کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

الو کا پٹھا

منٹو


قاسم صبح سات بجے لحاف سے باہر نکلا اور غسل خانے کی طرف چلا، راستے میں ، یہ اس کو ٹھیک طور پر معلوم نہیں ، سونے والے کمرے میں ، صحن میں ، یا غسل خانے کے اندر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی کو الو کا پٹھا کہے، بس صرف ایک بار غصے میں طنزیہ انداز میں کسی کو الو کا پٹھا کہہ دے، قاسم کے دل میں اس سے پہلے کئی بار بڑی انوکھی خواہشیں پیدا ہو چکی تھی۔ مگر یہ خواہش سب سے نرالی تھی۔ وہ بہت خوش تھا۔ رات کو اس کو بڑے پیار کی نیند آئی تھی۔ وہ خود کو ترو تازہ محسوس کر رہا تھا۔لیکن پھر یہ خواہش کیسے اس کے دل میں داخل ہو گئی۔ دانت صاف کرتے وقت اس نے ضرورت سے زیادہ وقت صرف کیا۔ جس کے باعث اس کے مسوڑے چھل گئے۔ دراصل وہ سوچتا رہا کہ عجیب و غریب خواہش کیوں پیدا ہوئی۔  مگر وہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا۔

بیوی سے وہ بہت خوش تھا۔ ان میں کبھی لڑائی نہ ہوتی تھی۔ نو کروں سے بھی وہ ناراض نہیں تھا۔ اس لئے کہ غلام محمد یا نبی بخش دونوں خاموشی سے کام کرنے والے مستعد نو کر تھے موسم بھی نہایت خوشگوار تھا۔ فروری کے سہانے دن تھے۔ جن میں کنوار کے پتے کی سی تازگی تھی۔ ہوا خنک اور ہلکی.... دن چھوٹے نہ راتیں لمبی۔ نیچر کا توازن بالکل ٹھیک اور قاسم کی صحبت بھی خوب تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کسی کو بغیر وجہ سے الو کا پٹھا کہنے کی خواہش اس کے دل میں کیونکر پیدا ہوئی۔

قاسم نے اپنی زندگی کے اٹھائیس برسوں میں متعدد لوگوں کو الو کا پٹھا کہا ہو گا۔ اور بہت ممکن ہے کہ اس سے بھی کڑے لفظ اس نے بعض موقعوں پر استعمال کئے ہوں گے۔ اور گندی گالیاں دی ہوں گی۔ مگر اسے اچھی طرح یاد تھا کہ ایسے موقعوں پر خواہش بہت پہلے اس کے دل میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔  مگر اچانک طور پر اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ کسی کو الو کا پٹھا کہنا چاہتا ہے اور یہ خواہش لمحہ بہ لمحہ شدت اختیار کرتی چلی گئی، جیسے اس نے اگر کسی کو الو کا پٹھا نہ کہا تو بہت بڑا حرج ہو جائے گا۔

دانت صاف کرنے کے بعد اس نے چھلے ہوئے مسوڑوں کو اپنے کمرے میں جا کر آئینے میں دیکھا، مگر دیر تک ان کو دیکھتے رہنے سے بھی وہ خواہش نہ دبی جو ایکا ایکی اس کے دل میں پیدا ہو گئی تھی!

قاسم منطقی قسم کا آدمی تھا۔ وہ بات کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کا عادی تھا۔ آئینہ میزپر رکھ کر وہ آرام کرسی پر بیٹھ گیا۔وہ ٹھنڈے دماغ سے سوچنے لگا۔

’’ مان لیا کہ میرا کسی کو الو کا پٹھا کہنے کو جی چاہتا ہے۔.... مگر یہ کوئی بات تو نہ ہوئی.... میں کسی کو الو کا پٹھا کیوں کہوں؟.... میں کسی سے ناراض بھی تو نہیں ہوں ....‘‘

یہ سوچتے سوچتے اس کی نظر سامنے دروازے کے بیچ میں رکھے ہوئے حقے پر پڑی۔ ایک دم اس کے دل میں یہ باتیں پیدا ہوئیں۔ یہ عجیب واہیات نو کر ہے دروازے کے عین بیچ میں یہ حقہ ٹکا دیا ہے۔ میں ابھی اس دروازے سے اندر آیا ہوں ، اگر ٹھو کر سے بھری ہوئی چلم گر پڑتی تو پا انداز جو کہ مونج کہ بنا ہوا ہے جلنا شروع ہو جاتا اور ساتھ ہی قالین بھی۔

اس کے جی میں آئی کہ غلام محمد کو آواز دے، جب وہ بھاگتا ہوا اس کے سامنے آ جائے تو وہ بھرے ہوئے حقے کی طرف اشارہ کر کے اس ے صرف اتنا کہے۔’’ تم نرے اُلو کے پٹھے ہو۔‘‘ مگر اس نے تامل کیا اور سوچا کہ یوں بگڑنا اچھا معلوم نہیں ہوتا اگر غلام محمد کو الو کا پٹھا کہہ بھی دیا تو وہ بات پیدا نہ ہو گی۔ اور پھر.... اس بے چارے کا کوئی قصور بھی تو نہیں ہے۔ میں دروازے کے پاس بیٹھ کر ہی تو ہر روز حقہ پیتا ہوں۔‘‘

چنانچہ وہ خوشی جو ایک لمحہ کے لئے قاسم کے دل میں پیدا ہوئی تھی کہ اس نے الو کا پٹھا کہنے کے لئے ایک موقعہ تلاش کر لیا غائب ہو گئی۔

دفتر کے وقت میں ابھی کافی دیر تھی، پورے دو گھنٹے پڑے تھے، دروازے کے پاس کرسی رکھ کر قاسم اپنے معمول کے مطابق بیٹھ گیا اور حقہ نوشی میں مصروف ہو گیا۔

کچھ دیر تک وہ سوچ بچار کئے بغیر حقے کا دھواں پیتا رہا۔ اور دھوئیں کے انتشار کو دیکھتا رہا۔ جونہی وہ حقے کو چھوڑ کر کپڑے تبدیل کرنے کے لئے ساتھ کے کمرے میں گیا تو اس کے دل میں وہی خواہش نئی تازگی کے ساتھ پیدا ہوئی۔

قاسم گھبرا گیا۔ بھئی حد ہو گئی.... الو کا پٹھا.... میں کسی کو الو کا پٹھا کیوں کہوں اور بفرض محال میں نے کسی کو الو کا پٹھا کہہ بھی دیا تو کیا ہو گا....

قاسم دل ہی دل میں ہنسا۔ وہ صحیح الدماغ آدمی تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ جو خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی ہے وہ بالکل بیہودہ اور بے سرو پا ہے،لیکن اس کا کیا علاج تھا کہ ، دبانے پر اور بھی زیادہ ابھر آتی ہے۔

قاسم اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ بغیر کسی وجہ کے الو کا پٹھا نہ کہے گا۔ خواہ یہ خواہش صدیوں تک اس کے دل میں تلملاتی رہے، شاید اسی احساس کے باعث یہ خواہش جو بھٹکی ہوئی چمگادڑ کی طرح اس کے روشن دل میں چلی آئی تھی۔ اس قدر تڑپ رہی تھی۔

پتلون کے بٹن بند کرتے وقت جب اس نے دماغی پریشانی کے باعث اوپر کا بٹن نچلے کاج میں داخل کر دیا تو وہ جھلا اٹھا، بھئی ہو گا.... یہ کیا بیہودگی ہے.... دیوانہ پن نہیں تو اور کیا ہے.... الو کا پٹھا کہو.... الو کا پٹھا کہو اور یہ پتلون کے سارے بٹن مجھے پھر بند کرنے پڑیں گے، لباس پہن کر وہ میز پر آ بیٹھا۔ اس کی بیوی نے چائے بنا کر اس کے سامنے رکھ دی اور توس پر مکھن لگانا شروع کر دیا۔ روزانہ معمول کی طرح ہر چیز ٹھیک ٹھاک تھی، تو س اتنے اچھے سکے ہوئے تھے کہ بسکٹ کی طرح کر کرے تھے اور ڈبل روٹی بھی اعلیٰ قسم کی تھی، خمیر سے خوشبو آ رہی تھی، مکھن صاف تھا، چائے کی کیتلی بے داغ تھی، اس کی ہتھی کے، ایک کونے پر قاسم ہر روز میل دیکھا کرتا تھا۔ مگر آج وہ بھی دھبہ نہیں تھا۔

اس نے چائے کا ایک گھونٹ پیا، اس کی طبیعت خوش ہو گئی، خالص دارجلنگ کی چائے تھی، جس کی مہک پانی میں بھی بر قرار تھی دودھ کی مقدار بھی صحیح تھی۔

قاسم نے خوش ہو کر اپنی بیوی سے کہا۔’’ آج چائے کا رنگ بہت ہی پیارا ہے۔ اور بڑے سلیقے سے بنائی گئی ہے۔

بیوی تعریف سن کر خوش ہو ئی۔ مگر اس نے منہ بنا کر ادا سے کہا۔’’ جی ہاں۔ بس آج اتفاق سے اچھی بن گئی ہے، ورنہ ہر روز تو آپ کو نیم گھول کر پلائی جاتی ہے.... مجھے سلیقہ کہاں سے آتا ہے.... سلیقے والیاں تو وہ موئی ہوٹل کی چھوکریاں ہیں۔ جن کے آپ ہر وقت گن گایا کرتے ہیں۔‘‘

یہ تقریر سن کر قاسم کی طبیعت مکدر ہو گئی۔ ایک لمحے کے لئے اس کے جی میں آئی کہ چائے کی پیالی میز پر الٹ دے اور وہ نیم جو اس نے اپنے بچے کی پھنسیوں کے لئے غلام محمد سے منگوائی تھی اور وہ سامنے بڑے طاقچے پر پڑی تھی۔ گھول کر پی لے۔ مگر اس نے بردباری سے کام لیا۔’’ یہ عورت میری ہے‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی بات بہت ہی بھونڈی ہے۔مگر ہندوستان میں سب لڑکیاں بیوی بن کر ایسی بھونڈی باتیں ہی کرتی ہیں۔‘‘ اور بیوی بننے سے پہلے اپنے گھروں میں اپنی ماؤں سے کیسی باتیں سنتی ہیں ؟ بالکل ادنیٰ قسم کی باتیں اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ عورتوں کو عمومی زندگی میں اپنی حیثیت کی خبر ہی نہیں .... میری بیوی تو پھر بھی غنیمت ہے۔ یعنی صرف ایک ادا کے طور پر ایسی بھونڈی بات کہہ دیتی ہے، اس کی نیت نیک ہوتی ہے بعض عورتوں کا تو یہ شعار ہوتا ہے۔ کہ ہر وقت بکواس کرتی رہتی ہیں۔

یہ سوچ کر قاسم نے اپنی نگاہیں طاقچے پر سے ہٹا لیں۔ جس میں نیم کے پتے دھوپ میں سوکھ رہے تھے اور بات کا رخ بدل کر اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’ دیکھو آج نیم کے پانی سے بچے کی ٹانگیں ضرور دھو دینا۔ نیم زخموں کے لئے بڑی اچھی ہوتی ہے.... اور دیکھو موسمبیوں کا رس ضرور پیا کرو.... میں دفتر سے لوٹتے ہوئے ایک درجن ضرور لے آؤں گا۔ یہ رس تمہاری صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔‘‘

بیوی مسکرا دی۔’’ آپ کو تو بس ہر وقت میری صحت کا خیال رہتا ہے۔ اچھی بھلی تو ہوں ، کھاتی ہوں ، پیتی ہوں ، دوڑتی ہوں ، بھاگتی ہوں .... میں نے جو آپ کے لئے بادام منگوا کے رکھے ہیں .... بھئی آج دس بیس آپ کی جیب میں ڈالے بنا نہ رہوں گی.... لیکن دفتر میں کہیں نہ بانٹ دیجئے گا۔‘‘

قاسم خوش ہو گیا کہ چلو موسمبیوں کے رس اور باداموں ، نے اس کی بیوی کے مصنوعی غصے کو دور کر دیا اور یہ مرحلہ آسانی سے طے ہو گیا۔ دراصل قاسم ایسے مرحلوں کو آسانی کے ساتھ ان طریقوں ہی سے طے کیا کرتا تھا۔ جو اس نے پڑوس کے پرانے شوہروں سے سیکھے تھے، اور اپنے گھر کے ماحول کے مطابق ان میں بہت یا تھوڑا رد و بدل کر لیا تھا۔

چائے سے فارغ ہو کر اس نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا اور اٹھ کر دفتر جانے کی تیاری کرنے ہی والا تھا کہ پھر وہی خواہش پیدا ہو گئی۔ اس مرتبہ اس نے سوچا، میں اگر کسی کو الو کا پٹھا کہہ دوں تو کیا ہرج ہے زیر لب بالکل ہولے سے یہ کہہ دوں الو.... کا.... پٹھا.... تو میرا خیال ہے کہ مجھے دلی تسکین ہو جائے گی۔یہ خواہش میرے سینے میں بوجھ بن کر بیٹھ گئی ہے کیوں نہ اس کو ہلکا کر دوں۔ دفتر میں۔

اس کو صحن میں بچے کا کموڈ نظر آیا، یوں صحن میں کموڈ رکھنا، سخت بد تمیزی تھی اور خصوصاً اس وقت جب کہ ناشتہ کر چکا تھا اور خوشبو دار کُرکُرے توس اور تلے ہوئے انڈوں کا ذائقہ ابھی تک اس کے منہ میں تھا.... اس نے زور سے آواز دی۔’’ غلام محمد۔‘‘

قاسم کی بیوی جو ابھی تک ناشتہ کر رہی تھی بولی۔’’ غلام محمد باہر گوشت لینے گیا ہے.... کوئی کام تھا آپ کو اس سے؟‘‘

ایک سیکنڈ کے اندر اندر قاسم کے دماغ میں بہت سی باتیں آئیں ، کہہ دوں ، یہ غلام محمد الو کا پٹھا ہے.... اور یہ کہہ کر جلدی سے باہر نکل جاؤں .... نہیں .... وہ خود تو موجود ہی نہیں ، پھر.... بالکل بیکار ہے.... لیکن سوال یہ ہے کہ بے چارے غلام محمد ہی کو کیوں نشانہ بنایا جائے۔ اس کو تو میں ہر وقت الو کا پٹھا کہہ سکتا ہوں ....

قاسم نے ادھ جلا سگریٹ گرا دیا اور بیوی سے کہا۔’’ کچھ نہیں میں اسے یہ کہنا چاہتا تھا کہ دفتر میں میرا کھانا بے شک ڈیڑھ بجے لے آیا کرے.... تمہیں کھانا جلدی بھیجنے میں بہت تکلیف کرنی پڑتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو فرش پر اس کے گرائے ہوئے سگریٹ کو دیکھ رہی تھی۔ قاسم کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا، یہ سگریٹ اگر بجھ گیا اور یہاں پڑا رہا تو اس کا بچہ رینگتا رینگتا آئے گا، اور اسے اٹھا کر منہ میں ڈال لے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے پیٹ میں گڑ بڑ مچ جائے گی۔ قاسم نے سگریٹ کا ٹکڑا اٹھا کر غسل خانے کی موری میں پھینک دیا۔ یہ بھی اچھا ہوا کہ میں نے جذبات سے مغلوب ہو کر غلام محمد کو الو کا پٹھا نہیں کہہ دیا۔ اس سے اگر غلطی ہوئی ہے تو ابھی ابھی مجھ سے بھی تو غلطی ہوئی تھی۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میری غلطی زیادہ شدید تھی....

قاسم بڑا صحیح الدماغ آدمی تھا۔ اسے اس بات کا احساس، تھا کہ وہ صحیح خطوط پر غور و فکر کرنے والا انسان ہے۔ مگر اس احساس نے اس کے اندر برتری کا خیال کبھی پیدا نہیں کیا تھا، یہاں پر پھر اس کی صحیح الدماغی کو دخل تھا کہ وہ احساس برتری کو اپنے اندر دبا دیا کرتا تھا۔

موری میں سگریٹ کا ٹکڑا پھینکنے کے بعد اس نے بلا ضرورت صحن میں ٹہلنا شروع کر دیا۔ وہ دراصل کچھ دیر کے لئے بالکل خالی الذہن ہو گیا تھا۔

اس کی بیوی ناشتے کا آخری توس کھا چکی تھی، قاسم کو یوں ٹہلتے دیکھ کر وہ اس کے پاس آئی اور کہنے لگی۔’’ کیا سوچ رہے ہیں آپ۔‘‘

قاسم چونک پڑا۔’’ کچھ نہیں .... کچھ نہیں .... دفتر کا وقت ہو گیا کیا؟ یہ لفظ اس کی زبان سے نکلے اور دماغ میں وہی الو کا پٹھا کہنے کی خواہش تڑپنے لگی۔‘‘

اس کے جی میں آئی کہ بیوی سے صاف صاف کہہ دے کہ یہ عجیب و غریب خواہش اس کے دل میں پیدا ہو گئی ہے۔ جس کا سر ہے نہ پیر بیوی ضرور سنے گی اور یہ بھی ظاہر ہے۔  کہ بیوی کو ساتھ دینا پڑے گا۔ چنانچہ یوں ہنسی ہنسی میں الو کا پٹھا کہنے کی خواہش اس کے دماغ سے نکل جائے گی۔ مگر اس نے غور کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ، بیوی ہنسے گی اور میں خود بھی ہنسوں گا۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ یہ بات مستقل مذاق بن جائے.... ایسا ہو سکتا ہے.... ہو سکتا ہے کیاضرور ہو جائے گا۔ اور بہت ممکن ہے کہ انجام کار خوشگواری پیدا ہو۔  چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے کچھ نہ کہا اور ایک لمحہ تک اس کی طرف یوں ہی دیکھتا رہا۔

بیوی نے بچے کا کموڈ اٹھا کر کونے میں رکھ دیا اور کہا۔’’ آج صبح کو آپ کے بر خور دار نے وہ ستایا کہ اللہ کی پناہ.... بڑی مشکلوں کے بعد میں نے اسے کموڈ پر بٹھایا۔ اس کی مرضی یہ تھی کہ بستر ہی کو خراب کرے.... آخر لڑکا کس کا ہے....؟‘‘

قاسم کو اس قسم کی چیخ پسند تھی۔ ایسی باتوں میں وہ تیکھے مزاح کی جھلک دیکھتا تھا۔ مسکرا کر اس نے بیوی سے کہا۔’’ لڑکا میرا ہی ہے مگر.... میں نے تو آج تک کبھی خراب نہیں کیا۔ یہ عادت اس کی اپنی ہو گی۔‘‘

بیوی نے اس کی بات کا مطلب نہ سمجھا۔قاسم کو مطلقاً افسوس نہ ہوا۔ اس لئے کہ ایسی باتیں وہ صرف اپنے منہ کا ذائقہ درست رکھنے کے لئے کیا کرتا تھا۔ وہ اور بھی خوش ہوا۔ جب اس کی بیوی نے جواب نہ دیا اور خاموش ہو گئی۔

اچھا ! بھئی اب میں چلتا ہوں۔ خدا حافظ!‘‘

یہ لفظ جو ہر روز اس کے منہ سے نکلتے تھے آج بھی اپنی پرانی آسانی کے ساتھ نکلے اور قاسم دروازہ کھول کر باہر چل دیا۔

کشمیری گیٹ سے نکل کر جب وہ نکلسن پارک کے پاس سے گذر رہا تھا تو اسے ایک ڈاڑھی والا آدمی نظر آیا ایک ہاتھ میں کھلی ہوئی شلوار تھامے وہ دوسرے ہاتھ سے استنجا کر رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر قاسم کے دل میں پھر الو کا پٹھا کہنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ لو بھئی۔ یہ آدمی ہے جس کو الو کا پٹھا کہہ دینا چاہئے۔ یعنی جو صحیح معنوں میں الو کا پٹھا ہے.... ذرا انداز ملاحظہ ہو.... کس انہماک سے ڈرائی کلین کئے جا رہا ہے.... جیسے، کوئی، اہم کام سر انجام پا رہا ہے.... لعنت ہے!

لیکن قاسم صحیح الدماغ آدمی تھا۔ اس نے تعجیل سے کام نہ لیا اور تھوڑی دیر غور کیا۔میں اس فٹ پاتھ پر جا رہا ہوں اور وہ دوسرے فٹ پاتھ پر۔  اگر میں نے بلند آواز میں بھی اس کو الو کا پٹھا کہا تو وہ چونکے گا نہیں۔ اس لئے کہ کمبخت اپنے کام میں بہت بری طرح مصروف ہے۔ چاہئے تو یہ کہ اس کے کان کے پاس زور سے نعرہ بلند کیا جائے اور جب وہ چونک اٹھے تو شریفانہ طور پر سمجھا یا جائے۔ قبلہ آپ الو کے پٹھے ہیں .... لیکن اس طرح بھی، خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہ ہو گا۔

چنانچہ قاسم نے ارادہ ترک کر دیا۔

اسی اثناء میں اس کے پیچھے سے ایک سائیکل نمودار ہوئی۔ کالج کی ایک لڑکی اس پر سوار تھی۔ اس لئے کہ پیچھے بستہ بندھا ہوا تھا۔ آناً فاناً اس لڑکی کی ساڑھی فری وہیل کے دانتوں میں پھنسی، لڑکی نے گھبرا کر اگلے پہئے کا بریک دبایا۔ ایک دم سائیکل بے قابو ہوئی اور جھٹکے کے ساتھ لڑکی سائیکل سمیت سڑک پر گر پڑی۔

قاسم نے آگے بڑھ کر لڑکی کو اٹھانے میں عجلت سے کام نہ لیا۔ اس لئے کہ اس نے حادثے کے رد عمل پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ لڑکی کی ساڑھی وہیل کے دانتوں نے چبا ڈالی ہے۔ اور اس کا بورڈر بہت بری طرح ان میں الجھ گیا ہے۔ تو وہ تیزی سے آگے بڑھا، لڑکی کی طرف دیکھے بغیر اس نے سائیکل کا پچھلا پہیہ ذرا اونچا اٹھایا۔ تاکہ اسے گھما کر ساڑھی کو فری وہیل کے دانتوں میں سے نکال لے، اتفاق ایسا ہوا کہ پہیہ گھمانے سے ساڑھی کچھ اس طرح تاروں کی لپیٹ میں آئی کہ ادھر پیٹی کوٹ کی گرفت سے باہر نکل آئی، قاسم بوکھلا گیا۔ اس کی بوکھلا ہٹ نے لڑکی کو بہت زیادہ پریشان کر دیا۔ زور سے اس نے ساڑھی کو اپنی طرف کھینچا۔فری وہیل کے دانتوں میں ایک ٹکڑا اڑا رہ گیا اور ساڑھی باہر نکل آئی۔

لڑکی کا رنگ لا ل ہو گیا، قاسم کی طرف غضبناک نگاہوں سے دیکھا اور بھنچے ہوئے لہجہ میں کہا۔ ’’الو  کا پٹھا۔‘‘

ممکن ہے کچھ دیر لگی ہو گی۔ مگر قاسم نے ایسا محسوس کیا کہ لڑکی نے جھٹ پٹ نہ جانے اپنی ساڑھی کو کیا کیا۔ اور ایک دم سائیکل پر سوار ہو کر نظروں سے غائب ہو گئی۔

قاسم کو لڑکی کی گالی سن کر بہت دکھ ہوا۔ خاص کر اس لئے کہ وہ یہی گالی خود کسی کو دینا چاہتا تھا۔ مگر وہ بہت صحیح الدماغ تھا۔ ٹھنڈے دل سے اس نے اس حادثہ پر غور کیا اور اس لڑکی کو معاف کر دیا۔ اس کو معاف کرنا ہی پڑے گا۔ اس لئے کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں۔ عورتوں کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے اور ان عورتوں کو سمجھنا تو اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جو سائیکل پر سے گری ہوئی ہوں۔ لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اس نے اپنی لمبی جراب میں اوپر ران کے پاس تین چار کاغذ کیوں اڑس رکھے تھے۔‘‘

٭٭٭