ماتم تو کرو، میں تمہاری شکستِ آبرو ہوں ، میں مرتا ہوں۔ ‘‘

’’مرو، مرو لیکن خاموشی کے ساتھ۔ ‘‘

’’…اور جب میں خاموشی سے مر گیا تو میرے اندر کا ابو عبداللہ زندہ ہو گیا………میں کہ ابو عبداللہ…عرقِ ندامت میں بھیگا…کوہِ بشارت پہ کھڑا…پیچھے مُڑ کے دیکھتا ہوں …اور سوچتا ہوں …تھا میرا بھی غرناطہ…تھی اک مسجدِ قرطبہ…اور ایک الحمرا!!!…اور پھر وہ آٹھ صدیاں …جو آٹھ لمحوں میں ڈھل گئی ہیں …ان پر آٹھ آنسو بہا بھی چکا…مجھ سا بے کس بھی کوئی کیا ہو گا…اب جس کے خوابوں کی وسعتوں میں مسجد ہے نہ کوئی الحمرا…میں کہ ابو عبداللہ…یہ میری گردن پہ کس کا چہرہ سج گیا؟…میرے پیچھے اک مہیب دھند…مرے آگے دھواں ہی دھواں …کتنے حَسیں خوابوں کو میں ٹوٹنے سے بچا نہ سکا۔ اب کوہِ بشارت پہ کھڑے ہو کرآنسو بہانے کا کیا فائدہ؟…آہ مرے غرناطہ! مرے قرطبہ!!مرے الحمرا!!!…الوداع، الوداع!!…الوداع اے روحِ حسرتِ تعمیرِ زمانہ!…اب کبھی بھول کے بھی مری چشمِ نمناک میں مت آنا۔ ‘‘

 ٭٭

 

’’تم عورتوں کی طرح رو کیوں رہے ہو؟’‘…میری ماں ملکہ عائشہ نے پوچھا۔

’’…اس لیے کہ میرا کعبہ اربابِ فن، سطوتِ دینِ مبین، میری مسجدِ قرطبہ جو لُٹ گئی۔ میں اپنے دادا عبدالرحمٰن کو کیا منہ دکھاؤں گا؟’‘

’’مگر اب تو الحمرا کے چہرے پر بھی کالک مل دی گئی۔ تم کن کن حَسین چیزوں کو روؤ گے!! عاشق بن کر جس حُسن کی تم حفاظت نہ کرسکے اس کی پامالی پر عورتوں کی طرح آنسو کیوں بہاتے ہو؟’‘

’’مجھے المامن ساحر کی بیٹی نے کچھ کرنے نہ دیا۔ یہ لڑکیاں ناگن ہوا کرتی ہیں ، پوری کی پوری تاریخ کو ڈس لیتی ہیں ، میں کیا کرسکتا تھا؟’‘

’’تُم …تُم عزت کی موت تو مرسکتے تھے۔ اپنے سپہ سالار ساتھی موسیٰ کی طرح تم بھی اپنے آپ کو دریائے کبیر کے حوالے کر دیتے، مگر تم تو شراب اور شباب زدہ تھے۔ ایک حسین تاریخ کے چہرے پر کلنک کا ٹیکہ…!…اب الفجارہ کی گھاٹیوں میں مرو۔ ‘‘

اور میں اپنے آپ سے بچتا بچاتا الفجارہ کی گھاٹیوں میں گم ہو گیا، لیکن جنگل نے بھی مجھے قبولنے سے انکار کر دیا……میں مارا مارا پھرتا رہا، پھرتا رہا…صدیاں بیت گئیں …صدیاں ایسے ہی نہیں بیت جاتیں ، لیکن میری آوارگی ختم نہ ہوئی۔ میں ندامت اور ملامت کا سفر کرتے کرتے ’’سندربن ‘‘میں پہنچ گیا۔ الفجارہ سے سندربن تک ایک طویل اور تھکا دینے والا سفر تھا کہ جس کے درمیان غرناطہ کی طرح کا ایک شہر پڑتا تھا…ڈھاکہ…جس کے ریس کورس گراونڈ میں سال کے آخری ماہ کی ایک یخ بستہ سہ پہر کو لاکھوں کے سامنے مجھے بے لباس کر دیا گیا۔ میں اپنی شکستِ آبرو پہ آنسو بہانا چاہتا تھا کہ مجھ پر جوتوں کی بارش ہونے لگی۔ میں اتنا رویا، اتنا رویا کہ میری گھگھی بندھ گئی…پھر میں وہاں سے بھاگ نکلا اور آج کل میں اپنے بابا کے لگائے ہوئے باغ جو، اب جنگل بنتا جا رہا ہے، میں اپنے آپ سے چھپتا پھرتا ہوں جہاں سے آپ مجھے بقول آپ کے میری لایعنی گفتگو کی پاداش میں پکڑ کر لائے ہیں۔

اس گھنے باغ نما جنگل میں ریاکاری، خود غرضی اور نفرت کے دیو قامت اور گھنے پیڑ ہیں۔ جہاں میرے جیسا اپنے ہی ضمیر کا مفرور قیدی بہ آسانی چھپ سکتا ہے۔ یہاں آ کے مجھے احساس ہوا کہ میرا کوئی نام نہیں ، میری کوئی پہچان نہیں …پھر بھی میں اپنے آپ سے چھپتا پھرتا ہوں۔ پتہ ہے انسان اپنے آپ سے کب چھپتا ہے؟جب باہر والا اندر والے کو بے آبرو کر دیتا ہے۔

٭٭

 

اس جنگل میں ایک رات اتنے زور کی بارش ہوئی …اتنے زور کی، جیسے وہ بارش نہ ہو بلکہ بے روزگاری کے ہاتھوں خودکشی کرنے والوں کی ماؤں بہنوں کے آنسو ہوں …اوپر سے تیز آندھی اور گرج چمک…جیسے…جیسے…کسی کی محبت کا شدید جذبہ اور پھر اس جذبے پر جفا کی ناگہانی برق گرے۔ آسمانی بجلی کا ایک جھماکا سا ہوا اور مجھے اس شوریدہ دشت میں ایک خوبصورت چہرہ نظر آیا۔

’’کون ہو تم؟’‘اس نے بے باکی سے پوچھا۔

’’میں …میں شکستِ آبرو ہوں۔ ‘‘

’’اور تُم…؟’‘

’’میرے کئی نام ہیں …آرزو…حسرت…نشات…نشاۃِ ثانیہ!!!’‘

’’لیکن یہ سب تو شاعرانہ قسم کے نام ہیں ، نرے ادبی…رومانٹک، لیکن پھر بھی اچھے ہیں۔ ‘‘

’’شکریہ!’‘

’’یہ کیا…؟تمہارے تو پاؤں اُلٹے ہیں …پچھل پیری…چڑیل…اوے!’‘

’’ڈرو نہیں ، الٹے پاؤں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ‘‘

’’میں کوئی ڈر تھوڑا رہا ہوں۔ ‘‘…میں نے کانپتے ہوئے کہا۔

’’تم تو میرے قبیلے کا استعا رہ ہو نشاۃ ثانیہ!منہ مستقبل کی طرف اور پاؤں ماضی کی جانب، میں بھلا تم سے کیوں ڈرنے لگا؟؟’‘

’’تمہارے دماغ کی چولیں بھی مجھے ہلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ تم کہیں سیاسی اور سماجی موضوعات پہ تو منہ نہیں مارتے؟’‘

’’سیاست، سماج…سماج، سیاست…سماج…ہاں بھئی سماج!!!!’‘…اور میں تقریباً دوڑ پڑا۔ وہ چیخ مار کر میرے پیچھے بھاگی۔ اس سے پہلے کہ میں اس کی گرفت میں آتا کہ ایک دم میں اڑنا شروع کر دیا۔ میں اڑتا رہا اور نشاۃ ثانیہ میرے نیچے چیختی چلاتی بھاگتی رہی۔ جب میرا سانس پھول گیا تو میں ایک شارع عام پر چاروں شانے چت آ گرا۔ پچھل پیری عرف نشاۃثانیہ چیختی ہوئی میرے قریب آ گئی۔ وہ دیوانہ وار قہقہے لگا رہی تھی اور اس کے منہ سے کف کی پھوار چھوٹ رہی تھی۔ وہ میرے اور زیادہ قریب آ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ میرا گلا گھونٹ دیتی کہ اسی اثنا میں آسمانی بجلی زور سے کڑکی۔

٭٭

 

’’نہیں …ایں ، ایں ، ایں …!!!’‘…اور اس نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا تو ٹارچر سیل میں آٹھ سو واٹ کا بلب اس کی آنکھوں کے عین اوپر لٹکا ہوا تھا۔

’’ایک اور جھٹکا دو سالے کو، بڑا انقلابی بنا پھرتا ہے!’‘

قریب کھڑے ہوئے تفتیشی افسر کی آواز اُسے بہت دور سے سنائی دے رہی تھی۔

٭٭٭