کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تیر واپس کمان میں

احسان بن مجید


دونوں نے مختلف شہروں میں تعلیم حاصل کی لیکن قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک ہی درسگاہ میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ دونوں ہی امیر کبیر خاندان کے تھے اور ان کی منزل بھی ایک ہی تھی۔ قانونی تعلیم کا اختتام ہوا تو وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آ چکے تھے، ایک دوسرے کی پسند ناپسند ، عادات حتی کہ سالگرہ کی تاریخ بھی دونوں کو حفظ ہو چکی تھی لیکن گفتگو میں ایک محتاط رویہ اب بھی ان میں موجود تھا۔ دونوں نے ایک کانووکیشن میں قانون کی سند حاصل کی۔ آخری آدھا پونہ گھنٹہ گپ شپ کے لئے ایک خالی کلاس روم میں جا بیٹھے یا شاید ایسا بھی ہو کہ دونوں ایک دوسرے کو جی بھر کے دیکھنا چاہتے ہوں اور گپ شپ محض بہانہ ہو کہ تھوڑی دیر بعد دونوں نے اپنے اپنے شہر سدھار جانا تھا اور آئندہ ملاقات کا انحصار کسی اتفاق پر ہی ہو سکتا تھا۔

          میں نے میٹرک کرنے کے بعد ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے لیکن ابا حضور کی ضد اور خواہش تھی کہ میں مزید کچھ جماعتیں پڑھ لوں ، میں رضا مند ہوا لیکن ایک شرط پر ان سے زبانی دستخط کرا لیے کہ اس کے بعد کسی جماعت میں پاس یا فیل ہونا ان کے Creditپر ہوگا، وہ مان گئے اور مجھے کالج میں داخل کرا دیا ، ایک گاڑی اور ڈرائیور میرے Disposalپر ہو گیا۔ وہ اگر ایسا نہ کرتے تو کالج میں کیسے پتہ چلتا کہ میں نواب نور اللہ جامی کا بیٹا ہوں ، اس کے باوجود مجھے ایسا لگا جیسے ابا حضور نے مجھ پر کوئی بوجھ لاد دیا ہو ، تھوڑے نمبروں سے سہی ، ہر سال میں انہیں اپنے پاس ہونے کی خبر سناتا تو مجھے گلے لگانے کے بعد آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر حقے کی نے انگلیوں میں تھامے ، ہونٹوں کے قریب رکھے بہت دیر اور بہت دور تکتے رہتے، یوں جیسے اپنے زیر نگرانی کوئی عالیشان محل تعمیر کرا رہے ہوں اور یہ خدشہ ہو کہ کوئی معمار کہیں ٹیڑھی اینٹ نہ رکھ دے۔ جانے وہ اتنی دیر کیا سوچتے تھے ، چہرے پر پریشانی کا شائبہ تک نہیں ہوتا تھا یا شاید یہ ایک آسودگی کا رد عمل بھی ہو۔ جب میں بی اے کی ڈگری لے کر گھر پہنچا تو چوپال میں کم و بیش دس آدمی بیٹھے تھے ، سب نے میرا استقبال کیا ، مبارک باد دی ، میں سب سے پہلے ابا حضور سے ملا ، دعائیں لیں اور اپنے کمرے میں چلا گیا اور پھر ایک سال میں نوابزادوں کی طرح ہی گھوما۔ لیکن ایک بار پھر ان کے ہتھے چڑھ گیا۔

          عبداللہ جامی! ، مجھے پورے نام سے مخاطب کر کے کہنے لگے ! جب تو چھوٹا تھا تو میرا تم سے ایک رشتہ تھا ، تو میرا بیٹا تھا ، اب تم جوان ہو، اب دو رشتے ہیں ، بیٹا اور دوست بھی۔ آؤ آج ایک اپنی خواہش میں تمہیں بتاتا ہوں ، ایک تم اپنی خواہش مجھے بتاؤ ، مجھے نہیں بتانا چاہتے تو ماں سے کہہ دینا لیکن یہ یاد رکھنا میری قبر تمہاری خواہش پوری نہیں کر سکے گی۔

          ابا حضور آپ حکم کریں، میں آپ کی ہر خواہش پر پورا اترنے کو تیار ہوں ، میں سمجھا جائیداد کا کوئی مسئلہ ہو گا، کوئی ذمہ داری سونپنا چاہتے ہوں گے۔ میں نے سعادت مندی سے سر جھکا دیا۔

          تم وکالت کر لو ! ابا حضور نے یوں اپنی خواہش کا اظہار کیا جیسے مجھے بازار سے کوئی معمولی سی چیز لانی ہو۔

          لو کر لو بات ، پھر وہی کتابیں ، وہی پڑھائی ، وہی لیکچر، وہی امتحان۔ پتا نہیں ابا حضور مجھے وکیل بنا کر مجھ سے کون سا کام لیں گے لیکن میں چونکہ وعدہ کر چکا تھا اس لیے مجھے ان کی خواہش پر پورا اترنا تھا ، سو اترا اور اب عبداللہ جامی ایڈوکیٹ تمہارے سامنے بیٹھا ہے۔

          اور تمہاری خواہش! گلنار نے پوچھ لیا۔

          وہ تو ایک لفافے میں سیل کر کے میں نے اپنے دل کے لاکر میں رکھ دی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          مجھے بھی نہیں بتاؤ گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          خواہش پوری نہیں ہوئی تو تم طعنے دو گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          جامی، تمہاری کہانی ہے دلچسپ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          اچھا، چھوڑو یہ بتاؤ گھر کیسے جاؤ گی ، تمہارا تقریباً چار گھنٹے کا سفر ہے ، اگر تم کہو تو میں اپنی گاڑی سے تمہیں گھر چھوڑ دوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          اے نہیں سخی داتا ، میں نے صبح گھر فون کر دیا تھا ، چھوٹا بھائی گاڑی لاتا ہو گا۔ ۔ ۔ ۔

           چلو پھر تمہیں ہاسٹل تک چھوڑ آؤں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          ہاسٹل کے گیٹ پر دونوں گاڑی سے اترے ، دونوں چند لمحے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے ، پھر دونوں کی نظریں زمیں پر کچھ ڈھونڈنے لگیں ، پتا نہیں کون سی کیفیت تھی جو دونوں کو الوداعی کلمے کہنے سے روکے ہوئے تھی۔ الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے یا زبان کی لڑکھڑاہٹ آڑے آ رہی تھی۔

          جامی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر گلنار نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا ، شاید وہ آنکھوں سے اٹھنے والے سیلاب کے آگے کوئی بند نہیں باندھ سکی تھی۔ جامی نے بھی اپنا سر گاڑی کی چھت کے ساتھ ٹیک دیا ، لمحے پتھر بن گئے۔

          جامی ، ہم نے جتنا عرصہ بھی ساتھ گزارا، اچھے دوستوں کی طرح ، پھر بھی اگر تمہیں کوئی بات اچھی نہ لگی ہو تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گلنار نے چہرے سے ہاتھ ہٹائے تو پلکیں بھیگی ہوئی مگر ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ یوں لگ رہی تھی جیسے رم جھم میں دھوپ نکل گئی ہو۔

          اچھے دوستوں کی تمام باتیں اچھی لگتی ہیں گلنار! جامی نے گاڑی کی چھت سے سر اٹھایا تو جدائی کی گھٹائیں اس کے چہرے پر واضح ہو رہی تھیں۔

          اچھا ، اللہ حافظ، گاڑی احتیاط سے چلانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          جامی نے اسے بائے کہا اور گاڑی ہاسٹل کی حدود سے نکل گئی۔ دو اڑھائی گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ گھر پہنچا تو شام کے سائے ڈھل رہے تھے اور نواب نور اللہ احاطے میں دوستوں کی کوئی الجھن سلجھانے میں مصروف تھے۔ اس کی گاڑی دیکھتے ہی حقے کی نے پرے کی اور اٹھ کھڑے ہوئے ، دوستوں نے بھی تعظیم میں کرسیاں چھوڑ دیں۔

          میرا بیٹا آ گیا، میرا یار! نواب صاحب نے آگے بڑھ کر بیٹے کو گلے لگایا ، دوستوں نے کرسی پیش کی اور وہ تھوڑی دیر وہاں بیٹھ کر حویلی چلا گیا۔

          اب سنا بیٹا ، وہاں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔ پیسے ٹکے کی کمی ! رات باپ بیٹا آمنے سامنے بیٹے تو نواب صاحب نے پوچھ لیا، نہیں ابا حضور، کوئی تکلیف نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ آپ اور بے جی بہت یاد آتے رہے اور پیسے تو آپ نے مجھے اتنے دے بھیجے تھے کہ آدھے بچا بھی لایا ہوں۔

          کیوں بچا کے لایا ہے ، خرچ کیوں نہیں کیے، تم ایک نواب کے بیٹے ہو اور ایک بات جو میں تم سے کہنا چاہ رہا تھا وہ یہ کہ تم نے میری ہر خواہش پر سر خم کیا ہے ، سعادت مند فرزند ہو ، اب تم مجھے اپنی کوئی ایسی خواہش بتاؤ جس کے لیے مجھے کسی کو منانا پڑے ، نہ مانے تو اس کی سماجت کروں ، پھر بھی نہ مانے تو اس کے سامنے جھولی پھیلا دوں ، اور اگر پھر بھی بات نہ بنے تو پھر میں اپنی مرضی کروں۔ میں نے تم سے جاتے ہوئے بھی یہ بات کی تھی ، میں اب بھی اپنے وعدے پر قائم ہوں اور یہ ایک نواب کا وعدہ ہے۔

          مہینہ دو تو گھومتے گھامتے گزر گئے۔ نوکروں اور مزارعوں نے کئی بار شکار کھیلنے کے لئے کہا لیکن تعلیم نے اسے نوابی مشاغل سے روک دیا تھا۔ یہ سوچ کر کہ وکالت کر ہی لی ہے تو کیوں نہ اس کا استعمال بھی کیا جائے ، اس نے ضلع کچہری کا رخ کیا ، سینئر وکلاء نے اسے خوش آمدید کہا اور اس نے پریکٹس کا آغاز کر دیا۔ دو چار ماہ کے اندر اس کے پاس مقدمے آنے لگے اور وہ ایک کامیاب وکیل ثابت ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          میری بات سن ، نوابوں کے بیٹے اتنے شریف نہیں ہوا کرتے جتنا یہ ہمارا عبداللہ ہے لیکن ہمیں اس کی شرافت سے نا جائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے بلکہ فکر کی ضرورت ہے ، کیا کہا میں نے ! نواب نور عبداللہ نے جامی کی ماں سے بات چھیڑی تو پہلے وہ مسکرائیں اور پھر ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے ہولے سے کوئی بات کہی۔

          یہ ہوئی ناں بات ، لیکن تو بھلے مانس ہے، میں بات نہ کرتا تو تو خاموش ہی رہتی ، اس کام کا آغاز صبح سے ہو جانا چاہئے ، یوں سیٹھ بہادر کا نام سنا سا لگا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          نواب صاحب، آغاز کیا ، سب کچھ ہو چکا ، اب ہم دونوں کا وہاں جانا باقی ہے۔

          اور پھر دو ماں کے اندر گلنار عبداللہ جامی کی ہو گئی۔ سیٹھ بہادر نے داماد کو تحفے میں اور بیٹی کو جہیز میں ایک نئی کار بھی دی۔ چند دن دعوتوں کے نذر ہو گئے اور زندگی ایک رستے پر لگ گئی۔ نئی کار ہونے کے باوجود عبداللہ جامی اپنی ذاتی کار پر کچہری جاتا اور آتا۔ گلنار نے دو ایک بار نئی گاڑی استعمال کرنے کے لئے کہا بھی لیکن وہ ہنس کر ٹال گیا۔ گلنار کے سینے میں جیسے ایک سوئی سی چبھ گئی لیکن اس نے جامی کے سامنے اس کا اظہار نہیں کیا۔

          پھر ایک دن گلنار نے جامی سے اپنی پریکٹس کی بات کی۔

          مجھے کوئی اعتراض نہیں ، صبح ہی چلو لیکن اپنی اپنی گاڑی میں جائیں گے ! جامی نے کوٹ اتار کر خود ہینگر پر لٹکایا۔ جامی مجھے اپنی گاڑی میں کیوں نہیں لے جاتے ، اس خیال نے بھی اس کی انا پر ضرب لگائی مگر وہ خاموش ہو رہی۔ اگلے دن دونوں اپنی اپنی گاڑی پر کچہری پہنچے۔ جامی نے تمام وکلاء سے جن میں دو تین خواتین بھی تھیں، متعارف کرایا لیکن گلنار جامی کے نام سے نہیں صرف گلنار کے نام سے۔

          اس میں کیا مصلحت ہے! گلنار کے ذہن میں ایک اور سوال ابھرا لیکن وہ اس پر صرف کڑھ سکی۔

          کچھ عرصہ دونوں اپنی اپنی گاڑی پر کچہری جاتے رہے لیکن گلنار کو یہ تب بھی اچھا نہیں لگا تھا ، اب بھی نہیں۔ وقفے وقفے سے جب مزید کئی سوالات اس کے ذہن میں جمع ہو گئے کہ ایک سوال کی گنجائش ہی باقی نہ رہی تو ایک شام اس نے جامی سے کہہ دیا۔ ــ’’ لگتا ہے ہم ایک دوسرے پر مسلط ہوئے ہیں۔ ‘‘

          پہلی بات تو یہ ہے گلنار کہ تمہارے الفاظ تمہاری سوچ کا خارجی ڈھانچہ اٹھاتے ہیں ، تمہارا اصل خیال کچھ اور ہے ، میں نہیں جانتا تم کہنا کیا چاہتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          یہی کہ ہمارے درمیان کوئی ایسا خلاء ہے جو ہمیں قریب نہیں آنے دیتا ، اس سے بہتر تو وہ زندگی تھی جو ہم نے دوستی میں گزاری ، کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم پھر سے اچھے دوست بن جائیں ! گلنار کی آواز کہیں دور سے آ رہی تھی۔ سب کچھ ممکن ہے، تم بتاؤ مجھے کیا کرنا ہو گا۔

          دستخط۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          کہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          طلاق نامے پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          کب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          پرسوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          کل کیوں نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          کل میں کورٹ نہیں جا رہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          دونوں نے مختلف سمتوں میں کروٹ بدل لی۔ بظاہر دونوں سونے کی اداکاری کر رہے تھے لیکن ذہن جب سوچوں کی آماجگاہ بن جائے تو نیند دور کھڑی منتظر رہتی ہے۔ جامی کو یہ خیال چاٹ رہا تھا کہ پرسوں گلنار یہاں نہیں ہو گی ، ایک بندھن تھا جیسے تیسے نبھایا جا سکتا تھا ، زندگی میں کوئی ایسی کڑواہٹ بھی نہیں تھی ، گلنار تعلیم یافتہ خاتون ہے ، اس کے اتنے بڑے فیصلے کی اوٹ میں میری شخصیت کی کوئی کمی کار فرما ہے لیکن ہم کھل کر ایک دوسرے سے بات کیوں نے کرتے ، گلنار کی بات یہاں تک تو سچ ہے ’’ ہمارے درمیاں کوئی خلاء ہے جو ہمیں قریب نہیں آنے دیتا۔ ‘‘ اس نے دوستی کو ازدواجی زندگی پر کیوں فوقیت دی ، وہ تو مرد و زن کی دوستی تھی ، دونوں کسی وقت بھی بھٹک سکتے تھے ، نہیں بھٹکے تو یہ ایک الگ بات ہے۔ جب تک وہ دوست رہے ، غم کیا ایک دوسرے کی اداسی بھی جذب کر لیا کرتے تھے ، یہ بھی تو کسی جذبے کا کمال تھا جو ایک دوسرے کے نہ ہوتے ہوئے بھی قریب اور قریب لاتا رہا۔ اب کیا ہے جو ایک دوسرے کے جسم و جاں کے مالک ہو کر بھی ایک بے اعتنائی کی سی کیفیت ہے۔ دل کا انگارہ دھکا تو جامی کو پیاس لگی، اس نے اٹھ کر ایک گلاس پانی حلق میں انڈیلا اور چند لمحے بیٹھنے کے بعد پھر لیٹ رہا۔ خلاء خلاء خلائ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لئے گلنار نے کوئی دوسرا راستہ کیوں نہیں اختیار کیا ، شاید جذبات کی کوئی ایسی رو بھی ہوتی ہے جو انسان سے قوت فیصلہ بھی چھین لیتی ہے ،سوچ و فکر کے دروازے بھڑ جاتے ہیں۔ ایک لمحے کے لے اس کا جی چاہا آواز دے کر گلنار کو جگا دے لیکن اگلے ہی لمحے ایک نواب اور خوددار خاوند اس میں جاگ اٹھا۔ نہیں ، میرے حق میں یہ بہتر نہیں ہے۔ شاید کل کا دن گلنار نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لئے رکھا ہو گا۔

          ہر عورت اپنے گھر میں ایک مقام چاہتی ہے ، میں آج تک اس مقام کا تعین ہی نہیں کر پائی شاید یہی نا کامی کا باعث ہے لیکن حیثیت تو خود بنائی جاتی ہے اس میں جامی کا کوئی دوش نہیں اور میرے ذہن میں اٹھنے والے سوال اگر شدت سے جواب طلب تھے تو میں نے جامی سے اس کا اظہار کیوں نہیں کیا ، یہ بھی بذات خود ایک سوال تھا جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ، ضرور مجھ میں کوئی خامی ہے ورنہ جامی بہت اچھے انسان ہیں۔ پھر اسی لمحے اس کے ذہن سے جانے کون سے خیال کا گزر ہوا جو اسے مطمئن کر گیا۔ اس نے کروٹ بدلی۔ جامی آپ جاگ رہے ہیں ! وہ اپنے بستر پر نیم دراز تھا۔

          ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          سو جائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          اچھا، تم بھی سو جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          اور پھر دونوں یوں سو گئے جیسے کئی راتوں کا رتجگا ہو لیکن بیدار اپنے وقت پر ہوئے۔ جامی شیو و شاور کرنے کے بعد لوٹا، لباس بدل چکا تو گلنار لپک کر اس کا کوٹ لے آئی تعجب کے ساتھ ایک سرور اس کے جسم میں داخل ہو گیا ، وہ ناشتے کے لیے کمرے سے نکلا لیکن میز خالی دیکھ کر ٹھٹک گیا۔

          خانساماں ابھی تک ناشتہ نہیں لایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          نہیں ، میں نے اسے منع کر دیا تھا ، آپ بیٹھیں میں ناشتہ لاتی ہوں۔ وہ سرعت سے گئی اور ناشتے کی ٹرالی کھینچ لائی۔ دونوں نے اکٹھے ناشتہ کیا۔ حیرتیں مسلسل جامی کے وجود پر اتر رہی تھیں۔ سوچنا کب کسی کے بس میں رہا ہے، انسان جو نہیں سوچنا چاہتا وہی سوچ ذہن میں گھس آتی ہے اور جو سوچنا چاہتا ہے وہ نہیں سوچ سکتا۔ ایک خیال عبداللہ جامی کو نہال کر جاتا لیکن اسی کے کندھے سے جڑا دوسرا خیال اس اداس کر دیتا ، ایک الجھن کسی اوٹ سے اسے تاڑ رہی تھی، گلنار کے اس رویے کو کیا نام دیا جائے ، سمجھوتہ نہیں۔ وہ ایک سیٹھ کی بیٹی ہے ، اس کے اندر کوئی بول اٹھا۔ اس نے نظر بچا کر گلنار کا چہرہ پڑھنا چاہا لیکن وہاں کوئی تحریر نہیں تھی یوں جیسے کہر آلود صبح کے بعد دن خوب روشن ہو جاتا ہے۔ گلنار ایک تعلیم یافتہ خاتون ہے اور شریک حیات بننے سے قبل وہ میری اچھی دوست تھی، شاید علیحدگی سے پہلے وہ مجھے پریشان نہیں کرنا چاہتی ، بہر صورت یہ بھی اس کی سوچ کا ایک مثبت پہلو ہے! یہ خیال اس کے کندھے کو کندھا مار کر گزر گیا۔

          جامی کورٹ جانے کے لئے اٹھا تو گلنار اس کا چشمہ اور گاڑی کی چابیاں لے آئی۔

          آج میں تمہاری گاڑی سے کورٹ جاؤں گا ، اپنی گاڑی کی چابیاں دو! اس نے چشمہ ہاتھ میں پھراتے ہوئے اسے دیکھا۔ اس نے سوچا ہم پڑھے لکھے لوگ ہیں ، اگر یونہی ایک دوسرے کا احساس کیا جائے تو کوئی خلاء جنم ہی نہیں لے سکتا۔ اسے اپنے اندر شیرینی سی گھلتی محسوس ہوئی۔

          گلنار ترنت اندر لپکی لیکن دل یوں بھر آیا کہ آنکھوں کے سامنے دھند سی چھا گئی۔ کمرے سے جامی تک کا راستہ جانے کتنا طویل ہو گیا تھا ، اس نے چابیاں اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اسے پیش کیں اور اس کے ساتھ گیٹ تک گئی لیکن واپس کمرے میں پہنچتے ہیں آنکھوں سے بادل برسنے لگا اور اتنا کھل کے برسا کہ دل پر جمے گلے شکووں کا میل بہہ گیا۔ اس نے جامی کے واپس آنے تک کے وقت کا بھر پور استعمال کیا اور فارغ ہوتے ہی ہلکا سا سنگھار کر کے بے جی کے پاس جا بیٹھی، گھنٹہ بھر باتیں کیں ، گھڑی دیکھی اور اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی۔ اسی سمے گیٹ سے باہر جامی کی گاڑی رکی۔ وہ اٹھ کر برآمدے میں آئی، مسکرا کر اس کا سواگت کیا۔ جامی نے کوٹ اتار کر بیڈ پر رکھانا چاہا لیکن گلنار نے اس کے ہاتھ سے اچک کر ہینگر پر لٹکا دیا۔ وہ کپڑے بدلنے واش روم چلا گیا لیکن ایک سوچ اس کے ذہن کی دیواروں سے سر پھوڑنے لگی۔ ایک بازگشت اس کی سماعت کو دہلانے لگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          ہمارے درمیان ایک خلاء ہے جو ہمیں قریب نہیں آنے دیتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم بتاؤ مجھے کیا کرنا ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دستخط۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طلاق نامے پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے فیصلے میں استحکام ہے یا متزلزل ہو چکی ہے ، جامی واش روم سے یہ سوچ اپنے ہمراہ لے آیا۔ ہاں اور نہیں کی کشمکش میں وہ کمرے میں داخل ہوا تو گلنار کو چائے سامنے رکھے منتظر پایا ، ایک اور حیران اس کی سوچوں میں انتشار برپا کر گئی۔

          گلنار کیسی عورت ہے جسے یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ اس گھر میں میری حیات کی شرکت میں اس کی آخری رات ہے ، کل دن کے کسی وقت بھی ہمارے راستے جدا ہو جائیں گے ، بظاہر ہمارے چہروں پر سکون کی تہہ جمی رہی گی لیکن ایک صدمہ بہر حال دونوں جھیلیں گے، مجھے پہلے سے زیادہ وقت دے رہی ہے ، میرے لیے دل میں احساس رکھنے لگی ہے ، لگتا ہے یہ ایڈووکیٹ گلنار نہیں ہے، یہ تو کوئی گھریلو گلنار ہے، میں طلاق نامے پر دستخط نہیں کروں گا لیکن اسے کیوں بتاؤں! چائے کے دوران اتنی ساری باتیں اس کے ذہن سے گزر گئی تھیں۔

          حسب معمول دونوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا ، کچھ دیر نواب صاحب اور بے جی کے پاس بیٹھے ، وہ دونوں انہیں دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔

          جاؤ آرام کرو! بے جی نے دونوں کو اجازت دی اور نواب صاحب کی طرف دیکھ کر مسکرائیں۔

          وہ اٹھے اور سلام کر کے اپنے کمرے میں آ کر لیٹ رہے۔ نیند دونوں کے دائیں بائیں سے گزر جاتی رہی۔

          گلنار سو گئی ہو! جامی نے ایک کروٹ بدلی۔

          نہیں، جاگ رہی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          سو جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          اچھا، مگر آپ کیوں جاگ رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          بس یونہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          آپ بھی سو جائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          اور پھر دونوں سو گئے۔ سورج کی کرنوں نے کمرے کو روشن کیا تو گلنار ہڑبڑا کر اٹھتے ہوئے کچن میں چلی گئی ، تھوڑی دیر بعد اس نے آ کر جامی کو جگایا اور وہ واش روم چلا گیا۔ غسل کر کے لوٹا تو ناشتہ تیار تھا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر وہ کورٹ جانے کی تیاری مکمل کر چکا تو گلنار اس کا کوٹ اور اپنی گاڑی کی چابیاں لے آئی۔ میں اپنی پرانی گاڑی سے کورٹ جاؤں گا ! جامی نے کوٹ کا دوسرا بازو میں پہن کر نظریں اس کے چہرے پر روک لیں۔

          کیوں!

          اس لیے کہ آج پرسوں ہے ، تم اپنی گاڑی سے کورٹ آ جانا! جامی کے چہرے پر جیسے پت جھڑ چھا گیا۔

میں آج کیا ، کبھی کورٹ نہیں جاؤں گی ، اور اب میں ایڈووکیٹ گلنار نہیں ، گلنار جامی ہوں! وہ جامی کے کندھے پر سر رکھ کر سسک اٹھی۔

٭٭٭