کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بابا

احسان بن مجید


اور پھر اس کی بارات آ گئی۔

          اس کے چہرے سے خوشی کے ساتھ بیزاری سی عیاں ہو رہی تھی۔ بیزاری کیوں نہ ہوتی ، گاؤں کے شادی تھی اور گاؤں میں تو دس دس دن پہلے مایوں کی رسم ہو جاتی ہے۔ دولہا کے یار لڈی کھیلتے ہیں ، بھنگڑا ڈالتے ہیں ، رات رات بھر گاتے ہیں، گا گا کر تھکتے ہیں تو تاش چل نکلتی ہے ، اور گاؤں کی شادی میں جب تک جوا نہ کھیلا جائے وہ شادی ہی نہیں ہوتی۔ چرسیوں کی ٹولی الگ ہو جاتی ہے۔ دولہا کے دوست بالٹیوں میں شراب ڈال کر پیتے ہیں اور نشہ چڑھتے ہی" ماراد ڈھولیا ڈھولکہتے ہوئے میراثی کو جو کچھ دیر پہلے تک تھک ہار کے بیٹھا ہوتا ہے ڈھول پیٹنے پر مجبور کرتے ہیں اور خود دے ، دا  کے تال پر لڈی کھیلتے ہوئے دولہے کو بھی کھینچ لیتے ہیں۔ یوں دس دن لڈی کھیل کھیل کر اس کا انگ انگ دکھ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کہیں تھوڑا سا لیٹ کر کمر سیدھی کر لے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا اور دوست اس کو ساتھ بیٹھک پر لے گئے۔

          وہ چونکہ والدین کا اکلوتا بیٹا تھا ، اس لیے دولہن کے پاس اس کے دور کی رشتے دار دو نوجوان لڑکیاں بیٹھی گپ شپ کر رہی تھیں اس کے من میں دولہا کا خیال آتے ہی جھر جھری سی ہو کر رہ جاتی۔ وہ سوچتی کہ دولہا آتے ہی یہ لڑکیاں چلی جائیں گی اور وہ اکیلی رہ جائے گی اکیلی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ خیال آتے ہی اس کی پلکیں مزید جھک جاتیں۔ وہ لڑکیوں کی باتیں تھوڑی ہی سن رہی تھی۔ اس کے کان تو دروازے پر لگے تھے۔ وقت بہت گزر گیا تھا اور اب اس کا جسم بھی سکڑ کر بیٹھنے سے تھکنے لگا تھا۔ وہ بھی قریب کے گاؤں سے آئی تھی شاید سکھیوں نے اسے بھی کئی راتیں نہیں سونے دیا ہو گا۔ اور خوب چھیڑا ہو گا۔ انھوں نے بھی لڈی کھیلی ہو گی ، اس کو بھی کھینچا ہو گا ، پھر اس کے ارد گرد اس کی سوچوں نے دھمال ڈالا ہو گا۔ وہ چاہتی تھی کہ کچھ دیر پاؤں پھیلا کے بیٹھے اور انگڑائیاں تو جانے کتنی ہی اس کے بانہوں میں کسمسا رہی تھیں۔ بابل کا گھر ہوتا تو اس وقت تک وہ دوچار خواب بھی دیکھ چکی ہوتی۔ وہ پاس بیٹھی لڑکیوں کی باتوں اور بات بے بات ہنسی سے اکتا گئی تھی۔

          دروازہ آہستہ سے چرچرایا اور لمحوں کے توقف کے بعد دونوں لڑکیاں اٹھ کر بھاگ گئی۔ وہ اکیلی رہ گئی تھی اور جن لمحوں کی وہ منتظر تھی آ پہنچے تھے۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ دولہا آ چکا ہے۔ وہ اندر ہی اندر شرمائی ، سمٹی اور نگاہوں کو اپنی جھولی میں بکھیر دیا۔ تب کوئی اس کے قریب آ بیٹھا۔ مگر یہ کیا ، دولہا نے دروازہ کیوں کھلا چھوڑ دیا۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ پاس بیٹھے شخص نے اس سے کہا۔ ۔ ۔ " دلہن تم بے شک میری طرف مت دیکھو کہ دلہنیں ہمیشہ پہلے دولہا کو دیکھا کرتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ "  اسے شک گزرا کہ یہ آواز کسی اور کی ہے۔ اس نے کنکھیوں سے دیکھا تو بدک کر اٹھی اور پیٹھ کر کے کھڑی ہو گئی۔ اسے یوں لگا کہ جیسے پلنگ پر یکبارگی کئی بچھوؤں نے اسے ڈنک مار دیا ہو۔

          میں کون ہوں ؟ پلنگ پر بیٹھے شخص نے اس سے پوچھا۔

          آپ بابا ہیں۔ اس کی آواز حلق سے یوں نکلی جیسے کنوئیں سے آئی ہو۔

          نہیں!! بابا تو تمہارے دولہا کا ہوں ، تمہارا  سسر ہوں اور تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ اگر تم نے گھر بسانا ہے تو مجھے خوش رکھنا ہو گا میں تم سے خوش رہوں گا تو تم اس گھر کی بہو رہو گی۔ ورنہ تم بچی نہیں ہو کہ نہ سمجھ سکو ، اور اگر تم نے یہ بات کسی کو ، اپنے دولہا کو بھی بتائی تو انجام اچھا نہیں ہو گا ، میں جا رہا ہوں۔ اب تم بیٹھ جاؤ ، دولہا صحن میں آ چکا ہے۔ اس کا جی چاہا ، اسی وقت یہاں سے بھاگ نکلے اور سب کو بتائی جائے کہ سسر اس سے خوشی چاہتا ہے مگر اس کا انت کیسا ہو گا یہ خیال آتے ہی اس کے اندر کی بزدل عورت نے حالات سے سمجھوتہ کرنے کا مشورہ دیا۔ وہ پھر سے چھوئی موئی ہو کر بیٹھی ہی تھی کہ دولہا آ گیا۔ اس کی دھڑکنیں معمول سے ہٹ گئیں۔ آنکھوں میں ایک خمار سا اتر آیا۔ اس کے دل میں حوصلے کا پربت ایستادہ ہو گیا۔ اور کچھ دیر پہلے سسر سے ہونے والی گفتگو اس کے ذہن سے یوں صاف ہو گئی جیسے کوئی بچہ سوال حل کرنے کے بعد سلیٹ صاف کر دیتا ہے۔ وہ اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا اور چند لمحے اسی تذبذب میں گزر گئے کہ گفتگو کا آغاز کیسے کرے؟

          تم تھک گئی ہو گی! سو جاؤ۔ اس نے دولہن کے چہرے سے گھونگٹ نہیں اٹھایا ، چہرہ نہیں دیکھا تو چودھویں کا چاند کیسے کہتا ؟

          جیسے آپ کی مرضی ! اس نے ہولے سے کہا ، مگر دل میں سوچا کہ سونے کے لئے تو عمر پڑی ہے۔

          پھر دونوں سو گئے۔ صبح ولیمہ تھا۔ دوپہر سے شام تک سارے مہمان رخصت ہو گئے اور وہ کمرے میں اکیلی رہ گئی۔ اس کے دل میں ہو ل اٹھنے لگے تھے۔ ۔ ۔ ۔ "اپنے دولہا سے بھی کہی تو انجام اچھا نہ ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ـ" سسر کی اس بات نے اس کا چین چھین لیا تھا ، تاہم اس نے اس خیال سے پیچھا چھڑانے کے لئے خود کو گھر کے کام میں مشغول کر لیا۔ زمیندار گھرانہ تھا۔ گھر کے افراد تو کم تھے مگر ڈور ڈنگر بہت تھے ، اس لئے کام بہت تھا۔ ماسی نے بہت کہا ، لڑکی مہندی کا رنگ چھوٹنے دیا ہوتا۔ مہندی کا رنگ چھوٹنے تک تو میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          اور وہ منہ پرے کر کے مسکرا دیتی۔

          کہتے ہیں ہر خوشی اپنا خراج وصول کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ایسا کب ہو گا۔ یہ سوچتے ہی اس کے ذہن پر بجلی گر پڑتی۔ جاتے وقت نے اپنی بغل میں اس کے لئے کیا چھپا رکھا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          اس کے آنے سے جیسے گھر کا نقشہ ہی بدل گیا تھا۔ وہ صبح کا سارا کام ختم کر کے دولہا کے لئے دوپہر کا کھانا لے کر کھیتوں کو چلی جاتی جہاں وہ ایک ٹاہلی کے نیچے اس کا انتظار کر رہا ہوتا۔

          جب سے تیرے ہاتھ کی پکی کھانے لگا ہوں ، بھوک بہت لگتی ہے۔ وہ دستر خوان کھول کر کھانا سامنے رکھتے ہوئے کہتا۔

          تم کام بھی بہت کرتے ہو۔ یہ کہتے ہوئے وہ اسے یوں پیار سے دیکھتی کہ اس کا جی چاہتا وہ آکاش بیل کی طرح اس سے لپٹ جائے۔ دونوں بہت دیر باتیں کرتے اور پھر وہ لسی کا آخری بٹل ایک ہی سانس میں پی کر لمبی ڈکار لیتے ہوئے پاؤں پھیلا کر ٹاہلی کے تنے سے ٹیک لگا لیتا۔ وہ برتن سمیٹ کر چل دیتی تو وہ بہت دور تک اس کو جاتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ شام کو واپس لوٹتا تو وہ اس کی راہ تک رہی ہوتی ، اسے دیکھتے ہی اس کے من میں ٹھنڈک پڑتی اور وہ پر سکون ہو جاتی۔ دن بھر کی تھکن کا نام و نشان مٹ جاتا۔

          بہو پانی کا ایک چھنا اور لا دے ! بابا اسے کہتا تو اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھتی۔

          تو کتنا پانی پیتا ہے مجھ سے مانگ لیا کر ! ماسی بابا سے کہتی۔

          تیرے بے برکتے ہاتھوں سے تو میں دریا بھی پی جاؤں تو پیاس نہیں بجھے گی ، بہو کے روپ میں رب نے بیٹی دی ہے شکر گزار ہوا کر !بابا کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر آ کر چلی جاتی۔ وہ نظریں بچا کر بابا کو دیکھتی اور سوچتی کہ ان کی شخصیت کا کون سا رخ ہے۔ وقت گزرتے کیا دیر لگی ہے۔ تین ماہ گزر گئے۔ وہ صبح اٹھتی تو طبیعت بوجھل سی ہوتی۔ کسی کام میں جی نہیں لگتا۔ اور پھر عجیب چیزیں کھانے کو جی چاہنے لگا۔ ماسی تھوڑی دیر کو ادھر ادھر ہوتی تو وہ گاچی کا روڑا اٹھا کر چپا لیتی۔ کام کرے نہ تھکنے والی کے جسم میں جیسے سستی بھر گئی تھی۔

          پھر کچھ دن کے بعد طبیعت سنبھل گئی۔ ایک دن اس نے جانے دولہا کے کان میں کیا کہہ دیا کہ وہ کھانا چھوڑ کر کھیتوں میں ناچ اٹھا۔ وہ اسے دیکھتی اور ہنستی رہی۔ وہ ہنستا دیکھتا تو اسے یوں لگتا جیسے ایکڑوں زمین میں موتیے کے پھول کھل اٹھے ہوں۔ وہ واپس آ گئی مگر اس کے بعد اس کا جی کام میں نہ لگا۔ اس دن اسے ایسا محسوس ہوا جیسے شام ہونے میں کتنے پرس بیت گئے ہوں۔ چند دنوں سے وہ دوپہر کا کھانا گھر آ کر کھانے لگا تھا وہ صحن میں گھوم پھر کر کام کر رہی ہوتی تو اسے یوں لگتا جیسے کتنی بہاریں اس کے آنگن میں رقص کر رہی ہوں۔

          تو آج کل کھیتوں میں تھوڑا کام کرنے لگا ہے ! بابا نے مسلسل گھر آتے دیکھ کر پوچھ ہی لیا۔

          اتنا کام نہیں ہوتا بابا اس لئے گھر آ جاتا ہوں !  وہ پرے دیکھتے ہوئے کہتا۔

          آج صبح سے ہی اس کی طبیعت زیادہ خراب تھی۔ یوں بھی چند دنوں سے ماسی نے اسے کوئی کام کرنے نہیں دیا تھا۔ ہر چند آج اس کا دل بھی کھیتوں میں کام کرنے کو نہیں چاہ رہا تھا۔ مگر بابا سے اس کی جان کون چھڑاتا اس لئے وہ چلا گیا۔ ماسی گاؤں سے دائی کو بلا لائی بابا صحن میں دھریک کے سائے میں چارپائی بچھائے لیٹا تھا کہ اس کے کانوں میں معصوم بچے کے رونے کی آواز آئی۔ وہ اٹھ بیٹھا۔

          مبارک ہو بیٹا ہوا ہے۔ دائی نے بابا سے کہا۔

          خیر مبارک ! بابا نے کہا اور وہیں زمین پر سجدہ ریز ہو گیا۔

          تم اب آ جاؤ میں بھی پوتا دیکھ لوں۔ بابا نے ماسی کو بلایا اور خود کمرے میں چلا گیا۔

          اس نے سسر کو دیکھتے ہی اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے۔

          نہیں! بابا میں تمہارے دولہا کا ہوں تمہارا سسر ہوں اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی آواز کی بازگشت اس کے ذہن پر چابک برسانے لگی۔

          بہو آنکھوں سے ہاتھ ہٹا دو ، دیکھو میں کون ہوں ، دیکھو میری بچی میں کون ہوں ، میں تمہارا بابا ہوں ، تمہارا بابا، ہاں تمہارا بابا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          میں نے تم سے جو خوشی چاہی تھی وہ آج تم نے میری جھولی میں ڈال دی۔ بابا کی آواز رندھ رہی تھی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے بہو کے چہرے سے ہاتھ ہٹا دیئے۔

          بابا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !! جیسے اس کے حلق سے بے اختیار چیخ نکل گئی اور بابا نے پوتے کو اٹھا کر چوم لیا۔

 

٭٭٭