کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بھابھی ماں

احسان بن مجید


ہم دونوں آج سے ازدواجی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو جان لیں ، میں اس گھر کے جس میں تم اب آ چکی ہو ، افراد کا تعارف کرائے دیتا ہوں۔ گھر کا سارا نظام میری ماں چلا رہی ہیں ، میں امی کہتا ہوں۔ وہ نہایت نرم خو اور پیار کرنے والی خاتون ہیں۔ یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ وہ میری ماں ہیں بلکہ تمہیں بھی چند دنوں میں پتہ چل جائے گا۔ ابا کا نام اس لئے نہیں لیا کہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ اپنی زندگی میں وہ اچھے بزنس مین تھے۔ مجھ سے بہت چھوٹا میرا ایک بھائی جاوید ہے جو چھٹی جماعت میں پڑھ رہا ہے  بچہ ہے اس لئے اس سے شرارتوں کی توقع کی جا سکتی ہے ، لاڈلا ہے اس لیے کبھی کبھی ضد بھی کرتا ہے تاہم اس کی ضد کی حد وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے تربیت کی حد شروع ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں تمہارے پیار سے سمجھانے پر اس کی یہ عادت کسی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔ عمر کے تقاضے کے ساتھ ساتھ امی دمے کی مریض بھی ہیں اس لئے گھر کا جتنا کام وہ آسانی سے کر سکتی ہیں خود کرتی ہیں۔ اس کے بعد ماہانہ معاوضے پر ایک عورت کام کرتی ہے۔ انتہائی مختصر خاندان ہے۔ اب میری ذات کے حوالے سے بھی چند باتیں سن لو۔ میں خاموش طبع انسان ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں پتھر ہوں مجھ پر غم اور خوشی کوئی اثر نہیں کرتے۔ لوگ پریشانی کی حالت میں رات بھر جاگتے ہوئے کروٹیں بدلتے رہتے ہیں لیکن میرے ساتھ الٹا معاملہ ہے ، ذرا سی پریشانی مجھ پر غنودگی طاری کر دیتی ہے اور معمولی سے خوشی مجھے رات بھر جگائے رکھتی ہے۔ سگریٹ اور چائے میری کمزوری ہے۔ تم مجھے شکایت کا موقع نہ دینا ، میری طرف سے تمہیں کوئی شکایت نہیں ہو گی۔ میں خلاف طبع بول بہت بول چکا۔ اب تم کچھ اپنے بارے میں کہو۔ جمیل نے بیڈ کے ساتھ پڑے سائیڈ ٹیبل پر رکھی ایش ٹرے میں سگریٹ مسل دیا تھا۔ اپنے متعلق کیا کہوں ، جیسی بھی ہوں آپ کے سامنے ہوں! حسینہ نے نظریں جھکائے ہوئے کہا۔

          کچھ اپنے مزاج کے متعلق، فارغ اوقات کے کیا معمولات رہے ہیں ! جمیل نے اس سے پوچھا۔

          مزاجاً نارمل ہوں اور فارغ اوقات اگر ہو تو افسانے پڑھتی ہوں ! حسینہ نے مختصر جواب دیا۔

          پھر تو لکھتی بھی ہو گی ! جمیل نے حیرانی ظاہر کی۔

          دو سال قبل ایک افسانہ لکھا تھا، شائع بھی ہوا۔ میں اس وقت بی اے کے پہلے سال میں تھی !حسینہ نے کہتے ہوئے پہلی بار نظریں اٹھا کر جمیل کی طرف دیکھا تھا۔ خمار آلود،خود سپردگی کا پیغام دینے والی نظروں سے۔

          اور پھر رات بیت گئی۔

          صبح دونوں ناشتے کی میز پر پہنچے تو امی اور جاوید پہلے سے موجود ان کا انتظار کر رہے تھے۔ جاوید بار بار حسینہ کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ وہ بھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا دیتی تھی تا کہ وہ اجنبیت محسوس نہ کرے۔

          جاوید ناشتہ کرو اور اسکول جاؤ، جمیل کو شاید اس کی یہ حرکت اچھی نہیں لگ رہی تھی۔

          اچھا بھائی جان ! جاوید سہم سا گیا تھا۔ اور حسینہ کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی۔ کہ وہ جمیل سے بہت ڈرتا ہے۔

          جاوید تو بہت اچھا بچہ ہے۔ آپ نے ناشتے کے دوران اسے یونہی ڈانٹ دیا تھا ! جاوید کے جاتے ہی اس نے جمیل سے کہا۔ اب وہ اسکول میں سارا وقت پریشان رہے گا۔

          جاوید کو میں بھائی ہی نہیں اپنا بیٹا بھی سمجھتا ہوں اور یہ ڈانٹ نہیں بلکہ اس کی تربیت کا حصہ تھا ! جمیل یہ کہہ کر دفتر روانہ ہو گیا۔

          وقت یوں گزرا کہ دو سال بیت گئے۔ جاوید آٹھویں میں پہنچ چکا تھا اور امی کے متعلق جمیل کی کہی ہوئی باتیں سچ ثابت ہو چکی تھیں۔ وہ انتہائی شفیق خاتون تھیں۔  حسینہ کو یوں محسوس ہوا جیسے یہ اس کی اپنی ماں ہو۔ لیکن پریشانی کی بات یہ تھی کہ امی اب اکثر بیمار رہنے لگی تھیں۔ ایک اور بات جس نے اس کے دامن میں الجھنوں کے انبار لگا دیے تھے۔ جمیل کا اس کے ساتھ دن بہ دن خشک ہوتا رویہ تھا۔ خاموش طبع ہونا اس کی فطرت سہی، لیکن بیوی کے ساتھ ایسا سلوک اس کی سمجھ سے بالا تر تھا۔ اس نے کتنی بار سوچا تھا کہ وہ جمیل سے اس کا سبب پوچھے گی۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکی اور اس نے اپنی توجہ ماں کی خدمت اور جاوید کی تربیت پر مرکوز کر لی تھی۔ امی کی طبیعت آج زیادہ خراب تھی اس لئے جمیل دفتر نہیں گیا تھا اور جاوید کو بھی اسکول سے چھٹی کرنی پڑی تھی۔ حسینہ صبح سے امی کے سرہانے بیٹھی تھی۔ ہلکی سی ہچکی کے ساتھ جسم اور روح کا ناطہ ٹوٹ گیا تھا۔ جمیل نے جاوید کو گلے لگا کر بہت آنسو بہائے تھے سسکیاں بھر کے رویا تھا۔

          بھابی ماں، امی ! جاوید اس کی گود میں سر رکھ کر تڑپ اٹھا تھا۔

          جمیل اب پہلے سے بھی زیادہ خاموش رہنے لگا تھا ، ایک اٹوٹ خاموشی اس کی طبیعت کا حصہ بن گئی تھی۔ کھانے کی میز پر تینوں اکٹھے ہوتے اور چند منٹوں بعد بکھر جاتے۔ جمیل اپنے کمرے میں جا کر سگریٹ پھونکتا رہتا۔ جاوید الگ کمرے میں اپنی پڑھائی میں مشغول ہو جاتا اور وہ اکیلی رہ جاتی۔ البتہ جمیل کو سونے سے پہلے ایک کپ جائے ضرور دینا پڑتا تھا اور پھر وہ رات کے کسی پہر کروٹیں بدلتے ہوئے سو جاتی تھی۔ اگر کبھی اسے بخار ہو جاتا تو جمیل کے چہرے پر کائی سی آ جاتی۔ وہ ڈاکٹر سے دوا لاتا اور اپنے ہاتھوں سے اسے پلاتا ، تب حسینہ کو یوں لگتا ، جیسے جمیل اس کو دیکھتے ہوئے مسکرا رہا ہو۔ اس کے دل کا غبار چھٹ جاتا اور اس پر سرشاری کی سی کیفیت طاری ہو جاتی۔

          جمیل کی کنپٹیوں پر سفیدی نمایاں ہو چکی تھی اور جاوید بی اے کے دوسرے سال میں پہنچ چکا تھا لیکن اس کے مزاج میں سادگی نہیں آئی تھی تاہم وہ کوئی کام حسینہ کو بتائے بغیر نہیں کرتا تھا چاہے کالج میں Debateپر جاتا ، کوئی فنکشن ہو یا دوستوں کے ساتھ کہیں جانا ہو۔ جمیل مطمئن تھا کہ جاوید کی تربیت حسینہ کی صحیح خطوط پر ہو رہی ہے۔

          شام کے سائے ڈھلتے ہی جاوید نے غسل کیا اور پینٹ شرت پہن کر بوٹوں کے تسمے کسے اور بال سنوارنے کے بعد حسینہ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

          کیسا لگ رہا ہوں بھابھی ماں ! اس نے یوں حسینہ کی طرف دیکھا جیسے اپنی ماں کو دیکھا کرتا تھا۔

          خوب صورت لگ رہا ہے میرا بیٹا ! حسینہ نے اس پر اپنا پیار نچھاور کیا۔

          آپ بھی بہت خوب صورت ہیں بھابھی ماں ! اسے جب بھی کوئی غرض ہوتی وہ حسینہ کی ایسے ہی خوشامد کرتا تھا اور وہ مسکرا دیتی تھی۔

          کاش یہ جملہ جمیل کے ہونٹوں نے اد ا کیا ہوتا۔ یہ سوچتے ہی اس کے دل میں ہوک سی اٹھی لیکن جانے کب ، کیسے ، اور کہاں ، اس نے اپنی الگ دنیا بسا لی تھی۔ سوچوں کی دنیا ، خیالات کی دنیا ، تصورات کی دنیا جس میں وہ مسلسل گم رہنے لگا تھا۔ کسی بھی طرب و کرب سے ماورا۔ سگریٹ نوشی کی کثرت سے اس کی صحت بھی گرنے لگی تھی۔ پتہ نہیں وہ کیا سوچ سوچ کر کڑھتا رہتا تھا۔ جسم کے زخم مندمل ہو جاتے ہیں ، مگر روح کے گھاؤ انسان کو قبر میں سلا کر دم لیتے ہیں۔ وہ تنہائی میں سکون تلاش کرنے لگا تھا۔ چپ چاپ خلاء میں گھورتا ہوا۔ سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ ہوا میں بکھرتا ہوا جمیل روز بروز اپنے وجود سے بے خبر ہوتا جا رہا تھا۔ جانے کون سا روگ تھا جو اسے اندر ہی اندر دیمک کے طرح چاٹ رہا تھا۔ اس نے حسینہ