کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ابا کی خاطر

احسان بن مجید


          میٹرک کا نتیجہ آیا تو آسیہ اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی تھی۔ اس نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے ابا سے کالج میں ایڈمیشن لینے کی خواہش کا اظہار کیا تو ابا نے صاف کہہ دیا تھا۔

          بیٹی تم جانتی ہو میں نے کتنی مشکل سے تمہیں میٹرک کرایا ہے اب میری نحیف کمر مزید بوجھ نہیں اٹھا سکے گی !۔ یہ کہتے ہوئے اسے ایسے لگا جیسے کسی نے دونوں ہاتھوں سے اس کی گردن دبوچ لی ہو۔

          آسیہ خاموش ہو گئی تھی مگر اس کی یہ خاموشی بھی ابا کے سینے میں کیلیں گاڑتی رہی۔ ساری زندگی میں آج اسے اپنی مفلسی کا احساس ہوا تھا۔ یوں تو حالات جیسے بھی رہے تھے اس نے بیٹی کی ہر خواہش پوری کی تھی  لیکن اب وقت کی سر کشی نے اسے اوندھے منہ پھینک دیا تھا۔ وہ تو خیر گزری کہ آسیہ کے دادا دو کمروں کا ذاتی مکان چھوڑ مرے تھے۔ ورنہ بات خانہ بدوشی اور فاقوں تک جا پہنچتی۔ آسیہ کا ابا کوئی سرکاری افسر تو تھا نہیں کہ کئی ہزار تنخواہ پاتا اور دیگر الاؤنس ملا کے اس میں مزید کچھ ہزار کا اضافہ ہوتا۔ سرکاری گاڑی کے ساتھ پٹرول بھی سرکاری ہوتا رہی کسر میڈیکل بل نکال دیتے لیکن پھر بھی اس کی نظر اگلے اسکیل پر جمی رہتی اور وہ پانچ کاغذوں پر دستخط کرنے کے بعد تھک کر کرسی سے ٹیک لگا کر گھنٹی بجاتے ہوئے دفتری کو بلا کر چائے لانے کو کہتا اور بجائے صبح آٹھ بجے دفتر پہنچنے کے گیارہ بجے آتا اور چار بجے چھٹی کرنے کی بجائے ایک بجے گھر لوٹ جاتا اور خدانخواستہ کبھی گھر بیٹھے چھینک آ جاتی تو چھٹی کر لیتا۔

          اس کی کریانہ کی چھوٹی سی ہٹی تھی (دوکان کہنا مناسب نہیں ہو گا ) جس سے گھر کے گزارہ کے علاوہ بیٹی کی تعلیم کا سلسلہ چل رہا تھا۔ اگر چہ وہ کوئی کٹر مذہبی عقیدہ نہیں رکھتا تھا تاہم آسیہ کے نتیجہ سے پہلے ہی اپنے افلاس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سوچ لیا تھا کہ بیٹی کے لئے اتنی تعلیم کافی ہے۔ پاس ہو یا فیل گھر بیٹھ کر سلائی کڑھائی کا کام سیکھے جو اسے آئندہ زندگی میں کام بھی آئی اور اب جس فکر نے اس کو گھیر رکھا تھا وہ بیٹی کی شادی تھی۔

          فطرت جب اپنی موج میں ہوتی ہے تو انسان کو کیا کیا نیرنگیاں دکھاتی ہے لیکن جب زیادہ حیران کرنا چاہے تو مفلس کو حسن دیتی ہے۔ آسیہ بھی نسوانی حسن کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ کتابی چہرہ، سرخ و سفید رنگت، باریک اور خوبصورت ہونٹ جن پر دائمی مسکراہٹ کا گمان ہو ، جوانی کے نشے سے مخمور بڑی بڑی آنکھیں ، نکلتا قد، گندھا ہوا بد،ن، بال اتنے لمبے اور کالے کہ شیش ناگ کا دل دہل جائے اور رات کائنات پر آنے کا نام نہ لے ، چلے تو مور پائل بھول جائے اور اگر تھوڑا سا سنگھار کر لے تو کوئی نہ کہے یہ دلے ہٹی والے کی بیٹی ہے بلکہ وہ تو کوئی شہزادی لگے۔ چاند طلوع ہو تو ساری دنیا چاندنی میں نہا جاتی ہے۔ آسیہ کے حسن کے چرچے بھی شہر بھر میں ہونے لگے تھے۔ ایک رشتہ آیا ، لڑکا کوچوان تھا۔ اس کے ابا نے چھٹی نہ کر دی۔ دو ماہ گزر گئے۔ پھر رشتہ آیا۔ لڑکا ڈرائیور تھا ، ویگن چلاتا تھا ، ماں کہے جاتی تھی ، میرا بیٹا لاکھوں میں ایک ہے اور پھر سارے ڈرائیور اسے استاد جی کہتے ہیں۔ آسیہ دوسرے کمرے میں باری کے ساتھ بیٹی ان کی باتیں سن رہی تھی۔ یہ سنتے ہی اسے گھن سی آئی، وہ دعا کر رہی تھی اللہ کرے ابا ناں کر دیں ، مستجابی کا لمحہ تھا۔ اس کے ابا نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آسیہ کے چہرے کی پیلاہٹ پھر سرخی میں بدل گئی تھی۔

          آسیہ بات سنو ! وہ لوگ گئے تو اس نے بیٹی کو بلا لیا۔

          جی ابا! وہ دوپٹہ اوڑھتے ہوئے آ کر اس کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔

          میں نے یہاں بھی تمہارا رشتہ دینے سے انکار کر دیا ہے ، پتہ نہیں اچھا کیا یا برا لیکن اتنا میں سمجھتا ہوں کہ جس کام کی گواہی دل نہ دے وہ نہیں کرنا چاہئے اور میں ان پڑھ بھی تو ہوں ، تو پڑھی لکھی ہے جہاں میں غلط بات کرنے لگوں تو مجھے سمجھا دیا کر ! یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں کمرے کے ایک کونے میں چھپ رہی تھیں۔

          آپ میرے باپ ہی نہیں ماں بھی ہیں ، جو فیصلہ بھی کریں گے اچھا ہو گا ! آسیہ نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔

          رشتوں کا سلسلہ کچھ عرصہ کے لئے معطل ہو گیا تھا اور اس دوران آسیہ نے اپنے لئے تھوڑی بہت چیزیں بنا لی تھیں۔ لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں تھا ، ماں باپ تو چاہتے ہیں کہ بیٹی کو ڈولی میں بٹھاتے ہوئے گھر کی آخر اینٹ بھی اس کے ساتھ ڈولی میں کھ دیں۔ اس کے ابا کو یہ غم بھی اندر سے چاٹے جا رہا تھا کہ اگر کہیں رشتہ طے ہو ہی جاتا ہے تو بیٹی کا جہیز کہاں سے آئے گا۔

          کہتے ہیں انسانی جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ یوں ہی ہوا ، گرمیوں کی شام تھی ، آسیہ کا ابا آ کر ابھی بیٹھا تھا ، اس کے چہرے سے تھکن ٹپک رہی تھی ، اس نے پانی کا کٹورہ بھر کے ابا کو دیا جو اس نے فوراً اپنے حلق میں انڈیل لیا۔ آسیہ پاس کھڑی ہو کر ابا کو پنکھا جھلنے لگی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ اس کے ابا نے باہر جا کر دیکھا ، ایک مرد کے ساتھ عورت بھی کھڑی تھی۔

          جی فرمائیے! اس نے عورت کو نظر انداز کرتے ہوئے مرد سے مصافحہ کیا۔

          میں شکیل ہوں اور یہ میرے بچوں کی ماں ہے ، آپ کے پاس ایک کام کے سلسلہ میں حاضر ہوئے ہیں۔ شکیل نے کہا۔

          آئیں اندر آ جائیں گھر میں صرف میری ایک بیٹی ہے وہ آپ کی بھی تو بیٹی ہے ! اس نے دروازہ کھولا اور ان کو لے کر اندر آ گیا۔

          انشاء اللہ ہماری بیٹی ہے۔ شکیل اور اس کی بیوی نے یک زبان ہو کر کہا۔

          آسیہ نے دوسرے کمرے میں آ کر ان کو سلام کیا۔ شکیل کی بیوی نے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ آسیہ کو یوں لگا جیسے اس کی اپنی ماں ہو ، ماں کی قدر وہی جانتا ہے جو اس کو ترسا ہو ، ممتا کے لئے تڑپا ہو ، اک سکون آسیہ کے جسم و جاں میں سرایت کر گیا تھا ، اسے ایک ٹھنڈک کا احساس ہوا تھا ، یوں جیسے تپتے صحرا میں کوئی گھٹا کسی مسافر پر سایہ کر دے اور جانے کیوں اسے شکیل کے سراپا میں اپنے ابا کا پیکر نظر آیا۔ دور دل کے کسی گوشے میں ایک میٹھی خواہش نے انگڑائی لی۔ اس نے دوسرے کمرے میں آ کر کارنس سے شیشے کا جگ اور دو گلاس اتارے ، انہیں دھویا اور ٹھنڈے گھڑے سے جگ میں پانی ڈال کر لکڑی سے بنے پتنوس میں رکھ کر اندر لے گئی۔ گھر میں میز یا تپائی نام کی کوئی چیز نہیں تھی اس لئے پتنوس اس نے دوسرے  چارپائی پہ رکھا اور گلاسوں میں پانی ڈال کر دونوں کو دیا۔ شکیل کی بیوی کی نظر آسیہ کے چہرے سے نہیں ہٹ رہی تھی۔ شاید ہو یہی سوچ رہی تھی کہ اگر یہ لڑکی کسی امیر کی بیٹی ہوتی تو اور بھی خوبصورت ہو جاتی۔ آسیہ پھر ساتھ والے کمرے میں جا کر باری کے ساتھ پڑی چارپائی پہ بیٹھ گئی تھی۔ یہ ایسی جگہ تھی جہاں بیٹھ کر وہ آسانی سے ساری باتیں سن سکتی تھی۔

          سادہ پانی سے آپ کی تواضع کرتے ہوئے مجھے کمتر ہونے کا احساس ہو رہا ہے اور اگر یہ بات نہ بھی کہوں تو میرے گھر کی حالت نے اپنی زبان میں آپ سے بہت کچھ کہہ دیا ہوتا !۔ آسیہ کے ابا کی نظریں شکیل کے چہرے سے ہوتی ہوئی اس کے پاؤں پر آ کر رک گئیں تھیں۔

          بھائی صاحب آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں ہم بھی امیر کبیر نہیں ہیں ، ایک بھرم ہے سفید پوشی کا ، جو رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارا آپ کے پاس آنے کا مقصد آپ کی بیٹی کو اپنی بیٹی بنانا ہے۔ ہمارا بیٹا عثمان ایک نیم سرکاری محکمے میں اچھے عہدے پر ہے ! شکیل نے اس سے اپنا مدعا کہہ دیا تھا۔

          اس نے کوئی جواب نہیں دیا، ناں بھی نہیں کی بلکہ کسی سوچ سمندر کی تہہ میں اتر گیا۔ آج اسے اپنی بیوی کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی۔ اس کے ذہن کے پردے پر برسوں بعد زینت کے نقوش ابھرے تھے۔ زینت کی یہ بات اسے اب بھی کل کی طرح یاد تھی۔ آسیہ کے ابا ہمارے آنگن میں دھریک اگ آئی ہے تو اس کے سائے میں بیٹھنے والا ایک اور سستانے والے بہت ہوں گے۔ آسیہ اس وقت دو سال کی تھی۔ اب وہ سوچ رہا تھا کہ زینت نے کتنی کھری بات کی تھی ،کتنی دور اندیش تھی وہ شاید بیٹی کی ماں تھی اس لئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس جیسا مورکھ ایسی بات کہاں سمجھتا تھا۔ اس نے کہا تھا ، اوئے زینتے تو ایسی باتیں کر کے مجھے وقت سے پہلے بڈھا کر دے گی۔

          آپ نے ہمیں کوئی جواب نہیں دیا ! شکیل نے اس کی اٹوٹ خاموشی کو توڑنا چاہا۔

          جی وہ میں ، دراصل آسیہ کی امی سے بات کر رہا تھا ! یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے چشمے پھوٹ پڑے تھے ، ادھر آسیہ بھی اشکوں کی لڑیاں پرو رہی تھی۔ اسے بھی ماں بہت یاد آ رہی تھی۔

          آپ پریشان نہ ہوں ، ہماری طرف سے آپ کو کوئی شکایت نہ ہو گی۔ شکیل کہہ رہا تھا۔

اچھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو پھر آسیہ میں نے آپ کی جھولی میں ڈال دی ، آپ کی بات سے میری ڈھارس بندھی ہے لیکن میرے پاس بیٹی کو جہیز میں دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ، اگر کل ہمارے درمیان اس بات پہ تکرار ہو تو بہتر ہے یہ بھی ابھی طے کر لیا جائے ! اس نے شکیل کے سامنے اپنی حالت دھر دی تھی۔

          آپ اس کی بھی فکر نہ کیجئے اللہ بہتر کر گا !

          شکیل نے اس کی مزید حوصلہ افزائی کی اور یکدم اٹھ کر باہر نکل گیا ، چند منٹ بعد واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔ ہم دو ماہ کے اندر بیٹے کی شادی کرنا چاہتے ہیں ! اس نے ڈبہ آسیہ کے ابا کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا۔ وہ چلے گئے تو باپ بیٹی دکھ سکھ بانٹنے اکٹھے ہو بیٹھے۔

بیٹی پتہ نہیں کیوں میرے منہ کو چپ لگ گئی تھی۔ انہوں نے مجھے بہت تسلی دی ، میری ہمت بندھائی ، تب میں نے اپنا کلیجہ نکال کر ان کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ میرا دل بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ میری بیٹی یہاں سکھی رہے گی۔ میں نے یہاں تیرا رشتہ دے دیا ہے۔ آگے تیری قسمت ! وہ کہہ کر چپ ہو رہا۔

آسیہ نے کچھ نہیں کہا ، بس پرے دیکھتے ہوئے زمین پر اپنی نظریں رگڑتی رہی۔ اس رشتے پر وہ بھی مطمئن تھی پر جس بات نے اسے پریشان کر رکھا تھا وہ یہ تھی کہ اس کے بعد ابا کا خیال کون رکھے گا۔ وہ ابا جو اس کی ماں مر جانے کے بعد اس کے لئے کھانا بناتا تھا ، اس کے کپڑے دھوتا تھا ، جب یہ پانچ سال کی ہوئی تو انگلی سے پکڑ کر اسکول داخل کرا آیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتنے کٹھن راستے پر چلا تھا اس کا ابا لیکن دوسری شادی نہیں کی تھی ، کیوں!؟اس کے لئے اس کی تربیت کے لئے سوتیلیاں ایسی تربیت کہاں کرتی جیسی اس کے ابا نے کی تھی ، ان پر تو خاوند کی پہلی بیوی سے اولاد بوجھ ہوتی ہے ، وہ نفرت کرتی ہیں۔ ظلم بھی کرتی ہیں اور خاوند کو اولاد سے بد ظن بھی کرتی رہتی ہیں۔ اسے تھوڑا تھوڑا یاد پڑتا تھا بہت رشتہ داروں نے ابا سے کہا تھا کہ آسیہ کی خالہ کنواری ہے تم چاہو تو یہ رشتہ ہو سکتا ہے۔ ماں نہیں تو مانسی ہو گی۔ ابا نے صاف انکار کر دیا تھا۔ وہ اس وقت ابا کی گود میں بیٹھی جیب کی تلاشی لے رہی تھی۔ اسے کیا پتہ تھا ماں مر گئی ہے اور ممتا ساون کی ٹھنڈی پھوار اب اس پر کبھی نہیں پڑے گی ، مہربان گھٹا برس کر چھٹ چکی تھی اور اب تیز دھوپ میں اس کا معصوم بدن جھلسے گا ، ایسے میں ابا نے وہ دھوپ اپنے جسم پر لے لی تھی ، خود پگھلتا رہا لیکن اس کو بچائے رکھا۔ اس کی ماں زندہ ہوتی تو ابا کتنا بے فکر ہوتا ، دونوں بیٹھ کر دکھ سکھ بانٹتے، مگر اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابا اکیلا رہ جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں ! وہ ابا کو تنہا نہیں ہونے دے گی۔ وہ اس رشتے سے انکار کر دے گی۔ اس نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا۔

          آسیہ کچھ کہو بیٹی میں تمہاری ہاں اور نہیں کے درمیان کھڑا ہوں ! اس کو آسیہ کی طویل خاموشی کھٹکنے لگی تھی۔

          ابا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ رشتہ پسند نہیں ! اس نے بہت سوچا کیا کہے، کوئی ایسی بات نہ کہہ دے جس سے ابا کی دل آزاری ہو ابا کی انا پر ضرب پڑے۔ لوگوں سے پہلے اس کے کردار پر ابا کی انگلی نہ اٹھ جائے۔ یہ تو اس نے بعد میں سوچا کہ ابا کے سامنے اسے رشتہ سے متعلق اپنی پسند یا نا پسندیدگی کا اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا ، ابا کیا سوچے گا ، اگر یہ رشتہ پسند نہیں تو کون سا پسند ہے۔ یہ خیال آتے ہی اس کی پیشانی پر تریلی سی آ گئی تھی۔

          میرے خیالوں میں تو ابا کے سوا کسی کا گزر بھی نہیں ہوا ! آسیہ نے خود کلامی کی۔

          ماں بیٹی کی سہیلی ہوتی ہے اس لئے اس کے ساتھ کھل کر بات کر سکتی ہے لیکن بیٹا باپ کا دوست نہیں ہوتا ان کے درمیان احترام حد فاصل ہوتا ہے۔

          میری دانست میں تو یہ لوگ اچھے تھے لیکن بیٹی، میں تم سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ تھوڑی سی دیر میں تمہیں ان میں کیا خرابی نظر آئی ، میری خواہش ہے کہ تم سکھی زندگی گزارو۔ اب تمہاری ماں تو ہے نہیں جس سے تم دل کی بات کہتی ، میں نے بھی تمہیں ماں بن کر پوسا ہے لیکن میں بہر حال تمہارا باپ ہوں۔ اس کے ابا نے کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔

          نہیں ابا ! میرے دل میں کوئی بات نہیں ہے ، اس نے دوپٹے سے ڈھانپے ہوئے سر کو مزید ڈھانپا اور وہاں سے اٹھ گئی۔ اس نے جو سوچا تھا وہی ہوا۔ ابا کی گرہ دار بات نے اسے پریشان کر دیا تھا ، اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بکھر رہی ہو۔ چند لمحے پہلے اس نے اپنے لئے کتنا حسین محل تیار کیا تھا ، کتنے مہربان لوگ اس کے گرد اکٹھے ہو گئے تھے۔ شکیل کی بیوی تو اسے یوں لگی جیسے اس کی اپنی ماں ہو ، اس نے تصور میں عثمان سے گھونگھٹ بھی نکال لیا تھا۔ ابا سے کہہ کر اس نے اپنے آپ سے کتنا بڑا جھوٹ بولا تھا ، اپنے سر سے ٹھنڈے سائے خود ہی نوچ لئے تھے ، سکھ تیاگ دیا تھا ، لیکن کس کے لئے اپنے ابا کی خاطر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سوچ کر وہ مطمئن ہو گئی۔

٭٭٭