کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایکٹریس کی آنکھ

منٹو


’’ پاپوں کی گٹھڑی ‘‘ کی شوٹنگ تمام شب ہوتی رہی تھی، رات کے تھکے ماندے ایکٹر لکڑی کے کمرے میں جو کمپنی کے ولن نے اپنے میک اپ کے لئے خاص طور پر تیار کرایا تھا۔ اور جس میں فرصت کے وقت سب ایکٹر اور ایکٹرسیں سیٹھ کی مالی حالت پر تبصرہ کیا کرتے تھے، صوفوں اور کرسیوں پر اونگھ رہے تھے۔ اس چوبی کمرے کے ایک کونے میں میلی سی تپائی کے اوپر دس پندرہ چائے کی خالی پیالیاں اوندھی سیدھی پڑی تھیں جو شاید رات کو نیند کا غلبہ دور کرنے کے لئے ان ایکٹروں نے پی تھیں۔ کمرے کے باہر ان کی بھنبھناہٹ سن کر کسی نووارد کو یہی معلوم ہوتا تھا کہ اندر بجلی کا پنکھا چل رہا ہے۔

دراز قد ولن جو شکل و صورت سے لاہور کا کوچوان معلوم ہوتا تھا۔ ریشمی سوٹ میں ملبوس صوفے پر دراز تھا۔  آنکھیں کھلی تھیں۔ اور منہ بھی نیم وا تھا۔ مگر وہ کراہ رہا تھا۔ اسی طرح، اس کے پاس ہی آرام کرسی پر ایک مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا ایکٹر اونگھ رہا تھا۔ کھڑکی کے پاس ڈنڈے سے ٹیک لگائے ایک اور ایکٹر سونے کی کوشش میں مصروف تھا، کمپنی کے مکالمہ نویس یعنی منشی صاحب ہونٹوں میں بیڑی دبائے اور ٹانگیں میک اپ ٹیبل پر رکھے شاید وہ گیت بنانے میں مصروف تھے جو انہیں چار بجے سیٹھ صاحب کو دکھانا تھا۔

’’ اوئی.... اوئی.... ہائے.... ہائے‘‘

دفعتاً یہ آواز باہر سے اس چوبی کمرے میں کھڑکیوں کے راستے اندر داخل ہوئی ولن صاحب جھٹ سے اٹھ بیٹھے اور اپنی آنکھیں ملنے لگے۔ مونچھوں والے ایکٹر لمبے لمبے کانوں سے ایک ارتعاش کے ساتھ اس نسوانی آواز کو پہچاننے کے لئے تیار ہوئے۔ منشی صاحب نے میک اپ ٹیبل پر سے اپنی ٹانگیں اٹھا لیں اور ولن صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا۔

’’ اوئی، اوئی، اوئی.... ہائے .... ہائے۔‘‘

اس پر ولن ، منشی اور دوسرے ایکٹر جو نیم غنودگی کی، حالت میں تھے چونک پڑے، سب نے کاٹھ کے اس بکس نما کمرے سے اپنی گردنیں باہر نکالیں۔

’’ ارے کیا ہے بھئی۔‘‘

’’ خیر تو ہے!‘‘

’’ کیا ہوا؟‘‘

’’ اماں ، یہ تو.... دیوی ہیں !‘‘

’’ کیا بات ہے!دیوی؟‘‘

جتنے منہ اتنی باتیں .... کھڑکی میں سے نکلی ہوئی گردن بڑے اضطراب کے ساتھ متحرک ہوئی اور ہر ایک کے منہ سے گھبراہٹ میں ہمدردی اور ملے جلے استفسار کےجذبات کا اظہار ہوا۔

’’ ہائے ، ہائے ، ہائے.... اوئی.... اوئی!‘‘

.... دیوی، کمپنی کی ہر دلعزیز ہیروئن کے چھوٹے سے منہ سے چیخیں نکلیں اور باہوں کو انتہائی کرب و اضطراب کے تحت ڈھیلا چھوڑ کر اس نے اپنے چپل پہنے پاؤں کو زور زور سے اسٹوڈیو کی پتھریلی زمین پر مارتے ہوئے چیخنا شروع کر دیا۔

ٹھمکا ٹھمکا بوٹا سا قد۔ گول گول گدرایا ہوا ڈیل کھلتی ہوئی گندمی رنگت، خوب خوب کالی بھوئیں ، کھلی پیشانی پر گہرا کسم کا ٹیکہ.... بال کالے بھنورے سے جو سیدھی مانگ نکال کر پیچھے جوڑے کی صورت میں لپیٹ دے کر کنگھی، کئے ہوئے تھے، ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے شہد کی مکھیاں چھتے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔

کنارے دار سفید سوتی ساڑھی میں لپٹی ہوئی، چولی گجراتی تراش کی تھی، بغیر آستینوں کے جن میں سے جوبن پھٹا پڑتا تھا، ساڑھی بمبئی کی طرز سے بندھی تھی، چاروں طرف میٹھا میٹھا جھول دیا ہوا تھا.... گول گول کلائیاں جس میں کھلی کھلی جاپانی ریشمین چوڑیاں کھنکھنا رہی تھی۔ ان ریشمین چوڑیوں میں کھلی ہوئی ادھر ادھر ولایتی سونے کی پتلی پتلی کنگنیاں جھم جھم کر رہی تھی۔ کان موزوں اور لویں بڑی خوبصورتی کے ساتھ جھکی ہوئیں۔ جن میں ہیرے کے آویزے شبنم کی دو تھراتی ہوئی بوندیں معلوم ہو رہی تھیں۔

چیختی چلاتی اور زمین کو چپل پہنے پیروں سے کوٹتی۔ دیوی نے داہنی آنکھ کو ننھے سے سفید رومال کے ساتھ ملنا شروع کر دیا۔

’’ ہائے میری آنکھ.... ہائے میری آنکھ.... ہائے۔‘‘

کاٹھ کے بکس سے باہر نکلی ہوئی کچھ گردانیں اندر کوہو گئیں اور جو باہر تھیں ، پھر سے ہلنے لگیں۔

’’ آنکھ میں کچھ پڑ گیا ہے؟‘‘

’’ یہاں کنکر بھی بے شمار ہیں .... ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔‘‘

’’ یہاں جھاڑو بھی تو چھ مہینے بعد دی جاتی ہے۔‘‘

’’ اندر آ جاؤ،دیوی۔‘‘

’’ ہاں ،ہاں ،آؤ.... آنکھ کو اس طرح نہ ملو۔‘‘

’’ ارے بابا.... بولا نہ تکلیف ہو جائے گی۔ تم اندر آ جاؤ۔‘‘

آنکھ ملتی ملتی، دیوی کمرے کے دروازے کی جانب بڑھی۔

ولن نے لپک کر تپائی پر سے بڑی صفائی کے ساتھ ایک  رومال میں چائے کی پیالیاں سمیٹ کر میک اپ ٹیبل کے آئینے کے پیچھے چھپا دیں اور اپنی پرانی پتلون سے ٹیبل کو جھاڑ پونچھ کر صاف کر دیا۔باقی ایکٹروں نے کرسیاں اپنی اپنی جگہ پر جما دیں اور بڑے سلیقے سے بیٹھ گئے۔ منشی صاحب نے پرانی ادھ جلی بیڑی، پھینک کر جیب سے ایک سگریٹ نکال کر سلگانا شروع کر دیا۔

دیوی اندر آئی۔ صوفے پر سے منشی اور ولن اٹھ کھڑے ہوئے منشی صاحب نے بڑھ کر کہا۔’’ آؤ،دیوی بیٹھو۔‘‘

دروازے کے پاس بڑی بڑی سیاہ و سفید مونچھوں والے بزرگ بیٹھے تھے۔ ان کی مونچھوں کے لٹکے اور بڑھے ہوئے بال تھرتھرائے اور انہوں نے اپنی نشست پیش کرتے ہوئے گجراتی لہجہ میں کہا: ’’ادھر بیسو۔‘‘

دیوی ان کی تھرتھراتی ہوئی مونچھوں کی طرف دھیان دیئے بغیر آنکھ ملتی اور ہائے ہائے کرتی آگے بڑھ گئی۔ ایک نوجوان جو ہیرو سے معلوم ہو رہے تھے اور پھنسی پھنسی قمیص پہنے ہوئے تھے جھٹ سے ایک چوکی نما کرسی سرکا کر آگے بڑھا دی۔ اور دیوی نے اس پر بیٹھ کر اپنی ناک کے بانسے کو رومال سےرگڑنا شروع کر دیا۔

سب کے چہرے پر دیوی کی تکلیف کے احساس نےایک عجیب و غریب رنگ پیدا کر دیا۔ منشی صاحب کی قوت احساس چونکہ دوسرے مردوں سے زیادہ تھی۔ اس لئے چشمہ ہٹا کر، انہوں نے اپنی آنکھ ملنا شروع کر دی تھی۔

جس نوجوان نے کرسی پیش کی تھی اس نے جھک کر دیوی کی آنکھ کا ملا حظہ کیا اور بڑے مفکرانہ انداز میں کہا۔’’آنکھ کی سرخی بتا رہی ہے کہ تکلیف ضرور ہے۔‘‘

ان کا لہجہ پھٹا ہوا تھا۔ آواز اتنی بلند تھی کہ کمرہ گونج اٹھا۔

یہ کہنا تھا کہ دیوی نے اور زور زور ے چلانا شروع کر دیا۔

اور سفید ساڑھی میں اس کی ٹانگیں اضطراب کا بے پناہ مظاہرہ کرنے لگیں۔

ولن صاحب آگے بڑھے اور بڑی ہمدردی کے ساتھ اپنی سخت کمر جھکا کر دیوی سے پوچھا۔’’ جلن محسوس ہوتی ہے یا چبھن!‘‘

ایک اور صاحب جو اپنے سولا ہیٹ سمیت کمرے میں ابھی ابھی تشریف لائے تھے، آگے بڑھ کر پوچھنے لگے پپو ٹوں کے نیچے رگڑی محسوس نہیں ہوتی۔‘‘

دیوی کی آنکھ سرخ ہو رہی تھی۔ پپوٹے ملنے اور آنسوؤں کی نمی کے باعث میلے میلے نظر آ رہے تھے، چتو نوں میں لال لال ڈوروں کی جھلک، چک میں سے آفتاب غروب کا سرخ سرخ منظر پیش کر رہی تھی۔ داہنی آنکھ کی پلکیں نمی کے باعث بھاری اور گھنی ہو گئی تھی۔ جس سے ان کی خوبصورتی میں چار چاند لگ گئے تھے۔ باہیں ڈھیلی کر کے دیوی نے دکھتی آنکھ کی پتلی نچاتے ہو کہا:۔

’’ آں ....بڑا تکلیپھ ہوتی ہے.... ہائے.... اوئی!‘ ‘ اور پھر سے آنکھ کو گیلے رومال سے ملنا شروع کر دیا۔

سیاہ و سفید مونچھوں والے صاحب نے جو کونے میں بیٹھے تھے۔ بلند آواز میں کہا۔’’ اس طرح آنکھ نہ رگڑو خالی پیلی کوئی اور تکلیپھ ہو جائے گا۔‘‘

’’ہاں ، ہاں .... ارے ، تم پھر وہی کر رہی ہو۔‘‘ پھٹی آواز والے نوجوان نے کہا۔

ولن جو فوراً ہی دیوی کی آنکھ کو ٹھیک حالت میں دیکھنا چاہتے تھے بگڑ کر بولے’’ تم سب بیکار باتیں بنا رہے ہو.... کسی سے ابھی تک یہ بھی نہیں ہوا کہ دوڑ کر ڈاکٹر کو بلا لائے.... اپنی آنکھ میں یہ تکلیف ہو تو پتہ چلے، یہ کہہ کر انہوں نے مڑ کر کھڑکی میں گردن باہر نکالی اور زور زور سے پکارنا شروع کیا۔ ارے.... کوئی ہے.... کوئی ہے....؟گلاب؟گلاب!‘‘

جب ان کی آواز صدا لبصحرا ثابت ہوئی تو انہوں نے گردن اندر کو کر لی اور بڑبڑانا شروع کر دیا۔ خدا جانے ہوٹل والے کا یہ چھوکرا کہاں غائب ہو جاتا ہے.... پڑا اونگھ رہا ہو گا۔ اسٹوڈیو میں کسی تختے پر.... مردو و نابکار۔‘‘پھر فوراً ہی دور اسٹوڈیو کے اس طرف گلاب کو دیکھ کر چلائے۔ جو انگلیوں میں چائے کی پیالیاں لٹکائے چلا آ رہا تھا۔’’ ارے گلاب.... گلاب!‘‘

گلاب بھاگتا ہوا آیا اور کھڑکی کے سامنے پہنچ کر ٹھہر گیا۔ ولن صاحب نے گھبرائے ہوئے لہجے میں اس سے کہا۔’’ دیکھو ایک گلاس میں پانی لاؤجلدی سے.... بھاگو!‘‘

گلاب نے کھڑے کھڑے اندر جھانکا، یہ دیکھنے کے لئے کہ گڑ بڑ کیا ہے.... اس پر ہیرو صاحب للکارے’’ ارے دیکھتا کیا ہے.... لانا گلاس میں تھوڑا سا پانی.... بھاگ کے جا، بھاگ کے جا!‘‘

گلاب سامنے ٹین کی چھت والے ہوٹل کی طرف روانہ ہو گیا۔  دیوی کی آنکھ میں چبھن اور بھی زیادہ بڑھ گئی اور اس کی بنارسی لنگڑے کی کیری ایسی ننھی منی روتی بچے کی طرح کانپنے لگی اور وہ اٹھ کر درد کی شدت سے کراہتی ہوئی.... صوفے پر بیٹھ گئی۔ دستی بٹوے سے ماچس کی ڈبیا کے برابر ایک آئینہ نکال کر اس نے اپنی دکھتی آنکھ کو دیکھنا شروع کر دیا۔ اتنے میں منشی صاحب بولے گلاب سے کہہ دیا ہوتا.... پانی میں تھوڑی سے برف ڈالتا لائے!‘‘

’’ ہاں ، ہاں سرد پانی اچھا رہے گا۔‘‘ یہ کہہ کر ولن صاحب کھڑکی میں سے گردن باہر نکال کر چلائے ’’گلاب.... ارے گلاب .... پانی میں تھوڑی سی برف چھوڑ کے لانا۔‘‘

اس دوران میں ہیرو صاحب جو کچھ سوچ رہے تھے کہنے، لگے’’ میں بولتا ہوں کہ رومال کو سانس کی بھاپ سے گرم کرو اور اس سے آنکھ کو سینک دو، کیوں دادا؟‘‘

’’ ایک دم ٹھیک رہے گا!‘‘ سیاہ و سفید مونچھوں والے صاحب نے سر کو اس بات میں بڑے زور سے ہلائے کہا۔

ہیرو صاحب کھونٹیوں کی طرف بڑھے اپنے کوٹ میں سے ایک سفید رومال نکال کر دیوی کو سانس کے ذریعے سے اس کو گرم کرنے کی ترکیب بتائی اور الگ ہو کر کھڑے ہو گئے دیوی نے رومال لے لیا اور اسے منہ کے پاس لے جا کر گال پھلا پھلا کر سانس کی گرمی پہنچائی۔ آنکھ کو ٹکور دی مگر کچھ افاقہ نہیں ہوا۔

’’ کچھ آرام آیا؟‘‘ سولا ہیٹ والے صاحب نے دریافت کیا۔

دیوی نے رونی آواز میں جوا ب دیا۔’’ نہیں .... نہیں .... ابھی نہیں نکلا.... میں مر گئی....‘‘

اتنے میں گلاب پانی کا گلاس لے کر آگیا، ہیرو اور ولن دوڑ کر بڑھے اور اور  دونوں نے مل کر دیوی کی آنکھ میں پانی چوایا، جب گلا س کا پانی آنکھ کو غسل دینے میں ختم ہو گیا، تو دیوی پھر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اور آنکھ جھپکانے لگی۔

’’ کچھ افاقہ ہوا؟‘‘

’’ اب تکلیف تو نہیں ہے؟‘‘

’’ کنکری نکل گئی ہو گی۔‘‘

’’ بس تھوڑی دیر میں آرام آ جائے گا!‘‘

آنکھ دھل جانے پر پانی کی ٹھنڈک نے تھوڑی دیر کے لئے دیوی کی آنکھ میں چبھن رفع کر دی، مگر فوراً ہی پھر سے اس نے درد کے مارے چلانا شروع کر دیا۔

’’ کیا بات ہے؟‘‘یہ کہتے ہوئے ایک صاحب باہر سے اندر آئے اور دروازے کے قریب کھڑے ہو کر معاملے کی اہمیت کو سمجھنا شروع کر دیا۔

نو وارد کہنہ سال ہونے کے باوجود چست و چالاک معلوم ہوتے تھے۔ مونچھیں سفید تھیں جوبیڑی کے دھوئیں کے باعث سیاہی مائل زرد رنگت اختیار کر چکی تھیں ، ان کے کھڑے ہو نے کا انداز بتا رہا تھا کہ فوج میں رہ چکے ہیں۔

سیاہ رنگ کی ٹوپی سر پر ذرا اس طرف ترچھی پہنے ہوئے تھے، پتلون اور کوٹ کا کپڑا معمولی اور خاکستری رنگ کا تھا۔ کولہوں اور رانوں کے اوپر پتلون میں پڑے ہوئے جھول اس بات پر چغلیاں کھا رہے تھے کہ ان کی ٹانگوں پر گوشت بہت کم ہے ، کالر میں بندھی ہوئی میلی نکٹائی کچھ اس طرح نیچے لٹک رہی تھی کہ معلوم ہوتا تھا وہ ان سے روٹھی ہوئی ہے پتلون کا کپڑا گھٹنوں پر کھچ کر آگے بڑھا ہوا تھا جو یہ بتا رہا تھا کہ اس بے جان چیز سے بہت بڑا کام لیتے رہے ہیں ، گال بڑھاپے کے باعث پچکے ہوئے آنکھیں ذرا اندر کو دھنسی ہوئیں ، جو بار بار شانوں کی جنبش کے ساتھ سکیڑ لی جاتی تھیں۔

آپ نے کاندھوں کو جنبش دی اور ایک قدم آگے بڑھ کر کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا۔’’ کنکر پڑ گیا ہے؟‘‘ اور اثبات میں جواب پا کر دیوی کی طرف بڑھے۔ ہیرو اور ولن کو ایک طرف ہٹنے کا اشارہ کر کے آپ نے کہا۔’’ پانی سے آرام نہیں آیا.... خیر.... رومال ہے کسی کے پاس؟‘‘

نصف درجن رومال ان کے ہاتھ میں دے دئیے گئے، بڑے ڈرامائی انداز میں آپ نے ان پیش کردہ رومالوں میں سے ایک منتخب کیا اور ان کا ایک کنارہ پکڑ کر دیوی کو آنکھ پر سے ہاتھ اٹھا لینے کا حکم دیا۔

جب دیوی نے ان کے حکم کی تعمیل کی تو انہوں نے جیب میں سے مداری کے سے انداز میں ایک چرمی بٹوا نکالا اور اس میں سے اپنا چشمہ نکال کر کمال احتیاط سے ناک پر چڑھا لیا، پھر چشمے کے شیشوں میں سے دیوی کی آنکھ کا دور ہی سے اکڑ کر معائنہ کیا۔ پھر دفعتاً فوٹو گرافر کی سی پھرتی دکھاتی ہوئے آپ نے اپنی ٹانگیں چوڑی کیں اور اور جب انہوں نے اپنی پتلی پتلی انگلیوں سے دیوی کے پپوٹوں کو وا کرنا چاہا تو ایسا معلوم ہوا کہ وہ فوٹو لیتے، وقت کیمرے کا لینس بند کر رہے ہیں۔

دو تین مرتبہ ڈرامائی انداز سے اپنے کھڑے ہونے کا رخ بدل کر انہوں نے دیوی کی آنکھ کا معائنہ کیا اور پھر پپوٹے کھول کر بڑی آہستگی سے رومال کا کنارہ ان کے اندر داخل کر دیا....’’ حاضرین‘‘ خاموشی سے اس عمل کو دیکھتے رہے۔

پانچ منٹ تک کمرے میں قبر کی سی خاموشی طاری رہی۔ آنکھ صاف کرنے کے بعد اسی ڈرامائی انداز میں فوٹو گرافر صاحب نے.... چونکہ وہ بزرگ فوٹو گرافر ہی تھے.... چشمہ اتار کر چرمی بٹوے میں رکھ کر دیوی سے کہا۔’’ اب کنکر نکل گیا ہے۔ تھوڑی دیر میں آرام آ جائے گا!‘‘

دیوی نے آنکھ کے پپوٹوں کو انگلیوں سے چھوا اور ننھا سا آئینہ نکال کر اپنا اطمینان کرنے لگی۔

’’ کنکری نکل گئی نا؟‘‘

’’اب تو درد محسوس نہیں ہوتا!‘‘

’’ سالا، اب نکل گیا ہو گا.... بہت دکھ دیا ہے اس نے!‘‘

’’ دیوی.... اب طبیعت کیسی ہے؟‘‘

یہ شور سن کر فوٹو گرافر صاحب نے کاندھوں کو زور سے جنبش دی اور کہا۔’’ تم سارا دن کوشش کرتے رہتے مگر کچھ نہ ہوتا.... ہم فوج میں پچیس سال بھاڑ نہیں جھونکتا رہا.... یہ سب کام جانتا ہے.... کنکر نکل گیا ہے، اب صرف جلن باقی ہے، وہ بھی دور ہو جائے گی۔‘‘

یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ دیوی جو آئینے میں رونی صورت بنائے اپنا اطمینان کر رہی تھی، ایکا ایکی مسکرائی اور پھر کھلکھلا کر ہنس دی.... چوبی کمرے میں مترنم تارے بکھر گئے۔

’’ اب آرام ہے.... اب آرام ہے۔‘‘ یہ کہہ کر دیوی سیٹھ کی جانب روانہ ہو گئی جو ہوٹل کے پاس اکیلا کھڑا تھا اور سب لوگ دیکھتے رہ گئے۔

ہیرو صاحب صوفے پر بیٹھنے لگے تو منشی صاحب کی ران نیچے دب گئی آپ بھنا گئے۔’’ اب کیا پھر سونے کا ارادہ ہے۔ چلو بیٹھو۔‘‘ مجھے کل والے سین کے ڈائیلاگ سناؤ۔‘‘

ہیرو کے دماغ میں اس وقت کوئی اور ہی سین تھا۔

٭٭٭