کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آخری منی آرڈر

احسان بن مجید


کچھ عرصہ سے مقبول جعفری کے خیالات میں عجیب و غریب تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ کسی کی گم شدہ چیز اس کے ہاتھ لگ جائے تو وہ واپس نہیں کرتا تھا۔ پیدل چلتے ہوئے زمین پر پڑی کوئی بھی چیز اسے مل جاتی تو وہ اسے اپنی ملکیت تصور کرتا۔ اس نے یہ نظریہ قائم کر لیا تھا کہ کیوں اسی وقت پارسائی دکھائی جائے جب کسی کی دولت اس کو ملے۔ وہ سوچتا تھا کہ لوگ اسے اچھا انسان بعد میں سمجھیں گے پہلے اس کو انعام کا لالچی کہیں گے۔ کسی حد تک جعفری کی یہ بات بھی درست تھی۔ اس نے جب سے یہ عقیدہ اپنا لیا تھا قسمت بھی اس سے یاوری کر رہی تھی اور اسے کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا تھا۔ جعفری میں ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف یہ سوچ کر پیدل نہیں چلتا تھا کہ اسے کسی کی گری ہوئی چیزیں مل جائیں بلکہ وہ تو اس لئے چلتا تھا کہ اس کے پاس سائیکل نہیں تھا اور صبح سویرے اپنی جیب سے کرایہ ادا کر کے بس یا ویگن میں سفر کرنا اس کے معمولات میں نہیں تھا۔

          یوں تو جعفری نے اتنی کلرکی کر چھوڑی تھی کہ اس کے پاس سائیکل کیا موٹر سائیکل ہونی چاہئے تھی مگر نہیں تھی اور کیوں نہیں تھی اس بات کا جعفری کے علاوہ کسی کو علم نہیں تھا۔ اس کے اکثر کولیگ بڑے افر بن گئے تھے مگر اس نے ابھی تک کلرکی کو جپھی ماری ہوئی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پچھلی تین سردیوں سے اس کے جسم پر ایک پرانا کوٹ نظر آ رہا تھا جس کی جیب میں پڑا سفید رومال گردو غبار اور گاڑیوں کے دھوئیں سے کالا ہونے لگا تھا۔

          جعفری کی ذاتی خصوصیات میں روزانہ تازہ شیو، پرانے مگر پالش شدہ جوتے اور ہاتھ میں اعلیٰ برانڈ کے تھری کاسلز سگریٹ کی ڈبی شامل تھی۔ گھر سے دفتر پیدل ، دن بھر مختلف دفاتر کے چکر پیدل اور پھر دفتر سے گھر پیدل۔ وہ اکثر کہا کرتا کہ انسان کے رک جانے سے زندگی رک جاتی ہے اسی لئے وہ گھر کا ایسا راستہ اختیار کرتا تھا جس پر ٹریفک قدرے کم ہو اور راستے میں چوراہا بھی نہ پڑے۔ اس کے نزدیک پیدل چلنے کے اور بھی فوائد تھے جن پر سر فہرست شوگر میں افاقہ تھا۔ گری ہوئی چیزوں کے لالچ میں وہ مختلف بازاروں کے چکر نہیں کاٹتا تھا۔

          زمین پر پڑی ملنے والی چیزوں میں کئی بار اسے ہزاروں روپے مل چکے تھے اور متفرقات میں سونے کی انگوٹھیاں ، جائداد کے کاغذات، امریکن پاسپورٹ اور لاکھوں کی ملکیت کے چیک ہوتے۔ جعفری کے اندر جہاں اس برائی کا کانٹا اگا تھا وہاں اچھائی کی یہ کونپل بھی کھلی تھی کہ وہ روپے اور سونے کے علاوہ قیمتی دستاویزات مالکان کو لوٹا دیتا تھا۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ سیشن کورٹ کا موڑ مڑتے ہی اس کی آنکھوں نے فٹ پاتھ پر پڑے ایک چیک کو دیکھ لیا تھا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا پورے دو لاکھ پچیس ہزار روپے کا تھا۔ ا س نے وہ چیک جیب میں رکھا اور بجائے اپنے دفتر جانے کے بنک پہنچ گیا۔ بنک کھلنے میں ابھی دس منٹ باقی تھے اور پانچ سات آدمی کھڑے انتظار کر رہے تھے۔ وہ بھی ان کے پاس پہنچ کر رک گیا۔ اس نے دیکھا ایک آدمی سب سے الگ تھلگ غمزدہ حالت میں کھڑا تھا۔ وہ قدم پر قدم رکھتا اس کے پاس آ رکا۔ اس نے اسے سگریٹ پیش کیا جو اس نے شکریے کے ساتھ قبول کر لیا۔

          آپ کچھ پریشان دکھائے دے رہے ہیں !  اس نے باتوں باتوں میں پوچھ لیا۔

          ہاں یار! اس نے کہا اور برابر خلاء میں گھورتا رہا۔

          میرا نام مقبول جعفری ہے اور میں ایک محکمے میں کلرک ہوں۔ اگر میں آپ کے کسی کام آ سکوں تو مجھے خوشی ہو گی۔ ویسے آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟ اس نے اپنا مکمل تعارف کرانے کے بعد پوچھا۔

          دوست پیشے کے اعتبار سے میں وکیل ہوں۔ کل شام گھر آتے ہوئے میرے کاغذات میں سے ایک چیک کہیں گر گیا ہے۔ سوا دو لاکھ کا چیک۔ اور میں اسی لئے بنک کھلنے سے پہلے پہنچ گیا ہوں تا کہ کوئی کیش نہ کرا لے۔ وہ چیک میرا اپنا نہیں تھا بلکہ ایک اعلیٰ عدالتی عہدیدار کا تھا۔ وکیل نے اپنی پریشانی اسے بتائی۔

          آپ پریشان نہ ہوں۔ جعفری نے سگریٹ کا بھر پور کش لے کر منہ سے قسط وار دھواں نکالتے ہوئے کہا۔

          کیوں؟ وکیل حیران ہو گیا۔

          اسے لئے کہ آپ کا وہ چیک مجھے ملا ہے اور اس وقت میری جیب میں پڑا ہے۔ جعفری نے اطمینان سے کہا۔

          تم مجھے کوئی جولی سی شخصیت لگتے ہو۔ وکیل نے آپ جناب کا تکلف نہیں برتا۔

          ایسی بات نہیں ، میں سچ کہہ رہا ہوں۔ اس کے چہرے پر طمانیت کا اظہار ہو رہا تھا۔

          تو پھر تم کوئی فرشتہ ہو۔ وکیل اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔

          نہیں فرشتہ ہوتا تو کسی اچھے یا برے انسان کے کندھے پر بیٹھا اس کے کرتوت لکھ رہا ہوتا۔ مگر میں انسان ہوں۔ میرا اچھا روپ رات کی رانی جیسی خوشبوئیں بکھیرتا ہے  اور طمع پر اتر آؤں تو سراپا تعفن ہو جاتا ہوں۔ جعفری نے کہا۔

          اچھا چلو ، کہیں بیٹھ کر دوستانہ ماحول میں چند اچھے لمحے گزارتے ہیں۔ وکیل اس کو بازو سے پکڑ کر اپنی گاڑی کے پاس لے گیا۔ اور پھر دونوں اقبال پارک کے کیفے ٹیریا میں جا بیٹھے۔ چائے پینے کے بعد وکیل نے کوٹ کے  اندر والی جیب سے ہزار کے دو نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائے۔ "یہ رکھ لیں "۔

          یہ آپ کس چیز کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ جعفری نے اس چہرے پر نظریں ٹکاتے ہوئے پوچھا۔

          یہ قیمت نہیں ہے جعفری۔ نوٹ ابھی تک وکیل کے ہاتھ میں پکڑے تھے۔ مجھے اعتراف ہے کہ سوا دو لاکھ کے مقابلے میں بہت حقیر سی رقم ہے لیکن اس میں میری تمہارے لئے عمر بھر کی ممنونیت بھی شامل ہے۔ وہ وکیل تھا ، گناہ گار کو بے گناہ اور بے گناہ کو مجرم ثابت کرنا اس کے پیشے کی اصلیت تھی۔ شاید جعفری کے سامنے وہ پیشہ وارانہ مہارت استعمال کر رہا تھا۔

          یہ رہا آپ کا چیک ، اور میں نہیں سمجھتا کہ اس میں ممنون ہونے کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔ سیدھی سی بات ہے کہ ایک انسان دوسرے کے کام آیا۔ جعفری نے چیک اس کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے کہا۔

          کاش اس دنیا کے سارے انسان جعفری بن جائیں۔ وکیل چیک پا کر سرشار ہو رہا تھا۔

          نہیں ، ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے۔ جعفری کے چہرے پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آ کر معدوم ہو گئی تھی۔

          کیوں یار۔ اس نے قریب ہو کر اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

          اس لئے وکیل صاحب کہ آپ وجود پر تکیہ رکھتے ہیں اور عدم وجود سے صرف نظر کر رہے ہیں۔ اب میں دفتر چلتا ہوں۔ جعفری نے پرے تکتے ہوئے کہا اور زبردستی اس سے مصافحہ کرتے ہوئے پیدل چل دیا۔ اقبال پارک سے اس کا دفتر پون گھنٹے کی مسافت پر تھا اس لئے وہ تیز تیز قدم اٹھاتا جا رہا تھا۔ وکیل اپنی گاڑی کے پاس کھڑا اس وقت تک اسے دیکھتا رہا جب تک وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا۔

          جعفری اپنے روز مرہ معمول کے مطابق پیدل آتا جاتا رہا لیکن عجیب بات یہ ہوئی تھی کہ پچھلے بہت دنوں سے اسے کوئی چیز زمین پر پڑی نہیں ملی تھی۔ اگر چہ وہ اس پر پریشان نہیں تھا لیکن کبھی کبھی سوچتا ضرور تھا کہ شاید لوگ سیانے ہو گئے ہیں یا اس کی نظر پر کسی نے ہاتھ رکھ دیا ہے۔ مزید چند دن گزر گئے اور اس کے ذہن سے یہ بات محو ہو گئی کہ وہ زمین سے لوگوں کی گری ہوئی چیزیں اٹھاتا ہے۔

          رت بدلنے لگی تھی اور گرما کا آغاز ہو چکا تھا۔ دن طویل اور راتیں مختصر ہونے لگی تھیں۔ سارا دن دفتر میں کام کرنے کے بعد وہ شام کو گھر لوٹتا تو بہت تھک چکا ہوتا۔ تھوڑا سا آرام کر کے رات کا کھانا کھاتا اور کمپنی باغ روڈ پر گھومنے نکل جاتا۔ یہ سڑک رات ہوتے ہی ویران ہو جایا کرتی تھی۔ اور باغ میں ایک پراسرار خاموشی ہو جاتی تھی۔ وہ کسی روشن حصے میں اسٹون بنچ پر بیٹھ کر دو تین سگریٹ اوپر تلے پھونکتا اور واپس گھر آ کر سو جاتا۔

          حسب عادت آج بھی وہ ٹہلنے نکلا تھا۔ ایک دوراہے۔ پر پہنچ کر جانے کیوں اس کی نیت بدل گئی اور بجائے کمپنی باغ جانے کے اس نے لالہ رخ جانے کا ارادہ کر لیا۔ یہ پارک اس کے گھر سے آدھہ گھنٹہ کے سفر پر تھا۔ رات ہوتے ہی یہاں اتنے بلب اور ٹیوب روشن ہو جاتے تھے کہ زمین پر گری ہوئی سوئی بھی نظر آ جاتی تھی۔ کینٹین کے باہر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پانچ میزیں لگی تھیں۔ جن کے گرد چار چار کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ یہاں مزیدار آئس کریم ، ٹھنڈا مشروب بہترین شامی کباب دستیاب تھے۔ یہ کینٹین رات ایک بجے تک اپنی ہنگامہ آرائی کے ساتھ کھلی رہتی تھی۔ وہ پارک پہنچا تو خاصی بھیڑ ہو چکی تھی۔ اور آخری میز کی ایک کرسی خالی تھی۔ باقی تین کرسیوں پر درمیانی عمر کے آدمی گپ شپ میں مصروف تھے۔ یقیناً وہ بھی اس سے چند منٹ قبل ہی آ کر بیٹھے تھے کہ انہوں نے بھی اس کے ساتھ ہی ویٹر کو آرڈر دیا تھا۔ اس نے بیٹھنے سے پہلے اپنی کرسی ذرا پرے کھینچ لی تھی تا کہ وہ ان کی باتوں میں مخل نہ ہو سکے۔ اس کے آنے سے پہلے وہ لوگ جو بات کر رہے تھے ادھوری چھوڑ دی تھی لیکن اس کو اپنی طرف متوجہ نہ پا کر انہوں نے پھر وہی قصہ چھیڑ دیا تھا۔

          احمد تھا گاؤدی ، گدھا تھا جس کو اتنی دولت ملی اور واپس کر دی۔ ایک کہہ رہا تھا۔

          نہیں یار چوہدری ہے ہی قسمت والا۔ دوسرے نے گرہ لگائی۔

          صرف چوہدری کیوں۔ اللہ بخش چوہدری کہو بھئی اور اس الو کے پٹھے کو دیکھو جس نے انعام میں ملنے والی رقم سے بھی انکار کر دیا۔ وہ ضرور کوئی گنوار اور پینڈو قسم کا آدمی تھا۔ تیسرے نے بھر پور تبصرہ کیا۔

          مقبول جعفری بظاہر ان سے بے نیاز آئس کریم کھاتا رہا لیکن ان کی گفتگو سے اسے یقین سا ہو چلا تھا کہ وہ اسی کی بات کر رہے ہیں۔ وہ ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ ان سے پوچھ لے لیکن اسی وقت ویٹر بل لے کر آ گیا۔ اس کے کپ میں ابھی آئس کریم باقی تھی۔ اس کے ساتھ بیٹھے شخص نے کھڑے ہو کر پتلون کی عقبی جیب سے بل ادا کرنے کے لئے پیسے نکالے۔ اس کی نظر غیر ارادی طور پر اس کے ہاتھ میں پکڑے نوٹوں کے بنڈل پر پر گئی۔ تقریباً سارے ہزار کے نوٹ تھے۔ اس نے لا پرواہی سے ایک نوٹ کھینچ کر ویٹر کے حوالے کیا اور باقی جیب میں واپس رکھتے ہوئے کچھ نیچے گرا دیئے تھے۔ جعفری دیکھ رہا تھا ، خاموش رہا۔ وہ چلے گئے تو اس نے گرے ہوئے نوٹ اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لئے ، بل ادا کیا اور گھر کی راہ لی ، گھر پہنچ کر اس نے نوٹ گنے ، پورے آٹھ ہزار تھے۔ وہ مطمئن ہو گیا تھا کہ بہت دنوں بعد گری ہوئی چیزوں کا معطل سلسلہ پھر چل نکلا تھا۔ وہ لیٹا اور سو گیا۔

          مہینے کی آخری تاریخیں تھیں اور تنخواہ ملنے میں ابھی تین دن باقی تھے لیکن وہ اتنا پریشان نہیں تھا جتنا پہلے ہو جایا کرتا تھا کہ آج اس کی جیب میں آٹھ ہزار روپے پڑے تھے۔ وہ سر جھکائے فائل پر کچھ لکھ رہا تھا کہ ڈاکیا نے منی آرڈر فارم اس کے سامنے رکھا۔ اس نے فارم الٹ پلٹ کر دیکھا کہ کون مہربان ہو سکتا ہے۔ رقم بھیجنے والے کے نام کی جگہ اے بی سی لکھا ہوا تھا جو اسے سمجھ نہ آسکا۔ رقم اس نے وصول کر لی تھی۔ وہ بہت دیر تک بیٹھا اے بی  سی کی گتھی سلجھاتا رہا۔ مگر کوئی سرا اس کے ہاتھ نہیں لگا اور پھر ہر ماہ اسے اتنی ہی رقم وصول ہونے لگی تھی ، عجیب گورکھ دھندا تھا۔ وہ سوچنے لگا تھا کہ کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہو جائے۔

          آج پانچویں منی آرڈر کے ساتھ ایک خط وصول ہوا تھا اور اس نے حسب عادت بھیجنے والے کا نام دیکھا تھا ، ظہور چوہدری ولد اللہ بخش چوہدری مرحوم لکھا تھا۔ یہ دونوں نام اس کے ذہن کے کسی گوشے میں کسی حوالے سے بھی محفوظ نہیں تھے۔ اس نے مہینہ دو پہلے کے واقعات بھی دہرا لئے تھے۔ لیکن ظہور چوہدری نام کا کوئی شخص بھی اس سے

کہیں نہیں ملا تھا۔ تب اسے خیال آیا کہ آج کی ڈاک میں اسے ایک خط بھی ملا ہے۔ اس نے فوراً لفافہ چاک کر کے خط نکالا اور پڑھنا شروع کر دیا ، لکھا تھاـ:

          مقبول جعفری

                   آپ حیران ہوں گے کہ میں آپ کو کیسے جانتا ہوں۔ آپ کی حیرانی بجا ہے۔ میں اللہ بخش چوہدری ایڈوکیٹ کا بیٹا ہوں۔ کچھ عرصہ قبل آپ کو سوا دو لاکھ روپے کا چیک فٹ پاتھ پر پڑا ملا تھا جو کہ میرے والد کے کاغذات سے گر گیا تھا۔ آپ نے نہ صرف وہ چیک واپس کیا بلکہ ان سے انعام بھی وصول نہیں کیا تھا۔ آپ کو یہ سن کر ضرور افسوس ہو گا کہ میرے والد گزشتہ ماہ کار کے حادثے میں انتقال کر گئے ہیں۔ آپ مرحوم کی سوچوں پر عظیم انسان کی صورت نقش ہو کر رہ گئے تھے۔ شاید مرنے سے بہت پہلے موت انسان کے جسم میں سرایت کر جاتی ہے۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا ظہور! میں رہوں یا نہ رہوں ، ایک مزید قسط مقبول جعفری تک پہنچنی چاہئے۔ پاس مرحوم کی وصیت کے مطابق آخری منی آرڈر ارسال ہے۔

                                                          ظہور چوہدری

 

          وکیل مر گیا ! وہ سر تھام کر بیٹھ گیا۔ وہ مجھے عظیم انسان سمجھتا تھا۔ لیکن کیا میں ایسا ہوں۔ یقیناً نہیں۔ کیونکہ میں تو اب بھی لوگوں کی گری ہوئی چیزیں اٹھاتا ہوں۔

٭٭٭