کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سجدہ

منٹو


گلاس پر بوتل جھکی تو ایک دم حمید کی طبیعت پر بوجھ سا پڑ گیا، ملک جو اس کے سامنے تیسرا پیگ پی رہا تھا فوراً تاڑ گیا کہ حمید کے اندر روحانی کشمکش پیدا ہو گئی ہے۔ وہ حمید کو سات برس سے جانتا تھا، اور ان سات برسوں میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے جن کا مطلب اس کی سمجھ سے ہمیشہ بالا تر رہا تھا۔ لیکن وہ اتنا ضرور سمجھتا تھا کہ اس کے لاغر دوست کے سینے پر کوئی بوجھ ہے، ایسا بوجھ جس کا اثر شراب پینے کے دوران میں کبھی کبھی حمید کے اندر یوں پیدا ہوتا ہے، جیسے بے دھیان بیٹھے ہوئے آدمی کی، پسلیوں میں کوئی زور سے ٹہوکا دے دے۔

حمید بڑا خوش باش انسان تھا، ہنسی مذاق کا عادی، حاضر جواب، بذلہ سنج اس میں بہت سی خوبیاں تھیں جو زیادہ نزدیک آ کر اس کے دوست ملک نے معلوم کی تھیں۔ مثال کے طور پر سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بے حد مخلص تھا۔ اس قدر مخلص کہ بعض اوقات اس کا اخلاص ملک کے لئے عہد تحقیق کا رومانی افسانہ بن جاتا تھا۔

حمید کے کردار میں ایک عجیب و غریب بات جو ملک نے نوٹ کی یہ تھی کہ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے نا آشنا تھیں۔ یوں تو ملک بھی رونے کے معاملے میں بڑا بخیل تھا مگر وہ جانتا تھا کہ جب کبھی رونے کا موقع آئے گا۔ وہ ضرور رو دے گا۔ اس پر غم افزا باتیں اثر ضرور کرتی تھیں۔ مگر وہ اس اثر کو اتنی دیر اپنے دماغ پر بیٹھنے کی اجازت دیتا تھا۔ جتنی دیر گھوڑا اپنے تنے ہوئے جسم پر مکھی کو۔

غموں سے دور رہنے والے اور ہر وقت ہنسی مذاق کے عادی حمید کی زندگی میں نہ جانے ایسا کون سا واقعہ الجھا ہوا تھا کہ وہ کبھی کبھی قبرستان کی طرح خاموش ہو جاتا تھا۔ ایسے لمحات جب اس پر طاری ہوتے تو اس کا چہرہ ایسی رنگت اختیار کر لیتا تھا جو تین دن کی باسی شراب میں بے جان سوڈا گھولنے سے پیدا ہوتی ہے۔

سات برس کے دوران میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے مگر ملک نے آج تک اس سے ان کی وجہ دریافت نہ کی تھی۔ اس لئے نہیں کہ ان کی وجہ دریافت کرنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ دراصل بات یہ ہے کہ ملک پرلے درجے کا سست اور کاہل واقع ہوا تھا اس خیال سے بھی وہ حمید کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت نہیں کرتا تھا کہ ایک طویل کہانی اس سے سننا پڑے گی۔ اور اس کے چوتھے پیگ کا سارا سرور غارت ہو جائے گا۔’’ شراب پی کر لمبی چوڑی آپ بیتیاں ‘‘ سننا یا سنانا اس کے نزدیک بہت بڑی بد ذوقی تھی۔۔ اس کے علاوہ کہانیاں سننے کے معاملے میں وہ بہت ہی خام تھا، اسی خیال کی وجہ سے کہ وہ اطمینانسے حمید کی داستان نہیں سن سکے گا۔ اس نے آج تک اس سے ان دوروں کی بابت دریافت نہیں کیا تھا۔

کرپا رام نے حمید کے گلاس میں تیسرا پیگ ڈال کر بوتل میز پر رکھ دی، اور ملک سے مخاطب ہو کر’’ ملک اسے کیا ہو گیا ہے۔‘‘

حمید کی یہ بہت بڑی کمزوری تھی کہ وہ کسی بات کو چھپا نہیں سکتا تھا اور اگر چھپانے کی کوشش کرتا تو اس کی وہی حالت ہوتی جو آندھی میں صرف ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی عورت کی ہوتی ہے۔

ملک نے اپنا تیسرا پیگ ختم کیا اور اس فضا کو جو کچھ عرصہ پہلے طرب افزا باتوں سے گونج رہی تھی۔  اپنی بے محل ہنسی سے خوشگوار بنانے کے لئے اس نے کرپا رام سے مخاطب ہو کر کہا:۔ کرپا تم مان لو اسے اشوک کمار کا فلمی عشق ہو گیا ہے.... بھئی یہ اشوک کمار بھی عجیب چیز ہے۔ پر دے پر عشق کرتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کاسٹر آئل پی رہا ہے۔‘‘

کرپا رام، اشوک کمار کو اتنا ہی جانتا تھا کہ مہاراجہ اشوک اور اس کی مشہور آہنی لاٹھ کو فلم اور تاریخ سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی، البتہ وہ ان کے فوائد سے ضرور آگاہ تھا۔ کیونکہ وہ عام طور پر کہا کرتا تھا’’ مجھے، اگر کبھی بے خوابی کا عارضہ لاحق ہو جائے تو میں یا تو فلم دیکھنا شروع کر دوں گا یا چکرورتی کی لکھی ہوئی تاریخ پڑھنا شروع کر دوں گا۔‘‘

وہ ہمیشہ حساب داں چکرورتی کو مورخ بنا کر اپنی مسرت کے لئے ایک بات پیدا کر لیا کرتا تھا۔

کرپا رام پیگ پی چکا تھا۔ چار پیالہ پیگ، نشہ اس کے دماغ کی آخری منزل تک پہنچ چکا تھا، آنکھیں سکیڑ کر اس نے حمید کی طرف اس انداز سے دیکھا جیسے وہ کیمرے کا فوکس کر رہا ہے۔’’ تمہارا گلاس ابھی تک ویسے کا ویسا پڑا ہے۔‘‘

حمید نے درد سر کے مریض کی شکل بنا کر کہا۔’’ بس اب مجھ سے زیادہ نہیں پی جائے گی۔‘‘

’’تم چغد ہو.... نہیں چغد نہیں کچھ اور ہو.... تمہیں پینا ہو گی، سمجھے، یہ گلاس اور اس بوتل میں جتنی پڑی ہے سب کی سب تمہیں پینا ہو گی، شراب سے جو انکار کرے وہ انسان نہیں حیوان ہے۔ حیوان بھی نہیں ، اس لئے کہ اگر حیوانوں کو انسان بنا دیا جائے اور وہ بھی اس خوبصورت شئے کو کبھی نہ چھوڑیں ، تم سن رہے ہو ملک.... میں نے اگر یہ ساری شراب اس کے حلق میں نہ اُتار دی تو میرا نام کرپا رام نہیں گھسیٹا رام آرٹسٹ ہے۔‘‘

گھسیٹا رام آرٹسٹ سے کر پا رام کو سخت نفرت تھی، اس لئے کہ آرٹسٹ ہو کر اس کا نام گھسیٹا رام تھا۔

ملک کا منہ سوڈا ملی وسکی سے بھرا ہوا تھا۔ کرپا رام کی بات سن کر وہ بے اختیار ہنس پڑا۔ جس کے باعث اس کے منہ سے ایک فوارا سا چھوٹ پڑا۔’ ’ کرپا رام تم خدا کے لئے گھسیٹا رام آرٹسٹ کا نام نہ لیا کرو۔ میری انتڑیوں میں ایک طوفان سا مچ جاتا ہے۔ لا حول ولا میری پتلون کا ستیا ناس ہو گیا ہے۔ لو بھئی حمید اب تو تمہیں پینا ہی پڑے گی، کرپا رام، گھسیٹا رام بنے یا نہ بنے۔ لیکن میں ضرور کرپا رام بن جاؤں گا۔ اگر تم نے گلاس خالی نہ کیا.... لو پیو.... پی جاؤ.... ارے منہ کیا دیکھتے ہو.... یہ تمہارے چہرے پر قیامت کیسی برس رہی ہے.... کرپا رام اٹھو.... لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے.... زبر دستی کرنا ہی پڑے گی۔‘‘

کرپا رام اور ملک دونوں اٹھے اور حمید کو زبر دستی پلانے کی کوشش کرنے لگے۔ حمید کو روحانی کوفت تو ویسے ہی محسوس ہو رہی تھی۔ جب کرپا رام اور ملک نے اس کو جھنجھوڑنا شروع کیا تو اس کو جسمانی اذیت پہنچی۔ جس کے باعث وہ بیحد پریشان ہو گیا۔

اس کی پریشانی سے کرپا رام اور ملک بہت محظوظ ہوئے، چنانچہ انہوں نے ایک کھیل سمجھ کر حمید کو اور زیادہ تنگ کرنا شروع، کرپا رام نے گلاس پکڑ کر اس کے سر میں تھوڑی سی شراب ڈال دی اور نائیوں کے انداز میں جب اس نے حمید کا سر سہلایا تو وہ اس قدر پریشان ہوا کہ اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آ گئے، اس کی آواز بھرا گئی، اس کے سارے جسم میں تشنج سا پیدا ہو گیا اور ایک دم کاندھے ڈھیلے کر کے اس نے رونی، اور مردہ آواز میں کہا۔’’ میں بیمار ہوں .... خدا کے لئے مجھے تنگ نہ کرو۔‘‘

کرپا رام اسے بہانہ سمجھ کر حمید کو اور زیادہ تنگ کرنے کے لئے کوئی نیا طریقہ سوچنے ہی والا تھا کہ ملک نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پرے ہٹا دیا۔’’ کرپا، اس کی طبیعت واقعی خراب ہے.... دیکھو تو رو رہا ہے۔‘‘

کرپا رام نے اپنی موٹی کمر جھکا کر غور سے دیکھا۔ ارے، تم تو سچ مچ رو رہے ہو۔

حمید کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ جس پر سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔

’’ کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟.... خیر تو ہے؟‘‘

’’ یہ تم کیوں رو رہے ہو؟‘‘

’’ بھئی حد ہو گئی.... ہم تو صرف مذاق کر رہے تھے۔‘‘

’’ کچھ سمجھ بھی تو آئے کیا تکلیف.... ہے تمہیں ؟‘‘

ملک اس کے پاس بیٹھ گیا۔’’ بھئی مجھے معاف کر دو۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو۔‘‘

حمید نے جیب سے رومال نکال کر اپنے آنسو پونچھے اور کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا۔ جذبات کی شدت کے باعث اس کی قوت گویائی جواب دے گئی ہے۔

تیسرے پیگ سے پہلے اس کے چہرے پر رونق تھی۔ اس کی باتیں سوڈے کے بلبلوں کی طرح تر و تازہ اور شگفتہ تھیں۔ مگر اب وہ باسی شراب کی طرح بے رونق تھا۔ وہ سکڑ سا گیا تھا۔ اس کی حالت ویسی ہی تھی۔ جیسی بھیگی ہوئی پتلون کی ہوتی ہے۔

کرسی پروہ اس انداز سے بیٹھا تھا۔ گویا وہ اپنے آپ سے شرمندہ ہے۔ اپنے آپ کو چھپانے کی بھونڈی کوشش میں وہ ایک ایسا بے جان لطیفہ بن کے رہ گیا تھا۔ جو بڑے ہی خام انداز میں سنایا گیا ہو۔

ملک کو اس کی حالت پر ترس آیا۔’’ حمید، لو اب خدا کے لئے چپ ہو جاؤ.... واللہ تمہارے آنسوؤں سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔ مزا تو سب کرکرا ہی ہو گیا تھا مگر یوں تمہارے ایکا ایکی آنسو بہانے سے میں بہت مغموم ہو گیا ہوں .... خدا جانے تمہیں کیا تکلیف ہے؟‘‘

’’ کچھ نہیں میں بہت جلد ٹھیک ہو جاؤں گا۔ کبھی کبھی مجھے ایسی تکلیف ہو جایا کرتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔’’ اب میں اجازت چاہتا ہوں۔‘‘

کرپا رام بوتل میں سجی ہوئی شراب کو دیکھتا رہا اور ملک یہ ارادہ کرتا رہا کہ حمید سے آج پوچھ ہی لے کہ وقتاً فوقتاً اسے یہ دورے کیوں پڑتے ہیں مگر وہ جا چکا تھا۔

حمید گھر پہنچا تو اس کی حالت پہلے سے زیادہ خراب تھی، کمرے میں چونکہ اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ اس لئے وہ رو بھی نہ سکتا تھا۔ اس کی آنسوؤں سےلبالب بھری ہوئی آنکھوں کو کرسیاں اور میزیں نہیں چھلکا سکتی تھیں۔

اس کی خواہش تھی کہ اس کے پاس کوئی آدمی موجود ہو۔ جس کے چھیڑنے سے وہ جی بھر کے رو سکے۔ مگر ساتھ ہی اس کی یہ خواہش بھی تھی کہ وہ اکیلا ہو.... ایک عجیب کش مکش اس کے اندر پیدا ہو گئی۔

وہ کرسی پر اس انداز سے اکیلا بیٹھا تھا جیسے شطرنج کا پٹا ہوا مہرہ بساط سے بہت دور پڑا ہے۔ سامنے میز پر اس کی پرانی تصویر چمک دار فریم میں جڑی رکھی تھی۔ حمید نے اداس نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو سات برس اس تصویر اور اس کے درمیان تھان کی طرح کھلتے چلے گئے۔!

ٹھیک سات برس پہلے برسات کے ان ہی دنوں میں رات کو وہ ریلوے ریسٹوران میں ملک عبدالرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا....اُس وقت کے حمید اور اس وقت کے حمید میں کتنا فرق تھا.... کتنا فرق تھا۔ حمید نے یہ فرق اس شدت سے محسوس کیا کہ اسے اپنی تصویر میں ایک ایسا آدمی نظر آیا جس سے ملے اس کو ایک زمانہ گذر گیا ہے۔

اس نے تصویر کو غور سے دیکھا تو اس کے دل میں یہ تلخ احساس پیدا ہوا کہ انسانیت کے لحاظ سے وہ اس کے مقابلے میں بہت پست ہے۔تصویر میں جو حمید ہے اس کے حمید کے مقابلے میں بدرجہا افضل و برتر ہے جو کرسی پر سر نیوڑھائے بیٹھا ہے۔ چنانچہ اس احساس نے اس کے دل میں حسد بھی پیدا کر دیا۔

ایک سجدے.... صرف ایک سجدے نے اس کا ستیا ناس کر دیا تھا۔ آج سے ٹھیک سات برس پہلے کا ذکر ہے برسات کے یہی دن تھے رات کو ریلوے ریسٹوران میں اپنے دوست ملک عبد الرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حمید کو یہ شرارت سوجھی تھی کہ بغیر بو کی شراب جس کا ایک پورا پیگ لیمونیڈ میں ملا کر اس کو لا دے اور جب وہ پی جائے تو آہستہ سے اس کے کان میں کہے۔’’ مولانا ایک پورا پیگ آپ کے ثوابوں بھرے پیٹ میں داخل ہو چکا ہے۔‘‘

بیرے سے مل ملا کر اس نے اس بات کا انتظام کر دیا تھا کہ آرڈر دینے پر لیمونیڈ کی ایک بوتل میں جن کاایک پیگ ڈال کر ملک کو دے دیا جائے گا،چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حمید نے وسکی پی اور ملک بظاہر بے خبری کی حالت میں جن کا پورا پیگ چڑھا گیا۔

حمید کیونکہ تین پیگ پینے کا ارادہ رکھتا تھا اس لئے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے پوچھا۔’’ ملک صاحب، آپ یوں بے کار نہ بیٹھئے۔ میں تیسرا پیگ بڑی عیاشی سے پیا کرتا ہوں۔ آپ ایک اور لیمونیڈ منگوا لیجئے۔‘‘

ملک رضا مند ہو گیا چنانچہ ایک اور لیمونیڈ آگیا۔ اس بیرے نے اپنی طرف سے جن کا ایک پیگ ملا دیا تھا۔

ملک سے حمید کی نئی نئی دوستی ہوئی تھی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ حمید اس شرارت سے باز رہتا مگر ان دنوں وہ اس قدر زندہ دل اور شرارت پسند تھا کہ جب بیر ا ملک کیلئے لیمونیڈ کا دوسرا گلاس لایا اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تو وہ اس خیال سے بہت خوش ہوا کہ ایک کے بجائے دو پیگ ملک کے پیٹ کے اندر چلے جائیں گے۔

ملک آہستہ آہستہ لیمونیڈ ملی جن پیتا رہا اور حمید دل ہی دل میں اس کبوتر کی طرح گٹکتا رہا جس کے پاس ایک کبوتری آ بیٹھی ہو۔‘‘

اس نے جلدی جلدی اپنا تیسرا پیگ ختم کیا اور ملک سے پوچھا۔’’ اور پئیں گے آپ۔‘‘

’’ملک نے غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا نہیں۔‘‘ پھر اس نے بڑے روکھے انداز میں کہا۔’’اگر تمہیں پینا ہے تو پیو۔ میں جاؤں گا۔ مجھے ایک ضروری کام ہے۔‘‘

اس مختصر گفتگو کے بعد دونوں اٹھے۔ حمید نے دوسرے کمرے میں جا کر بل ادا کیا۔ جب وہ ریسٹوران سے باہر نکلے تو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ حمید کے دل میں یہ خواہش چٹکیاں لینے لگی کہ وہ ملک پر اپنی شرارت واضح کر دے۔ مگر اچھے موقع کی تلاش میں کافی وقت گذر گیا۔ ملک بالکل خاموش تھا۔ اور حمید کے اندر پھلجھڑی چھوٹ رہی تھی۔ بیشمار ننھی ننھی خوبصورت اور شوخ و شنگ باتیں اس کے دل و دماغ میں پیدا ہو کر بجھ رہی تھیں۔

وہ ملک کی خاموشی سے پریشان ہو رہا تھا اور جب اس نے اپنی پریشانی کا اظہار نہ کیا تو آہستہ آہستہ اس کی طبیعت پر ایک افسردگی سی طاری ہو گئی۔ وہ محسوس کرنے لگا کہ اس کی شرارت اب دم کٹی گلہری بن کر رہ گئی ہے۔

دیر تک دونوں بالکل خاموش چلتے رہے جب کمپنی باغ آیا تو ملک ایک بنچ پر مفکرانہ انداز میں بیٹھ گیا۔ چند لمحات ایسی خاموشی سے گذرے کے حمید کے دل میں وہاں سے اٹھ بھاگنے کی خواہش پیدا ہو گئی مگر اس وقت زیادہ دیر تک دبے رہنے کے باعث اس کی تمام تیزی اور طراری ماند پڑ چکی تھی۔

ملک بنچ سے اٹھ کھڑا ہوا۔’’ حمید، تم نے مجھے روحانی تکلیف پہنچائی ہے.... تمہیں یہ شرارت نہیں کرنی چاہئے تھی۔‘‘ اس کی آواز میں درد پید ہو گیا۔ تم نہیں جانتے کہ تمہاری اس شرارت سے مجھے کس قدر روحانی تکلیف پہنچی ہے.... اللہ تمہیں معاف کرے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ چلا گیا اور حمید اپنے آپ کو بڑی شدت کا گنہگار محسوس کرنے لگا۔ معافی مانگنے کا خیال اس کو آیا ، مگر ملک باغ سے نکل کر باہر سڑک پر پہنچ چکا تھا۔ ملک کے چلے جانے کے بعد حمید گناہ اور ثواب کے چکر میں پھنس گیا۔ شراب کے حرام ہونے کے متعلق اس نے جتنی باتیں لوگوں سے سنی تھیں۔ سب کی سب اس کے کانوں میں بھنبھنانے لگیں۔

’’شراب اخلاق بگاڑ دیتی ہے.... شراب خانہ خراب ہے۔ شراب پی کر آدمی بے ادب اور بے حیا ہو جاتا ہے۔ شراب اسی لئے حرام ہے۔ شراب صحت کا ستیا ناس کر دیتی ہے۔ اس کے پینے سے پھیپھڑے چھلنی ہو جاتے ہیں .... شراب۔‘‘

شراب، شراب کی ایک لامتناہی گردان حمید کے دماغ میں شروع ہو گئی۔ اس کی تمام برائیاں ایک ایک کر کے اس کے سامنے آ گئیں۔

’’ سب سے بڑی برائی تو یہ ہے۔‘‘ حمید نے محسوس کیا۔’’ کہ میں نے بے ضرر شراب سمجھ کر ایک شریف آدمی کو دھوکے سے شراب پلا دی ہے۔ ممکن ہے وہ پکا نمازی اور پرہیزگار ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غلطی میری ہے اور سارا گناہ میرے ہی سر ہو گا۔ مگر اسے جو روحانی تکلیف پہنچی ہے اس کا کیا ہو گا؟ واللہ باللہ میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ اسے تکلیف پہنچے۔ میں اس سے معافی مانگ لوں گا.... لیکن اس سے معافی مانگ کر بھی تو میرا گناہ ہلکا نہیں ہو گا۔ایک میں نے شراب پی دوسرے میں نے اس کو دھوکہ دے کر پلائی۔‘‘

وسکی کا نشہ اس کے دماغ میں جمائیاں لینے لگا۔ جس سے اس کا احساس گناہ گھناؤنیشکل اختیار کر گیا۔ مجھے معافی مانگنی چاہئے مجھے شراب چھوڑ دینی چاہئے.... مجھے گناہوں سے پاک زندگی بسر کرنی چاہئے۔‘‘

اس کو شراب شروع کئے صرف دو برس ہوئے تھے۔ ابھی تک وہ اس کا عادی نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اس نے گھر لوٹتے ہوئے۔ راستے میں سے دوسری باتوں کے ساتھ اس پر بھی غور کیا۔ ’’ میں شراب کو ہاتھ تک نہیں لگاؤں گا یہ کوئی ضروری چیز نہیں۔ میں اس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوں .... دنیا کہتی ہے.... دنیا کہتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ منہ سے لگی ہوئی یہ چھوٹ ہی نہیں سکتی میں اسے بالکل چھوڑ دوں گا.... میں اس خیال کو غلط ثابت کر دوں گا۔

یہ سوچتے ہوئے حمید نے خود کو ایک ہیرو محسوس کیا۔ پھر ایک دم اس کے دماغ میں خدا کا خیال آیا۔ جس نے اسے تباہی سے بچا لیا تھا۔ مجھے شکر بجا لانا چاہئے کہ میرے سینے میں نور پیدا ہو گیا ہے۔میں نہ جانے کتنی دیر تک اس کھائی میں پڑا رہتا۔

وہ اپنی گلی میں پہنچ چکا تھا۔ اوپر آسمان گدلے بادلوں میں چند صابن کے جھاگ لگے گالوں کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ ہوا خنک تھی۔ فضا بالکل خاموش تھی۔ حمید پر خدا کے رعب اور شراب نوشی سے بچ جانے کے احساس نے رقت طاری کر دی۔ اس نے شکرانے کا سجدہ ادا کرنا چاہا۔ اس خیال سے کہ کوئی اسے دیکھ لے گا وہ کچھ دیر کے لئے ٹھٹک گیا مگر فوراً ہی یہ سوچ کر کہ خدا کی نگاہوں میں اس کی وقعت بڑھ جائے گی۔ وہ ڈبکی لگانے کے انداز میں جھکا اور اپنی پیشانی گلی کے ٹھنڈے ٹھنڈے پتھریلے فرش کے ساتھ جوڑ دی۔

جب وہ اٹھا تو اس نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑا آدمی محسوس کیا۔ اس نے جب آس پاس کی اونچی دیواروں کو دیکھا تو وہ اسے اپنے قدم کے مقابلے بہت پست معلوم ہوئیں۔

اس واقعہ کے ڈیڑھ مہینے کے بعد اسی کمرے میں جہاں اب حمید بیٹھا اپنی سات برس کی پرانی تصویر پر رشک کھا رہا تھا۔ اس کا دوست ملک آیا۔ اندر آتے ہی اس نے اپنی جیب سے بلیک اینڈ وائٹ کا ادھا نکالا اور زور سے میزپر رکھ کر کہا۔’’ آؤحمید.... آج پئیں اور خوب پئیں .... یہ ختم ہو جائے گی تو اور لائیں گے۔‘‘

حمید اس قدر متحیر ہوا کہ وہ اس سے کچھ بھی نہ کہہ سکا ملک نے دوسری جیب سے سوڈے کی بوتل نکالی، تپائی پر سے گلاس اٹھا کر اس پر شراب انڈیلی۔ سوڈے کی بوتل، انگوٹھے سے کھولی، اور حمید کی متحیر آنکھوں کے سامنے وہ دو پیگ غٹا غٹ پی گیا۔

حمید نے تتلاتے ہوئے کہا۔’’ لیکن.... لیکن.... اس روز تم نے مجھے اتنا برا بھلا کہا تھا....‘‘

ملک نے ایک قہقہہ بلند کیا۔’’ تم نے مجھ سے شرارت کی میں نے بھی اس کے جواب میں تم سے شرارتاً کچھ کہہ دیا۔ مگر بھئی ایمان کی بات ہے جو مزہ اس روز جن کے دو پیگ پینے میں آیا ہے۔ زندگی بھر کبھی نہیں آئے گا۔ لو اب چھوڑو اس قصے کو.... وسکی پیو جن ون بکو اس ہے شراب پینی ہو تو وسکی پینی چاہئے۔‘‘

یہ سن کر حمید کو ایسا محسوس ہوا تھا کہ جوسجدہ اس نے گلی میں کیا تھا۔ ٹھنڈے فرش سے نکل کر اس کی پیشانی پر چپک گیا ہے۔

یہ سجدہ بھوت کی طرح حمید کی زندگی سے چمٹ گیا تھا۔ اس نے اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے پھر پینا شروع کیا۔ مگر اس سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا۔

ان سات برسوں میں جو اس کی پرانی تصویر اور اس کے  درمیان کھلے ہوئے تھے یہ ایک سجدہ بے شمار مرتبہ حمید کو اس کی اپنی نگاہوں میں ذلیل و رسوا کر چکا تھا۔ اس کی خودی، اس کی تخلیقی قوت، اس کی زندگی کی وہ حرارت جس سے حمید اپنے ماحول کو گرما کے رکھنا چاہتا تھا۔اس سجدے نے قریب قریب سردہی کر دی تھی۔ یہ سجدہ اس کی زندگی میں ایسی خراب بریک بن گئی تھی جو کبھی کبھی اپنے آپ کو اس کے چِلتے ہوئے پہیوں کو ایک دھکے کے ساتھ ٹھہرا دیتی تھی۔

سات برس کی پرانی تصویر اس کے سامنے میز پر تھی۔ جب سارا واقعہ اس کے دماغ میں پوری تفصیل کے ساتھ دہرایا جا چکا تو اس کے اندر ایک نا قابل بیان اضطراب پیدا ہو گیا۔وہ ایسا محسوس کرنے لگا جیسے اس کو قے ہونے والی ہے۔

وہ گھبرا کر اٹھا اور سامنے کی دیوار کے ساتھ اس نے اپنا ما تھا رگڑنا شروع کر دیا جیسے وہ اس سجدے کا نشان مٹانا چاہتا ہے۔ اس عمل سے اسے جب جسمانی تکلیف پہنچی تو وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا.... سر جھکا کر اور کاندھے ڈھیلے کر کے اس نے تھکی ہوئی آواز میں کہا۔’’ اے خدا میرا سجدہ مجھے واپس دے دے....‘‘

٭٭٭