کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پٹڑی سے اترتے ہوئے

احسان بن مجید


بورڈ آف ڈائریکٹر کی سالانہ میٹنگ اگلے ماہ کی چار تاریخ کو ہونا طے پائی تھی جس کا نوٹیفیکیشن اسے موصول ہو چکا تھا۔ آج دو تاریخ تھی اور اس کے پی اے نے ساری دستاویزات مکمل کر کے فائل اس کی میز پر رکھتے ہوئے یاد دہانی بھی کرا دی تھی۔ اس نے ڈرائیور کو طلب کیا اور گاڑی تیار کرنے کی ہدایت دے کر موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کرنے لگا، چند لمحوں میں رابطہ ہوا تو گفتگو کا سلسلہ چل نکلا، جانے موضوع گفتگو کون سی بات تھی کہ وہ مسلسل سن رہا تھا۔ جی ، جی ہاں ، اچھا جی، بہتر۔ کے الفاظ اس کے ہونٹوں سے لگاتار ادا ہو رہے تھے اور چہرے کے تاثرات برہمی کی گواہی دے رہے تھے ، یوں لگ رہا تھا جیسے اس سے کوئی لغزش سرزد ہو گئی اور اس کی پاداش میں کوئی سینئیر افسر اس کی سرزنش کر رہا ہو۔ رابطہ منقطع ہونے سے پہلے اس نے یوں خدا حافظ کہا جیسے نہ کہنا چاہتا ہو اور موبائل بے دلی سے میز پر پھینکتے ہوئے مخاطب کی گفتگو پر کڑھنے لگا، گفتگو کیا تھی ایک اچھا خاصا لیکچر تھا جس میں یوں ہدایات دی جا رہی تھیں جیسے کسی اجڈ کو سمجھایا جاتا ہے ، بات کے دوران اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی تھی مگر وہ سعی لا حاصل تھی اور خاموشی میں ہی عافیت تھی۔ اس نے کرسی سے ٹیک لگا کر ایک ہی بات سوچی تھی ،ا س دور میں افسری نہیں نوکری بچانا اہم ہے اور وہ اس نے کسی نہ کسی طرح بچا لی تھی لیکن یہ ایسی کامیابی تو نہیں تھی جس پر اترایا جا سکے بلکہ وہ تو کچھ بکھر سا گیا تھا۔ اب اسے تھوڑی دیر کے لیے سکون کی ضرورت محسوس ہوئی ، ایسا سکون جس میں کوئی بھی اس کے پاس نہ آئے تا کہ اس عرصہ میں وہ اپنے آپ کو یکجا کر سکے اور سبکی کا اثر زائل ہو جائے کہ میٹنگ میں تو اسے ہر صورت جانا ہی تھا۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھا اور سامنے پڑے صوفے پر نیم دراز ہو گیا۔ خیالات آتے اور گزرتے رہے ، مثبت بھی اور منفی بھی ، پھر جانے کون سے خیال نے اس کے جسم سے سبکی کا لبادہ اتار پھینکا اور اسے ایک راحت اپنے اندر اترتی محسوس ہوئی ، بس یہی لمحہ تھا کہ اس کی پلکیں جڑنے کو آ گئیں۔ نہیں، دفتر سونے کی جگہ نہیں، کام کرنے کی جگہ ہے ، گھر چلنا چاہیے! اس نے خود کلامی کی ، صوفے سے اٹھ کر انگڑائی لی اور گھنٹی بجا کر ڈرائیور کو گاڑی لانے کے لیے کہا ، یوں بھی چار بجنے میں چند منٹ باقی تھے اس عرصہ میں اس کے پاس کوئی ایسا ضروری کام نہیں تھا جس کے لیے اس رکنا پڑتا۔

          حسب معمول ، چھوٹا سا خاندان ، ایک بیٹا ، ایک بیٹی ، اور بیوی چائے کی میز پر اس کے منتظر تھے۔ چائے کا آخری گھونٹ حلق میں اتارنے کے بعد اس نے بیٹے سے کوئی بات کی جس سے سب مسکرا دیئے ، زندگی کی جھیل انتہائی پر سکون تھی۔ اسے پتہ نہیں چلا بیٹا کب بی اے میں پہنچ گیا ، بیٹی میٹرک میں کب آئی۔ وہ خود ایک جونئیر افسر تھا ، سینئیر کب ہوا اور اب تو ڈائریکٹر کی کرسی پر بیٹھے اسے پانچ سال ہو چکے تھے۔ تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد وہ بیڈ روم میں چلا گیا ، بیوی بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ گئی ، بچے لاؤنج میں ہی بیٹھے رہے۔ خبروں کا وقت ہو چلا تھا۔ اس نے ٹیلی ویژن آن کیا ، خبریں شروع ہو چکی تھیں، وہ سنتا رہا ، کمرشل بریک کے دوران اس نے پانی کا ایک گلاس پیا ، جس کی اسے شدید طلب نہیں تھی۔ بن پیاس کے حلق سے نیچے انڈیل لیا تھا۔ شاید اس نے گزری خبروں کی وجہ سے ایسا کیا تھا ، حالات نے اس پر سوچوں کی یلغار کر دی تھی لیکن کمرشل بریک میں اچھلتے کودتے لڑکے لڑکیوں نے سماں باندھ دیا تھا ، چند لمحوں کے لیے سوچیں کہیں دبک گئی تھیں ، خبریں پھر شروع ہوئیں، وہی پریشان کن خبریں، تھوڑی دیر کے لیے وہ کھوسا گیا ، یوں کہ بصارت و سماعت پر جیسے کوئی چادر سی تن گئی ہو ، پھر ایک خبر نے تو اسے زلزلا کر رکھ دیا تھا۔

          آپ میٹنگ پر نہ جائیں ، کوئی بہانہ کر دیں ، حالات اچھے نہیں ، کچھ بھی ہو سکتا ہے ، میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے! اس کی بیوی کے چہرے پر پریشانی کی دھول صاف دکھائی دے رہی تھی۔ یہ ایک بیوی پہلے اور بعد میں ایک عورت کا مشورہ تھا۔

          یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں میٹنگ پر نہ جاؤں، میں ایک ذمہ دار افسر ہوں ، بلاشبہ آج کل ایک بے یقینی اور پریشانی کا عالم ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ذمہ داریاں ترک کر دی جائیں ، جو ہونا ہے بلآخر ہو کر رہے گا ! یہ ایک ذمہ دار افسر کی آواز پہلے اور ایک ذی ہمت انسان کی آواز بعد میں تھی۔ اسے لگ رہا تھا جیسے بیوی کوئی بات چبا رہی ہے یا اسے درست جملہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جو جلد ہی اسے سننا پڑے گی۔ میں دو اڑھائی گھنٹے آرام کرنا چاہتا ہوں ، اس کے بعد مجھے میٹنگ کے لئے روانہ ہونا ہے ، تم چاہو تو بچوں کے ساتھ بیٹھ سکتی ہو، یہ کہہ کر اس نے ریموٹ سے ٹی وی بند کیا اور وہیں دراز ہو رہا۔ بیوی پانی کا گلاس بھر لائی کہ سونے سے پہلے وہ ایک گلاس پانی ضرور پیا کرتے تھے۔

          رات کے بارہ بج کر پچیس منٹ ہو رہے تھے کہ باہر گاڑی کا ہارن بجا ، وہ سمجھ گیا تھا ڈرائیور آ چکا ہے۔ اس نے فوراً چائے کا گھونٹ نیچے کیا، بریف کیس اٹھایا اور بیوی کو خدا حافظ کہتے ہوئے روانہ ہو گیا۔ کوئی چالیس کلو میٹر کا سفر طے کرنے کے بعد ڈرائیور کو گاڑی ایک چیک پوسٹ پر روکنا پڑی ، ایک با وردی جوان قریب آیا۔

          آپ کی شناخت جناب! جوان ڈرائیور کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست اس سے مخاطب ہوا۔

          بھائی میں سرکاری افسر ہوں اور یہ میری شناخت ہے ! اس نے قمیض کی جیب پر لٹکتے کارڈ کی طرف اشارہ کیا۔

          حضور یہ آپ کی محکمانہ شناخت ہے، میں آپ کی ذاتی شناخت پر اصرار کر رہا ہوں، جوان نہایت مودب تھا۔

          یہ لیجئے! دو ایک لمحے تذبذب میں رہنے اور ڈرائیور کے سامنے اپنی سبکی کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس نے اپنا شناختی کارڈ دکھایا۔

          زحمت معاف! جوان کارڈ اسے واپس کرتے ہوئے بیرئیر اٹھا کر دائیں سے جانے کا اشارہ کیا۔

          ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ راستہ بھر اسے جانے کتنی پوسٹوں پر اس کوفت سے گزرنا پڑا تھا۔ اسی لیے سفر بھر اس نے ڈرائیور سے کوئی بات نہیں کی تھی ، وہ جانتا تھا رات کے سفر میں ڈرائیور کے ساتھ بات کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ اسے اونگھ نہ آ جائے ، وہ تو ایک ہی بات سوچ رہا تھا حالات ایسے کیوں ہو گئے ہیں ، کیا ہم اپنی شناخت کھو چکے ہیں ، کیا ہم اپنے وطن میں اجنبی ہیں ، جنہیں گزرنا ہوتا ہے گزر جاتے ہیں ، سینہ تان کر بغیر ذاتی شناخت کرائے دکھائے، ان کی گاڑی رکتی ہی نہیں اور نہ انہیں کوئی پوچھنے والا ہے ، انہیں جو کرنا ہوتا ہے دھڑلے سے کر گزرتے ہیں۔

          آخری چیک پوسٹ سے سرخرو گزرنے کے بعد گاڑی منزل کے قریب پہنچی تو پو پھٹ رہی تھی۔ اس نے ڈرائیور کو ایک بڑے ہوٹل کے پاس رکنے کو کہا اور اتر کر ہوٹل کے استقبالیہ پر پہنچا لیکن اس سے پہلے اسے یہاں بھی اپنا حدود اربعہ دوہرانا پڑا تھا۔ میٹنگ چونکہ داتا ہال میں نو بجے منعقد ہونا تھی اور اس کے پاس تین چار گھنٹے تھے ، سوچا اس نے یہی تھا کہ نصف شب کے پریشان کن سفر کے بعد تھوڑا سا آرام کر لے گا اور پھر داتا ہال بھی یہاں سے زیادہ دور نہیں تھا۔ استقبالیہ پر بھی اس کے ساتھ عجیب و غریب سلوک کیا گیا تھا ، جانے اسے کیوں ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی مشتبہ شخص ہے۔ استقبالیہ کلرک نے اس کی شخصیت  کے متعلق کیا کچھ نہیں لکھا ، شناختی علامت ، کلائی پر بندھی گھڑی کا ٹریڈ مارک اور

وقت ، بریف کیس کا رنگ اور اس میں پڑے کاغذات کی تفصیل ، کمرے میں رکنے کا عرصہ اور جانے کیا کچھ۔ ایک لمحے کو اس کا جی چاہا یہاں مزید ECG  کرانے سے بہتر ہے باہر نکل جاؤں ، اس ہوٹل میں خاک آرام ملے گا، لیکن اس نے اپنے اس خیال کو تردید یوں کی کہ اس طرح تو وہ مشکوک ہو جائے گا۔ بمشکل اس نے کمرے کی چابی حاصل کی اور کمرے تک جانے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

          وہ داتا حال کی پارکنگ سے باہر آیا تو سوا آٹھ بج رہے تھے اور اس سے پہلے پہنچنے والے آفیسر ٹولیوں میں کھڑے گپ شپ کر رہے تھے ، اس نے بھی سلام کیا اور ایک ٹولی میں شامل ہو گیا ، ایک افسر اپنی بپتا سنا رہا تھا ، اسے لگا جیسے یہ اس کی کہانی سنا رہا ہو ، وہ خاموش رہا ، اتنے میں ایک پاجیرو پارکنگ میں رکی، تمام افسر فوراً ایک قطار میں کھڑے ہو گئے ، جیف ڈائریکٹر نے سب سے مصافحہ کیا اور تمام لوگ ہال میں داخل ہو کر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے تھے۔ میٹنگ شروع ہوئے پون گھنٹہ گزر چکا تھا اور تھوڑی دیر بعد چائے کا وقفے کا اعلان ہونا تھا لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی ، داتا ہال کی عمارت یوں لرز اٹھی جیسے کوئی بڑے ریکٹر سکیل کا زلزلہ آیا ہو اور ساتھ ہی ایک بھیانک دھماکا کی آواز آئی۔ داتا ہال کی کھڑکیاں بج اٹھیں اور شیشے ٹوٹ کر بکھرتے ہوئے چند افسروں کو زخمی کر گئے۔ ہر چہرے پر فق ہو گیا تھا۔ ایک بھگدڑ سی مچ گئی تھی۔ زخمی افسروں کو فوراً طبعی امداد لے لیے ہسپتال روانہ کر دیا گیا۔ ٹیلی ویژن  پر فوراً بریکنگ نیوز چل گئی۔ خود کش دھماکا اسی ہوٹل میں ہوا تھا جس میں اس نے تھوڑی دیر پہلے آرام کیا تھا۔ میٹنگ فی الفور منسوخ کر دی گئی اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔

          شام کے پانچ بج رہے تھے۔ جب گاڑی اس کے گھر کے سامنے رکی ، اسے ایک

اور حیرت کا سامنا ہوا۔ ایک با وردی جوان بندوق لیے چاق و چوبند گیٹ کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا تو اس نے روک لیا۔

          آپ کی شناخت حضور! جوان نے احترام ملحوظ رکھا۔

          اب اپنے گھر میں بھی داخل ہونے کے لیے شناخت کرانی پڑے گی! اس کی پیشانی پر شکنیں ابھر آئی تھیں۔

          کیا ہم لوگ اتنی ہی پٹڑی سے اترے ہوئے ہیں ، یہ لو اور مجھے جانے دو۔

٭٭٭