کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خون تمنا

احسان بن مجید


جانے وہ آسمان سے ٹپکی یا خودرو پودے کی طرح زمین سے پھوٹی ، اپنا حصہ وصول کرتی آئی۔ آسمان سے گزری تو چاند کی روشنی چہرے میں بھر لی ، ستاروں کی ٹمٹماہٹ آنکھوں میں رکھ لی جن میں پل پل دن طلوع ہوتا ، رات آتی اور پھر دن ، اور جب وہ سو جاتی تو کائنات پر شب تار چھا جاتی۔ رات کی سیاہی اپنی زلفوں میں سمو لی۔ دن کے اجالے کا ابٹن بدن بھر پر کر کے نشچنت ہو گئی اور اگر زمین سے پھوٹی تو اپنے حصے کی شادابی بھی وصول کرتی آئی۔ جیسا بھی ہوا ، جب سے اس نے اس کے آنگن میں قدم دھرا ، ڈیرے کے باہر چھوٹی بڑی کاروں کی قطار سی لگ جاتی تھی۔ گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے شرفا یوں گلوریاں چباتے جیسے لقمہ چبا رہے ہوں۔ ظالم پیک دان اٹھانے کی زحمت بھی نہیں کر رہے تھے۔ رقص شروع ہوا ، تانی کے پاؤں زمین پر پڑے، طبلہ نواز کی انگلیوں میں ساری مہارت سمٹ آئی۔ سارنگی نواز نے محفل پر خاموشی طاری کر دی۔ مینا بائی ایک گوشے میں بیٹھی سگریٹ کے سوٹے مار رہی تھی۔ تانی رقص میں ماہر تھی ، خوب صورت ، نازک سراپا، جیسے کانچ کی بنی ہو اور دہری ہوئی تو ٹوٹ کر بکھر جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور وہ طبلے کی تھاپ پر تھرکتی رہی ، اپنے جسم کے مختلف زاویے بناتی رہی، حسب معمول چند تماش بینوں نے اس پر کچھ روپے نچھاور کیے۔ رقص کا اختتام ہوا ، اس نے جھک کر اپنے انداز میں سب کو سلام کیا اور چھنن چھنن، چھنن چھنن گھنگرو بجاتی واپس ہو گئی۔ لیکن تماش بینوں کے کانوں میں جیسے اب بھی گھنگرو بج رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے لئے محفل پر سکوت طاری ہو گیا ، ہر چہرے پر ایک سکون سا آ گیا لیکن ایک چہرہ مضطرب، جذبات سے عاری ، محو انتظار، جانے کس کا، تانی تو ناچ کر جا چکی تھی، مینا بائی نے ہاتھ کے اشارے سے محفل کے اختتام کا اعلان کیا تو تماش بین بکھر گئے ، وہ بیٹھا رہا جیسے رات یہیں بسر کرنے کا ارادہ کر کے آیا ہو۔ وہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھا ، امپورٹ ایکسپورٹ کے کاروبار کا اکلوتا وارث شیخ سمیع اللہ کا اکلوتا فرزند تھا۔ پتا نہیں رقص و سرور کی محفل کی لت کیسے لگ گئی تھی۔ ہفتے میں ایک بار وہ مینا بائی کے ہاں ضرور آتا ، چپ چاپ رقص دیکھتا اور خاموشی سے سیڑھیاں اتر جاتا۔ وہ عام تماش بینوں میں گھل مل کر نہیں بیٹھتا تھا۔ بلکہ الگ تھلگ اپنی دنیا بسائے رکھتا تھا۔

          شیخ صاحب، محفل برخاست ہو چکی۔ آپ ہمارے قابل احترام گاہک ہیں ، کیا حکم ہے ہمارے لئے ! مینا بائی اٹھلاتی ہوئی اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ وہ تھی تو پینتالیس سال سے اوپر کی لیکن کبھی غضب ڈھاتی ہو گی۔

          وہ نہیں آئے گی کیا ! اس کی نظریں اب بی اسی راہ داری میں بچھی تھیں جس پر وہ پہلی بار چل کر رقص کرنے آئی تھی۔ اتفاق سے اس دن کوئی تماش بین نہیں آیا تھا۔ وہ اکیلا اس کا رقص دیکھتا رہا ، دم خود سا ، بیخودی کے عالم میں ، کتنی بار اس کے جی میں آیا، اسے بازو سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لے ، مینا بائی اور سازندوں کو رخصت کر دے ، اور اسے جی بھر کر دیکھے ، دیکھتا جائے ، آنکھ نہ جھپکے ، اسے اپنا کر لے، اپنے ساتھ لے جائے اور مینا بائی کی جھولی دولت سے بھر دے لیکن وہ کچھ نہیں کہہ سکا ، اس کی زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی یا الفاظ روٹھ گئے تھے۔ وہ ناچ رہی تھی اور وہ ایک ہی بات سوچ رہا تھا۔ یہ کوٹھے کی چیز نہیں ، یہ تو گھر کی چیز ہے۔ اسے صرف دیکھا جائے جیسے کتاب تھوڑی دیر کے لئے دیکھتے ہیں اور بند کر کے محفوظ جگہ پر کڑھ دیتے ہیں۔ یہاں تو حریص نظروں کا کیچڑ اسے لت پت کر دیتا ہے۔ ایسی نظریں جن سے تعفن اٹھتا ہے ، گندی، ننگی نظریں ، کسی آسودگی کی متلاشی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          ’’وہ کون شیخ صاحب!‘‘ مینا بائی نے آنکھیں نچا کر اسے دیکھا۔

          تم جانتی ہو مینا بائی ، میں یہاں کس کے لئے آتا ہوں ، پہلے رقص دیکھنے آتا تھا ، اب رقص والی دیکھنے آتا ہوں اور وہ بھی ڈارلنگ! اس کی نظریں استقبالیہ پر رکی تھیں۔

          وہ ایسا ہے شیخ صاحب کہ ، ہم لوگ کسی ایک شخص کے لئے مخصوص نہیں ہوتے۔ ہم تو کرائے کا مکان ہوتے ہیں ، کرایہ ادا کرو اور جیسے چاہو رہو، میں نے مختلف جگہوں سے ڈارلنگ کا کرایہ وصول کر لیا ہے اور وہ ایک مہینے تک بک ہو چکی ہے۔ آپ سے تاخیر سرزد ہوئی شیخ صاحب۔ اب ایک ماہ انتظار کیجئے۔ مینا بائی نے اس سے کوئی بات نہیں چھپائی۔ مار کے رکھ دیا ہے تو نے مجھے، یوں کیوں نہیں کہتی کہ ایک ماہ میں انتظار کی سولی پر لٹکتا رہوں ! بے بسی کے عالم میں وہ ہی کچھ کہہ سکا اور اٹھ کر باہر نکل گیا۔

          جانے کتنے سورج طلوع ہوئے اور کتنے ڈوب گئے ، اس کی سانسیں رکتی چلتی رہیں لیکن آج کی صبح جیسے وہ بحال سا ہو گیا تھا۔ اس نے غسل کیا ، شفاف لباس زیب تن کیا ، بال سنوارے ، خوشبو لگائی، چیک بک بغلی جیب میں رکھی ، قلم سامنے کی جیب میں اڑسا اور گاڑی کا رخ مینا بائی کے ڈیرے کی طرف موڑ دیا۔ آج وہ کرائے کا مکان خریدنے جا رہا تھا ، برسوں سے جمی کائی اور سیلن اپنے ہاتھوں سے دھو ڈالے گا ، وہ صرف اس مکان کو دیکھا کرے گا لیکن اس سے پہلے اپنی نظروں کو مزید شفاف کر گا۔

          دن کے گیارہ بج رہے تھے جب گاڑی مینا بائی کے ڈیرے کے باہر روکی اور با وقار قدم اٹھاتا اندر داخل ہو گیا۔ مینا بائی شاید اسی وقت سو کر اٹھی تھی ، اسی لیے اس کا چہرہ پھیکا پڑ رہا تھا۔ آنکھیں بوجھل اور قدم بھاری ہو رہے تھے ، آج اس وقت زحمت کا مطلب ! مینا بائی اسے ترو تازہ دیکھ کر حیران ہو گی تھی۔

          ڈارلنگ سے ملاقات! اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔

          آپ اس وقت ناچنے گانے والیوں کے ڈیرے پر تشریف رکھتے ہیں شیخ صاحب! لیکن یہاں کے بھی اصول ہیں جنہیں ہم لوگ نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس لیے آپ پھر کبھی آ جایئے، یوں بھی ڈارلنگ تھکی ہوئی ہے اور آرام کر رہی ہے ! مینا بائی کے چہرے پر پریشانی کی پرچھائیاں واضح ہو رہی تھیں۔

ٍ       نہیں مینا بائی ، میری نظریں اب مزید پیاس نہیں برداشت کر سکتیں ، میں آج تم سے کرائے کا مکان خریدنے آیا ہوں ، یہ لو چیک، میں نے اس پر دستخط کر دیے ہیں ، رقم تم خود بھر لینا ، ڈارلنگ کا کمرہ بتاؤ ، اس نے چیک پھاڑ کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ مینا بائی اسے ڈارلنگ کے کمرے تک چھوڑ کر واپس آ گئی۔ اس نے دروازے پر آہستہ سے دستک دی ، یہ سوچ کر کہ جانے وہ کس حالت میں سو رہی ہو ، چند لمحے رک گیا کہ وہ سنبھل جائے۔ وہ ڈارلنگ سے کیا کہے گا ، اس وقت تم تک کیسے پہنچا ہے اس نے مینا بائی کو تمہاری قیمت ادا کی ہے۔ نہیں ، یہ کہتے ہوئے تو وہ شرم سے ڈوب مرے گا ، ڈارلنگ تو انمول ہے۔ وہ دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا ، ڈارلنگ سر تا پا چادر اوڑھے سو رہی تھی ، وہ ایک طرف صوفے پر بیٹھ گیا کہ ڈارلنگ کروٹ لے تو اسے آواز دے لیکن اس کی نیند خراب نہ کرے۔ بہت دیر گزر گئی ، ڈارلنگ نے کوئی حرکت نہیں کی ، سامنے سمندر ہو اور کنارے پر پیاسا تو سینہ ٹھنڈا کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے ، اس نے سوچا اور پلنگ کے سرہانے جا کھڑا ہوا۔

          ’’ڈارلنگ!‘‘ اس نے ایک آواز دی۔

          اس نے ڈارلنگ کے سر سے چادر سرکائی نہیں۔ ۔ ۔ ایں۔ ۔ ۔ ایں۔ ۔ ۔ ۔ اس کا چہرہ بھیانک ہو رہا تھا ، جا بجا سگریٹوں کے گل لگانے سے چہرہ داغ دار ہو چکا تھا۔ رخساروں پر ناخنوں اور دانتوں کی کھرونٹیں کسی وحشیانہ عمل کا پتا دے رہی تھیں۔ آنکھیں کھلی جیسے اس کے انتظار میں کھلی رہ گئی ہوں۔ وہ انتہائی گہری نیند سو گئی تھی۔ اس کی ایک خواہش مر گئی تھی ، ایک تمنا کا خون ہو گیا تھا۔ وہ واپس پلٹا اور اس سے پہلے کہ وہ دہلیز پار کر جاتا ، مینا بائی کی آواز نے اس کے قدم جکڑ لیے۔

ــ’’ اپنا چیک واپس لیتے جائیں شیخ صاحب۔ ۔ ۔ ‘‘

٭٭٭