کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

عمارت کا مجرم

اشتیاق احمد


آپ لوگ مجھے اس طرح کیوں گھور رہے ہیں۔۔ آپ کو اپنے زخم کے بارے میں وضاحت کرنا ہو گی۔۔ انسپکٹر جمشید بولے۔۔ لیکن زخم کا چکر کہاں سے ٹپک پڑا۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔ محمود وضاحت کر دو۔۔ اوپر منڈیر پر شیشے کے ٹکڑے لگائے گئے ہیں زینے کا دروازہ اندر سے بند تھا۔۔ مجرم کو پوسٹر لگانے کے لیے اندر آنا تھا وہ درخت کے ذریعے چھت پر پہنچا اور درخت کی شاخ سے رسی باندھ کر صحن میں اترا ایسا کرتے وقت اس کے جسم کے کسی حصہ میں شیشے کا ایک ٹکڑا چبھ گیا۔ اوپر منڈیر پر خون صاف دیکھا جا سکتا ہے۔۔ اوہ۔۔۔ اوہ خان صاحب بولے پھر انہوں نے بھی نظریں طاؤس جان پر جما دیں۔۔

میری ران پر یہ زخم چند روز پہلے آیا تھا۔۔ میں نے اس پر اپنے فیملی ڈاکٹر سے پٹی کرائی تھی آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں۔۔ پوچھنے کی ضرورت بعد میں پیش آئے گی پہلے تو آپ یہ بتائیں۔۔ زخم کس طرح آیا تھا؟

سڑک پر دو آدمی لڑ پڑے تھے ان کے ہاتھوں میں خنجر تھے انہیں چھڑانے کے لیے کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا میں نے سوچا اگر انہیں نہ روکا گیا تو کہیں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارا نہ جائے لہذا میں ان کے درمیان کود پڑا اور اس طرح ان میں سے ایک کا خنجر میری ران میں لگ گیا۔۔ جونہی خنجر میری ران میں لگا ان دونوں کو جیسے ہوش آ گیا وہ اپنی لڑائی بھول گئے اور مجھے سنبھالنے میں لگ گئے اب اگر میں ہسپتال جاتا تو پولیس کے چکر میں الجھنا پڑتا لہذا میں نے اپنے ڈاکٹر سے اس پر پٹی کرائی۔۔

اور وہ دونوں مجھے سنبھلتے دیکھ کر وہ دونوں رفو چکر ہو گئے۔۔

کیونکہ کسی بھی وقت وہاں پولیس پہنچنے والی تھی۔۔ جس جگہ وہ لڑ رہے تھے ہاں ایک پبلک فون بوتھ بھی تھا۔۔ اس سے کسی نے پولیس کو فون کر دیا تھا۔۔ ہوں ٹھیک ہے آپ کے پاس اس واقعے کا کوئی گواہ ہے۔۔ اس وقت میں اپنی کار مین وہاں سے گذر رہا تھا کار خود چلا رہا تھا۔۔ لڑائی دیکھنے والوں نے مجھے چھڑاتے بھی ضرور دیکھا ہو گا۔۔ تب تو کام آسان ہو گیا۔۔ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔۔ جی وہ کیسے۔۔اس نے چونک کر کہا۔۔ یہ لڑائی کہاں ہوئی تھی۔۔ ڈوگر چوک میں۔۔ اس نے بتایا۔۔ آئیے میرے ساتھ انسپکٹر جمشید نے اٹھتے ہوئے کہا پھر وہ ان تینوں سے بولے۔۔ تم یہیں ٹھہرو گے کہیں مجرم ہماری عدم موجودگی میں وار نہ کر جائے خان رحمان اور پروفیسر داؤد تم بھی یہیں ٹھہرو۔۔ اوکے سر وہ مسکرائے۔۔ وہ طاؤس جان کے ساتھ اسی وقت ڈوگر چوک پہنچے۔۔ ایک دکان دار سے انہوں نے پوچھا۔۔ چند روز پہلے یہاں دو آدمی لڑ پڑے تھے وہ خنجروں سے لڑ رہے تھے آپ کو کچھ یاد ہے۔۔

ہاں جناب یہ بھی کوئی بھولنے کی بات ہے۔۔ شکریہ پھر کیا ہوا تھا۔۔ کوئی ان کے درمیان بیچ بچاؤ کرانے کی ہمت نہیں کر رہا تھا پھر ایک کار والا رکا اور اس نے ان دونوں کے درمیان پڑ کر انہیں چھڑایا لیکن وہ خود زخمی ہو گیا تھا۔۔ اور ذرا انہیں دیکھیے جن صاحب نے چھڑوایا تھا۔ وہ یہی تو نہیں  تھے۔۔ اس نے چونک کر ان کی طرف دیکھا اور پھر چلا اٹھا بالکل جناب وہ یہی تھے۔۔ شکریہ آئیے جناب چلیں۔۔ دکان دار حیرت بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھتا رہ گیا شاید اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ انہوں نے یہ بات اسے کیوں پوچھی۔۔ جب کہ بیچ بچاؤ کرانے والا خود ان کے ساتھ تھا۔۔ کار میں بیٹھتے ہوئے انسپکٹر جمشید بولے۔۔ اس میں شک نہیں کہ آپ کی بات کی تصدیق ہو گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اس عمارت کے مجرم نہیں ہو سکتے۔۔ کیونکہ ایک زخمی آدمی تو دوبارہ بھی زخمی ہو سکتا ہے۔۔ پھر یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی۔۔ طاؤس جان نے جل کر کہا۔۔ اگر آپ کے بیان کی تصدیق نہ ہو سکتے تو آپ کو اسی وقت گرفتار کر لیا جاتا۔۔ آپ تو مجھے مجرم بنانے پر تل گئے ہیں شاید۔۔ ایسی بات نہیں میں عمارت میں موجود ہر شخص کو مجرم بنانے پر تلا ہوا ہوں۔۔ وہ مسکرائے۔۔ عمارت میں پہنچ کر انہوں نے اعلان کرنے والے انداز میں کہا ان کی بات کی تصدیق ہو گئی ہے۔ یہ اس چوک میں زخمی ہوئے تھے۔۔ چلیے ایک پر سے تو آپ کا شک ختم ہوا۔۔ شک ابھی رفع نہیں ہوا بہر حال بہت حد تک کم ہو گیا ہے ان کے علاوہ کسی اور کے جسم پر زخم ہے نہیں اب یا تو مجرم طاؤس جان ہیں یا پھر کوئی باہر کا آدمی لیکن باہر کے آدمی والی بات بھی حلق سے نہیں اترتی۔۔ حلق سے کیوں نہیں اترتی بھلا کیا آپ کے خیال میں باہر کا کوئی آدمی مجرم نہیں ہو سکتا۔۔ ہو تو سکتا ہے لیکن پھر آپ کو ضرور معلوم ہوتا کہ وہ کون ہے اور کیوں ایسا کرنا چاہتا ہے جب کہ آپ لوگوں کو کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔۔ لیکن عمارت میں موجود اگر کوئی مہمان مجرم ہے یا میزبان مجرم ہے تو بھی باقی لوگوں کو کیا پتا کہ وہ کیوں ایسا کرنا چاہتا ہے۔۔ اس لیے کہ آپ سب لوگ یہ بات بار بار سوچ چکے ہیں کہ ہم سے کوئی بھلا کیوں باقی سب کو ہلاک کرے گا لیکن آپ یہ بات اب تک نہیں سمجھ پائے کہ میں غلط تو نہیں کہ رہا۔۔ نہیں آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔ اب لے دے کے ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہے۔۔اور وہ کیا۔۔ چاروں ملازمین کو بھی چیک کر لیا جائے کیا مطلب ملازمین کو بھلا کسی ملازم کو کیا پڑی ہے ایسا خطرناک کام کرنے کی یہ تو ہم بعد میں سوچیں گے اگر کوئی ان میں سے زخمی ہوا تو۔۔ جیسے آپ کی مرضی کیوں بھئی تم میں سے تو کوئی زخمی نہیں ہے۔۔ نن۔۔۔ نہیں مالی نے گھبرا کر کہا۔۔ اور تم میں سے ؟ نہیں میں تو زخمی نہیں ہوں۔۔ وہ ایک ساتھ بولے۔۔ ڈاکٹر صاحب آپ کو ایک بار پھر زحمت کرنی پڑے گی۔۔ اچھی بات ہے ڈاکٹر صاحب ان کو ساتھ لے کر چلے گئے جلد ہی ان کی واپسی ہوئی یہ بالکل ٹھیک ہیں جسم پر کوئی خراش تک نہیں ہے شکریہ تب پھر اب میں رہ گیا ہوں اور یہ تینوں بھی اور میرے دونوں دوست بھی بہتر ہو گا کہ آپ ہمیں بھی چیک کر لیں۔۔ یہ۔۔۔ یہ  آپ کیا کہہ رہے ہیں بھلا آپ لوگ ایسا کام کیوں کرنے لگے۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔ میرا خیال ہے اس میں کوئی حرج نہیں ڈاکٹر صاحب آپ باری باری ہمیں بھی چیک کر لیں۔۔ میرے خیال میں اس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ڈاکٹر صاحب بولے۔۔ اس کی ضرورت ہے آپ باری باری ہمیں بھی دیکھ ہی لیں تاکہ بات صاف ہو جائے۔۔ جیسے آپ کا حکم۔۔ ڈاکٹر صاحب نے کندھے اچکائے۔۔ انہوں نے باری باری ان سب کو بھی دیکھا اور بولے نہیں آپ میں سے کوئی زخمی نہیں ہے۔۔ چلیے اتنا تو ہوا میرے خیال ہے اب سب کو چیک کیا جا چکا ہے۔۔ نہیں جناب۔ میں ابھی رہتا ہوں آپ مجھے بھول گئے۔۔ انسپکٹر خادم حسین نے ہنس کر کہا۔۔ لیکن آپ کو تو یہاں بعد میں اس مجرم کو پکڑے کے لیے بلایا گیا تھا۔ آپ کا بھلا اس معاملے سے کیا تعلق۔۔ تعلق تو آپ کا بھی نہیں تھا۔۔ پھر آپ نے خود کو کیوں چیک کرایا۔۔ اچھی بات ہے ڈاکٹر صاحب آخری بار اور زحمت کریں انہوں نے کہا ضرور کیوں نہیں۔۔ اور پھر وہ انسپکٹر خادم حسین کے ساتھ اس کمرے میں چلے گئے دو منٹ بعد ان کی واپسی ہوئی انہوں نے کہا۔ نہیں ان کے جسم پر بھی کوئی زخم نہیں ہے تب پھر۔۔ انسپکٹر جمشید نے ڈرامائی انداز میں کہا۔۔ تب پھر کیا ؟ کئی آوازیں ابھریں۔۔ تب پھر اب صرف اور صرف ایک شخص ایسا رہتا ہے جسے چیک نہیں کیا جا سکا۔۔ جی کیا کہا آپ نے بھلا وہ کون ہے ؟ خان بدیع نے کہا وہ ہیں ڈاکٹر صاحب خود۔۔ یہ۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میرا بھلا اس معاملے سے کیا تعلق مجھے تو ابھی ابھی بلایا گیا ہے ڈاکٹر صاحب نے گھبرا کر کہا۔۔ حد ہو گئی بھئی راج دیو نے کہا۔ ڈاکٹر صاحب آپ کو خود کو بھی چیک کرانا ہو گا اور آپ کو چیک کروں گا میں۔۔ کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں۔ انسپکٹر جمشید نے کہا بھلا اس میں اعتراض کی کیا بات ہے کئی آوازیں ابھریں۔۔ میں اپنی یہ ذلت ہمیشہ یاد رکھوں گا انسپکٹر جمشید ڈاکٹر صاحب نے بھنا کر کہا۔۔

ضرور یاد رکھیے گا آئیے میرے ساتھ انہوں نے مسکرا کر کہا اور ڈاکٹر صاحب کو بازو سے پکڑ کر اس کمرے میں لے گئے اب باہر موجود سب لوگ بہت بے قراری کے عالم میں ان کا انتظار کر رہے تھے انہیں تین منٹ انتظار کرنا پڑا آخر دونوں باہر آ گئے انسپکٹر جمشید  کافی فکر مند لگ رہے تھے۔۔ کیا رہا اپ نے تو بہت دیر لگا دی۔۔ ہاں ذرا دیر لگ گئی میں اپنا اطمینان پوری طرح کرنا چاہتا تھا۔۔ پھر ہو گیا آپ کا اطمینان خان بدیع نے برا سا منہ بنایا۔۔ جی ہاں ہو گیا۔۔ گویا ڈاکٹر صاحب کے جسم پر بھی کوئی زخم نہیں ہے خان بدیع بولے۔۔ جی ہاں نہیں ہے زخم وہ بولے بس تو پھر ثابت ہو گیا کہ گھر میں موجود کوئی فرد مجرم نہیں ہو سکتا باہر کا کوئی آدمی ہی مجرم ہے اب آپ اپنی تفتیش اس عمارت سے باہر لے جائیں۔۔اس میں شک نہیں کہ کسی کے جسم پر زخم ثابت نہیں ہو سکا سوائے طاؤس خان کے اور یہ اپنی بے گناہی ثابت کر چکے ہیں پھر بھی۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئے۔۔

پھر بھی کیا ؟

پھر بھی۔۔ یا تو طاؤس جان مجرم ہیں یا کوئی اور لیکن ہیں عمارت میں ہی موجود مجرم باہر کا کوئی آدمی ہرگز نہیں ہے یہ۔۔ یہ آپ کیا کہ رہے ہیں ؟ خان بدیع نے حیرت زدہ انداز میں کہا۔۔ عین اس وقت وہاں ایک دھماکا ہوا۔۔