کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کیسی آگ

اشتیاق احمد


کمرہ دھوئیں سے بھر گیا اس قدر گہرے دھوئیں سے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دے رہا تھا۔۔ اور پھر وہ بے ہوش ہوتے چلے گئے ہوش آیا تو سب کے سب بندھے ہوتے تھے البتہ مجرم ان کے سامنے کھڑ ا مسکرا رہا تھا اور وہ اسے دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔۔ انسپکٹر خادم حسین۔۔ یہ کیا پاگل پن ہے کیا دھوئیں کا بم آپ نے مارا ہے۔۔ یہ کام اور کوئی کر بھی کس طرح سکتا ہے۔۔ انسپکٹر جمشید اسے گھور کر رہ گئے وہ بھی بندھے ہوئے تھے۔۔ خادم حسین پھر بولا انسپکٹر جمشید اور یہ تینوں چالاک ترین بچے اگر یہاں نہ آ جاتے تو میں اپنا کام بخوبی کر گیا تھا لیکن ان لوگوں نے آ خر کار میرا کام خراب کر دیا۔۔

لیکن کیسے ان لوگوں نے تو تم پر کوئی الزام نہیں لگایا تھا پھر تم نے دھوئیں کا بم کیوں استعمال کیا۔۔ اس لیے کہ انسپکٹر جمشید بھانپ گئے تھے اور پھر میرے پاس وقت بالکل نہ بچتا کچھ کر گزرنے کے لیے خادم حسین نے کہا کیا کہا انسپکٹر جمشید سمجھ گئے تھے کیا سمجھ گئے تھے ؟ جب یہ ڈاکٹر کو لے کر اندر گئے تو واپسی پر بہت فکر مند تھے خاص طور پر انہوں نے مجھ پر نظر رکھی میں سمجھ گیا کہ ڈاکٹر نے میرا راز راز نہیں رکھا۔۔ راز راز نہیں رکھا انسپکٹر خادم حسین یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔۔ میں بتاتا ہوں ان حضرت کی ران زخمی ہے ہم نے اور تو سب کو چیک کرا لیا تھا لیکن انہیں چیک نہیں کرایا جا سکا تھا آخر اپنے ہی کہنے پریہ بھی ڈاکٹر کے ساتھ اندر چلے گئے واپسی پر میں نے ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں میں خوف دیکھا۔۔ یہ بات محسوس کر کے میں نے ڈاکٹر صاحب کو چیک کرنے کا اعلان کیا انہیں اندر لے جا کر میں نے دبی آواز میں ان کے خوف زدہ ہونے کی بات پوچھی۔ پہلے تو یہ کچھ بتانے ہی کے لیے تیار نہ ہوئے لیکن پھر یہ بات بتا دی کہ انسپکٹر خادم حسین زخمی ہے اور اس نے انہیں دھمکی دی ہے کہ اگر یہ بات باہر نکل کر بتائی تو یہ اسے گولی مار دے گا لہذا باہر نکل کر انہوں نے کچھ نہ بتایا صرف یہ کہا کہ ان کے جسم پر بھی زخم نہیں ہے لیکن میں نے ان کا جھوٹ صاف محسوس کر لیا تھا اسی لیے میں پھر انہیں لے کر اندر گیا۔۔ اور تمام بات معلوم کر لی۔۔ ادھر انسپکٹر خادم نے بھی بھانپ لیا کہ میں اس کے بارے میں جان چکا ہوں۔۔ اف مالک تو یہ ہیں وہ صاحب جو ہم میں سے چھے کو ہلاک کرنا چاہتے تھے لیکن آخر کیوں ہم نے ان کا کیا بگاڑا ہے یہ تو یہی بتائیں گے۔۔ ہم تو سب بندھے ہوئے ہیں فاروق نے بے چارگی کے عالم میں کہا۔۔ فاروق ٹھیک کہہ رہا ہے مجرم خود بتائے گا کہ وہ ایسا کیوں چاہتا تھا۔۔ ضرور بتاؤں گا تم سب کو موت کے گھاٹ اتارنے سے پہلے اس الجھن سے سب کو نجات دلوا دوں گا تاکہ تم لوگ سکون سے مر سکو۔۔ انسپکٹر جمشید اور ان کے ساتھی تو بلاوجہ درمیان میں آ کودے اور اس کی سزا نہیں یہ مل رہی ہے کہ باقی لوگوں کے ساتھ انہیں بھی مرنا پڑے گا۔۔

کوئی بات نہیں یہ ہمارا روز کا کام ہے۔۔ کون سا روز کا کام ہے۔۔ یہی مرنا اور کیا فاروق مسکرایا۔۔

یار چپ رہو۔۔ دماغ نہ چاٹو ہمارا روز کا کام اگر مرنا ہے تو ہم زندہ کس طرح ہیں محمود نے بھنا کر کہا۔۔ اللہ کی مہربانی سے

 اچھا خاموش رہو خادم حسین کو بات پوری کرنے دو انسپکٹر جمشید نے ڈانٹا۔۔ اور وہ سہم گئے۔۔ ہاں مسٹر مجرم کچھ بتانا پسند کریں گے۔۔ یا نہیں انسپکٹر جمشید نے کہا۔۔ ضرور بتاؤں گا تم سننے کا حوصلہ رکھے ہو خان بدیع اپنے باپ کی ساری دولت پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے اپنے بھائی کے بچوں کو بالکل محروم کر دیا تھا۔۔ انہوں نے ان کے بھائی کے بچے بہت چھوٹے تھے۔کہ ان کا چھوٹا بھائی ایک حادثے میں مارا گیا۔۔ انہوں نے ان کے بچوں کے سروں پر ہاتھ نہ رکھا۔۔حالانکہ وہ نصف دولت کے مالک تھے بچوں کی ماں کو دھمکی دی کہ وہ انہیں لے کر کہیں دور چلی جائے ورنہ مروا دیے جائیں گے وہ مصیبت کی ماری اپنے بچوں کو لے کر بہت دور چلی گئی اور وہیں اپنے بچوں کو پال پوس کر بڑا کیا دوسرے گھروں میں کام کر کر کے اس نے انہیں پالا میں بڑا ہوا تو یہ ساری کہانی اپنے سینے میں لے کر انتقام کی آگ لے کر اس سالانہ پروگرام کا مجھے علم تھا لہذا میں نے اس پروگرام کے دوران انہیں ختم کرنے کا ارادہ کیا پھر سوچا قتل اس طرح کروں کہ کوئی میرے بارے میں سوچ بھی نہ سکے لہذا پوسٹر لگایا تاکہ سب یہ خیال کریں کہ یہ تو ان کے آپس کا کوئی معاملہ ہے میں صرف خان بدیع کو مارتا اور اس کے بعد الگ ہو جاتا یہ لوگ خوف زدہ تو ہو ہی گئے تھے۔۔ خیال کرتے کہ باقی لوگوں کو بھی قاتل نہیں چھوڑے گا۔۔ لہذا یہاں سے فوراً نکل جاتے پولیس انہی میں سے قاتل کو تلاش کرتی رہتی اور تھک ہار کر کیس فائل ہو جاتا اور میرا انتقام پورا ہو جاتا۔۔ لیکن انسپکٹر جمشید اور ان کے بچوں کی آمد نے میرا کھیل خراب کر دیا۔۔ وہ کہتا چلا گیا۔۔ خراب نہیں کر دیا اچھا کر دیا تم قتل جیسے بڑے جرم سے بچ گئے۔۔ اب تو بہت معمولی سزا ہو گی۔۔ اپنا حق حاصل کرنے کا تم نے کوئی اچھا طریقہ اختیار نہیں کیا خان بدیع کو مار کر کیا تم اپنے حصے کی دولت حاصل کر لیتے۔۔ نہیں میں معلومات حاصل کر چکا ہوں خان صاحب نے اپنے وکیلوں کے ذریعے اپنا کام بہت پکا کر رکھا ہے۔۔ ہم عدالت کے ذریعے اپنا حق نہیں لے سکتے تھے۔۔ اور انتقام کی آگ چین نہیں لینے دے رہی تھی۔۔ ان حالات میں میں آ خر کیا کرتا ؟

آپ کو آپ کی والدہ نے بھی نہیں روکا؟

وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ورنہ ضرور روکتیں۔

لیکن اب کیا فائدہ میری ماں تو ایڑیاں رگڑ کر مر گئی۔

انسپکٹر صاحب۔ صبر سے کام لیں اس وقت اس سے بہتر صورت حال کوئی نہیں ہو سکتی انسپکٹر جمشید نے خشک لہجے میں کہا۔۔ افسوس انتقام کی آگ اس طرح نہیں بھجے گی اور میں تمام زندگی اس آگ میں جلتا رہوں گا۔۔

ان الفاظ کے ساتھ ہی اس نے جیب سے خنجر نکال لیا۔۔

نن۔۔ نہیں۔ نہیں انسپکٹر جمشید یہ آپ کی موجودگی میں کیا ہو رہا ہے۔

آپ دیکھ رہے ہیں ہم بندھے ہوئے ہیں۔

ہاں یہ تو خیر ہے۔

آپ خود سوچیں ہم کیا کریں۔

کچھ نہ کچھ تو آپ کو کرنا ہی ہو گا ورنہ میں تو مارا جاؤں گا بے موت

بے موت تو خیر کوئی بھی نہیں مرتا۔ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔

آپ مسکرا رہے ہیں اور وہ خنجر لیے میری طرف بڑھ رہا ہے۔۔ اور میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔۔ ٹھہریں میں ایک بار پھر اس سے بات کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اس کی طرف مڑتے ہوئے بولے۔یار انسپکٹر خادم حسین میری بات مان جاؤ سکھی رہو گے۔

بھاڑ میں گیا سکھ۔ اس نے جھلا کر کہا۔ اگر تم باز نہ آئے تو مجھے حرکت میں آنا پڑے گا۔ انسپکٹر جمشید نے جھلا کر کہا۔ آپ کس طرح حرکت میں آ سکتے ہیں آپ کے ہاتھ پیر تو بندھے ہوئے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ خان بدیع کی طرف بڑھا۔ آخری وارننگ۔ پھر میں کوئی لحاظ نہیں کروں گا  انسپکٹر جمشید گرجے۔

آپ کیا کر لیں گے آپ کر کیا سکتے ہیں اس نے ہنس کر کہا

محمود ذرا اسے دکھا دو ہم کیا کر سکتے ہیں محمود فوراً اٹھ کھڑا ہو گیا۔

یہ۔ یہ۔ یہ کیا۔ اس نے ہاتھ پیر کس طرح کھول لیے۔

جس طرح میں نے کھول لیے۔ یہ کہہ کر فاروق بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

ارے خان بدیع کے منہ سے نکلا

بلکہ جس طرح میں نے کھول لیے۔ فرزانہ نے بھی اٹھتے ہوئے کہا۔

اف میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں آپ لوگ جادوگر تو نہیں ہیں۔ ڈابر شاہ نے حیرت زدہ انداز میں کہا۔

جی نہیں جادو حرام ہے۔ انسپکٹر جمشید بولے پھر آخر کس طرح ممکن ہے۔

ہم ایسے کاموں کے عادی ہیں۔ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان چاروں کے ہاتھوں اور پیروں پر بندھی رسیاں اب فرش پر پڑی نظر آئیں۔

اب آپ کا کیا پروگرام ہے۔ محمود نے انسپکٹر کی طرف دیکھا۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا دم بخود کھڑا تھا۔ کچھ نہ کہ سکا۔ اگر آپ خان صاحب پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کی صرف اور صرف ایک ترکیب ہے۔ فاروق نے شوخ لہجے میں کہا۔

اور۔ اور وہ کیا ہے۔

یہ کہ پہلے آپ ہم لوگوں کو ختم کر دیں۔ نن۔ نہیں۔ آپ لوگوں کا جرم کیا ہے۔

بس تو پھر خنجر پھینک دیں۔ ہم آپ کو آپ کا حق دلوائیں گے۔

وہ سوچ میں ڈوبا رہا۔ پھر خنجر اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گرا۔ محمود نے فوراً خنجر اٹھا لیا۔ انہیں گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں۔ خان بدیع شرمندہ انداز میں بولے۔

سب نے ان کی طرف دیکھا۔

مجرم میں ہوں ہتھکڑیاں مجھے لگائیں میں نے واقعی اس کا حق غصب کیا تھا۔ آج اس مقام پر آ کر میری آنکھیں کھلی ہیں۔ مجھ سے بہت عظیم ظلم سرزد ہوا ہے۔ ہمیں بھی ان حالات میں زندگی گزارنا چاہیے۔ جن حالات میں بیس سال ان لوگوں نے گزارے ہیں۔اگر میں انہیں نصف دولت دے دیتا ہوں تو یہ انصاف نہیں ہو گا۔ ہرگز نہیں ہو گا۔ اور اس کے سوا میں کوئی دوسری بات سنوں گا بھی نہیں خان بدیع نے جذباتی آواز میں کہا۔ میرا ذہن بھی یہی کہتا ہے۔ یہی ہونا چاہیے۔ جمشید بولے۔

بلکہ آپ پر کیس بھی چلنا چاہیے۔ نہیں۔ کم از کم میں کیس چلانا پسند نہیں کروں گا۔ اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہو گا۔ تمام ثبوت تو ان کے حق میں ہوں گے۔

اب وہ ثبوت میرے حق میں نہیں جائینگے۔ جب میں خود عدالت میں بیان دونگا کہ تمام ثبوت جعلی ہیں۔ خان بدیع نے کہا کچھ بھی ہو میں یہ معاملہ عدالت میں نہیں لے جاؤں گا اگر انہوں نے جرم کیا ہے تو میں نے بھی تو قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی ہے لہذا یہ حساب تو ہو گیا برابر۔ خادم حسین نے کہا

اور دوسرا حساب میں برابر کر رہا ہوں میں اپنے بیوی بچوں کو لے کر ابھی اور اسی وقت یہاں سے کہیں دور جا رہا ہوں۔ ہم جاتے وقت بھی ساتھ کچھ نہیں لے جائیں گے اور میں یہ تحریر لکھ جاؤں گا کہ اب یہ دولت خادم کے گھرانے کی ہے۔

میں اب بھی تیار ہوں آپ مجھے میری نصف جائیداد دے دیں۔

نہیں۔ یہ نہیں ہو گا۔ نہیں ہو گا۔

خان بدیع نے پر زور انداز میں کہا پھر تیزی سے مڑے اور عمارت سے باہر نکل گئے۔ وہ انہیں جاتا ہوا دیکھتے رہے۔

اف مالک یہ کیا سے کیا ہو گا۔ بیٹھے بٹھائے کایا پلٹ گئی۔

اس کیس میں ایک بات سمجھ میں نہیں آئی۔ مسٹر خادم آپ کو کیسے معلوم تھا کہ پولیس کمشنر آپ کو ہی بھیجیں گے۔ میں ساری کہانی انہیں پہلے ہی سنا چکا تھا۔ وہ میری امی کے دور کے رشتہ دار ہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ بھی تمہارے جرم میں شریک تھے۔ ہاں وہ بھی انتقام میں میری مد د کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس لیے انہوں نے جان لیا تھا کہ اگر میں نے انتقام نہ لیا تو میں خود زندہ نہیں رہوں گا۔ خیر انہیں بھی معافی مل جائیگی۔ ویسے انہیں آپ کو اس قسم کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔ذرا سوچیں آپ کی ساری زندگی جیل میں گزرتی۔

لیکن جیل کے باہر میں انتقام لیے بغیر بھی تو خود کو جیل میں ہی محسوس کرتا رہا ہوں۔ اور تن بدن میں ہر وقت آ گ لگی رہتی تھی۔

اچھا بابا اب چلیں۔ انہوں نے کہا۔

یہ کہانی اس رخ سے مکمل ہو گی۔ یہ تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ محمود نے حیرت سے کہا۔ تو اب سوچ لو منع کس نے کیا ہے۔

فاروق نے شوخ انداز میں کہا۔ محمود اسے گھورنے لگا۔ باقی لوگ مسکرانے لگے۔