کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نا مکمل تحریر

منٹو


میں جب کبھی ذیل کا واقعہ یاد کرتا ہوں ، میرے ہونٹوں میں سوئیاں سی چبھنے لگتی ہیں۔

ساری رات بارش ہوتی رہی تھی۔جس کے باعث موسم خنک ہو گیا تھا۔ جب میں صبح سویرے ہوٹل سے باہر نکلا تو دھلی ہوئی پہاڑیوں اور نہائے ہوئے ہر ے بھرے پیڑوں کی تازگی دیکھ کر طبیعت پر وہی کیفیت پیدا ہوئی جو خوبصورت کنواریوں کے جھرمٹ میں بیٹھنے سے پیدا ہوتی ہے۔

بارش بند تھی البتہ ننھی ننھی پھوار پڑ رہی تھی۔ پہاڑیوں کے، اونچے اونچے درختوں پر آوارہ بد لیاں اونگھ رہی تھیں۔ گویا رات بھر برسنے کے بعد تھک کر چور چور ہو گئی ہیں۔

میں چشمے کی طرف روانہ ہوا۔ کاندھے پر تولیہ تھا۔ ایک ہاتھ میں صابن دانی تھی، دوسرے میں ، نیکر، جب سڑک کا موڑ طے کرنے لگا تو آنکھوں کے سامنے دھند ہی دھند نظر آئی بادل کا ایک بھولا بھٹکا ٹکڑا تھا جو شاید آسمانی فضا سے اکتا کر ادھر آ نکلا تھا اس بادل نے سڑک کے دوسرے حصے کو آنکھوں سے بالکل اوجھل کر دیا تھا۔ میں نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ وہاں بھی سپیدی ہی نظر آئی اور معلوم ہوا کہ اوپر سے کوئی دھنکی ہوئی روئی بکھیر رہا ہے!

اتنے میں ہوا کے تیز جھونکوں نے اس سپیدی میں ارتعاش پیدا کیا اور اس دھند میں سے بخارات علیحدہ ہونے لگے اور میری ننگی باہوں سے مس ہوئے۔ برف سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کی سردی کے احساس سے وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو ان بخارات نے پیدا کی۔

اس بادل میں سے گذرتے وقت سانس کے ذریعے سے یہ سپید سپید بخارات میرے اندر داخل ہو گئے، جس سے پھیپھڑوں کو بڑی راحت محسوس ہوئی۔ میں نے جی بھر کے اس سے لطف اٹھایا۔ جب بادل کے اس ٹکڑے کو طے کر کے میں باہر آیا تو آنکھوں کو کچھ سجھائی نہ دیا۔ میرے چشمے کے شیشے کاغذ کے مانند سفید ہو گئے تھے۔ پھر ایکا ایکی مجھے سردی محسوس ہونے لگی اور جب میں نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا تو وہ شبنم آلود تکئے کی طرح گیلے ہو رہے تھے!

میں غسل خانے کے معاملے میں بہت سست ہوں اور سردیوں کے موسم میں تو روزانہ غسل کا میں بالکل قائل نہیں ہوں۔ دراصل نہانے دھونے کا فلسفہ میری سمجھ سے ہمیشہ بالا تر رہا ہے۔ غسل کا مطلب یہ ہے کہ غلاظت دور کی جائے اورروزنہانے کا مطلب یہ ہوا کہ آدمی رات.... میں غلیظ اور گندہ ہو جاتا ہے۔ ہاتھ منہ دھو لیا جائے، پیر صاف کر لئے جائیں سر کے بال دھو لئے جائیں۔ اس لئے کہ یہ سب چیزیں ، جلدی میلی ہو سکتی ہیں۔ مگر ہر روز بدن کیوں صاف کیا جائے، جب کہ یہ بہت دیر کے بعد میلا ہوتا ہے۔ گرمیوں میں تو خیر میں نہانے کا مطلب سمجھ سکتا ہوں۔ مگر سردیوں میں اس کا مصرف مجھے نظر نہیں آتا۔ آخر کیا مصیبت پڑی ہے کہ ہر روز صبح سویرے انسان غسل خانے میں جائے۔ سردی کے مارے پورے دو گھنٹوں تک دانت بجتے رہیں ، انگلیاں سن ہو جائیں اور ناک برف کی ڈلی بن جائے.... غسل نہ ہوا۔ اچھی خاصی مصیبت ہوئی۔

غسل کے بارے میں اب بھی میرا یہی خیال ہے، لیکن جس پہاڑی گاؤں کا میں ذکر کر رہا ہوں ، وہاں کی فضا ہی کچھ اس قسم کی تھی کہ جو چیز مجھے اب مہمل نظر آتی ہیں یا اس سے پہلے نظر آیا کرتی تھیں وہاں بامعنی دکھائی دیتی تھیں .... اس غسل ہی کو لیجئے جو اس پہاڑی گاؤں میں جتنا عرصہ میں رہا ہر روز میرا کام پہلا یہ ہوتا تھا کہ نہاؤں ،دیر تک نہاتا رہوں۔

چشمے پر پہنچ کر میں نے کپڑے اتارے، نیکر پہنی اور جب پانی کی اس گرتی ہوئی دھار کے پاس گیا جو پتھروں پر گر کر ننھے ننھے چھینٹے اڑا رہی تھی تو پانی کی ایک سرد بوند میری پیٹھ پر آ پڑی۔ میں تڑپ کر ایک طرف ہٹ گیا۔ جہاں بوند گری تھی اس جگہ گدگدی پر کار کی نوک کی طرح چبھی اور سارے جسم پر پھیل گئی۔ میں سمٹا، کانپا اور سوچنے لگا مجھے واقعی نہانا چاہئے۔ یا کہ نہیں۔ قریب تھا کہ میں باغی ہو جاؤں۔لیکن آس پاس نگاہ دوڑائی تو ہر شے نہائی ہوئی نظر آئی۔ چنانچہ جو باغیانہ خیال میرے دماغ میں اس شریر بوند نے پیدا کئے تھے ٹھنڈے ہو گئے۔

سرد پانی کی گدگدیاں شروع شروع میں تو مجھے بہت ناگوار گذریں۔ مگر جب میں جی کڑا کر کے نیچے بیٹھ گیا تو لطف آیا کہ بیان نہیں کر سکتا۔ دونوں ہاتھ کے ساتھ زور زور سے پانی کے چھینٹے اڑانے سے سردی کی شدت کم ہو جاتی ہے، چنانچہ جب میں نے یہ گُر معلوم کر لیا تو پھر اس لطف میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔

سرد پانی کی موٹی دھار نے عجیب کیفیت پیدا کر دی.... پھر جب پانی کے دباؤسے بال پیشانی پر سے نیچے لٹک آئے اور انہوں نے آنکھوں اور منہ میں گھسنا شروع کر دیا تو زور زور سے پھونکیں مار کر ان کو ہٹانے کی ناکام سعی نے مزا اور بھی دوبالا کر دیا۔ کبھی کبھی ڈوب کر ابھرتے ہوئے آدمی کا احساس بھی مجھے ہوا۔ اور میں نے سوچا کہ جو لوگ ڈوب کر مر جاتے ہیں ان کو ایسی موت میں بے حد لطف آتا ہو گا۔ چشمے کا پانی آنسوؤں کی طرف شفاف تھا مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میرے ارد گرد بلبلوں اور پانی کے چھینٹوں کا مشاعرہ ہو رہا ہے۔

غسل سے فارغ ہو کر میں نے تولئے سے بدن پونچھا اور سردی کا احساس کم کرنے کے لئے دھیمے دھیمے سروں میں ایک گیت گنگنا نا شروع کر دیا۔ کبھی کبھی یہ سریلی گنگناہٹ ہوا کے جھونکوں سے مرتعش ہو جاتی اور میں یہ سمجھتا کہ میرے بجائے کوئی اور آدمی بہت دور گا رہا ہے۔  اس پر میں تولئے کو زیادہ زور کے ساتھ بدن پر ملنے لگا۔

بدن خشک ہو گیا تو میں نے کپڑے پہنے اس اثناء میں بوندا باندی شروع ہو گئی۔  میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔میرے عین اوپر بادل کا ایک ٹکڑا سفنج نما چھتری کی طرح پھیلا ہوا تھا، میں نے جلدی جلدی پہاڑی پر سے اترنا شروع کیا اور فوراً ہی کودتا پھاندتا سڑک میں اتر آیا متوقع بارش سے بچنے کے لئے میں نے قدم تیز کر دیئے۔ لیکن ابھی سڑک پر بمشکل ایک جریب کا فاصلہ طے کرنے پایا تھا کہ اے بکری بکری‘‘ کی آواز بلند ہوئی، پھر اس کے ساتھ ہی دو پہاڑیوں نے اس آواز کو دبوچ کر دوبارہ ہوا میں اچھال دیا۔ میرے جی میں آئی کہ میں بھی اس آواز کو گیند کی طرح دبوچ لوں اور ہمیشہ کے لئے اپنی جیب میں ڈال لوں۔

میں ٹھہر گیا۔ وہی مانوس دل صدا تھی جو اس سے قبل میں کئی مرتبہ سن چکا تھا بظاہر’’ اے بکری بکری۔‘‘ تین معمولی لفظ ہیں۔ اور کاغذ پر کوئی ایسا تصور پیش نہیں کرتے جو اُلّو کہا حسین ہو مگر واقعہ ہے کہ میرے لئے ان میں سب کچھ تھا جو روح کو مسرور کر سکتا ہے۔ جوں ہی یہ آواز میری سماعت سے مس ہوتی.... مجھے یہ معلوم ہوتا کہ پہاڑ کی چھاتی میں سے صدیوں کی رکی ہوئی آواز نکلی ہے.... اور سیدھی آسمان تک پہنچ گئی ہے۔

’’ اے‘‘ بالکل دھیمی آواز میں اور ’’ بکری بکری‘‘ بلند اور فلک رس سروں میں ایک لمحہ کے لئے یہ نعرہءِشباب پہاڑیوں کی سنگین دیواروں میں گونجتا، ڈوبتا، ابھرتا، تھرتھراتا اور رباب کے تاروں کی آخری لرزش کی طرح کانپتا فضا میں گھل مل جاتا۔

کالی کالی بدلیاں چھا رہی تھیں۔ فضا نم آلود تھی، ہوا کے جھونکوں نے اس نمی میں غنودگی کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ میں نے اوپر پہاڑی پر اگی ہوئی ہری ہری جھاڑیوں کی طرف دیکھا اور ان کے عقب میں مجھے دو تین بکریاں نظر آئیں میں نے اوپر چڑھنا شروع کر دیا۔ ایک منہ زور بکری، وزیر کو گھسیٹے لئے جا رہی تھی اور وہ اس کو ڈانٹنے کے لئے’’ اے بکری، بکری۔‘‘ پکار رہی تھی۔ اس کا منہ غصہ اور زور لگانے کے باعث پگھلتے ہوئے تانبے کی رنگت اختیار کر گیا تھا۔ بکری کے گلے میں بندھی ہوئی رسی کو پوری طاقت سے کھینچنے میں اس کا سینہ غیر معمولی  طور پر عریاں ہو گیا تھا، سر پیچھے جھکایا تھا۔ دونوں ہاتھ آگے بڑھے ہوئے سر پر سے دوپٹہ اتر کر باہوں میں چلا آیا تھا۔ پیشانی پر، سیاہ بالوں کی لٹیں بل کھاتی ہوئی سنپولیاں معلوم ہو رہی تھیں۔

ایک سبز جھاڑی کے پاس پہنچ کر بکری دفعتاً ٹھہر گئی اور اس کے نرم نرم پتوں کو اپنی تھو تھنی سے سونگھنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر وزیر نے اطمینان کا سانس لیا اور اپنا اترا ہوا دوپٹہ ایک بڑے سے پتھر پر رکھ کر اس نے پاس والے درخت کے تنے سے بکری کے گلے میں بندھی ہوئی رسی باندھی اور دوسرے پیڑ کی جھکی ہوئی ٹہنی پکڑ کر جھولا جھولنے لگی۔

میں جھاڑیوں کے پیچھے کھڑا تھا۔ بازو اوپر اٹھانے کے باعث اس کی کھلی آستینیں نیچے ڈھلک آئیں ، کپڑے کے چھلکے جب اترے تو اس کے بازو کندھوں تک عریاں ہو گئے۔ بڑی خوبصورت باہیں تھیں ، یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہاتھی کے دو بڑے دانت اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں ، بے داغ ہموار اور زندگی سے بھر پور۔

وہ جھولا جھول رہی تھی اور اس کے دونوں بازو کچھ اس انداز سے اوپر کی جانب اٹھے ہوئے تھے کہ مجھے یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ وہ آسمان کی طرف پرواز کر جائے گی۔ جھاڑیوں کے عقب سے نکل کر میں اس کے سامنے آ گیا۔ دفعتاً اس نے میری طرف نگاہیں اٹھائیں۔ سٹپٹائی اور ٹہنی کو اپنی ہاتھوں کی گرفت سے آزاد کر دیا۔ گری سنبھلی اور حلق میں سے ایک مدھم چیخ نکالتی دوڑ کر دوپٹہ لینے کے لئے پتھر کی طرف بڑھی.... مگر دوپٹہ میری بغل میں تھا۔

اس نے دوپٹہ کی تلاش میں یہ جانتے بوجھتے کہ وہ میرے بغل میں ہے ادھر ادھر دیکھا اور مسکرا دی اور اس کی آنکھوں میں حیا کے گلابی ڈورے ابھر آئے۔ گال، اور سرخ ہو گئے اور وہ سمیٹنے کی کوشش کرنے لگی۔ دونوں بازوؤں کی مدد سے اس نے اپنے سینے کی شوخیوں کو چھپا لیا اور انہیں ، اور زیادہ چھپانے کی کوشش کرتی اور پتھر پر بیٹھ گئی اور اس پر بھی جب اسے اطمینان نہ ہوا تو اس نے گھٹنے اوپر کر لئے اور مجھ سے بگڑ کر کہنے لگی۔

یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔’’ میرا دوپٹہ لائیے۔‘‘

میں بڑھا اور بغل میں سے دوپٹہ نکال کر اس کے گھٹنے پر رکھ دیا، مجھے اس کے بیٹھنے کا انداز بہت پسند آیا، چنانچہ میں بھی اسی طرح اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کی طرف غور سے دیکھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وزیر جوان آوازوں  کا ایک بہت بڑا انبار ہے اور میں .... اور میں خدا معلوم کیا ہوں اس کو ہاتھ لگاؤں تو وہ باجے کی طرح بجنا شروع ہو جاوے گی ایسے سر اس میں سے نکلیں گے جو مجھے بہت اوپر لے جائیں گے، اور زمین و آسمان کے درمیان کسی ایسی جگہ معلق کر دیں گے جہاں میں کوئی آواز نہ سن سکوں گا۔

وزیر نے مجھے جنگلی بلی کی طرح گھور کر دیکھا گویا کہنا چاہتی ہے اب جاؤ۔ یہاں دھرنا دے کر کیوں بیٹھ گئے ہو، میں نے اس کے اس خاموش حکم کی کوئی پرواہ نہ کی اور کہا:۔

چشمے سے واپس آ رہا تھا کہ تمہاری آواز سنی بے اختیار کھنچا چلا آیا وزیر .... تمہاری یہ آواز مجھے یقیناً پاگل بنا دے گی.... جانتی ہو....پاگل آدمی بڑے خطر ناک ہوتے ہیں۔‘‘

میری یہ بات سن کر اس کو حیرت ہوئی۔’’ یہ کیا پاگل پن ہے.... میری آواز کسی کو کیوں پاگل بنانے لگی۔‘‘

میں نے کہا۔’’ جیسے کچھ جانتی ہی نہیں ہو.... دنیا میں یہ راگ راگنیاں کہاں سے آئی ہیں .... لیکن چھوڑ و اس قصے کو یہ بتاؤمیری ایک بات مانو گی؟‘‘

مان لوں گی، پر آپ یہ تو کہئے کہ بات کیا ہے؟‘‘

’’ ایک دفعہ میری خاطر’’ اے، بکری بکری، کا نعرہ بلند کرو۔‘‘

’’ مجھے ہاتھ سے دھکا دے کر اس نے تیز لہجے میں کہا۔ یہ کیا پاگل پن ہے، بنانے کے لئے ، صرف میں ہی ایک رہ گئی ہوں۔‘‘

وزیر، بخدا میں تمہیں بنا نہیں رہا۔مجھے تمہاری آواز پسند ہے۔جھوٹ کہوں تو.... لے اب مان بھی جاؤ،بس ایک بار!‘‘

’’ جی نہیں۔‘‘

’’ میں تم سے التجا کرتا ہوں۔‘‘

’’ میں نے یہ آواز نہ کبھی نکالی ہے۔ اور نہ اب نکالوں گی۔‘‘

’’ میں ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں۔‘‘

’’ یا اللہ.... یہ کیا مصیبت ہے۔‘‘ وزیر نے اپنا بدن سکیڑ لیا۔’’ اور اگر میں نہ مانوں تو.... یعنی یہ بھی کیا ضروری ہے کہ میں اسی وقت آپ کے کہنے پر بے کار چلانا شروع کر دوں .... آپ تو خواہ مخواہ چھیڑخانی کر رہے ہیں اور میں نگوڑی جانے کیا سمجھ رہی ہوں .... بھئی ہو گا، مذاق اچھا نہیں لگتا۔‘‘

’’ وزیر! میں نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہا۔’’ میری، طرف دیکھو.... میرے چہرے سے تم اس بات کا اطمینان کر سکتی ہو کہ میں ہنسی مذاق نہیں کر رہا۔ ‘‘

اس نے میرے چہرے کی طرف مصنوعی غور سے دیکھا اور میری ناک پر انگلی رکھ کر کہا۔’’ آپ کی ناک پر یہ ننھا سا تل کتنا بھلا دکھائی دیتا ہے۔‘‘

اس وقت میرے جی میں آئی کہ اس پتھر پر جس پر وہ بیٹھی ہے، میں اپنی ناک گھسانا شروع کر دوں ، تاکہ وہ ننھا سا تل ہمیشہ کے لئے مٹ جائے۔ وزیر نے میری طرف، دیکھا تو وہ یہ سمجھی کہ میں روٹھنے کا ارادہ کر رہا ہوں ، چنانچہ اس نے فوراً اپنی بکریوں کی طرف دیکھا اور مجھ سے کہا۔’’ بابا آپ خفا نہ ہو جایئے....‘‘

قریب تھا کہ وہ مخصوص آواز بلند کرے۔ کہ ایکا ایکی، جھجک اس پر غالب آ گئی۔ بہت زیادہ شرما کر اس نے اپنی گردن جھکا لی۔’’ پر میں پوچھتی ہوں ، کہ اس میں خاص بات ہی کیا ہے!‘‘

میں نے بگڑ کر کہا۔’’ وزیر،تم اب باتیں نہ بناؤ۔‘‘

دوسری طرف منہ کر کے اس نے ایکا ایکی بلند آواز میں ’’ اے بکری‘‘ پکارا۔ اس کے بعد شرمیلی ہنسی کا ایک فوارہ سا اس کے منہ سے پھوٹ پڑا۔ میں بلندیوں میں پرواز کر گیا.... کتنی صاف اور شفاف آواز تھی۔ دھلی ہوئی فضا میں اس کی گونج دیر تک دور، نظر سے اوجھل ہو جانے والے پرندوں کے پروں کی طرح چمکتی رہی، پھر جذب ہو گئی۔

وزیر کی طر ف میں نے دیکھا۔ کہ اب وہ خاموش تھی۔ اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر صاف تھا۔ آنکھیں ، نہائی ہوئی چڑیوں کی طرح بے قرار تھیں۔ ہنسنے کے باعث ان میں آنسو بھر آئے۔ہونٹ اس اندازسے کھلے ہوئے تھے کہ میرے ہونٹوں میں سرسراہٹ پیدا ہو گئی.... خدا معلوم کیا ہوا.... میں نے وزیر کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ اس کا سر میری گودی میں ڈھلک آیا۔.... لیکن ایکا ایکی زور سے وہ اپنا بازو میرے جھکے ہوئے سر اور اپنے متحیر چہرے کے درمیان لے آئی۔ اور دھڑکتے ہوئے لہجے میں کہنے لگی’’ آہ ہٹائیے،ہٹائیے ان ہونٹوں کو!‘

میری گود سے نکل کر وہ بھاگ گئی اور میرے ہونٹوں کی تحریر نامکمل رہ گئی۔

اس واقعہ کو ایک زمانہ گذر چکا ہے۔ مگر جب کبھی میں اس کو یاد کرتا ہوں۔ تو میرے ہونٹوں میں سوئیاں سی چبھنے لگتی ہیں .... یہ نامکمل بوسہ ہمیشہ میرے ہونٹوں پر اٹکا رہے گا۔‘‘

٭٭٭