کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں

احسان بن مجید


دسمبر کی ٹھٹرتی رات میں نصف شب کے قریب دور ویرانے میں کسی کتے کی لمبی ’’ہو‘‘ سے رات کی خاموشی شق ہو کر پھر جڑ گئی تھی۔ چاند آہستہ آہستہ کھسکتا اتنے بادل کی اوٹ میں چلا گیا تھا۔ جو اس کے انگوٹھے کے پیچھے چھپ سکتا تھا ، اس نے غور سے دیکھا ، چاند نہیں بادل چل رہا تھا۔ وہ اکیلا صحن میں کھڑا تھا ، یخ ہوتی رات میں اسے گرم بستر سے نکل کر صحن میں آنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ایک لمحے کے لئے اس نے سوچا۔ چاند کے آگے پھر بادل آ گیا تھا۔ اسے لگا جیسے صحن میں بہت سارے عفریت رقص کر رہے ہوں۔ ایک خوف سا اس کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔ دور کہیں ریل گاڑی نے وسل بجائی ، اسے لگا جیسے اس کے گھر کے سامنے رکی ہو۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر وقت دیکھنا چاہا لیکن گھڑی تو بیڈ کے ساتھ پڑے سائیڈ ٹیبل پر رکھ آیا تھا۔ صحن چاندنی میں نہا گیا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا ، بادل پتا نہیں کہاں چلا گیا تھا اور اب صحن میں شیشم کے درخت کے ساتھ پڑا جھولا صاف نظر آ رہا تھا۔ اسے لگا جیسے جھولا حرکت کر رہا ہو۔

          ’’اندر چلو اتنی سردی میں باہر کیوں کھڑے ہو ، تمہیں اپنی صحت کی ذرا پرواہ نہیں ، تمہاری ایسی باتوں سے بچے بھی اب سہمنے لگے ہیں ، ڈرنے لگے ہیں !‘‘ اسے اپنے دائیں بازو پر ایک ہاتھ کے لمس کا احساس ہوا۔ اس نے بازو کو جھٹکا دیا جیسے ان دیکھا ہاتھ ہٹانا چاہتا ہو۔ اس نے اپنی دائیں طرف دیکھا ، کوئی نہیں تھا۔ پھر یہ آواز کہاں سے آئی تھی ، یہ سوچ کر خون سردی اور خوف سے اس کی شریانوں میں جمنے لگا تھا۔ چند لمحوں کے لئے روح جیسے اس کے جسم سے غیر حاضر ہو گئی تھی۔ جاگتی آنکھوں کا خواب ٹوٹا تو وہ کمرے کی طرف مڑا۔ اندر دیوار گھڑی نے ایک گھنٹی بجائی۔ اس کے پاؤں جیسے زمین نے جکڑ لیے۔ اندر جا کر کیا کروں گا ، اندر کون بیٹھا ہے جو میری تنہائی بانٹے گا۔ آدھی رات گزر گئی ، باقی آدھی بھی یوں ہی گزر جائے گی۔ لیکن کب تک، آخر یہ سلسلہ کب تک چلے گا اور پھر اس کے اندر سوالات کی نسل بڑھنے لگی۔ کسی سوال کا جواب فوراً اس کے لبوں تک آ جاتا لیکن بہت سارے قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے۔ وہ کس کس کو بہلاتا۔ ایسا اس کے ساتھ پہلی بار تو نہیں ہوا تھا۔ تین برسوں کی راتیں، سرد راتیں ان کی آنکھوں سے گزر کر صبح میں ڈھلی تھیں اور اب ان کی آنکھوں میں سوائے برف کے کچھ نہیں تھا۔ جب آنکھیں برف ہوں تو نظر آنے والی ہر چیز پر برف کی تہہ جمی نظر آتی ہے۔ زندگی کی جھیل کا پانی جم کر کانچ بن گیا تھا اور اسی کانچ نے اس کے اندر لا تعداد زخم کر دیے تھے۔ سردیوں کی راتوں میں جب ان زخموں کے بخئیے ادھڑ جاتے تو وہ ان پر کسی تسلی، کسی دلاسے کے مرہم کا لیپ نہیں کرتا ، کوئی پھاہا نہیں رکھتا بلکہ اس کی آنکھیں چہرے کی بجائے دل پر جا لگتیں اور وہ اپنے اندر کے سارے زخم دیکھ لیتا ، اگر کسی زخم پر پپڑی آ رہی ہوتی تو وہ اس سے منسلک یاد کے نشتر سے اس کو پھر سے چھیل دیتا۔ جس طرح کسی مرد کو اپنی دلہن کا گھونگھٹ اٹھانے کی رسم زندگی کے آخری لمحے تک نہیں بھولتی اسے بھی نہیں بھولی تھی۔ خاندانی رنجشوں پر پاؤں رکھ کر ایک دن اس نے اپنے ماں باپ سے کہہ دیا کہ شادی کرے گا تو ماموں کی بیٹی سے ورنہ نہیں کرے گا۔ ماں باپ کی اکیلی اولاد تھا ، ضد کر بیٹھا ، والدین نے کتنے منتوں ترلوں سے اس کے لئے یہ رشتہ حاصل کیا تھا، یہ وہی جانتے تھے ، اسے تو چکی کے دو پاٹوں سے آٹا چاہئے تھا وہ مل گیا۔ اس کی ساری بے چینی یوں دور ہو گئی جیسے پانی کا بھرا ہوا گلاس الٹا کر دینے سے سارا پانی بہہ جاتا ہے اور گلاس ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے۔ زندگی سے لا ابالی کے لمحے چلتے بنے تھے اور اب اس کی چال میں ایک ٹھہراؤ آ چکا تھا اور قدم ایک ڈھنگ سے اٹھنے لگے تھے۔ خیالات صراط مستقیم پر آ چکے تھے۔ نوکری سرکار کی ہو یا شخصی وہ دونوں پر لعنت بھیجتا تھا۔ کالج میں چار سال پڑھنے کے بعد وہ دو سال فارغ بیٹھا روٹیاں توڑتا رہا۔ بالآخر ایک دن اس نے باپ سے ذاتی کاروبار کرنے کی خواہش کا اظہار کر ہی دیا۔ باپ کا امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار تھا ، کہا یہ سنبھال لو۔ یعنی باپ کی نوکری کرو اس نے چند لمحوں کی خاموشی میں یہی کچھ سوچا تھا۔ باپ کا فیصلہ اگر چہ غلط نہیں تھا لیکن اس کے سینے میں جانے کون سی آگ تھی جس نے اس کو بھڑکا دیا اور وہ باپ کو ہاں یا نہیں کہے بغیر وہاں سے اٹھ گیا۔ بیوی بھی اس کے پیچھے کمرے میں چلی گئی۔ وہ چند دن اکھڑا اکھڑا سا رہا۔ کھانے کی میز پر بھی اس وقت جاتا بلکہ بیوی اسے لے جاتی جب سب اٹھ جاتے۔ اس کے بس میں ہوتا تو بیوی کو بازو سے پکڑ کر کہیں نکل جاتا لیکن اب تو وہ یوں بے بس تھا، شادی کے ایک سال بعد پہلا بیٹا ، دوسرے سال دوسرا اور پھر لیڈی ڈاکٹر کی نصیحت پر آرام باش۔ بیوی کا چہرہ تکتے تکتے اس کی آنکھیں جھپکنا بھول جاتی تھیں لیکن آج کل اس کا رویہ بیوی کے ساتھ بھی ترش ہو چلا تھا۔ رات اس کے لئے اذیت ناک ہوتی تھی۔ رات کے جس سمے بھی اس کے اندر آندھیاں چلنے لگتیں ، وہ خاموشی کے ساتھ کمرے سے نکل کر صحن میں آ جاتا اور زندگی اور زندگی میں آنے والے دنوں کے لیے تانے بانے بنتے گھنٹوں بیت جاتے۔

          ’’امی ابو کو سردی نہیں لگتی!‘‘ بڑا بیٹا پوچھ لیتا۔

’’ تم سو جاؤ ابھی آ جائیں گے !‘‘ بیٹے سے کہہ کر وہ باہر اس کے پاس جا کھڑی ہوتی۔ ’’ کس مسئلے نے تمہیں پریشان کیا ہوا ہے ، کون سی گتھی تم اکیلے سلجھا نہیں پا رہے ہو۔ لوگ کہتے ہیں دیوار سے بھی مشورہ کر لینا چاہئے۔ میں تمہاری بیوی ہوں ، اندر چلو ، تمہارا یہ رویہ بچوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ‘‘ وہ اسے بازو سے پکڑ کر اٹھاتی۔ اور وہ بوجھل قدم اٹھاتا اسکے ساتھ کمرے میں آ کر بستر پر کروٹ لے کر لیٹ جاتا ، چپ چاپ کسی سوچ سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ، بچے سہم جاتے اور بیوی گھنٹوں گھنٹوں بیٹھی رہتی۔ یوں تو اس کے اندر چھوٹے موٹے پٹاخے چھوٹتے ہی رہتے تھے لیکن جب اس کے اندر کوئی نیپام پھٹتا تو وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا۔ اذیت کی رات بیساکھیاں گھنٹوں پر رکھ کر صحن میں بیٹھ گئی تھی۔ اس کی زندگی میں اتنا نامہربان دوراہا کبھی نہیں آیا تھا ، جس پر وہ آج کھڑا تھا۔ کون سا راستہ اختیار کرے ، یہی سوچ اس کے کلیجے میں سوراخ کر رہی تھی۔ وہ اٹھا ، ہولے ہولے قدم اٹھاتا بیوی کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ بیٹھی ہوئی تھی ، اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا ، اس نے جھینپ کر پلکوں کی چلمن گرا دی ، آنکھوں کی جھیل پر جیسے شام سی ہو گئی ، اداس شام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میر ی آنکھوں میں دیکھو۔ آج میں تمہاری آنکھوں میں ڈوب کر ابھرنا اور پھر ڈوبنا چاہتا ہوں ، اس نے نظریں اٹھائیں اور وہ ان نظروں کو اپنی آنکھوں میں جذب کرتا رہا ، چند مسلسل لمحے بیت گئے ، وہ یوں ہی دیکھتا رہا ، وہ تڑپ اٹھی۔ یوں کیوں دیکھ رہے ہو ، آج مجھے تم پر بے تحاشا پیار آ رہا ہے اور تم جانتی ہو پیار جب جب اپنی انتہاؤں کو چھو لیتا ہے تو اس سے آگے جدائی کے گھمبیر اندھیروں کی ابتدا ہوتی ہے، میرے اندر ایک خوف کی سی کیفیت ہے ، اس کے چہرے پر ایک دم جھڑ چھا گیا۔ وہ پاؤں پر بیٹھ کر بیٹے کے سر میں آہستہ آہستہ انگلیاں پھیرنے لگا اور اپنے ہونٹ اس کی پیشانی پر رکھ کر پدرانہ شفقت منتقل کرتا رہا۔ اس کا چہرہ اپنے باپ پر گیا ہے ، اس نے چھوٹے بیٹے کو یوں دیکھا جیسے گود لیا کسی اور کا بچہ ہو۔ اس نے بیوی کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس کی نظروں میں سوالیہ نشان معدوم ہو کر ابھر رہے تھے۔ رات کا ہر لمحہ ککرا بن کر اس کی آنکھ لہو لہان کر رہا تھا۔ بیوی کے ذہن میں کئی خاردار راہداریاں کھل گئیں ، اس نے چھوٹے بیٹے کو اٹھا کر گود میں بھر لیا اور بہت دیر تک اس کے ننھے ننھے ہاتھ اور گال چومتی رہی۔ وہ پرے بیٹھا اس کو دیکھتا رہا اور اپنے اندر طلوع ہونے والی اندھیری صبح کے سورج کو پتھر مار مار کر توڑتا رہا۔ نیند کے لئے اس نے ایک اپنی آنکھوں کے دروازے بند کر دیئے تھے، باہر صحن میں پو پھٹ رہی تھی ، لیکن اس کے اندر تنہائی کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ ایک ہولناکی کا سماں اس کے اندر پھیل رہا تھا۔ اس نے یکدم سر اٹھا کر بیوی کو دیکھا ، وہ اسی کو دیکھ رہی تھی۔ نظریں چار ہوئی تو بیوی کی نگاہیں یوں گر گئیں جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔ تب اس نے سوچا نظروں کی قوت اور کمزوری سچ اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ زندگی بھر کی تنہائی نہایت سرعت سے اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ مشرق سے کائنات کو روشن کرنے والا سورج ابھر آیا تھا اور دھوپ کی تمازت کھڑکیوں کے پردوں سے چھن کر آتے ہوئے کمرے میں زندگی کے آثار کی نشاندہی کر رہی تھی۔ یہ کیسی زندگی ہے ، یہ سوچنا سورج کا کام نہیں۔ اس نے چھوٹے بیٹے کو گود سے بستر پر منتقل کیا اور اٹھ کر کچن میں چلی گئی ، ناشتہ تیار کر کے میز پر لگایا ، اس نے اس گھر میں یہی معمول دیکھا اور اپنایا تھا۔ اس کے قدم ساس اور سسر کے کمرے کی طرف اٹھ گئے لیکن اسے اپنے عقب میں ایک سائے کا احساس ہوا ، اس نے گردن گھما کر دیکھا ، وہ کھڑا اسے گھور رہا تھا ، ایک لمحے کے لئے وہ رکی ، اس کی آنکھوں سے نکلتی تپش کو محسوس کیا اور آگے چل دی۔ دو قدم کے فاصلے پر تھی کہ ساس اور سسر کمرے سے باہر نکل آئے۔ ’’ہم آ رہے ہیں بیٹے چلو ‘‘ دونوں یک زبان ہوئے ، وہ ان کے ساتھ واپس مڑی تو وہ واش روم میں جا چکا تھا۔ ’’تمہارے صاحب ابھی نہیں آئے!‘‘ سسر نے کرسی میز کے قریب کھینچتے ہوئے اسے دیکھا۔

          ’’ابھی آ جائیں گے !‘‘ یہ وہ آواز نہیں تھی جو دو پیمانوں کے ٹکرانے سے پیدا ہوتی تھی بلکہ یہ تو کسی ویران کنوئیں سے آنے والی آواز تھی۔

          قدموں کی چاپ ابھری اور وہ شب خوابی کے لباس میں ہی ناشتے کی میز تک پہنچ کر کھڑا ہو گیا۔ تھکا تھکا سا بدن، اجڑا اجڑا سا چہرہ ، شب بیداری سے سرخ آنکھیں سب کو دیکھتی ہوئی جیسے آخری بار دیکھ رہی ہوں۔

          کانپتے لبوں کے پیچھے جیسے ہزار ہا باتیں ابل پڑنے کو تیار ہوں۔

          ’’بیٹھو بھئی ناشتہ کرو !‘‘ باپ نے ایک کرسی کی طرف اشارہ کیا۔

          ’’تم اپنے دونوں بیٹوں کو لے آؤ!‘‘ وہ باپ کی بات ان سنی کرتے ہوئے بیوی سے مخاطب ہوا۔

          وہ بڑے بیٹے کو انگلی سے پکڑے اور چھوٹے کو بغل میں اٹھائے آ گئی۔

          ’’ ڈیڈی آپ یہ دونوں بچے دیکھ رہے ہیں ، بڑے میں مجھے اپنا سراپا دکھائی دیتا ہے لیکن چھوٹے میں مجھے اپنا عکس دکھائی نہیں دیتا ، یہ بچہ ایک ایسی دستاویز ہے جو آپ کے مالکانہ حقوق کا تحفظ کرتی ہے اور میں اس میں بطور گواہ شامل ہوں۔ میں آپ کے حق میں دستبردار ہوتے ہوئے اسے آزاد کرتا ہوں ‘‘ اور پھر اسی لمحے ایک دو تین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ماں باپ کے چہرے پر جیسے کسی نے ہلدی لیپ دی۔

          ’’تم میرے بیٹے ہو لیکن انتہائی گھٹیا انسان ہو ، میرا جی چاہتا ہے تمہیں گولی مار دوں ، یہ پہلے بھی میری بیٹی تھی اب بھی میری بیٹی ہے ، ضروری نہیں ہوتا ہر بچے کا چہرہ اپنے باپ پر ہو ، دادا پر بھی ہو سکتا ہے ، نانا پھر بھی ہو سکتا ہے ، دادی اور نانی پر بھی ، یہ تو خالق پر منحصر ہے۔ ‘‘ اس چار دیواری میں ایک سیاہ صبح کا آغاز ہوا تھا۔ وہ بچوں کو لے کر صدر دروازے کے طرف چل پڑی اور وہ اس کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔ اسے روک نہیں سکا۔ روکتا بھی کیسے ، کس رشتے سے کہ اب تو ان کے درمیان آسمان تک دیوار کھڑی ہو چکی تھی۔

          ’’رک جاؤ بیٹی !‘‘ سسر نے اسے پکارا۔

          ’’نہیں ڈیڈی ! اب یہ گھر میرا نہیں رہا نہ اس گھر کے مکین !‘‘ اس نے گردن گھما کر دیکھا تو آنکھوں کے کٹورے اشکوں سے لبالب بھرے تھے۔

          ’’بیٹی میری ایک بات سنتی جاؤ پھر میں تمہیں نہیں روکوں گا !‘‘ وہ اٹھا ، کمرے میں گیا ، میز کی دراز کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی وہ کمرے سے باہر آیا تو اس کے دونوں ہاتھ پیچھے تھے۔

          ’’ تمہاری پارسائی اور میری بے گناہی کا اس سے بہتر کوئی ثبوت نہیں۔ ‘‘ اس نے یکدم بائیں ہاتھ میں پکڑے ریوالور کی نال اپنی کنپٹی پر رکھ کر ٹریگر دبا دیا ، وہ گرا اور چند لمحے تڑپنے کے بعد ٹھنڈا ہو گیا۔ ماں دہ ماہ سکتے کے عالم میں رہنے کے بعد خاموشی سے قبر میں اتر گئی۔ اس کے حلق سے ایک چیخ نکلی اور وہ بچوں کو لے کر دوڑتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل کر جانے کہاں گئی۔

          آج وہ اسی باپ کے کاروبار کا کروڑ پتی مالک ہے لیکن تنہائی اور بیوی بچوں کی جدائی کا کرب اسے ہر شب ستاتا ہے مگر اب وہ یہ سوچتا ہے کہ اس نے اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں پر چلا دی۔

          کمرے کی دیوار گھڑی نے تین گھنٹیاں بجائیں۔ رات قریب الصبح ہے ، اس نے سوچا اور پھر برآمدے سے صحن میں نکل گیا۔ بادل اب بھی چاند سے اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔

٭٭٭