کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مجبور میں ہی نہیں

احسان بن مجید


لب سڑک اس ہوٹل پر جانے کب رش ہوتا ہو گا۔ اس وقت تو باہر پڑے بے ترتیب میز کرسیوں پر دو آدمی الگ الگ بیٹھے تھے۔ اور ایک ذرا دور منجی پر لیٹا جانے کس خیال میں گم تھا ، اس کے سرہانے پڑی چلم کی ٹوپی سے اٹھتا دھواں گواہی دے رہا تھا کہ ابھی لیٹا ہے۔ وہ بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑا وقت بیت گیا۔ ہوٹل کے عملہ سے کوئی بھی اس کے پاس نہ آیا تو اس نے سوچا شاید دو چار مزید گاہک آئیں گے تو سب کو ایک بار ہی چائے پیش کی جائے گی ، یا جو چیز گاہک طلب کرے اسے دی جائے گی۔ اسے تو چائے کی کوئی خاص طلب بھی نہیں تھی۔ وہ تو یونہی یہاں سے گزرتے ہوئے ذرا سستانا چاہتا تھا۔ اس ہوٹل سے آگے ایک فرلانگ  کے فاصلہ پر لاری اڈہ تھا جہاں اس نے گھر کے لیے بس میں سوار ہونا تھا اور آج شام تک اسے ہر صورت میں گھر پہنچنا تھا۔ کہ وہ بیوی سے کہہ آیا تھا ، مر نہیں گیا تو شام تک واپس آ جاؤں گا۔ اور اس کی بیوی نے کہا تھا۔ اللہ نہ کرے۔ گھر چھوڑتے وقت تینوں بیٹیوں میں کوئی ایک بھی اس کے سامنے نہیں تھی۔ بڑی بیٹی نے تین سال قبل میٹرک پاس کیا تھا اور گھر کی ہو کر رہ گئی تھی ،منجھلی نے مڈل کر کے کسی سلائی کڑھائی کے ادارے میں داخلہ لے لیا تھا اور سب سے چھوٹی اب ساتویں جماعت میں تھی جس کے متعلق اس کی بیوی نے چند ماہ پہلے اس کے کان میں کوئی بات کہی تھی جسے سنتے ہی اس کے چہرے پر فکر مندی کی تہیں چڑھ گئی تھیں ، اس لمحے اس نے جانے کیا کچھ سوچا تھا ، کچھ اچھا ، کچھ بالکل اچھا نہیں بلکہ کفران نعمت کی حد تک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بار تو اس نے یہ بھی سوچ لیا کہ اب تو ڈاکہ ڈالنے کی ہمت بھی نہیں اور پلکوں کے نیچے ایک بے چارگی لیے دن گزارتا رہا۔

          ہوٹل پر اس سے تین کرسیوں کے فاصلے پر ایک اور آدمی بیٹھا ، وہ اس کے قریب سے گزرا تھا اور اس نے اس کا حلیہ بغور دیکھ لیا تھا۔ گہرے گندمی رنگ کے اس شخص کا قد چھے فٹ سے کچھ کم ہو گا۔ اس نے اپنے چہرے پر چادر لپیٹ رکھی تھی تاہم اس کی بڑی بڑی مونچھیں چادر کی اوٹ سے جھانک رہی تھیں۔ بڑی بڑی۔ ۔ ۔ ۔ خطرناک آنکھوں کی وحشت سے وہ اس وقت سہم گیا تھا جب اس نے گزرتے ہوئے اس پر ایک نظر ڈالی تھی۔ کچھ دیر اس کی ایک نظر کا اثر اس کے ذہن و دل پر رہا، پھر زائل ہو گیا اور وہ سڑک پر سے گزرتی گاڑیاں اور لوگ دیکھتے ہوئے وقت گزارنے لگا۔ جانے کس خیال سے اس کے اندر ایک پھلجھڑی سی چھوٹی اور غائب ہو گئی ، اسی خیال نے اس کی گردن چادر والے آدمی کی سمت موڑ دی۔ اس نے دیکھا وہ اپنے کسی خیال میں گم بیٹھا تھا ، اس نے نظر بچا کر اپنی پہلو کی جیب سے ایک تڑا مڑا کاغذ کا ٹکڑا نکالا اور اس کی طرف پیٹھ کر کے اس بوسیدہ ٹکڑے کو چند ثانیے دیکھا پھر ایک ایک زاویے سے چادر والے کو دیکھاوہ اسے ہی دیکھ رہا تھا، اس کی نظریں یکدم لوٹ آئیں لیکن اب اسے کسی خوف کا سامنا نہیں کرنا پڑا ، اسے لگا جیسے چادر والے کی نظریں بھی اس کے چہرے سے ٹکرا کر فوراً واپس ہو گئیں تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھے پھر ایسی کون سی بات تھی جو دونوں کو ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھنے پر مجبور تھے۔ وہ اس کے پاس جا کر بیٹھنے کا ارادہ باندھتا لیکن اس کی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت اس کا حوصلہ چوس لیتی تھی۔ اس کے دل میں انگڑائیاں لیتی خواہش کی تکمیل اس سے تین چار کرسیوں کے فاصلے پر تھی اور اب وہ اپنی خواہش کو بزدلی کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہتا تھا۔ وہ اٹھا اور اس سے پہلے کہ قدم آگے بڑھاتا۔ اسے لگا جیسے کسی نے اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھوں کا دباؤ ڈال کر بٹھا دیا ہو۔ وہ واپس کرسی پر بیٹھ چکا تھا ، ایک بھیانک خیال ، سینے میں اترتی ریوالور کی گولی، خون کا چھوٹتا فوارہ، خنجر کا اچانک وار، پیٹ سے لڑھکتی آنتیں ، لوگوں کا ہجوم میز کرسیوں کے درمیان ایک تڑپتا جسم ، زندگی اور موت کی کشمکش میں ، ہسپتال پہنچاؤ نہیں پولیس کو آنے دو ، بھئی آدمی کی جان نکل رہی ہے ، ہاں مگر یہ سر عام ایک قتل ہے ، تین سو دو کا کیس ہے، ایک سرپٹ دوڑتا آدمی، خنجر لہراتا، کبھی پستول دکھاتا، دوڑتے ہوئے آدمی کے تعاقب میں چند لوگ، فضا میں بکھرتی ایک آواز جس نے بھی پیچھا کیا بھون کر رکھ دوں گا۔ تعاقب میں نکلے واپس آتے لوگ تڑپتے جسم کی ڈوبتی نبضیں اور پھر لاش۔ ذرا سی دیر میں یہ سارے مناظر اس کی نظروں میں گھوم گئے، اب اسے چائے کی شدید طلب ہوئی ، اس نے ہوٹل والے کو دیکھا ، چولہے پر پڑی پتیلی میں چائے پھینٹ رہا تھا اور اس کی مہک اس کے نتھنوں میں اشتہا پھیلا رہی تھی۔ ایسا ہو سکتا ہے ، اس نے سوچا اور اس کے جسم پر ایک کپکپی سی گذر گئی۔ اور نہیں بھی،ایک ہمت افزا خیال نے اس کے اندر انگڑائی لی، ممکن ہے وہ ایک اچھا انسان ہو ، یہ فرض کرتے ہی جیسے کسی نے اس کے دونوں گالوں پر ہاتھ رکھ کر اس کا چہرے چادر والے کی طرف موڑ دیا۔ پھر دونوں کی نظریں چار ہوئیں تو چادر والا سینے کی جیب میں ہاتھ ڈال رہا تھا۔ شاید جیب میں سے چائے کے پیسے نکالنا چاہتا ہو، لیکن ابھی چائے تو اس نے پی ہی نہیں تھی۔ اسے الجھن سی ہوئی لیکن اس وقت اس کا فشار خون بلند ہونے لگا جب اس نے اس کی طرف پہلا قدم اٹھایا ، رکا جیب ٹٹولی اور ہولے ہولے چلتا اس کے سامنے پڑی خالی کرسی کی پشت پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑا ہو گیا۔ اس کا جی چاہا یہاں سے اٹھ کر بھاگ جائے۔ کیا پتہ اگلے چند لمحوں میں کیا ہو جائے۔ لیکن بیٹھا رہا جیسے ہپناٹائز کر دیا گیا ہو۔ چادر والے نے جیب ٹٹولی جیسے کسی بات کا یقین کر لینا چاہتا ہو۔ وہ جانے کیوں پرے تکنے لگا۔

          چائے پی لی؟ یہ آواز کسی اور کی نہیں چادر والے کی تھی۔

          نہیں! وہ مسلسل سڑک کے پار دیکھ رہا تھا۔ لیکن اسے محسوس ہوا جیسے اس کی نہیں میں ایک رعب سا تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اکٹھی پئیں گے اس نے یوں کہا جیسے دو شناسا  عرصہ بعد ملے ہوں اور ایک تکلفاً کہہ رہا ہو یا اس کا گفتگو کا آغاز کرنے کا انداز ہو۔ بات کرتے ہوئے چادر اس کے منہ سے اتر گئی اس نے دیکھا ، گہرے سانولے رنگ کے باوجود سیاہ کالی مونچھیں اس کے چہرے پر بھلی لگ رہی تھیں۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں نے شاید خواب بھی بڑا ہی دیکھا ہو گا لیکن اس کی آنکھوں میں لکھی عبارت وہ پڑھ نہ سکا۔ اس نے ایک ٹک اسے دیکھا تو وہ جھینپ سا گیا۔

          وہ خاموش رہا ، اس کے ذہن کی سلیٹ پر لکھے الفاظ جو اس کی زبان نے ادا کرنے تھے یکدم دھندلے پڑ گئے اور وہ کسی سوچ سمندر میں کود گیا۔ چادر والے نے ہوٹل والے کی طرف دیکھا ، کہا کچھ بھی نہیں لیکن وہ دونوں کے سامنے چائے رکھ کر چلا گیا۔ چند ثانیے دونوں نے چپ سادھے رکھی ، پیالیوں سے بھاپ اٹھتی رہی اور دونوں جانے کہاں بھٹکتے رہے۔

          تم سے ایک بات کہوں !

          کہو!

          دارا چاقو کا نام تم نے سنا ہے۔

          ہاں سنا ہے ! چائے کی پیالی اس کے ہاتھ میں لرز گئی۔

          حکومت نے اس کے سر کی قیمت سات لاکھ رکھی ہے۔

          ہاں! اسے لگا منزل خود چل کر اس کے پاؤں سے لپٹنے والی ہے ، مراد بر آنے والی ہے ، اب تینوں بیٹیوں کے جہیز کا بندوبست ہو جائے گا ، اور جانے کون سا خیال اس کے ذہن سے گزر گیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا ہوٹل کے گاہکوں میں اضافہ نہیں ہوا تھا ، منجی پر لیٹے ہوئے شخص نے کروٹ بدل لی تھی اور اب اس کی پیٹھ ان کی طرف تھی۔

          اب کیا کروں، پولیس کو اطلاع کروں۔ نہیں ، اس کی منت سماجت کر لیتا ہوں ، اس نے سوچا اور بغلی جیب سے اخبار کا تراشہ نکال کر مٹھی میں بند کر لیا ، میں جانتا ہوں تم ایک شریف آدمی ہو اور اپنے دل میں میرے لیے ہمدردی رکھتے ہو میری مجبوریاں اگر چہ تمہارے سامنے نہیں میری حالت تو تم دیکھ رہے ہو ، مجھے یقین ہے تم میرے کام آؤ گے۔ اس نے اپنی حالت چادر والے کے سامنے دھر دی۔

          ہاں ہاں کیوں نہیں ، ہم دونوں ایک دوسرے کے کام آ سکتے ہیں۔

          وہ کیسے۔ اس کی نظریں سوالیہ نشان بن گئیں۔

          وہ اس طرح کہ چادر والے نے سینے کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک تہہ کیا ہوا اخبار کا ٹکڑا نکالا۔ سامنے میز پر رکھا۔ اس کی تہیں کھولیں یہ تم ہو دارا چاقو۔ اب میں چاہوں تو تمہارے بدلے حکومت سے سات لاکھ لے سکتا ہوں لیکن نہیں تم مجھے چار لاکھ دو اور بھاگ جاؤ! چادر والے کی آنکھوں میں کامیابی کی چمک اتر آئی ، اور یہ تم ہو۔ اس نے مٹھی میں بند کاغذ کھول کر اخبار کے تراشے پر رکھ دیا ، یہ بھی وہی تراشا تھا۔ اب میں تم سے کچھ نہیں کہوں گا۔ میں جان گیا ہوں دارا چاقو تم ہو نہ میں البتہ ہماری منزل ایک ہے، چلو اپنے اپنے گھر لوٹ چلتے ہیں۔ اس نے دیکھا چادر والے کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے تھے۔ اس نے پھر چادر میں منہ لپیٹا  اور تھکے تھکے قدموں سے ہوٹل سے نکل گیا۔ اس نے اسے جاتے دیکھ کر سوچا مجبور میں ہی نہیں وہ مجھ سے زیادہ مجبور تھا۔

٭٭٭