کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ملبے میں دبے خواب

محمد شفیع بلوچ


’’سُنا ہے بابا کہ آپ اس وقت گاؤں کے اس بڑے پہاڑ کی چوٹی پر یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے؟’‘…ٹی وی نمائندے نے مائیک اس کے قریب کرتے ہوئے کہا۔

’’ہاں جی۔ ‘‘

’’اچھا پہلے آپ اپنا نام تو بتائیں۔ ‘‘

’’پکھیرو بابا!’‘

’’اس کا کیا مطلب ہے بابا؟’‘

’’پرندوں سے محبت کی وجہ سے گاؤں والوں نے میرا یہ نام رکھ دیا۔ ‘‘

’’اچھا آپ تفصیلات بتائیں ، آپ نے کیا کچھ دیکھا؟’‘

’’جب کوئی مصیبت ٹوٹنے والی ہو تو پرندوں اور جانوروں کو پتہ چل جاتا ہے۔ وہ اپنی اپنی بولیاں بولیاں بول کر ایک دوسرے کو اس آنے والے خطرے سے آگاہ کرتے ہیں۔ انسان بھی اگر خدا سے رابطہ استوار رکھے تو اسے بھی آنے والی آفتوں کا علم ہو سکتا ہے۔ اللہ تو بار بار کہہ رہا ہے کہ کیا تمہیں اس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی؟کچھ چہرے اس روز خوف زدہ ہوں گے، سخت مشقت کر رہے ہوں گے، تھکے جاتے ہوں گے…’‘

پرندوں کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ کہ ایک کہانی وجود میں آنے والی ہے۔ وہ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ بابا تُم اپنا آشیانہ چھوڑ دو، زمین ہلائی جانے والی ہے……آشیانہ چھوڑ دوں مگر جاؤں کہاں ؟’‘

’’کسی بھی ’’محفوظ’‘ مقام پر!’‘پکھیروؤں نے کہا۔

’’گھر سے بڑھ کر بھی کوئی محفوظ مقام ہوسکتا ہے بھلا؟……آہ بھولا بندہ، خوش فہمیوں کی جنت میں بسنے والا، اپنے آپ سے بے خبر، ناعاقبت اندیش!!……گھنٹہ تو نہ گزرا ہو گا کہ اک پھنکار آئی، پھر چنگھاڑ اور پھر کیا تھا ایک حشر برپا ہو گیا…ہر طرف شور، عورتوں ، بچوں کی چیخ و پکار۔ موت کی ماری عورتیں چیخ رہی تھیں ہائے میرا لختِ جگر، ہائے میرا بھائی، ہائے میرا سہاگ، ہائے میری ماں ، میری بیٹی !!!بیبیو !کوئی کرے بھی تو کیا۔ مرنے سے پہلے مر جا!……

’’بابا تم تو شاعر بھی لگتے ہو۔ ‘‘

’’شاعر وائر تو نہیں ہوں بس لفظ جوڑنے سیکھے ہیں اس ملبے سے۔ ‘‘

’’کس سے؟’‘…نمائندے نے پوچھا

’’اس عمارت سے جس کے اعضا بکھرے پڑے ہیں۔ یہ فی الواقع جنت تھی۔ اس کی الماریوں میں سجی کتابیں گویا خوشبودار پھل اور نور کی بہتی نہریں …جواہرات کا خزانہ تھیں۔ مٹی کی ان ڈھیریوں میں غالب اور اقبال کے جواہر پارے، فیض، راشد، مجید امجد کے صحیفے، گلستان،  بوستان، مثنوی معنوی، مقدمہ ابن خلدون، ابن عربی کی فصوص، فردوسی کا شاہنامہ، ارسطو کی سیاسیات، افلاطون کی ری پبلک، شیکسپیئر کا ہملٹ، وارث شاہ کی ہیر، قراۃ العین کی آگ کا دریا، بانو قدسیہ کی راجہ گدھ، قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ اور پھر منٹو، مفتی، اشفاق، انتظار، موپساں ، چیخوف، دانتے، ہیگل، ہیوگو، فسکی، گورکی، گوگول، سارتر…ان ڈھیریوں میں کیا کچھ زندہ در گور نہ ہوا۔ ‘‘

’’بابا تم تو کام کے آدمی نکلے……اور بتاؤ۔ ‘‘

’’کیا بتاؤں ، کیا کہوں ، کہاں سے شروع کروں ……؟؟؟بڑی بڑی ہولناک کہانیاں تو اور لوگ سنائیں گے۔ میں نے تو چھوٹی چھوٹی کہانیاں دیکھیں۔ ‘‘

٭٭

 

’’لوگ ملبہ ہٹانے میں مصروف تھے۔ میں نے ایک ٹنڈ منڈ درخت کے بیچ میں ایک گھونسلہ دیکھا، تنکوں اور کچرے کاغذوں کا بنا ہوا۔ اس گھونسلے میں گوشت کا ایک چھوٹا سا لوتھڑا پڑا تھا اور ساتھ میں ٹوٹے ہوئے انڈے کا ایک خول۔ کیا مالِ غنیمت میرے ہتھے چڑھا تھا۔ کچرے کاغذوں میں سے ایک بوسیدہ کاغذ بھی عجیب تھا، اس پر لکھا تھا:

’’آؤ فرزانہ احمد!تمہیں ان احسانات کی تفصیل بتاؤں جو تمہارے لگائے ہوئے زخموں کے بعد میں نے محسوس کیے۔ نہ جانے آدمی مسرت اور دکھ کے لمحات میں صرف ان ہستیوں کو کیوں یاد کرتا ہے جنہوں نے انہیں دکھ دیے ہوں یا جن کے ساتھ اچھے لمحات گزرے ہوں۔ میں محسوسات کے اس دورا ہے پر کھڑا ہوں جہاں مجھے نہ تو یہ علم ہے کہ مجھے تم سے نفرت ہے یا محبت۔

یوں لگتا ہے کہ میں کہیں خلا میں لٹکا ہوا ہوں۔ میں نے تمہیں جذبوں کی آخری شدت کے ساتھ چاہا اور یہ میں ہی ہوں جو چاہتا ہوں کہ تمہیں بھُلا دوں ، کوئی تمہارا نام بھی میرے سامنے نہ لے۔ میں اپنے آپ کو سمجھاتا ہوں کہ دیکھو پاگل انسان تم نے اپنے انتہائی قیمتی اور لازوال جذبے اس کے لیے وقف کر دئیے جو اپنے آپ سے بھی مخلص نہ تھی۔

’’ہمیں تو کوئی بھی مخلص نہ مل سکا اور ہم نے ہر ایک کو شدت سے چاہا۔ ‘‘

فرزانہ احمد !یاد ہے تمہیں ، ایک بار تم نے کہا تھا۔ یہی کہا تھا ناں۔ اس وقت میں نے سوچا ایسی مخلص ہستی کو بھلا کوئی کیونکر نہ چاہے گا۔ یہ محض ڈائیلاگ ہیں ، لیکن مجھے اب اندازہ ہوا ہے کہ کوئی تمہارے لیے جان سے بھی گزر جائے تو یہ کوئی کمال کی بات نہ ہو گی۔ تم تو بھاری معاوضہ لے کر اپنا مخصوص کردار ادا کرنے والی پارٹ ٹائم محبوبہ ثابت ہوئی…محض ایکٹرس!

میرے سمیت تمہارے کتنے اَفیئرز چلے؟یہی کوئی پانچ سات تو ضرور ہوں گے۔ آخری اطلاع تک تمہارا جس شخص سے معاشقہ چل رہا تھا اس کے لیے بس دعا ہی کی جا سکتی ہے، اس لیے کہ تمہاری روایتی بے وفائی اسے بھی بالآخر مجروح کرے گی۔

میں اکیلا ہی مزے میں تھا مجھے تم کس لیے مل گئیں ، کس لیے؟؟اور اگر مل ہی گئی تھیں تو پھر کیوں مجھ سے یہ ناٹک کھیلا، کیوں آخر کیوں ؟؟

فرزانہ احمد! ہمارے خواب تو ہمارے ہی لہو میں ڈوب گئے مگر تمہارے خواب …!تمہارے خوابوں کو بھی کسی کے آنسوؤں کا سیلابِ بلا بہا لے جائے گا۔ ‘‘

’’آہ محبت اور محبت زدہ لوگ!!کسی عاشقِ نامراد کے نالے کام کر گئے اور نہ صرف فرزانہ احمد بلکہ سب کے خواب تہہ و بالا ہو گئے، جنت ملیا میٹ ہو گئی۔

٭٭

 

دو جوان اور حَسیں آنکھوں میں تیرتے رنگ بھی کیا خُوب تھے!

’’طاہرہ جانم!ہمارے خواب ایک ایک کر کے ضرور شرمندۂ تعبیر ہوں گے۔ ‘‘…زندگی کے سٹیج پر ایک ہیرو اپنی ہیروئن کو تسلی دے رہا تھا۔

’’اب دیکھیں ناں !تمہیں حاصل کرنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑے تھے مُجھے۔ تمہاری منگنی تمہارے کزن سے طے ہو چکی تھی لیکن جیت بالآخر میرے جذبوں کی ہوئی۔

یاد ہے تمہیں طاہرہ!کہ ہمارے دور پار کے ایک رشتہ دار کی شادی کے موقعہ پر جب میں نے تمہیں لڑکیوں کے جھرمٹ میں دیکھا تو تم جگمگ کرتے ستاروں میں چاند کا کوئی ٹکڑا نظر آ رہی تھیں۔ تم ہرایک سے چہک چہک کر باتیں کر رہی تھیں۔ میرے قریب سے گزرتے ہوئے ایسے ہی تم نے پوچھا:

’’ہیلو ناصر!تمہاری’’اُس’‘نے بھی ایم۔ اے کر لیا کیا؟’‘

’’کس نے؟’‘…میں نے انجان بنتے ہوئے سوال دہرایا۔

 ’’بھئی وہی جو آج کل ہمارے تمہارے خاندان کی تمام لڑکیوں کے لیے ایک سلگتا ہوا سوال بن چکی ہے۔ ‘‘

’’مگر میراسبجیکٹ تو بڑا پاکیزہ ہے۔ ‘‘

’’وہ کیا؟’‘

’’بتاؤں ‘‘

’’ہاں بھئی، جیتے جی یہ احسان بھی فرما ہی دیجیے۔ ‘‘

’’اُس کا نام ہے…طاہرہ دیوی!’‘

’’کیا…؟’‘

’’جی ہاں …!’‘

’’فلرٹ کر رہے ہو؟’‘

’’نو …!بائی گاڈ میں سچ کہہ رہا ہوں۔ ‘‘

’’---اور پھر جب پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ اُٹھنے لگے تو یہ تُم ہی تھیں جس نے مجھے بتایا کہ’’جس دن سے مجھے معلوم ہوا کہ تمہارا کسی ہم جماعت سے ’’معاملہ’‘ چل رہا ہے تو میں نے تہیہ کر لیا کہ بس تمہیں جیتنا ہے سوبازی لگا دی۔ ‘‘

کیا کچھ نہیں کرنا پڑا اس دوران میں …خط…چوری چھپے ملاقاتیں …وعدے…قسمیں …مستقبل کے خواب…بالآخر ہماری دیوانگی کے آگے ہمارے اور تمہارے والدین کو ہتھیار ڈالنے ہی پڑے اور پھر میں اور تُم ’’ہم’‘ ہو گئے…ہے ناں !’‘

’’ہاں مگر …کچھ خواب تو ابھی ادھورے ہیں۔ ‘‘--ہیروئن نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

’’وہ خواب بھی ضرور پورے ہوں گے۔ ‘‘---ہیرو نے پورے تیقّن سے کہا۔

’’تُم دیکھنا طاہرہ! کہ اس گھروندے کے بجائے ایک چھوٹا سا بنگلہ نما گھر ہو گاجس کے صحن میں سبزے کا ایک چھوٹا سا قطعہ !جس کے اردگرد رنگ برنگے پھول ہوں گے۔ پھر ڈرائنگ روم، ڈائننگ ہال اور…ایک سٹڈی روم تو ضرور ہو گا۔ سٹڈی روم میں میز کرسی کے بجائے قالین اور گدے ہوں گے۔ گاؤ تکیے پہ کہنی لگا کر پڑھنے کا کچھ اپنا ہی مزہ ہوتا ہے اور پھر پڑھتے پڑھتے سوجانا!!بھئی واہ!!…اور پھر طاہرہ دیوی!ہم تمام کمروں کو عبدالرحمٰن چغتائی، حاجی محمد شریف، استاد اللہ بخش، صادقین، یوسف سدیدی، اسلم کمال جیسے با کمال فنکاروں کے فن پاروں سے سجائیں گے۔ ‘‘

’’…اور پکاسو…!’‘

’’چھوڑو پکاسو وکاسو کو، وہ کوئی مصور ہے۔ الٹی سیدھی لکیریں کھینچنے سے بھلا کون سا لطیف شہ پا رہ وجود میں آسکتا ہے۔ اپنے دیس کا ہر مصور ایک سے بڑھ کر ایک…اور طاہرہ!یہ گاڑی، یہ فریج، یہ کلر ٹی وی تو اب ضرورت کی چیزیں ہیں۔ ‘‘

’’اللہ!ناصر …!یہ سب کچھ کب ہو گا؟’‘

’’بس ذرا صبر میری جان!مجھے کسی اہم مقام تک پہنچنے تو دو پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے!’‘

لیکن----آہ!!صاحب !کیا بتاؤں تتلیوں جیسے نازک خواب بند مُٹھیوں میں رہ گئے۔ ‘‘

’’ پھر کیا ہوا؟’‘

’’کیا ہوا…یہ پوچھیے کہ کیا نہیں ہوا؟؟قیامت تھم گئی، درد کی رات آ کے گزر بھی گئی۔ صبح امید جب پھوٹی تو دیکھا کہ کتنی ضو فشاں بستیاں شہرِ خموشاں میں بدل گئیں ، آشیانوں کے بکھرے ہوئے لاشے جیسے چہرۂ فردوس پر چیچک کے داغ۔ پھر اک اور طوفان اُٹھا۔ جسمانی اور روحانی بیماریوں کا۔ جا بجا پھیلے پیشہ ور منگتوں کا طوفان، گھٹنوں میں سردئیے، کبھی کسی سے کچھ نہ مانگنے والوں کا انبوہِ کثیر۔  امدادیں کچھ لوٹ لے گئے اور کچھ دامن میں آہیں اور قناعت بھر کے لائے۔ خیر اور شر گتھم گتھا ہوتے رہے، ہوتے رہیں گے۔

نئے نقشے اُبھرنے لگے، آشیانوں کے، جنتوں کے۔ بُجھے بُجھے، زندگی کی حرارت سے نابلد، تجریدی ت کا رنگ لیے ہوئے۔ کیا یہی وہ خواب تھے جو اس نے، میں نے اور ہم نے دیکھے تھے؟’‘

اک سینۂ سنگ کیا پگھلا ہے کہ فردوس کا ہر کوچہ و گھر کھنڈر بن گیا ہے۔ اب اس تڑخی بہشت کے کس کس کھنڈر کا، جو کبھی اک ہنستا بستا گھر تھا، کن کن پھٹی آنکھوں کا، ٹھنڈے جسموں ، منجمد لہوؤں کا، معصوم چیخوں ، جواں ارمانوں کا،  رعشہ زدہ ہاتھوں کے کرب کا نوحہ کہوں۔

صاحب! کیا بتاؤں ؟لفظ لرزتے ہیں ، حرف ہانپتے ہیں ، تڑخی بہشت کے آثار میں مدفون خوابوں کے وارثوں کو کیسے پُرسہ دوں ، کس کس کا نوحہ کہوں ؟؟

پکھیرو بابا کی آواز رندھ سی گئی۔

٭٭٭