کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پھاہا

منٹو


گوپال کی ران پر جب یہ بڑا پھوڑا نکلا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔

گرمیوں کا موسم تھا۔آم خو ب ہوئے تھے۔ بازاروں میں ،گلیوں میں ،دکانداروں کے پاس پھیری والوں کے پاس، جدھر دیکھو، آم ہی آم نظر آ تے۔ لال، پیلے، سبز رنگا رنگ کے .... سبزی منڈی میں لاکھوں کے حساب سے ہر قسم کے آم آتے تھے اور نہایت سستے داموں پر فروخت ہو رہے تھے۔ یوں سمجھئے کہ پچھلے برس کی کسر پوری ہو رہی تھی۔

اسکول کے باہر چھو ٹو رام پھل فروش سے گوپال نے ایک روز جب جی بھر کے آم کھائے اور جیب میں سے ایک مہینے کے بچائے ہوئے جتنے پیسے جمع تھے۔ سب کے سب ان آموں پر خرچ کر دئیے۔  جن کے گودے اور رس میں شہد گھلا ہوا تھا۔

اس روز چھٹی کے وقت آم کھانے کے بعد انگلیاں چاٹتے ہوئے گوپال کو اسکول کے حلوائی سے دودھ کی لسی پینے کا خیال آیا تھا اور اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر اس نے گنڈا رام حلوائی سے پاؤپھر دودھ کی لسی بنانے کو کہا تھا مگر حلوائی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا۔’’ بابو گوپال، پہلا حساب چکا دو تو اور ادھار دو ں گا، ورنہ نہیں۔‘‘

گو پال نے اگر آم نہ کھائے ہوتے۔یا اگر اس کی جیب میں تھوڑے بہت پیسے ہوتے تو وہ وہیں کھڑے کھڑے گنڈا رام کا حساب چکا دیتا اور کچھ نہیں تو نقد دام دے کر لسی کا وہ گلاس لے لیتا۔ جس میں برف کا ٹکڑا ڈبکیاں لگا رہا تھا اور جسے حلوائی نے برا سا منہ بنا کر اپنے پیچھے لوہے کے تھال میں رکھ دیا تھا مگر گوپال کچھ بھی نہ کر سکا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چوتھے روز اس کی ران پر یہ بڑا سا پھوڑا نکل آیا اور تین چار روز تک ابھرتا رہا۔

گوپال کے اوسان خطا ہو گئے۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے؟ وہ پھوڑے سے اتنا پریشان نہیں تھا جتنا اس کے درد سے.... اور سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ پھوڑا دن بہ دن لال ہوتا چلا جا رہا تھا اور اس کے منہ پر بدن کی جھلی پھٹنا شروع ہو گئی تھی۔ بعض اوقات گوپال کو یہ معلوم ہوتا کہ پھوڑے کے اندر کوئی ہنڈیا ابل رہی ہے اور اس کے اندر سے سب کچھ ایک ہی ابال میں نکلنا چاہتا ہے۔ یہ چیز اسے بہت پریشان کر رہی تھی اور پھوڑے کی جسامت دیکھ کر ایک مرتبہ تو اسے ایسا معلوم ہوا تھا کہ اس کی جیب سے کانچ کی گولی نکل کر اس کی ران میں گھس گئی ہے۔

گوپال نے گھر میں پھوڑے کی بابت کسی سے ذکر نہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر پتا جی کو اس کا پتہ چل گیا تو وہ اپنے تھانے کی مکھیوں کا سارا غصہ اس پر نکالیں گے اور بہت ممکن ہے کہ وہ اسے اس چھڑی سے پیٹنا شروع کر دیں جو تھوڑے روز ہوئے گردھاری وکیل کے منشی نے وزیر آباد سے انہیں تحفے کے طور پر لا کر دی تھی۔ ماں کا مزاج کم گرم نہ تھا۔ وہ اگر اسے آم کھانے کے جرم کی سزا نہ دیتی تو اس غلطی پر اس کے کان کھینچ کھینچ کر ضرور لال کر دیتی کہ اس نے گھر کے باہر اکیلے اکیلے اتنے آم کیوں اڑائے۔ اس کی ماں کا اصول تھا کہ’’ گوپال اگر تجھے زہر بھی کھانا ہو تو گھر میں کھا۔‘‘ گوپال اچھی طرح جانتا تھا کہ اس اصول کے پیچھے اس کی ماں کی صرف یہ خواہش تھی کہ گوپال کے منہ کے ساتھ اس کا منہ بھی چلتا رہے۔

کچھ بھی ہو، گوپال کی ران پر پھوڑا نکلنا تھا نکل آیا۔ اس کا باعث جہاں تک گوپال سمجھ سکا تھا۔ وہی آم تھے۔ اس نے پھوڑے کی بابت گھر میں کسی سے ذکر نہ کیا تھا۔ اس کو اپنے پتا جی کی وہ ڈانٹ اچھی طرح یاد تھی جو غسل خانے کے اندر بتائی گئی تھی۔ اس کے پتا جی لالہ پرشوتم داس تھانے دار لنگوٹ باندھے نل کی دھار کے نیچے اپنی گنجی چندیا رکھے اور بڑی توند بڑھائے مونچھوں میں سے آم کا رس چوس رہے تھے۔ سامنے بالٹی میں ایک درجن کے قریب آم پڑے تھے جو اس نے صبح سویرے ایک ٹھیلے والے سے اسکا چالان کاٹ کر حاصل کئے تھے۔ گوپال باپ کی پیٹھ مل ر ہا تھا اور میل کی مروڑیاں بنا رہا تھا۔جب اس نے ہاتھ صاف کر نے کے لئے بالٹی میں ڈالے اور چپکے سے ایک آم اڑانا چاہا تو لالہ جی نے بڑے زور سے اس کا ہاتھ جھٹک کر چھوٹے سے آم کو مونچھوں سمیت منہ میں ڈالتے ہوئے کہا تھا’’ بے شرم....تجھے بڑوں کا لحاظ کرنا، جانے کب آئے گا؟‘‘

اور جب گوپال نے رونی صورت بنا کر کہا تھا۔’’ پتا جی.... آم کھانے کو میرا بھی تو جی چاہتا ہے۔‘‘ تو تھانیدار صاحب نے آم کی گٹھلی چوس کر موری میں پھینکتے ہوئے کہا تھا۔’’ گوپو، تیرے لئے یہ آم گرم تھا۔ پھوڑے پھنسیاں چاہتا ہے تو بیشک کھا لے.... دو تین بارشیں اور ہو لینے دے۔ پھر خوب ٹھاٹ سے کھائیو، تیری ماں سے کہوں گا۔ وہ لسی بنا دے گی.... چل اب پیٹھ مل۔‘‘ اور گوپال نے یہ رکاوٹ کی بات سن کر خاموشی سے اپنے پتا کی پیٹھ ملنا شروع کر دی اور آم کی کھٹاس نے جو پانی اس کے منہ میں بھر دیا تھا۔ اسے دیر تک نگلتا رہا تھا۔

اس کے دوسرے روز اس نے آم کھائے اور چوتھے روز اس کی ران پر پھوڑا نکل آیا۔ اس کے پتا کی بات سچی ثابت ہو ئی۔

اب اگر گوپال گھر میں کسی سے پھوڑے کی بات کرتا تو ظاہر ہے کہ خوب پٹتا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ وہ خاموش رہا اور پھوڑے کا بڑھاؤبند کر نے کی تدبیریں سوچتا رہا۔

ایک روز اس کے پتا جی تھانے سے واپسی پر جب گھر آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک لمبی سی بتی تھی۔ گوپال کی ماں کو آواز دے کر انہوں نے یہ بتی اس کے ہاتھ میں دے کر کہا۔’’ لے آج بڑے کام کی چیز لایا ہوں۔ بمبئی کا مرہم ہے۔ سو دواؤں کی ایک دوا ہے.... پھوڑے پھنسی کی بہار ہے۔ ذرا سا پھاہے پر لیپ کر کے لگا دو گی،یوں آرام آ جائے گا.... یوں .... بمبئی کا’’ نخالص‘‘ مرہم ہے۔ اسے سنبھال کے رکھ!‘‘

گوپال اپنی بہن نرملا کے ساتھ صحن میں گیند بلا کھیل رہا تھا۔ اتفاق کی بات ہے۔ کہ جب تھانیدار جی مرہم دے کر اپنی پتنی کو کچھ سمجھا رہے تھے تو  نرملا نے زور سے گیند پھینکی گوپال کا دھیان باپ کی طرف تھا۔ گیند زور سے پھوڑے پر لگی۔ گوپال بلبلا اٹھا۔ لیکن درد کو اندر ہی اندر پی گیا۔ وہ اسکول میں ماسٹر ہری رام کے مشہور بید کی مار کھا کر درد سہنے کا عادی ہو چکا تھا۔

ادھر گوپال کے پھوڑے پر گیند لگی۔ ادھر اس کے باپ کی آواز بلند ہوئی۔’’ ذرا سا پھاہے پر لیپ کر کے لگا دو گی.... یوں آرام آ جائے گا.... یوں۔‘‘ اور یوں کے ساتھ اس کے باپ کی چٹکی نے گویا گوپال کے سوئے ہوئے دماغ کی چٹکی بھر لی۔ اس کو اپنے درد کا علاج معلوم ہو گیا۔

اس کی ماں نے مرہم کی بتی سامنے دالان میں سلائی کی پٹاری میں رکھ دی۔ گوپال کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کی ماں عام طور پر سلائی کی پٹاری ہی میں سب سنبھالنے والی چیزیں رکھا کرتی ہے۔ سب سے زیادہ سنبھالنے والی چیز وہ موچنا تھا۔ جس سے اس کی ماں ہر دسویں پندرھویں روز اپنے تنگ ماتھے کے بال صاف کیا کرتی تھی۔ یہ بلا شک و شبہ سلائی کی پٹاری میں اس پڑیا سمیت موجود تھا۔ جس میں کوئلوں کی سفید راکھ جمع رہتی تھی۔ جو اس کی ماں بال نوچ کر ماتھے پر لگایا کرتی تھی۔

تاہم گوپال نے اپنا اطمینان کرنے کے لئے گیند دالان میں پھینک دی۔ اور اس کو پلنگ کے نیچے سے نکالتے ہوئے اپنی ماں کو سلائی کی پٹاری میں مرہم رکھتے دیکھ لیا۔

دوپہر کو اس نے اپنی بہن کو ساتھ ملا کر چھوٹی قینچی، جس سے اس کا باپ انگلیوں کے ناخن کاٹتا تھا۔ مرہم کی بتی اور اپنے باپ کے پائجامے سے بچا ہوا لٹھے کا وہ ٹکڑا حاصل کر لیا۔ جس سے اس کی ماں ایک اور ٹکڑے کو ساتھ ملا کر شلوار کی میانی بنانا چاہتی تھی۔

دونوں یہ چیزیں لے کر اوپر کوٹھے پر چلے گئے اور برساتی کے نیچے کوئلوں کی بوریوں کے پاس بیٹھ گئے۔

نرملا نے اپنی جیب سے لٹھے کا ٹکڑا نکال کر اپنی ران کے پھسلتے ہوئے ریشمی کپڑے پر پھیلا کر جب گوپال کی طرف اپنی ناچتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا تو اس وقت ایسا معلوم ہوا کہ گیارہ برس کی یہ کمسن لڑکی جو دریائی سر کنڈے کی طرح نازک اور لچکیلی تھی۔ ایک بہت بڑے کام کے لئے اپنے آپ کو تیار کر رہی ہے۔

اس کا ننھا سا دل جو اس وقت تک صرف ماں باپ کی جھڑ کیوں اور اپنی گڑیوں کے میلے ہوتے ہوئے چہروں کی فکر سے دھڑکا کرتا تھا۔ اب اپنے بھائی کی ران پر پھوڑا دیکھنے کے خیال سے دھڑک رہا تھا۔ اس کے کان کی لویں لال اور گرم ہو گئی تھیں۔

گوپال نے گھر میں اپنے پھوڑے کے بابت کسی سے ذکر نہ کیا تھا۔ لیکن اب اسے نرملا کو ساری بات سنانا پڑی کہ کس طرح اس نے چوری چوری آم کھائے ا ور لسی پینا بھول گیا اور اس کی ران پر پیسے کے برابر پھوڑا نکل آیا۔ جب اس نے اپنی رام کہانی’’ سنا کر نرملا سے راز دانہ لہجے میں کہا تھا۔’’ دیکھ، نرملا! گھر میں یہ بات کسی سے نہ کہیو۔‘‘ تو نرملا نے بڑی متین صورت بنا کر جواب دیا تھا۔’’ میں پاگل تھوڑی ہوں۔‘‘

گوپال کو یقین تھا کہ نرملا یہ بات اپنے دل ہی میں رکھے گی۔ چنانچہ اس نے پاجامے کو اوپر اڑس لیا۔ نرملا کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ جب گوپال نے بیٹھ کر اپنا پھوڑا دکھایا اور نرملا نے دور ہی سے اپنی انگلی سے چھوا۔  تو اس کے بدن پر ایک جھرجھری سی طاری ہو گئی۔ سی سی کرتے ہوئے اس نے اس ابھرتے ہوئے لال پھوڑے کی طرف دیکھا اور کہا۔’’ کتنا لال ہے۔‘‘

’’ ابھی تو اور ہو گا۔‘‘ گوپال نے اپنے مردانہ حوصلے کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔

نرملا نے حیرت سے کہا۔’’ سچ؟‘‘

’’ ابھی تو کچھ لال نہیں ہے، جو پھوڑا میں نے چرنجی کے منہ پر دیکھا ہے۔ اور اس سے کہیں زیادہ بڑا اور لا ل تھا۔‘‘ گو پال نے پھوڑے پر دو انگلیاں پھیریں۔

’’ ابھی اور بڑھے گا؟‘‘ نرملا آگے سرک آئی۔

’’ کیا پتا ہے.... ابھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔‘‘ گوپال نے جیب میں سے مرہم کی بتی نکال کر کہا۔

نرملا سہم سی گئی۔’’ اس مرہم سے تو آرام آ جائے گا نا؟‘‘

گوپال نے بتی کے ایک سرے پر سے کاغذ کی تہہ جدا کی اور اثبات میں سر ہلا دیا’’ اس کا ایک پھاہا لگانے ہی سے پھٹ جائے گا۔‘‘

’’ پھٹ جائے گا!‘‘ نرملا کو ایسا معلوم ہوا کہ اس کے کان کے پاس ربڑ کا غبارہ پھٹ گیا ہے۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔

’’ اور اس کے اندر جو کچھ ہے پھوٹ بہے گا!‘‘ گوپال نے مرہم کو انگلی پر اٹھاتے ہوئے کہا۔

نرملا کا گلابی رنگ اب بمبئی کے مرہم کی طرح پیلا پڑ گیا تھا۔ اس نے دھڑکتے ہوئے دل سے پوچھا۔’’ مگر یہ پھوڑے کیوں نکلتے ہیں بھیا؟‘‘

’’گرم چیزیں کھانے سے!‘‘ گوپال نے ایک ماہر طبیب کے سے انداز میں جواب دیا۔

نرملا کو وہ دو انڈے یاد آ گئے جو اس نے دو ماہ پہلے کھائے تھے، وہ کچھ سوچنے لگی۔

گوپال اور نرملا کے درمیان چند باتیں اور ہوئیں۔ اس کے بعد وہ اصلی کام کی طرف متوجہ ہوئے۔ نرملا نے لٹھے کا ایک گول پھا ہا کاٹا۔ بڑی نفاست سے، یہ روپے کے برابر تھا اور اس کی گولائی میں مجال سے جو ذرا سا نقص بھی ہو۔ اسی طرح گول تھا جس طرح نرملا کی ماں کے ہاتھ کی بنی ہوئی روٹی گول ہوتی تھی۔

گوپال نے اس پھاہے پر تھوڑا سا مرہم لگا دیا اور اسے اچھی طرح پھیلانے کے بعد پھوڑے کی طرف غور سے دیکھا۔ نرملا گوپال کے اوپر جھکی ہوئی تھی اور گوپال کی ہر حرکت کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔ گوپال نے جب پھاہا اپنے پھوڑے کے اوپر جما دیا تو وہ کانپ گئی جیسے اس کے بدن پر کسی نے برف کا ٹکڑا رکھ دیا ہے۔

’’ اب آرام آ جائے گا نا؟‘‘ نرملا نے نیم سوالیہ انداز میں کہا۔

گوپال جواب دینے بھی نہ پایا تھا کہ برساتی کے برابر والی سیڑھیوں پر کسی کے چڑھنے کی آواز سنائی دی۔ ان کی ماں تھی جو غالباً کوئلے لینے کے لئے آ رہی تھی۔

گوپال اور نرملا نے بیک وقت ایک دوسرے کے چہرے کی طرف دیکھا اور کچھ سنے بغیر سب چیزیں اکٹھی کر کے اس پرانے صندوق کے نیچے چھپا دیں۔ جہاں ان کی بلی سندری بچے دیا کرتی تھی اور چپکے سے بھاگ گئے۔

یہاں سے بھاگ کر گوپال جب نیچے گیا تو اس کے باپ نے اسے باہر فالودہ لانے کے لئے بھیج دیا۔ جب واپس آیا تو اسے گلی میں نرملا ملی۔ فالودے کا گلاس اس کے حوالے کر کے وہ چرنجی کے گھر چلا گیا اور اس طرح ان چیزوں کو اپنی جگہ پر کھنا بھول گیا جو ماں کے اچانک آ جانے سے اس نے اور نرملا نے صندوق کے پیچھے چھپا دی تھیں۔

چرنجی کے یہاں وہ دیر تک تاش کھیلتا رہا۔ کھیل سے فارغ ہو کر جب وہ چرنجی کی بغل میں ہاتھ ڈالے کمرے سے باہر نکل رہا تھا تو کسی بات پر اس کا دوست ہنسا اور اس کے داہنے گال پر پھوڑے کا نشان لمبی سے لکیر بن گیا۔ اور اس کو دیکھ کر فوراً ہی اپنے پھوڑے کا گوپال کو خیال آیا اور اس خیال کے ساتھ ہی اسے و ہ چیزیں یاد آ گئیں جو صندوق کے پیچھے پڑی تھیں۔ چرنجی کی بغل سے ہاتھ نکال کر وہ بھاگا۔

گھر پہنچ کر اس نے وہاں کی فضا دیکھی۔ اس کی ماں صحن میں بیٹھی اس کے باپ سے ’’ ملاپ‘‘ اخبار کی خبریں سن رہی تھی۔ دونوں کسی بات پر ہنس رہے تھے۔ گوپال کو اطمینان ہو گیا کہ ابھی تک اس کی ماں نے اپنی سلائی کی پٹاری نہیں دیکھی۔ چنانچہ وہ چپکے سے کوٹھے پر چلا گیا۔

بڑے کوٹھے کو طے کر کے دروازے کے اندر داخل ہونے والا ہی تھا۔ کہ اس کے قدم رک گئے۔

صندوق کے پاس بیٹھی نرملا کچھ کر رہی تھی۔ گوپال پیچھے ہٹ گیا اور چھپ کر دیکھنے لگا۔

نرملا بڑے انہماک سے پھاہا تراش رہی تھی۔ اس کی پتلی پتلی انگلیاں قینچی سے بڑا نفیس کام لے رہی تھیں۔ پھاہا کاٹنے کے بعد اس نے تھوڑا سا مرہم نکال کر اس پر پھیلایا اور گردن جھکا کر اپنے کرتے کے بٹن کھولے۔ سینے کے داہنی طرف چھوٹا سا ابھار تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ نلکی پر صابن کا چھوٹا سا نا مکمل بلبلہ اٹکا ہوا۔

نرملا نے پھاہے پر پھونک ماری اور اسے اس ننھے سے ابھار پر جما دیا۔

٭٭٭