کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ماں کا سچ

احسان بن مجید


’’ ماں لے آتی ہے مانگ کے ، اور تو مشٹنڈے ، تین وقت بیٹھ کے کھاتا ہے ، گڈا اڑاتا ہے یا پڑ کے سو رہتا ہے۔ سات سال کا ہو گیا ہے۔ تو کیسے اپنے پیروں پہ کھڑا ہو گا۔ چل میرے ساتھ ، سیکھ لے تھوڑا بہت ، کام آئے گا ‘‘ ماں نے بریمے کو کان سے پکڑ کر آگے لگا لیا تھا۔

          ’’کان چھوڑ ماں ، چلتا ہوں۔ اس میں سیکھنے کی کون سی بات ہے۔ ایک سے مانگو ، نہ ملے تو آگے چل کر دوسرے سے مانگ لو۔ ‘‘ بریمے نے کان چھڑاتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا جو بائیں پہلو میں اس کے دو سال کی بھائی کو اٹھائے جا رہی تھی۔

          ’’ماں ! میرا باپ کیوں نہیں مانگتا۔ وہ جھونپڑی میں پڑا سارا دن حقہ گڑگڑاتا ہے یا پٹی کے مردوں کے ساتھ تاش کھیلتا ہے۔ اور تو صبح گھر سے نکلتی ہے تو دوپہر کا کھانا بھی رکھ آتی ہے ! ‘‘ بریمے کے معصوم ذہن میں یہ سوال جانے کب سے پرورش پا رہا تھا۔

          ’’ابھی تو نہیں سمجھے گا۔ ‘‘ ماں نے سنی ان سنی کر دی تھی۔

          جھونپڑی سے چل کر ایک سو قدم کے فاصلے پر لاری اڈا تھا اور بریمے کی ماں معمول کے مطابق پہلے وہیں گئی تھی۔ لاری اڈے میں داخل ہوتے ہی بھوکی نظریں اس کے جسم میں چھید کرنے لگتیں۔ وہ اگر چہ جھونپڑی والی تھی پر ناک نقشہ تو خدا بناتا ہے۔ رنگت اتنی کالی بھی نہیں تھی۔ بس یوں جیسے سورج کے ڈوبتے مشرق سے سر مئی رات جھانکنے لگتی ہے۔ سونے کے زیور تو ان کی نسلوں کو نصیب نہیں ہوتے لیکن چاندی اور گلٹ تو ان کے بس میں ہوتا ہے۔ اس نے بھی چاندی کی بڑی بڑی بالیاں پہن رکھی تھیں۔ جن میں جا بجا رنگین نگ ایسے جڑے تھے جیسے گرمیوں کی کسی شام یک دم بارش ہو کر آسمان صاف ہو جائے اور سورج اپنی ست رنگی روشنی افق پر پھیلا دے۔ وہ بسوں اور ویگنوں کے درمیان سے گزرتی ایک ہوٹل کے سامنے جا رکی۔

          ’’بڑے دنوں بعد آئے ہو بادشاہو! ہوٹل والے نے ابلتی چائے پھینٹتے چھوڑ کر اس کی طرف دیکھا اور جیسے کھو گیا۔ چائے ابل کر چولھے پر گری تو شوں کی آواز سے اس نے بریمے کی ماں کے چہرے سے چپکی نظریں کھینچ لیں۔ غلے میں ہاتھ ڈال کر ایک روپے کا سکہ اس کی طرف بڑھایا۔ بریمے نے بڑھ کر سکہ لیا اور اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے ہوٹل والے پر چند لمحے غضب برسا کر لوٹ آیا۔ ماں اس کی انگلی پکڑ کر آگے چل دی۔

          چند قدم چلنے کے بعد ، اس سے قبل کہ اس کی ماں کہیں اور رکتی ، اس نے ماں کو ہاتھ سے پکڑ کر روک لیا۔ اس کے چھوٹے سے ہاتھ میں جانے اتنی طاقت کہاں سے آ گئی تھی کہ ماں فوراً رک گئی۔ ’’ماں! ہوٹل والے نے ایسا کیوں کہا تھا ؟ میرا اس وقت جی چاہا ، ابلتی چائے سے بھری دیگچی اس کے سر پر الٹ دوں۔ ‘‘

          ’’تو اگر ایسا سوچے گا تو کوئی مجھے پھوٹی کوڑی بھی نہیں دے گا۔ اور دیکھ بریمے! مانگنے والا دینے والی کی ہر بات سنتا بھی اور سہتا بھی ہے۔ تو نے پہلی بار ایسا سنا ہے۔ اس لئے تجھے اچھا نہیں لگا۔ میں روز سنتی ہوں ، اس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔ لیکن جب میری ہتھیلی میں روپیہ آ جاتا ہے تو میں سمجھتی ہوں دینے والے نے جو بھی کہا میں نے اپنا حق وصول کیا۔ ’’ چلو چلیں ‘‘ ماں نے اسے سمجھایا  اور آگے چل دیے۔

          لاری اڈا کی حد ختم ہونے سے پہلے ایک میڈیکل سٹور تھا جہاں وہ اگر دن میں دو بار بھی جاتی تو خالی ہاتھ نہیں لوٹی تھی۔ اس سٹور کا مالک ایک ادھیڑ عمر شخص تھا جو اسے کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر اس کی ہتھیلی پر روپیہ رکھ دیتا تھا۔ لیکن آج جونہی وہ سٹور کے سامنے پہنچی اسی لمحے دو تین گاہک بھی آ پہنچے۔ سٹور کا مالک ادھر مشغول ہو گیا۔ وہ کھڑی رہی۔ بغل میں اٹھایا بچہ رونے لگا۔

          ’’چپ کر اوئے سور کے پتر۔ ‘‘ بریمے نے بھائی کو غلیظ گالی دی اور وہ یوں خاموش ہو گیا جیسے بریمے کے تیور بھانپ گیا ہو۔

          ’’چل اب چلی بھی جا۔ پھر لے جانا۔ دیکھتی نہیں گاہک کھڑے ہیں۔ ‘‘ سٹور والے کا لہجہ ترش تھا۔

          ’’چلے جاتے ہیں۔ تو کون سا سو روپے دینے والا ہے ! ‘‘ بریمے کی زبان نے حرکت کی۔

ماں نے اس کی پیٹھ پر تھپڑ دے مارا اور اس کو آگے لگاتے ہوئے سڑک پار کر کے کچہری کے احاطے میں داخل ہوگئی۔ پارکنگ عبور کرتے ہی منشیوں کے پھٹے شروع ہو جاتے تھے۔ زیادہ تر کے پاس بھیڑ لگی ہوئی تھی لیکن کچھ بے کار بیٹھے چائے کی سرکیاں بھر رہے تھے۔ سلیم الدین ایڈووکیٹ کا منشی جوان تھا لیکن سر کے اکثر بال سفید ہونے کی وجہ سے چاچا سا لگتا تھا۔ چہرے پر دائمی ویرانی چھائی رہتی۔ اسیر ہوس نظریں ہمیشہ کسی مجبور و بے بس پر لگی رہتیں۔ بریمے کی ماں اس کے پھٹے سے چار قدم پرے رک گئی اور جھک کر اس کے کان میں کہا ’’ جا اس چاچا سے ایک روپیہ لے آ۔ ‘‘

          بریمے کے پاؤں میں جیسے بیڑیاں پڑ گئیں۔ ماں کیا کہوں چاچا سے ؟ اس نے سر اٹھا کر ماں کا چہرہ دیکھا۔

          ’’چاچا ایک روپیہ دے۔ بھوک لگی۔ روٹی کھاؤں گا !‘‘ ماں نے اسے پہلا سبق دیا۔

          منشی کے پاس پہنچ کر اس نے اپنا چھوٹا سا ہاتھ پھیلا کر ماں کا دیا ہوا سبق دہرایا۔ ’’ چاچا ایک روپیہ دے بھوک لگی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

          ’’چل دفع ہو۔ بھوک لگی ہے تو باپ سے مانگ۔ میں کوئی تیرا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صبح سے میں خود خشک بیٹھا ہوں۔ ‘‘ منشی نے اسے بری طرح جھڑک دیا۔

          ’’چاچا ایک روپیہ مانگا ہے تو بات بھی ایک روپے کی کر !‘‘ بریمے نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں پھاڑ کر منشی کی طرف دیکھا جو کسی مقدمے کی مثل ڈھونڈنے میں مشغول ہو گیا تھا۔ وہ ماں کے پاس لوٹ گیا۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ اور وہ سوچ رہا تھا کہ گداگری کا آغاز ہی ایک خبیث آدمی کے در سے کیا۔ وہ ماں کے پاس پہنچ کر خاموش کھڑا ہو گیا۔ ممتا موجزن ہو گئی۔

          ’’کیوں بریمے! ‘‘ ماں نے جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ پلکوں پر آئے آنسو رخساروں پر بہہ نکلے۔ ماں کے کلیجے پر چھری چل گئی اور اس نے بریمے کے گیلے گالوں پر بوسہ دے کر معصوم دل سے ساری پریشانی چوس لی۔

          ’’ماں! تو نے مجھے اس کے پاس بھیجا کیوں ؟‘‘ بریما مچل گیا۔

          ’’بریمے! ہمارے لئے کوئی دینے والا مخصوص نہیں۔ ہم تو ہر ایک سے مانگتے ہیں اور پشتوں سے مانگے چلے آ رہے ہیں۔ بھیک مانگنا گھٹیا کام ہے لیکن اس کو فن سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ میری ماں نے یہ فن اس وقت میرے اندر منتقل کیا تھا جب میں تمہاری جتنی تھی۔ میں نے پانچ سال میں اپنا فن اتنا پالش کر لیا تھا کہ مجھے دیکھتے ہی بڑے سنگدل اور بخیل کا ہاتھ بھی خود بخود جیب میں چلا جاتا۔ ‘‘

          ’’مجھے تیری باتیں سمجھ نہیں آر ہیں ماں۔ ‘‘ بریمے نے اکتا کر اس کی طرف دیکھا۔

          ’’اچھا چل‘‘ اور دونوں گیٹ نمبر دو سے باہر آ گئے۔ اچانک اس کی نظر کار میں بیٹھی ایک خاتون پر پڑی۔ وہ تیزی سے اس کی طرف لپکی۔ بریما بھی دوڑ کر اس کے پاس پہنچ گیا تھا۔ ’’بی بی ! میرے چھوٹے چھوٹے یتیم بچے ہیں۔ کچھ مدد کرو!‘‘

          بریما کھلکھلا کر ہنس پڑا ’’ماں! ابا تو پٹی میں بیٹھا تاش کھیل رہا تھا۔ ‘‘ ’’چپ کر حرامی۔ ‘‘ ماں نے اسے فوراً جھڑک دیا۔

          ’’تم جھوٹ بول رہی تھیں اس لئے تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ ادھر آؤ بیٹا! شاباش ! تم نے سچ بولا ہے۔ یہ لو پانچ روپے اور دیکھو تم جب اور جہاں سچ بولو گے تمہیں پانچ روپے ملیں گے۔ اور یہ تیرا انعام ہے ، بھیک نہیں۔ ‘‘ خاتون نے بریمے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کار آگے بڑھا دی۔

          ’’لا مجھے دے ‘‘ ماں نے وہیں کھڑے اس سے نوٹ مانگ لیا۔

          ’’نہیں یہ میرا انعام ہے ، بھیک نہیں ہے۔ آج میں بڑا گڈا خریدوں گا اور ہر وقت سچ بولوں گا۔

          ’’مانگنے سے ایک اور سچ بولنے سے پانچ روپے ملتے ہیں۔ ‘‘ بریمے نے پانچ کا نوٹ چھوٹی سی جیب میں ڈال کر اوپر ہاتھ رکھ لیا تھا۔

          ’’بیڑا غرق ہو جائے اس کا۔ میرے بچے کو غلط سبق دے گئی۔ بریمے! ہم جھوٹ نہیں بولیں گے تو کھائیں گے کہاں سے؟ سچ ہمارے دھندے کا دشمن ہے۔ اور جب تو جوان ہو جائے گا تو مانگنے کے لئے کیا سچ بولے گا ؟ کیا کہے گا دینے والے سے ؟ بازو یا ٹانگ  پر جھوٹ موٹ کی پٹی نہیں باندھے گا ؟ ہاتھ میں چھڑی پکڑ کے اندھا نہیں بنے گا ؟ تین روز کی بھوک چہرے پر نہیں تان لے گا ؟ کسی ڈاکٹر کے کمپوڈر سے مل کر ٹی بی کا جعلی سرٹیفیکیٹ نہیں بنوائے گا ؟ مانگنے کے لئے تو کون کون سا بہانہ نہیں تراشے گا۔ اور میں جانتی ہوں اس کے بغیر تو کوئی دوسرا کام نہیں کرے گا۔ بریمے! تو نے میرا شیر پیا ہے۔ تیری رگوں میں بھکاری کا خون ہے۔ تو اسی ماحول میں پل کر بڑھ رہا ہے۔ تیرے باپ نے شادی کرنے تک سچ نہیں بولا اور اب اسے جھوٹ بولنے کی بھی ضرورت نہیں۔ ‘‘

          بریمے نے ماں کی باتیں ایک کان سے سن کر ایک سے نکال دیں تھیں۔

          سورج کے طلوع و غروب نے جہاں بریمے کو جوانی کی دہلیز فراہم کی تھی ، حسین خواب دیکھنے کے لئے طویل راتیں مہیا کی تھیں۔ وہاں دو سال کے دوران ماں باپ کی موت کا صدمہ سہنے کا حوصلہ بھی دیا تھا۔ باپ کینسر سے چل بسا تھا اور ماں کو ایک رات زہریلے سانپ نے ڈس لیا تھا۔ ماں کی زندگی میں ہی اس نے باقاعدہ گداگری کا آغاز کر دیا تھا۔ سچ کہنے کی بات اسے ایسے یاد تھی جیسے کل کی بات ہو۔ اسے تو کار میں بیٹھی خاتون کا چہرہ بھی یاد تھا۔ وہ مانگتا ضرور تھا لیکن جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ مانگتے ہوئے وہ صرف یہ کہتا ’’ نام مولا ایک روپیہ جی۔ ‘‘ کبھی کوئی اس کی صدا پر ایک روپیہ اس کی ہتھیلی پر رکھ جاتا لیکن اکثر لوگ بے سماعت ہو کر گزر جاتے تھے۔ صبح سے شام تک وہ بمشکل چند روپے اکٹھے کر پاتا تھا جو ایک جوان بھکاری کے لئے ناکافی تھے۔ دھندا چمک نہیں رہا تھا اور اس کی وجہ سے اسے خاصی پریشانی ہو رہی تھی۔ وہ چند دنوں سے سوچ رہا تھا اور آج رات اسے کوئی حتمی فیصلہ کرنا تھا اس لئے بہت دیر تک جاگتا اور کروٹیں بدلتا رہا۔ پھر جانے اسے کیا سوجھی کہ اٹھا ،لالٹین روشن کی ، رسی پر لٹکتے کپڑوں میں اپنی ایک پھٹی ہوئی قمیض جا نکالی اور پھاڑ کر بہت ساری پٹیاں بنا ڈالیں۔ لالٹین گل کی اور اطمینان سے سو گیا۔ صبح اٹھ کر اس نے بائیں بازو کے ہاتھ سے کہنی تک تیل مل کے کس کر پٹی باندھتے ہوئے اسے گلے میں لٹکایا اور جھونپڑی سے نکل کر لاری اڈے سے ہوتا شہر آ گیا۔ راستے بھر اسے یہ احساس ہوتا رہا کیسے کوئی عورت اس کے کان میں سرگوشی کر رہی ہو مگر وہ سمجھ نہ پا رہا ہو۔ بالآخر وہ ایک جگہ رک گیا۔ سرگوشی صاف آواز میں بدل رہی تھی۔ ’’ادھر آؤ بیٹا شاباش تم نے سچ بولا ہے۔ یہ لو پانچ روپے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ تمہارا انعام ہے بھیک نہیں ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے دوسرے کان میں کسی نے کہا ’’بریمے ہم جھوٹ نہیں بولیں گے تو کھائیں گے کہاں سے ، سچ ہمارے دھندے کا دشمن ہے۔ ‘‘

          ’’نہیں بیگم صاحب! تم جھوٹ بول رہی ہو۔ میری ماں سچ کہتی تھی ‘‘ وہ چیخ پڑا تھا۔

          بارہ بجے تک اس کی جیب میں ایک سو روپے آ چکے تھے !

٭٭٭