کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خود کفیل

احسان بن مجید


ائیر پورٹ سے گاڑی اس کو کمپنی کی رہائش گاہ تک لے گئی تھی۔ اس کو دیکھتے ہی وہاں پہلے سے موجود بہت سے لوگوں نے اس کے گرد ہالہ بنا لیا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کوئی ماورائی مخلوق ہو یا جیسے کوئی چور پکڑا جائے۔ ان میں اکثر اس کے ہم وطن تھے جو اس سے مختلف النوع سوال کر رہے تھے ، کچھ اس سے ڈاک خانہ ملانے کی فکر میں تھے کہ پردیس میں اپنے ملک کے علاوہ اپنے علاقہ کا آدمی مل جائے تو بڑا آسرا ہو جاتا ہے۔

          رہائش گاہ کے انچارج سے ملاقات کے بعد اسے ایسے کمرے میں بھیج دیا گیا جس میں پہلے سے دو آدمی رہ رہے تھے۔ دونوں نے اس سے مصافحہ کیا اور اپنے پاس بٹھا لیا۔ اس نے دیکھا خاصا بڑا کمرہ تھا ، تین آدمی بہ آسانی رہ سکتے تھے۔ پھر اس کی نظر ایک خالی پلنگ اور اس کے ساتھ پڑے سائیڈ ٹیبل اور ایک بڑی آہنی الماری پر پڑی۔ تینوں چیزیں نئی تھیں لیکن پلنگ پر پڑے گدے کا جواب ہی نہیں تھا۔ اس نے سوچا یہ سارا انتظام کمپنی نے صرف اس کی خاطر کیا ہے۔ کمرے میں ائیر کنڈیشنر بھی لگا تھا اور ایک کونے میں فرج بھی رکھا تھا۔ اسے خیال آیا یہاں تو لوگ بڑی شاہانہ زندگی گذار رہے ہیں۔ دن بھر کی محنت کے بعد اگر رات آرام سے کٹ جائے تو انسان اگلے دن کی مشقت کے لئے تازہ ہو جاتا ہے۔ وہ جس ماحول سے آیا تھا وہاں ایسی کوئی چیز نہیں تھی۔ پلنگ کی جگہ بان کی چارپائی جس پر وہ اپنا تھکن سے چور جسم پھینکتا تو ایک الگ اذیت سے دو چار ہو جاتا لیکن جانے اس اذیت میں بھی کیسی راحت تھی کہ لیٹتے ہی اسے اونگھ سی آ جاتی۔ ائیر کنڈیشنر کا نام اس نے سن رکھا تھا لیکن دیکھا ایسے ہی نہیں تھا جیسے اس کے باپ دادا نے۔ اسے کچھ یاد پڑتا تھا کہ بچپن میں ماں اس کی شرارتوں سے تنگ آ کر اس کی پیٹھ پر ایک چیت لگاتے ہوئے اسے دبوچ کر اپنے پہلو میں لٹا لیتی اور کائی کے پٹھوں سے بنی پنکھی اسے جھلاتی رہتی۔ ماں کے چیت سے اسے درد تھوڑی ہوتا تھا۔ وہ تو یونہی اسے ڈرانے کے لئے ایسا کرتی تھی۔ ماں یوں ہی اسے پنکھی جھلاتی رہتی اور وہ اس کی بغل میں شرارتیں کرتے ہوئے نیند کے پالنے میں چلا جاتا۔ اس وقت یہی پنکھی ائیر کنڈیشنر ہوا کرتی تھی۔ اس کی نظر فرج پر جاٹکی تھی۔ اس نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ فرج ایک مشین کا نام ہے جو پانی ٹھنڈا کرتی ہے لیکن پتہ نہیں ویسا ٹھنڈا ہوتا ہے کہ نہیں جیسا اس کے گھر میں کنویں کا ہے اور پھر اسے گھر میں گزارے کئی دن یاد آئے۔ اسے جب بھی پیاس لگتی ماں چلچلاتی دھوپ میں اس کے لئے کنویں سے پانی کا ڈول نکال لاتی ، وہ کٹورا بھر کے پیتا اور کلیجہ ٹھنڈا کر لیتا۔ سائیڈ ٹیبل جیسی تو کوئی چیز اس کے گھر میں نہیں تھی اور بڑی الماری ، یہ سوچ کر مسکراہٹ اس کے ہونٹوں تلے دب کر رہ گئی تھی۔ اس کے گھر میں ٹین کی چادر کے دو پرانے بکسے تھے جو شاید اس کی ماں جہیز میں لائی تھی ، وہ بکسے کبھی تو نئے رہے ہوں گے۔

          اس کے روم میٹ باتیں کرتے کرتے اچانک خاموش ہو کر اس کا منہ تکنے لگے تھے۔ ایک نے اس سے کوئی بات کہی جو اسے سمجھ نہیں آئی تھی ، دوسرے نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہا ، یہ عربی بول رہا ہے تمہیں بھی مہینہ بھر میں آ جائے گی لیکن یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے انگریزی سے بھی کام چل جاتا ہے تم گھبرانا نہیں ورنہ پردیس کا ایک پل صدی بن جاتا ہے فی الحال تم اٹھو اور غسل کر لو پھر کھانا کھانے میس چلیں گے۔

          انگریزی سے بھی کام چل جاتا ہے ! اس نے سوچا ، یہ واحد مضمون تھا جس کی وجہ سے وہ دوبارہ آٹھویں میں فیل ہونے کے بعد ایک موٹر مکینک کے پاس کام سیکھنے لگ گیا تھا ار پھر دس سال میں اس نے کون سے گرم سرد نہیں دیکھے اور سہے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ ہر قسم کی گاڑی کے انجن کا ماہر مکینک ہو گیا تھا اسی لئے استاد نے اس کو کہیں بھی کام کرنے کی اجازت دے دی تھی یوں ایک نیم سرکاری محکمے میں ملازمت کے لئے انٹرویو لیتے ہوئے صاحب نے اس سے ایک ہی سوال کیا تھا ، آپ کس کس گاڑی کے انجن پر کام کر سکتے ہیں۔

          تب اس نے کہا تھا صرف دو انجنوں پر کام کرنے کا موقع نہیں ملا ، ایک ریل گاڑی کا اور دوسرا ہوئی جہاز کا ! اس کے اس جواب سے خوش ہو کر صاحب نے اس کو ملازمت دے دی تھی۔ وہ تو اسے بعد میں پتہ چلا کہ صاحب کو سرکاری خرچ پر ایک ذاتی نوکر کی ضرورت تھی۔ وقت گذرنے کے ساتھ اس پر انکشاف بھی ہوا کہ دفتر کے لان میں کھڑی ایک سال سے خراب گاڑی بھی اسی محکمے کی ہے۔ یہ گاڑی جس میں اب پرندوں نے گھونسلے بنانے شروع کر دیئے تھے ٹھیک کیوں نہیں ہو سکی تھی۔ وہ اس پر چند لمحے سوچنے کے بعد خالی الذہن ہو گیا تھا۔ چند ماہ تک وہ صاحب کے بچوں کے بستے اٹھائے انہیں سکول چھوڑ آتا اور چھٹی کے وقت واپس لے آتا لیکن جب ہر ماہ اس کی تنخواہ سے پانچ سو روپے بغیر کسی وجہ کے کاٹ لئے جاتے تو اسے بڑا دکھ ہوتا۔ بالآ خر تنگ آ کر اس نے نوکری چھوڑ دی لیکن اسے اپنی اس حماقت کا احساس اس وقت ہوا جب سات ماہ تک اسے کہیں بھی نوکری نہیں مل سکی تھی اور حالات دن بدن خراب ہو رہے تھے۔ ماں بھی اسی وجہ سے پریشان رہنے لگی تھی۔ آخر اس نے ملک سے باہر جانے کی ٹھان لی۔

          وہ جوان تھا اور خوبصورت بھی ، جب سے اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بال سنوارنا شروع کئے اور غفلت کی نیند سونے لگا ماں کی نیند اڑ گئی  اور  اگر کبھی رات کو اس کی آنکھ لگ بھی جاتی تو آنکھ کھلتے ہی وہ سر اٹھا کر پہلے بیٹے کو دیکھتی۔ اتنی حفاظت تو لوگ بیٹیوں کی بھی نہیں کرتے لیکن وہ جانتی تھی کہ یتیم ایک بار بگڑ جائے تو کم ہی سدھرتا ہے۔ وہ تو خدا کا شکر ہوا کہ اس کا بیٹا آوارہ نہیں تھا ورنہ اپنی زندگی کے ساتھ اسے ایک اور عذاب پالنا پڑ جاتا۔ اس نے جب ماں کے سامنے باہر جانے کا اظہار کیا تھا تو جیسے ماں کی جان میں جان آ گئی تھی۔ کون ماں ہو گی جو اپنے اکلوتے لخت جگر کو نظروں سے اوجھل کرنا چاہے گی مگر گاؤں کے خراب ماحول کے پیش نظر اس کے بیٹے کے لئے یہی بہتر تھا  اور پھر اکیلا گھوڑا یہاں کتنا دوڑتا اور کتنی دھول اڑاتا ، یہاں کی کمائی سے تو صرف پیٹ کے دوزخ کو ایندھن مہیا ہو سکتا تھا یا تن ڈھانپنے کا بندوبست ممکن تھا لیکن کچھ پس انداز کرنے کا تصور بھی محال تھا اور جب سے اس نے بیٹے کی مسیں کالی ہوتی دیکھ لی تھی تب سے اس کے من میں ایک خوبصورت سی خواہش چٹکیاں بھرنے لگی تھی اور ایک سوہنا سا چہرہ اس کے شعور میں بس کر رہ گیا تھا۔ بیٹا باہر جائے گا تو اس کی دلی مراد بر آئے گی۔ اس کی ماں نے کچھ دنوں سے سوچنا شروع کر دیا تھا۔

          ماں تو اکیلی۔ ۔ ۔ اس نے ماں سے کہا تو چہرے پہ اداسی چھا گئی تھی۔

          تو میری فکر نہ کر۔ ۔ ۔ ۔ ماں نے اسے تسلی دی۔

          اب تم جا کر آرام کرو، کل کے دن کا نصف سے زیادہ حصہ تمہارا ڈاکٹر کے پاس گزرے گا اور تمہارا مکمل ڈاکٹری معائنہ ہو گا۔ تندرست ہونے کی صورت میں تمہیں ڈیوٹی پر لگا دیا جائے گا اور پھر تم اس کمرے میں صرف رات گزارنے آیا کرو گے۔ یہاں زندگی کو لہو کے اس بیل کی طرح ہے جو منزل سے نا آشنا ایک دائرے میں گھومتا ہی چلا جاتا ہے۔ میرا مقصد تمہیں خوفزدہ کرنا نہیں ہے ہم سب یہاں ایک جیسی زندگی بسر کر رہے ہیں ، یہ لو کمرے کی چابی! میس سے کھانا کھا کر واپس ہوئے تو اس کے ساتھی نے کہا۔

          وہ کمرے میں آ کر بستر پر لیٹا تو ایک سکون نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ ائیر کنڈیشنر چل رہا تھا جس سے کمرے میں کافی ٹھنڈک ہو گئی تھی۔ ایسا بستر تو اس کی سات نسلوں نے نہیں دیکھا ہو گا ! یہ خیال اس کے ذہن سے سوں کر کے گزر گیا تھا۔ اس نے کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کی تو ہزاروں میل دور سے ماں نے یاد کر لیا۔ پلکوں پر آئی نیند اڑ گئی اور جانے اس نے کتنی کروٹیں بدل ڈالیں۔ پھر اس کی ایسی آنکھ لگی کہ بیدار ہوا تو پو پھٹ رہی تھی۔ وہ اٹھا اور غسل کرنے چلا گیا ، واپس آیا تو اس کا ساتھی میس جانے کے لئے اس کا منتظر تھا۔

          ناشتہ کرنے کے بعد گاڑی اسے ایک ڈاکٹر کے پاس چھوڑ آئی جو رہائش گاہ سے زیادہ دور نہیں تھا۔ وہ گاڑی میں بیٹھا راستہ ذہن نشین کرتا گیا جس سے اسے واپس آنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی۔ ڈاکٹر نے معائنے کے بعد اسے صحت مند قرار دیتے ہوئے Fitness   کا پروانہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا تھا۔ آج اس نے دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا پھر بھی اسے بھوک نہیں لگی تھی۔ شاید اسی کو خوشی کی کیفیت کہتے ہیں۔ ٹھیک مغرب کے وقت اس کے دونوں روم میٹ واپس آئے تھے اور ان کے چہروں سے تھکن کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔

          میڈیکل کیسا رہا ! عرب خاموش تھا مگر اس کے دوسرے ساتھی نے پوچھ لیا۔ اچھا رہا ! یہ کہتے ہوئے اگر چہ وہ مسکرایا نہیں تھا تاہم مسکراہٹ اس کے لبوں کے قریب آ گئی تھی۔

          اب کل تمہیں ڈیوٹی مل جائے گی ! اس کے ساتھی نے یقین سے کہا۔

          اور پھر میں بھی تمہاری طرح یہاں رات گزارنے آیا کروں گا ! اس نے دل میں کہا۔

          اگلی صبح اسے ورکشاپ بھیج دیا گیا۔ اس نے دیکھا انتہائی وسیع و عریض ورکشاپ تھی جس میں بہت ساری گاڑیاں کھڑی تھیں اور مکینک ٹولیوں میں کھڑے گپ شپ کر رہے تھے شاید چائے کا وقفہ ہو گیا تھا۔ فورمین اسے ورکشاپ منیجر کے پاس لے گیا جو ایک گورا تھا اور اس وقت چھوٹے چھوٹے کش لے رہا تھا۔ اس نے اسے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ بیٹھا تو فورمین بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا وہ بھی عرب تھا۔

          اس ورکشاپ کے تین بڑے ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ ڈینٹنگ ، پینٹنگ اور مکینیکل ، تم کس میں کام کرنا چاہو گے! منیجر نے اس سے انگریزی میں کہا !

          مکینیکل ! دو سال کی پڑھی ہوئی انگریزی کام آ گئی تھی۔

          کیوں ! مینجر نے اس سے سوال کیا۔

          می ٹین ائیر مکینک کار انجن ! اس کا مطلب تھا میں دس سال سے کاروں کے انجن کا مکینک ہوں۔ بعد میں اسے حیرانی ہوئی کہ اس نے انگریزی میں اتنی بات کیسے کہہ لی تھی۔ اب جو بات اس کے ذہن میں کلبلا رہی تھی وہ یہ تھی کہ اسے کسی بھی کار میں مکینیکل نقص پر کام دیا جائے کہ وہ اسی میں زیادہ دلچسپی سے کام کر سکے گا۔

          ویری گڈ، گوآن! مینجر نے اسے کہا تو فور مین اسے ساتھ لے کر سٹور میں چلا گیا جہاں سے اسے ایک ٹول بکس اور ایک اوور آل (ڈانگری ) ملی اور پھر فورمین اس کو ایک ایسی کار کے پاس چھوڑ آیا جس پر چپہ چپہ دھول جمی ہوئی تھی اور سائیڈ مرر کے ساتھ لٹکتے کارڈ پر لکھی تاریخ گواہی دے رہی تھی کہ کار کو ورکشاپ میں داخل ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ ہو گیا تھا۔ یہ کار اب تک کیوں ٹھیک نہیں ہو سکی تھی۔ یہ سوال اس کے ذہن میں ابھر کر کسی نشیب میں بیٹھ گیا تھا۔ فورمین اس سے جدا ہوا تو اس نے وہیں کھڑے کھڑے اوور آل لباس پر ہی پہن لیا اور رب کا نام لے کر ٹول باکس کھولا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ جدید ترین آلات موجود تھے جن سے گھنٹے کا کام دس منٹ میں ہو سکتا تھا۔ پہلے اس نے ساری کار کی دھول جھاڑی اور پھر بونٹ کھول کر انجن کا جائزہ لینے لگا۔ ایک ہم وطن بھی اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔

          بھائی اگر کام جانتے ہو تو اس گاڑی پر کام کرو ورنہ فورمین سے کہہ کر کوئی اور گاڑی لے لو ! اس کی بات نا صحانہ تھی۔

          کیوں بھئی دوسری گاڑی کیوں لے لوں ، اسی پہ کیوں نہ کام کروں ! اس نے بونٹ کے اندر سے سر گھما کر اس کی طرف دیکھا تھا۔ اس لئے کہ اس گاڑی پر پہلے تین مکینک، فورمین اور ورکشاپ کا منیجر کام کر چکے ہیں۔ لیکن انجن کا نقص جوں کا توں ہے اس نے تفصیل بتائی۔ پھر تو میں اس پر ضرور کام کروں گا ! اس نے اپنا ارادہ ظاہر کیا۔

          اچھا ، تمہاری مرضی ! کہتے ہوئے وہ وہاں سے ہٹ گیا۔

          اس نے انجن کا ہر ممکن چیک اپ کرنے کے بعد کام شروع کیا۔ اس کی دانست میں جہاں خرابی تھی وہاں تک پہنچنے کے لئے اس کو آدھا انجن کھولنا پڑتا تھا۔ اس کے ہاتھ یوں حرکت کر رہے تھے جیسے ابھی ، اسی وقت سارا کام مکمل کر لینا چاہتے ہو۔ اس کو کام کرتے ہوئے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا کہ سائرن ہوا۔ یقیناً دوپہر کے کھانے کا وقفہ ہو گیا تھا اور سب لوگ کام چھوڑ کر بوفیہ کی طرف چل پڑے تھے۔ فورمین نے اس کے پاس آ کر کہا تھا۔ ــــــــــــــــ" یل شباب وقت الغذاء" جو وہ نہ سمجھ سکا تھا اور مسلسل کام میں مشغول رہا حتیٰ کہ اس نے اس کی پیٹھ پر تھپکی دیتے ہوئے کہا "   سٹاپ دا جوب ناؤ ایٹنگ ٹائیم"   (Stop the job now eating time)

          اسنے ہاتھ میں پکڑا ہوا سپانر ٹول بکس میں رکھا اور ہاتھ دھونے کے بعد بوفیہ پہنچ گیا۔ پہلے سے بیٹھے لوگوں نے اسے یوں دیکھا جیسے وہ کوئی خلائی مخلوق ہو۔ ان میں اس کے ہم وطن بھی تھے لیکن اس نے کسی سے بات نہیں کی اور فٹا فٹ کھانا کھا کر گاڑی کے پاس پہنچ گیا جس پر وہ کام کر رہا تھا۔ وہ چابی اور سپانرس لے کر پھر انجن پر جھک گیا تھا۔ منیجر اپنے دوسرے راؤنڈ پر نکلا اور اس کے پاس آ کر رک گیا تھا۔ وہ اپنے کام میں اس قدر منہمک تھا کہ اسے منیجر کی آمد کی خبر نہ ہوئی۔ دو دن کام کرنے کے بعد اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تو انجن میں کوئی نقص نہیں تھا۔ فورمین نے گاڑی چیک کرنے کے بعد منیجر کو اطلاع دی ، وہ بہت خوش ہوا۔ اسے بھی اپنی پہلی کامیابی پر خوشی ہوئی تھی۔ اس کے کچھ ہم وطنوں نے حسد کا اظہار بھی کیا تھا۔ اس نے کوئی پرواہ نہیں کی ، اسے تو اپنے پیشے سے عشق تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اسی وقت اسے دوسری خراب گاڑی کا کام دے دیا جائے۔

          چھٹی ہوئی تو کمپنی کی گاڑی اسے رہائش گاہ تک چھوڑ آئی تھی۔ اس نے لباس تبدیل کر کے غسل کیا اور لیٹ رہا۔ رات ہونے میں ابھی تین گھنٹے باقی تھی۔ پردیس کی تنہائی میں انسان جانے کیا کچھ سوچتا ہے۔ اس نے بھی بہت کچھ سوچنے کے بعد ایک ہی بات سوچی تھی کہ ماں کی جدائی میں دو دن کم ہو گئے۔ ہر خیال سے پہلے ماں کا خیال ، ہر سوچ کا آغاز ماں کی سوچ سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا ہونا فطری تھا کہ وہ پہلی بار ماں سے جدا ہوا تھا۔ اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ سورج طلوع ہو تو ایک خوشگوار صبح ہی نہیں تپتی دوپہر بھی ہوتی ہے۔ ایسے میں ماں سے زیادہ چھتنار کون ہو سکتا ہے۔

          مغرب سے تھوڑی دیر قبل اس کا ساتھی بھی آ گیا تو کچھ دیر کے لئے اس کی تنہائی میں شگاف پڑ گیا تھا۔ اس نے اس سے دن بھر کی روداد پوچھی اور سنی تھی لیکن دن بھر کی کہانی اتنی طویل بھی نہ تھی کہ رات بھر سنائی جاتی۔ چند منٹ کی بات تھی ، اس کے روم میٹ نے سنی اور کچھ کہے بغیر منہ ، ہاتھ دھونے چلا گیا۔ واپس آ کر اس نے کپڑے بدلے اور چپ چاپ کمرے سے نکل گیا۔ آج وہ اسے ساتھ لے کر نہیں گیا تھا۔ اسے تھوڑی دیر کے لئے یہ بات اچھی نہیں لگی لیکن اس نے یہ سوچتے ہوئے خود کو سمجھا لیا کہ یہ پردیس ہے یہاں اگر کوئی اچھا سلوک کرے تو اس کی مہربانی اور اگر نہیں تو شکوہ سنج بھی نہیں ہونا چاہئے۔ سورج کے آگے ہاتھ رکھنے سے رات تھوڑی ہو جاتی ہے۔ وقت یوں گزرا کہ ایک ماہ بیت گیا۔ اس دوران ان کی ملاقات بہت کم رہی تھی۔ اگر چہ وہ اس کا ہم وطن نہیں تھا تاہم ایک اچھا انسان ضرور تھا۔ اس کا عرب ساتھی چند دن رہنے کے بعد کسی دوسرے کمرے میں شفٹ ہو گیا تھا یوں بھی اسے عرب روم میٹ سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی کہ زبان آڑے آتی تھی۔

          آج وہ ڈیوٹی ختم کر کے کمرے میں پہنچتا تو اچانک تھوڑی دیر بعد اس کا ساتھی بھی پہنچ گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خط تھا جو اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور دیوار کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اس کی خاموشی بتا رہی تھی کہ خط اس کے گھر سے آیا ہے اور اس میں ضرور کوئی ایسی بات ہے جس نے اسے پریشان کر رکھا ہے۔

          پردیس میں اگر ہم ایک دوسرے کے غم نہیں بانٹیں گے ، دلاسہ نہیں دیں گے تو ہمارے آنسو خشک کرنے کون آئے گا ! اس نے سوچا۔

          آپ کچھ پریشان دکھائی دیتے ہیں ، خیریت تو ہے ! اس نے ساتھی سے پوچھا۔

          ہاں یار ! چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے کروٹ بدل کر کہا۔

          میں اگر آپ کے کسی کام آ سکتا ہوں تو کہہ دیجئے۔ اس نے نہ صرف ہمدردی جتائی تھی بلکہ وہ ذہنی طور پر بھی اس کیلئے تیار تھا۔ میں تمہارا ممنون ہوں دوست لیکن کچھ پریشانیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی زد پہ صرف ایک جان ہوتی ہے اور میں اس وقت اسی عمل سے گزر رہا ہوں ! اس کے ساتھی نے شکریہ ادا کیا۔

          اگر چہ مجھے آپ کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی جیسی بدتمیزی کا مرتکب نہیں ہونا چاہئے تاہم میں آپ کی پریشانی جاننا چاہوں گا ممکن ہے ہماری بات چیت سے کوئی معقول حل نکل آئے! اس نے ساتھی کے غم بانٹنے کا تہیہ کر لیا تھا۔

          میرے چھوٹے بھائی نے دو سال قبل ایم ایس سی فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تھا اور دو سال سے ہی ملازمت کی تلاش میں ہے ، میں سوچتا ہوں اسے اتنی تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہئے تھی ، بس آٹھویں تک پڑھتا اور پھر کوئی کام سیکھ لیتا یوں بے روز گاری کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا دکھ تو نہ ہوتا۔ اب بھائی لکھتا ہے مجھے اپنے پاس بلا لو ! اس کے ساتھ نے ساری صورت حال اس پر واضح کر دی تھی۔

          تب ایک خوفناک خیال اس کے ذہن میں ابھرا کہ اس کے ملک میں بھی ہر سال ایک فصل تیار ہوتی ہے۔ بے روزگاروں کی فصل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر سال سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے لاکھوں کی تعداد میں بے روزگار فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اس کا ملک بے روزگاری میں خود کفیل ہے۔ یہ سوچتے ہی اسے ساتھی کی پریشانی بہت چھوٹی سی لگی تھی۔

٭٭٭