کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کم ظرف

احسان بن مجید


ایک بڑے سٹور میں اسے نوکری کیا ملی ، لگا جیسے کسی سوکھے پیڑ نے بہار قبول کر لی ہو اور اب اس پر کونپلیں آنی شروع ہو گئی ہوں۔ جب وہ کسی دوست کو صبح دفتر جاتے دیکھتا یا شام کو لوٹتے ہوئے مڈبھیڑ ہو جاتی تو ایک حسرت جیسے اس کا گلا دبانے لگتی۔ احساس اس پر آرے چلانے لگتا اور پھر وہ اپنے وجود کو کہیں چھپانے کی کوشش کرتا۔ وہ سوچا کرتا کہ اس کی پیشانی کی لکیریں اتنی مدھم ہیں کہ زندگی کسی دھڑے پر آ ہی نہیں رہی۔ اسے یہ خیال بھی آتا کہ کاش وہ گریجویٹ نہ ہوتا ، سکول میں پچھلے بینچ پر بیٹھتا ، ماسٹر سے ڈنڈے، تھپڑ اور لاتیں کھاتے ہوئے بھاگ جاتا ، لاری اڈے کی طرف یا جدھر منہ آتا ، اسے پکڑ کے لایا جاتا ، پھر بھاگ جاتا اور یوں بھاگتا کہ مڑ کے سکول کا منہ نہ تکتا۔ آخر کار والد اسے کسی موٹر مکینک کے پاس چھوڑ دیتا اور آج وہ اس قابل ہوتا کہ روزی روٹی کی فکر سے آزاد ہوتا مگر وہ تو ایسا طالب علم ہی نہیں تھا ، وہ تو ہمیشہ سامنے کے بینچ پر بیٹھا۔ لائق لڑکے ہمیشہ اس کے دوست رہے اور میٹرک تک ماسٹروں کی گڈ بکس میں رہا۔ لیکن اس کا بت بنانے کے لئے فرشتوں نے شاید سمندر کی تہہ سے مٹی لی تھی اور اس کا نصیب اس میں گوندھ لیا تھا۔ یخ ٹھنڈا ، چکنا سا ،  آسودگی کا ہر لمحہ اس کے نصیب سے ٹکرا کر پھسلتا تو جیسے پاتال میں اتر جاتا۔

          میٹرک تک تو وہ پیارا سا لڑکا تھا ، توجہ کھینچنے والا ، گندھا ہوا بدن ، گول مول چہرہ اور چہرے پر دو بڑی بڑی ہمہ وقت مسکراتی آنکھیں ، نکلتا قد اور سفید گندمی رنگت۔ سکول کا یونیفارم پہنے وہ سب سے الگ نظر آتا۔ پر جانے کیوں کالج پہنچتے ہی اس کے چہرے کے اطراف میں کالا ریشم اترنے لگا۔ آنکھوں کی مسکراہٹ شعور کی بیداری میں ضم ہونے لگی۔ وقت ہمیشہ آگے چلتا ہے یوں بچے جوان ، جوان بوڑھے جب چار کندھوں کے سہارے گھر سے نکلتے ہیں تو کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ اس کی نظریں اب والد کے چہرے پر اکثر ٹک جایا کرتی تھیں جس سے ماس ڈھلکنے لگا تھا اور گردن پر گوشت کی ایک الگ سی تہہ آنے لگی تھی۔ نوجوانی کے نشے میں ڈوبی نیند میں جب کبھی وہ کروٹ بدلتا تو والد کی انگلیوں میں سگریٹ تھامے بیٹھا دیکھتا۔

          ابا جی لیٹ جائیں ! بے فکری کی نیند اتنی مہلت ہی دیا کرتی ہے۔ وہ پھر گہرا سو جاتا ، اسے تو یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ رات کو کون سا پہر ہے ، وہ کتنا سو چکا اور والد کب سے جاگ رہا ہے۔

          اچھا بیٹا تم سو جاؤ ! والد کی یہ بات اس پر نیند کی ایک اور تہہ چڑھا دیتی اور پھر صبح کی آنکھ کھلتی تو والد دکان پر چلا گیا ہوتا۔ وہ کہاں جاتا ، بس یہی احساس اس کے لئے سوہان روح بنا ہوا تھا اور اب وہ اکثر سوچنے لگا تھا کہ کسی طرح والد کا بازو بن جائے۔ اسی خیال کے زیر اثر اس نے مختلف سرکاری دفتروں میں درخواستیں دے ڈالیں۔ لیکن گزرتے دن جب مہینوں میں بدلنے لگے تو یہ سوچ کر اس کا دل دکھتا کہ اس کی درخواستیں جانے کہاں چلی جاتی ہیں۔ کہیں سے بھی تو اس کو بلاوا نہیں آیا اور پھر راتوں کو اس کی نیند ٹوٹنے لگی۔ شاید پریشانی نیند چوس لیتی ہے۔ اب کہیں جا کر وہ سمجھا تھا کہ ابا جی رات کو کیوں بیٹھے رہتے ہیں اور اسے ـ’’تم سو جاؤ‘‘ کیوں کہتے ہیں۔ شاید کہنا چاہتے ہوں جاگنے کے لئے میں ہوں ناں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          سٹور پر آئے اسے آج تیسرا دن گزر گیا تھا لیکن مالک سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پرانے کارکن اسے گھاس نہیں ڈال رہے تھے۔ یوں جیسے وہ کوئی چھوت کی بیماری ہو، جسے وہ ہاتھ ملائے گا وہ بھی اس جیسا ہو جائے گا ، وہ جن کے پاس بیٹھے گا ، یہ بیماری اسے بھی لگ جائے گی ، شاید اسی لئے کرسیاں موجود ہونے کے باوجود بیٹھنے کے لئے اسے پلاسٹک کا میلا سا سٹول دیا گیا تھا جس پر غالباً وہ لوگ پاؤں رکھ کر اوپر کے ریک سے کوئی چیز گاہک کے لئے اتارتے ہوں گے۔ جب وہ ایک دوسرے سے مخول کر کے قہقہہ لگاتے تو اسے رشک آتا لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا کہ ہنسنے کے لئے دل کا سر سبز ہونا ضروری ہے ، بنجر دل لوگ کب ہنستے ہیں۔ اگر چہ ساتھیوں کا یہ رویہ اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا لیکن حالات سے سمجھوتا اس کی مجبوری تھی کہ یہ نوکری بھی اسے ایک سفارش سے ملی تھی اور وہ اسے گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ پتا نہیں مالک مزاج کا کیسا ہو!! اس نے خود کلامی کی۔

          دن گے گیارہ بج رہے ہوں گے جب ایک سبز رنگ کی مرسیڈیز پارکنگ میں رکی۔ سٹور میں یکدم بھگدڑ سی مچی اور خاموشی چھا گئی۔

          کیشئیر کاؤنٹر پر متوجہ ہو کر بیٹھ گیا اور باقی چار رکن اپنے اپنے ریک کی جھاڑ پونچھ کرنے لگے ، اگر کوئی پیکٹ ترتیب میں نہ ہوتا تو اسے درست کر دیتے اور کبھی کبھی جھانک کر کار سے اترنے والے شخص کو دیکھ لیتے۔ کار سے ایک طویل قامت کا آدمی اترا۔ اس نے شفاف سفید شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ سرخ و سفید چہرہ، سیاہ کالے بال اور آنکھوں پر Ray Benکے چشمے نے اس کی شخصیت کو مزید پر وقار بنا دیا تھا۔ آہستہ آہستہ چلتا۔ ریکوں کی راہداری سے گزرتا اپنے دفتر کے پاس پہنچا اور مڑ کر کھڑا ہو گیا ، ایک نگاہ سٹور پر ڈالی اور دفتر میں جا کر بیٹھ گیا۔ سب لوگوں نے اسے باری باری سلام کیا۔ اس نے سب کو ایک ہی جواب میں بھگتا دیا۔ وہ بھی سٹول سے اٹھا تھا ، اس نے بھی سلام کیا تھا لیکن اسے جیسے نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ اسے لگا جیسے اس کے اندر کوئی بہت بڑی عمارت زمین بوس ہو گئی ہو۔

          ایک گھنٹی بجی ، اس کا مطلب تھا ، کیشئیر کو طلب کیا گیا ہے ، اس نے کیش بکس مقفل کیا اور فوراً اندر لپکا۔ مالک فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔

          نئے لڑکے کو بلاؤ ! مالک نے ریسیور واپس رکھتے ہوئے کیشئیر کی طرف دیکھا۔

          جی اچھا ! اور اس نے اسے اشارے سے اندر جانے کو کہا۔

          اسے لگا جیسے وہ کسی ایسے محاذ پر جا رہا ہو جہاں صرف ایک گولی اس کی منتظر ہو۔ وہ بکھر کر رہ گیا لیکن اس نے اپنے آپ کو سمیٹ کر ایک گٹھڑی میں رکھا  اور دفتر کی جانب ہو لیا۔

          آؤ ، وہ کریم صاحب بہت دنوں سے یہاں تمہاری نوکری کے لئے اصرار کر رہے تھے ، تم دیکھ چکے ہو گے کہ یہاں عملہ مکمل ہے ، تم Surplusرہو گے، فی الحال تمہیں اڑھائی ہزار ملیں گے۔ ہم تمہارے کام ، محنت اور دیانت داری کا جائزہ لیں گے۔ اطمینان کی صورت میں پیکج میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ابھی تم جاؤ اور میری گاڑی صاف کر کے پھر میرے پاس آؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          جہاں سوچوں پر بہار اتر رہی تھی پل بھر میں شعلے برس گئے۔

          جی! اور وہ یوں دفتر سے نکلا جیسے مالک نے اسے دھکے دے کر نکال دیا ہو۔ وہ گاڑی بھی صاف کرتا رہا اور کڑھتا بھی رہا۔ تنور میں پڑی گیلی لکڑی کی طرح ، سوچتا رہا یہ کیا کام ہوا، آدھ گھنٹہ گزر گیا ، مرسیڈیز  لشک گئی لیکن اس سے اٹھنے والی دھول اس کے دل و دماغ پر اڑتی رہی۔ اس عرصہ میں اس نے جانے کیا کیا سوچا ، پر ہر سوچ کے آگے ایک دیوار ، بہت دور تک پھیلی ہوئی ، آسمان سے باتیں کرتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہیں سے ایک بھٹکتا ہوا خیال آیا اور اس کی انگلی تھام لی ، گھبراؤ نہیں ، یہ تمہارا امتحان تھا ، تم سرخرو ہوئے ، دہکتی آگ پر جیسے بارش برس گئی۔ یہ نوکری حاصل کرنے کے لئے تو وہ کئی گاڑیاں صاف کر سکتا ہے ، گاڑیاں کیا وہ تو واش روم دھونے کو بھی تیار ہے ، اسے ایک آسودگی کا احساس ہوا۔

          گاڑی صاف ہو گئی جناب !

          اچھا یہ بتاؤ کچھ پڑھ لکھ سکتے ہو۔

          جی ہاں! اس کا جی چاہا فلک شگاف قہقہہ لگائے۔

          کتنا پڑھے ہو

          بی اے ، گریجویٹ ہوں

          مالک کی آنکھیں جیسے حیرت سے پھیل گئیں۔ اس کی نگاہیں اس کے چہرے کے درشن کر کے لوٹیں تو اپنی ہی جھولی میں گر گئیں۔ اس نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں رکھ لیا اور چند لمحے یوں خاموش ہو گیا جیسے اپنا سامنا کرنے سے کترا رہا ہو ، جیسے اس کے جسم میں یکبارگی کئی سوئیاں چبھ گئی ہوں اور وہ ایک ایک کر کے نکال رہا ہو۔ لگ رہا تھا جیسے وہ ایک پشیمانی سے گزر رہا ہو  لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          میں ایم اے ہوں ، پتا نہیں اسے اپنی تعلیم بتانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔

          جی ، تعلیم جتنی ہو کم ہے۔

          ہاں۔ اب تم جاؤ میں کیشئیر سے کہہ دیتا ہوں۔

          اس نے ایک بار پھر سلام کیا اور دفتر سے باہر آ کر کیشئیر کے پاس چلا گیا۔ وہ پوری دیانت داری سے کام کرتا رہا ، کسی کو اس سے شکایت نہیں تھی۔ دہ ماہ بیت گئے کہ ایک دن مالک کی نگاہ اس پر پڑی اور چپک کر رہ گئی۔ اس کے چہرے پر ایک نا خوشگوار سا تاثر ابھرا۔ اسی لمحے اس کا چہرہ بجھ گیا ، وہ سوچتا رہا آخر کیا بات ہوئی جو مالک کو وہ اچھا نہیں لگا۔ یہ مشق جب کئی دن جاری رہی تو اس نے والد سے کہہ دیا۔

تم اچھا لباس پہن کر سٹور پر نہ جایا کرو۔ اس کا والد یہ کہہ کر مطمئن ہو گیا۔

٭٭٭