کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کرسی پہ بیٹھی تنہائی

احسان بن مجید


          یہ بنگلہ جس کے سرونٹ کوارٹر میں آج میں رہ رہا ہوں ، بائیس سال قبل بیوی کی خواہش پر بڑے شوق سے بنوایا تھا۔ میں اگر چہ کوئی بڑا افسر نہیں تھا لیکن بیوی کے دل میں جانے یہ شوق کیسے پیدا ہو گیا تھا اور اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار مجھ سے برملا کر دیا تھا۔ میں سن کر ہنس دیا تھا اور وہ جھینپ گئی تھی مگر میں اسی دن سے اس کی یہ خواہش اپنے دل میں سنبھال کر لی تھی۔ میرے گھر میں تین خوبصورت پھول کھلے تھے۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی، بیٹے جڑواں تھے اور بیٹی ان سے چار سال چھوٹی تھی۔ زندگی اتنی کٹھن بھی نہیں تھی کہ تھک کر میں کہیں سستانے بیٹھ جاتا لیکن یہ بات مجھے کل کی طرح یاد ہے کہ بیوی کی اس بات کے بعد میرے شب و روز میں واضح تبدیلی  ہونے لگی تھی۔ دولت جانے کہاں سے چلتی اور میری جھولی میں آن گرتی۔ حالات  جیسے بھی ہوں خوشحال چہرہ اپنی کتھا سنا دیتا ہے۔ بیوی کبھی کبھی مجھے غور سے دیکھتی اور میرے دل میں جھانکنے کی کوشش کرتی لیکن میں جوان تھا اور جذبات کو خود سر ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ اسی لیے میں نے اس بنگلے کی تعمیر و تکمیل تک اپنے چہرے پر دوسرا چہرہ سجائے رکھا۔ بیٹے میٹرک میں پہنچ چکے تھے اور بیٹی چھٹی جماعت میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          بنگلے کی تعمیر جوں جوں تکمیل کے مراحل طے کر رہی تھی میں اتنا ہی بیوی کی خواہش کے روبرو سرخرو ہوتا جا رہا تھا۔ اس دوران میں نے کبھی بیوی سے اس موضوع پر بات نہیں کی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ ایک دن اسے مکمل اور ہر چیز سے آراستہ بنگلے میں لا کر چابی اس کے حوالے کرتے ہوئے خود کہیں ٹیل لگا کر نہال ہوتا رہوں گا۔ اسے تو اپنی بات بھول ہی گئی تھی کہ برسوں کی دھول جو اس پر جم گئی تھی۔ میں اسے پل پل کی خبر دینا چاہتا تھا مگر ایک تجسس جو میں نے اس کے لئے رکھ چھوڑا تھا میرے لیے کس طرح کڑوے گھونٹ سے کم نہیں تھا۔ میں قدم پہ قدم رکھتا اپنی منزل کے قریب تر ہوتا جا رہا تھا۔

          میں نے اپنے برے دنوں میں بھی بیوی کے چہرے پر غم کی پرچھائیں آتے نہیں دیکھی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ اس کی فطری مسکراہٹ نے مرے حوصلے کی دیوار کو ڈھینے نہ دیا۔ میں ہمیشہ نئے عزم کے ساتھ گھر سے نکلتا تھا اور جب شام کو گھر لوٹتا تو اسے یوں منتظر پاتا جیسے ایک مدت کے بعد لوٹا ہوں۔ ہر شخص کو اپنی بیوی اچھی لگتی ہے ، اس طرح مجھے بھی اپنی بیوی سے پیار تھا لیکن یہ پیار قطعاً جوابی نہیں تھا ، وہ نیک تھی اس لیے بچوں کی تربیت کے سلسلے میں میں بے فکر تھا لیکن جب اولاد جوان ہو جائے تو والدین بے بس ہو کر رہ جاتے ہیں۔ بڑا بیٹا بی اے میں پہنچ چکا تھا، چھوٹا آٹھویں اور نویں جماعت میں مسلسل دو بار فیل ہونے کے باعث ایف اے میں پڑھ رہا تھا۔ اگرچہ دونوں جڑواں تھے۔ اور ان میں چھوٹے بڑے ہونے کا فرق مشکل پیدا کر سکتا تھا لیکن یہ مشکل میری بیوی نے آسان کر دی تھی۔ اور بڑا اسی کو کہا تھا جو بی اے میں تھا۔ یہ یوں بھی صحت مند اور پھرتیلا تھا ، جب کہ چھوٹا جسمانی طور پر کمزور اور جھگڑالو سا تھا۔ بڑے کی شکل و شباہت مجھ جیسی تھی  اور چھوٹا ہم دونوں کی ملی جلی صورت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیٹا ہو بہو ماں کے نقوش لے کر آئی تھی اور اب میٹرک میں تھی۔ ان دنوں میں نے ایک سیکنڈ ہینڈ کار خرید لی تھی۔ اور شام کو بیوی بچوں کو ساتھ لے کر گھومنے نکل جاتا تھا۔ کبھی ہم کسی پارک میں شام گزارتے تو کبھی گھر سے نکلتے ہی بڑا بیٹا پکچر ہاؤس جانے کی فرمائش کر دیتا۔ میں بیوی کی طرف دیکھتا اور وہ بجائے میری طرف دیکھنے کے باہر دیکھنے لگتی۔ گویا یہ ذمہ داری مجھ پر پھینکنا چاہتی ہو ، میں پھانپ جاتا کہ وہ رضا مند نہیں اس لئے میں گاڑی سینما روڈ کی بجائے دوسری سڑک پر موڑ لیتا۔

          ابو گھر سے نکلتے ہوئے میں نے ایک بات کہی تھی ! بڑا بیٹا کہتا۔

          چھوڑو یار فلم ولم، کیا تین گھنٹے سکرین پر نظر جمائے بیٹھے رہو، طرح طرح کی آوازیں سنو، انٹرول ہو تو صرف ایک آواز ’’چائے گرم ‘‘ جو سینما کی تاریخ جتنی پرانی ہو چکی ہے سنو، کیوں نا کھلے آسمان تلے کھلی فضا میں بیٹھیں ،سورج کا غروب دیکھیں، پرندے دیکھیں، ان کی بولیاں سنیں کہ یہ ہماری زندگی کا حسن ہیں اور زندگی صرف ایک بار ہے! چھوٹا اپنی رائے دیتا۔

          تم ایسا کرو بڑے میاں گاڑی سے اترو اور سیدھے مسجد چلے جاؤ ہر کام وقت پر اچھا لگتا ہے لیکن تم سڑیل مزاج ہو ! بڑے نے چھوٹے کو کھری کھری سنائیں تو بیوی میری طرف دیکھتے ہوئے مسکرا دی اور میری مسکراہٹ بھی اس میں گم ہو کر رہ گئی۔ میں نے ہمیشہ بیوی کی خواہش کو کلیجے سے لگا کر پالا ہے یوں جیسے کوئی پودا لگا کر اس کو پانی دینا فرض ہو جاتا ہے۔ اس طرح بچوں کی تربیت کے موقع پر بھی میں نے ہمیشہ بیوی کی بات کو اہمیت دی۔ اس کی مسکراہٹ میں میں نے ایک تخلیق کی آسودگی دیکھی تو مجھے احساس ہوا جیسے آسمان کو گرنے سے بچانے کے لئے میں نے سہارا دے رکھا ہو۔ بیٹی جانے کس سوچ میں گم بیٹھی تھی۔ بیٹیوں کو کیا ہے پرایا دھن ہیں یہ سوچتے ہی میں اداس ہو گیا میں نے تھوڑی سی نظریں گھما کر بیوی کا چہرہ دیکھا شاید وہ بھی یہی سوچ رہی تھی۔ اس لئے اس کا چہرہ اداسی میں اور بھی خوبصورت لگ رہا تھا۔ میں نے گاڑی ایک معروف تفریحی پارک کے پاس روکی اور سب لوگ اتر کر پارک کے ایک گوشے میں جا کر کھڑے ہو گئے۔ بڑا بیٹا سوج کر کپا بنا ہوا تھا۔ مجھے احساس تھا کہ جوان بیٹے کی خواہش پر پاؤں رکھنا اچھی بات نہیں لیکن وقت کا شاید یہی تقاضا تھا۔

          ہم پارک سے نکلے تو سورج قریب الغروب تھا۔ میں نے گاڑی کا رخ گھر جانے والی سڑک کی طرف کیا تو بچوں نے کچھ اور دیر گاڑی میں بیٹھنے کا اصرار کیا میں نے شہر سے نکلنے والی لمبی سڑک کا انتخاب کرتے ہوئے گاڑی ادھر موڑ دی۔ بچے اپنی جگہ محفوظ ہو رہے تھے لیکن جو منظر میں نے دیکھا وہ میرے تصور میں تصویر ہو کر رہ گیا۔ ہوا بالوں کی لٹ بار بار میری بیوی کے چہرے پر پھینک رہی تھی جسے ہٹانے کی اس کی تمام کوششیں نا کام ہو چکی تھیں۔ میرا دھیان گاڑی کی طرف کم اور بیوی کی طرف زیادہ ہو رہا تھا اور یہ سوچ کر کوئی نا خوشگوار واقع نہ پیش آ جائے سڑک کے ایک طرف گاڑی چند لمحوں کے لئے روک دی۔

          اب واپس چلنا چاہئے ! میں نے بیوی کی طرف دیکھا۔

          جی ہاں ! اس نے پیچھے مڑ کر تینوں بچوں کو دیکھا۔

          میں نے وہیں یو ٹرن لیا ہی تھا کہ بنگلہ ذہن میں جانے کہاں سے آ گیا۔ میں نے گاڑی کی رفتار بڑھا دیاور پون گھنٹے کے سفر کے بعد شاہراہ کی ایک ذیلی سڑک پر مڑ کر ایک جگہ گاڑی روک دی۔ یہ بنگلوں کی ایک لائن تھی۔ باہر بوڑد لگا ہوا تھا جس پر آفیسرز ایونیو لکھا تھا۔

          ابو یہاں آپ کے کوئی دوست رہتے ہیں ! بیٹی نے مجھ سے پوچھ لیا تھا۔

          نہیں، بیٹی اور چند لمحوں کے لئے خاموش ہو گیا۔

           گاڑی میں سب خاموش بیٹھے ہوئے تھے، یہی سوچ رہے ہونگے کہ یہاں آنے کا مقصد کیا ہے اور میں سوچ رہا تھا کہ بات کا آغاز کیسے کروں لیکن یہ سوچنے میں میں نے چند لمحوں سے زیادہ وقت نہیں لیا تھا۔ میں یوں بھی وقت کا قدردان ہوں اس کے پیچھے زندگی جیسی انمول شے چھپی ہے اور ان لوگوں کے شب و روز اب بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔ جنہوں نے وقت ضائع کیا اور وقت نے ان پر تمام دروازے بند کر دیے۔ میں دیکھ رہا تھا میری بیوی کی نظر اسی بنگلے پر جمیں تھیں جس میں کوئی بلب روشن نہیں تھا لیکن ارد گرد کی روشنی میں سب سے نمایاں نظر آ رہا تھا۔

          وہ سامنے تین نمبر بنگلا دیکھ رہے ہیں جس میں ابھی اندھیرا ہے چند دنوں میں آباد ہو جائے گا یہ ایک ایسا شخص کا بنگلہ ہے جس نے غربت بہت قریب سے دیکھی ہے۔ آج کل وہ آسودہ حال ہے لیکن یہ آسودگی اسے رستے میں پڑی نہیں ملی تھی بلکہ وقت کے مقابل ایک عرصہ تک اسے برسر پیکار رہنا پڑا تھا۔ اس دوران کئی بار اس کے حوصلے کی دیوار گرنے تک پہنچ گئی تھی مگر عظیم تھی اس کی بیوی جس نے اس دیوار کو گرنے نہیں دیا۔ اور اپنی ہمت کا فولاد اس کی اینٹوں میں اتارتی رہی۔ میں نے بچوں کا ذکر نہیں کیا۔

          بنگلہ کیسا ہے ! میں نے بیوی کی طرف دیکھا۔

          وہ چند لمحے خاموش رہی پھر بولی ، میں سوچ رہی ہوں بنانے والا اس پر بے تحاشہ دولت خرچ کر رہا ہے اس میں جب بلب اور ٹیوب روشن ہوں گے تو اطراف بنگلے اس کے سامنے جھونپڑیاں نظر آئیں گے۔

          اس کی یہ بات سن کر میرا سینہ پھول گیا جیسے کسی غبارے میں ضرورت سے زیادہ ہوا بھر دی جائے۔

          ابو اس وقت ہمیں یہ بنگلہ دکھانے کا کیا مطلب ہے! چھوٹے بیٹے نے اس قدر اچانک پوچھا کہ مجھے بمشکل اپنی بوکھلاہٹ چھپانی پڑی۔

          میں چونکہ ادھر سے گزرتا رہتا ہوں اور یہ عمارت مجھے اچھی لگتی ہے اس لئے سوچا آپ کو دکھاتا چلوں ! میں یہ جانتا تھا کہ بیٹے کے سوال کا یہ مکمل اور معقول جواب نہیں ہے لیکن کچھ نہ کہنے سے یہی کہنا بہتر تھا۔

          اب گھر چلیں ! میں نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بیوی کی طرف دیکھا جو مسلسل بنگلے کے درو دیوار تک رہی تھی۔ میرے دل میں وسوسوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا ، اندر کے چور نے میرے خیال کی کنڈی کھولنا چاہی اور میں ذہنی طور پر بیوی کی اپنی خواہش کے اظہار کا منتظر  رہنے لگا لیکن وہ کچھ نہ بولی مجھے اپنی عجلت پسندی اچھی نہ لگی۔ گھر تک کا راستہ خاموشی سے کٹ گیا۔ بیوی کی خاموشی کے علاوہ بچوں کی چپ بھی مجھے کھلنے لگی تھی اور یوں لگنے لگا تھا جیسے سبھی لوگ اس بنگلے پر سوچ رہے ہوں لیکن گھر پہنچ کر یہ خیال میرا غلط ثابت ہوا ، بچے ٹیلی ویژن کے سامنے جا بیٹھے اور بیوی بغیر کسی توقف کے کچن میں چلی گئی تھی ، میں نے اخبار اٹھا لیا تھا ، یوں تو میں سارا اخبار دیکھ چکا تھا لیکن ایڈیٹر کی ڈاک ابھی باقی تھی۔ اور مجھے یہی پڑھنے کا چسکا تھا۔ کھانا تیار ہو کر لگ چکا تو بیوی نے سب کو نام لیکر پکارا، مجھے بھی، یہ اس کی پرانی عادت تھی۔ اگر چہ میرا نام اتنا پر کشش نہیں تھا لیکن جب بھی وہ مجھے بلاتی تو مجھے اپنے نام پر رشک آنے لگتا۔ میں بھی اس کا نام لیکر پکارتا تھا لیکن جانے میرا وہ انداز نہیں تھا جس کے باعث میں جب بھی اسے بلاتا میری کیفیت عجیب سی ہو جاتی۔ ہم دونوں میں ایک مشترک یہ بھی تھی کہ ہم نے ایک دوسرے کے ناموں پر اختصار کی آری نہیں چلائی تھی۔

          کھانے کی میز پر سب اکٹھے ہوئے تو کھانا شروع کیا گیا۔ بڑا بیٹا کھانے کے دوران کوئی بات کر لیتا چھوٹا یوں کھا رہا تھا جیسے پستول کی نوک پر اسے کھانا کھلایا جا رہا ہو۔ بیٹی جانے کن خیالوں میں گم تھی میری نظر بیوی کے چہرے پر جا کر اٹک گئی۔ میرا جی چاہا کھانا چھوڑ کر اسے تکتا رہوں لیکن ایسا ممکن نہیں تھا بچے پاس بیٹھے تھے۔ سب سے پہلے چھوٹے بیٹے نے کھانا ختم کیا اور گھر سے نکل گیا۔ میں چند دنوں سے اس کی یہ مشق دیکھ رہا تھا لیکن خاموش اس لئے تھا کہ میرے بچے نے عیب زندگی گزار رہے تھے۔ پھر بھی میرے دل میں بے یقینی نے چٹکی سی بھر لی تھی۔ چند لمحوں کے توقف سے میں بھی قدم پہ قدم رکھتا گیٹ سے باہر نکل گیا۔ میں نے دیکھا کہ  میرا بیٹا سگریٹ کے سوٹے مار رہا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی کہ بیٹا جوان ہو گیا اور سگریٹ پینے لگا ہے۔ لیکن میں غصے میں بے قابو بھی نہیں ہوا تھا کہ کالج کے ابتدائی ایام میں میں نے بھی یہ حرکت اس لئے کی تھی کہ میرے دوستوں میں کچھ لفنگے بھی شامل تھے۔ میرے بیٹے کے دوستوں میں بھی ضرور ایسے ہوں گے۔ میرے اندر جیسے شام ہو گئی۔ میں اندر آ گیا بڑا بیٹا اور بیٹی اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ بچوں کے کمرے کھلے ہونے کے باوجود میں ان کے کمروں کے اندر کبھی نہیں گیا تھا۔ بیوی جھاڑ پونچھ کے لئے جاتی اور واپسی پر دروازہ بھیڑ کر مطمئن ہو جاتی۔

          کہاں گئے تھے، کھانا کھانے کے فوراً بعد گھر سے باہر نکلنا میرے معمولات میں نہیں تھا اس لئے بیوی نے پوچھ لیا۔

          بس یوں ہی باہر نکل گیا تھا۔ میرے لہجے میں بیزاری شاد زیادہ نمایا تھی یا چہرے پر بیٹے کے ہونٹوں سے نکلتا سگریٹ کا دھواں  جم کر رہ گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا بیوی نے بہت عرصے بعد میرا چہرہ غور سے دیکھا تھا۔ بیوی دنیا کی وہ واحد مخلوق ہے جو تعلیم سے قطع نظر ایک چہرے پر لکھی عبارت فر فر پڑھ لیتی ہے۔ اور وہ چہر اس کے نامدار کا ہوتا ہے۔ وہ خاموش ہو گئی تھی لیکن میں نے دیکھا میری اداسی کا کچھ حصہ اس کے چہرے پر منتقل ہو گیا تھ۔ وہ اٹھی اور میرے لئے چائے بنانے چلی گئی بچے اس وقت چائے نہیں پیتے تھے۔ بیوی کے واپس آنے تک تنہائی کے لمحات میں میں نے جانے کیا کچھ سوچ لیا تھا۔ لیکن جو کچھ بھی سوچا اس میں بنگلہ شامل نہیں تھا۔ میں نے طے کر لیا تھا کہ مہینے میں ایک بار بچوں کے کمرے کا چکر لگا لیا کروں۔ چند ماہ میں اپنے اس ارادہ کی انگلی تھام کر چلتا رہا مگر ایک دن یوں بچھڑا جیسے کوئی بچہ میلے میں اپنی ماں سے جدا ہو جائے۔ مجھے بچوں کے کمروں میں کوئی مشکوک مواد نہ مل سکا۔ دو سال کا عرصہ بیت گیا۔ بڑا بیٹا ایم اے کرتے ہی ایک فیکٹری میں منیجر ہو گیا تھا۔ چھوٹا وقت کو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑاتا رہا۔ بیٹی ایف اے کے دوسرے سال میں تھی۔ میں نے ایک بار چھوٹے بیٹے کو لاری اڈہ کے پان بیڑی سگریٹ والے کھوکھے کے باہر سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ دل میں سوئی ہوئی بے یقینی کی آنکھ کھل گئی اور میں نے کمروں کی تلاشی کا عمل وہاں سے شروع کر دیا جہاں سے چھوڑا تھا لیکن اس بار چھوٹے بیٹے اور بیٹی کے کمرے میری زد پر تھے۔ بڑے بیٹے نے شروع سے مجھے مطمئن رکھا اور اب تو وہ افسر بن گیا تھا۔ اس سے قطع نظر کہ میں غیر اخلاقی عمل کا مرتکب ہو رہا تھا میں ایک فرض کی بجا آوری میں بھی مشغول تھا۔

          آج خلاف معمول میں اتنی جلدی گھر آ گیا تھا کہ بیٹی کالج سے نہیں لوٹی تھی ، بیوی نے صرف میری طبیعت دریافت کی چائے پوچھی اور اپنے کاموں میں مشغول ہو گئی۔ میں کپڑے بدل کر لیٹ رہا لیکن لیٹتے ہی مجھے خیال آیا کیوں نہ بیٹی کے کمرے کا دورہ کیا جائے میں ٹہلتا ہوا کمرے کے پاس جا پہنچا۔ حسب معمول دروازہ کھلا مگر بھڑا ہوا تھا۔ میں اندر داخل ہو گیا۔ کمرہ صاف ستھرا تھا۔ ہر چیز سلیقے سے پڑی تھی البتہ ایک کتاب جسے بیٹی رائٹنگ ٹیبل پر رکھ گئی تھی وہیں پڑی تھی میں نے کتاب اٹھا کر کھولنا چاہی تو وہیں سے کھلی جہاں ایک ڈاک کا لفافہ رکھا گیا تھا۔ لفافے پر پتہ درج تھا اور بند نہیں کیا گیا تھا۔ میں نے چند لمحے یہ سوچنے میں صرف کر دیئے کہ لفافے کے اندر رکھا خط مجھے پڑھنا چاہئے یا نہیں ، کیا میں کوئی اخلاق سوز حرکت تو نہیں کرنے جا رہا۔ لیکن میرا ضمیر خاموش تھا۔ میں نے لفافے سے خط نکال کر پہلی سے آخری سطر تک پڑھ ڈالا۔ میں جانتا ہوں میری پیشانی پر پریشانی کی کوئی شکن نہیں ابھر ی تھی بلکہ ایک سکون کا احساس ہونے لگا تھا۔ میں نے خط لفافے میں رکھا ، لفافہ کتاب میں اور کتاب میز پر وہیں رکھ کر جہاں سے اٹھائی تھی ، کمرے سے باہر آ گیا۔ تھوڑی دیر بعد بیٹی بھی کالج سے آ گئی تھی۔ میں نے بیٹی کا چہرہ دیکھا دور کہیں صحرا میں بگولے رقص کر رہے تھے۔

          شام ہوتے ہی میں نے شیو تازہ کیا۔ کپڑے بدلے اور گاڑی لے کر گھر سے نکل گیا۔ پہلی بار بیوی نے مجھے نہیں پوچھا تھا کہاں جا رہا ہوں۔ آدھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد میں نے گاڑی ایک گھر کے سامنے روکی ، اترا ، اطلاع کی گھنٹی بجائی اور پھر گاڑی کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ گیٹ کھلا ، ایک شخص باہر آیا۔ میرے متزلزل حوصلے کی جنبش رک گئی۔ اس نے مصافحہ کرتے ہوئے اپنا نام بتایا ، میں نے بھی۔

          کیا حکم ہے! اس نے جیسے میرے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔

          میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ آئیے گاڑی میں بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں۔ میں نے اجنبی ہوتے ہوئے بھی اس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔

          نہیں ، میں ڈرائنگ روم کھولتا ہوں سکون سے ایک دوسرے کی بات سنیں گے۔ اس نے میری تجویز رد کر دی تھی۔

          آئیے! اس نے مجھے نام سے پکارا اور استقبالیہ انداز میں اندر آنے کی دعوت دی۔

          ایک صوفے پر بیٹھ گیا اور قریب پڑی کرسی پر میرا میزبان۔ چند منٹ ہمیں ایک دوسرے کا حدود اربعہ بتاتے ہوئے بیت گئے۔ اس سے آگے بڑھنا میں نے وقت کا ضیاع سمجھا اور جاری گفتگو کو اصلی موضوع کی طرف لے آیا۔ بیچ میں ٹیلیفون کی گھنٹی بج اٹھی۔

          جی ، تو آپ بچوں کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ اس نے ریسیور کریڈل پر رکھتے ہوئے میری طرف متوجہ ہو کر دلچسپی کا اظہار کیا۔

          یہ ہمارا دور نہیں ، بچوں کا زمانہ ہے ، جس سے گمراہی اور معاشرتی برائی کا کوئی پہلو نہ نکلتا ہو ، بچوں پر ایسی پابندی کا قائل نہیں ہوں اور یہ بھی نہیں چاہتا کہ بچوں کی خوشیاں اور خواہشات ہماری انا کی بھینٹ چڑھتی رہیں۔ میں آپ کو واشگاف الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے بچے ، اگر چہ وہ نوجوان ہیں ، ایک دوسرے کو چاہتے ہیں ، محبت کرتے ہیں ایک دوجے سے ، لیکن اس سے قبل کہ وہ سر کشی اپناتے ہوئے بغاوت پر اتر آئیں ، ہمیں کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا، کوئی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ یہ دونوں خاندانوں کی ناک کا مسئلہ ہے لیکن بخدا آپ یہ مت سمجھئے گا کہ میں بیٹی پلیٹ میں رکھ کر آپ کو پیش کرنے آیا ہوں۔

          نہیں، میں ایسا کچھ نہیں سمجھوں گا ، نہ سوچوں گا ، آپ کی بیٹی میری بیٹی ہے اور میرا بیٹا آپ کا بیٹا ! اس نے اس قدر اچانک کہا کہ میں نے فرط جذبات میں اس کا ہاتھ چوم لیا۔

          مجھے یقیناً آپ سے اسی سلوک کی توقع تھی ! میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

          آپ مطمئن ہو جائیں ، ہم عنقریب کسی شام آپ کے گھر آئیں گے ! اس کی بات ، بات کم اور فیصلہ زیادہ لگ رہی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے چاند پر پہلا قدم رکھنے والا میں ہوں اور کامیابی میرے ارد گرد بھنگڑا ڈال رہی ہو۔ اس نے سامنے میز پر رکھے ریموٹ کا بٹن دبایا اور گھر کے اندر ایک گھنٹی بجی۔ ایک بائیس تئیس سالہ نو جوان ڈرائینگ روم میں داخل ہوا اور سیدھا میرے پاس آ کر سلام کرتے ہوئے ہاتھ ملایا۔ سفید رنگ، کلین سیو اور نکلتے قد کا یہ نوجوان خوبصورت تھا۔

          میرا بیٹا ہے! اس نے میری طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے بیٹے کا نام بتایا۔ یہی نام میں نے بیٹی کے خط میں پڑھا تھا۔ مجھے اضافی اطمینان ہوا۔ نوجوان تھوڑی دیر بیٹھ کر اندر چلا گیا اور پھر تکلف چائے کا اہتمام کیا گیا۔ چائے کے بعد میں نے اجازت چاہی۔ میرے میزبان نے انتہائی خلوص سے مجھے رخصت کیا۔ میں ہمالیہ سر کر کے آدھ گھنٹے میں گھر پہنچ گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گاڑی کھڑی کی اور اندر گیا۔ گھر میں صرف بیوی اور بیٹی موجود تھیں۔ بڑا بیٹا فیکٹری کی مصروفیات سے فارغ ہو کر نو بجے گھر آتا تھا لیکن چھوٹے کا گھر دیر سے آنا میرے لئے سوہان روح بنا ہوا تھا۔ جانے آدھی رات تک وہ گھر سے باہر کیا کرتا رہتا تھا۔ کالج جانا تو اس نے ایک سال پہلے ترک کر دیا تھا۔ سب سو جاتے لیکن میری بیوی جاگتی رہتی اور گیٹ آدھی رات تک کھلا رہتا۔ میں نے کئی دنوں سے بیٹے کا چہرہ نہیں دیکھا تھا اور بیوی سے پوچھنے پر ہی اکتفا کر لیتا تھا۔ ایک رات گیٹ اتنے زور سے بند ہوا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے دیکھا بیوی اپنے بستر پر نہیں تھی اور گیٹ کے اندر اونچی باتیں سنائی دے رہی تھیں۔

          امی تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تک جاگ رہی ہو ! بیٹا ماں سے کہہ رہا تھا۔

          ہاں جاگ رہی ہوں ! میری بیوی کی آواز بہت دھیمی تھی۔

          کیوں ! اس نے سوال کیا۔

          تیرے لئے اور کس کے لئے ! اس کی ماں کے غصے پر بھی ممتا غالب تھی۔

          ارے ماں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں کوئی بچہ تھوڑی ہوں جو رات کو گھر آتے ہوئے ڈروں گا۔

          اس کی آواز کی لڑکھڑاہٹ کوئی اور چغلی کھا رہی تھی۔ میں باہر نکل کر برآمدے میں آ گیا جہاں اندھیرا تھا۔ بیٹے کے چہرے پر میری نظر پڑی۔ اس کے چہرے اور کندھوں کی ہڈیاں نکل آئی تھیں اور مزید کھڑے رہنا اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔

          ادھر آؤ میں نے کڑک کر اسے بلایا۔

          جی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابو! اور وہ لڑکھڑاتا ہوا میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔

          کہاں رہتے ہو تم آدھی رات تک! میری نظریں اس کے چہرے پر جم کر رہ گئی تھیں۔

          دوستوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے ساتھ ہوتا ہوں ! ابو اور کہاں ہوتا ہوں ! اس کے لہجے میں تھکن اور گستاخی تھی۔

          تمہارے منہ سے بد بو کیسی آ رہی ہے ، شراب پی کر آئے ہو! بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے غصے سے میرے دماغ کی شریانیں پھٹ جائیں گی۔

          نہیں ابو! وہ جھوٹ بول رہا تھا اس لئے لڑکھڑاتا ہوا ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔

          نکل جاؤ اسی وقت میرے گھر سے! میں نے پوری قوت سے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ اس نے اپنا ایک ہاتھ اپنے گال پر رکھ دیا اور اس سے قبل کہ میں اسے دوسرا تھپڑ مارتا بیوی نے بیچ میں آ کر دونوں ہاتھ جوڑ دیئے۔ اس کے ہاتھوں نے جیسے میرا آدھا غصہ چوس لیا اور میں بڑبڑاتا ہوا بیڈ روم میں آ گیا ، بیوی آدھ گھنٹے بعد آئی۔ بیٹے کو کمرے میں پہنچا کر سلانے کے بعد آئی ہو گی۔ میں نے لیٹ کر دیوار کی طرف کروٹ بدل لی تھی اور بہت دیر جاگنے کے بعد پتہ نہیں کب سو گیا۔ صبح ناشتے کی میز پر میں نے بڑے بیٹے اور بیٹی کے چہرے دیکھے ، مجھے یک گو نہ آسودگی کا احساس ہوا لیکن یہ احساس اس وقت زائل ہو گیا جب میری نظر بیوی پر پڑی۔ اس کی آنکھیں رتجگے سے سرخ ہو رہی تھیں اور چہرے پر پیلاہٹ اتر آئی تھی۔ میرے اندر جلتے دیئے کو جیسے کسی نے پھونک مار کر بجھا دیا ہو۔ میں اٹھا اور گاڑی لے کر دفتر روانہ ہو گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          مالک مکان چلے گئے امی ! اس نے ماں کو ایسی نظروں سے دیکھ کر سوال کیا گویا پھر کبھی نہیں دیکھ سکے گا۔ وہ میرے متعلق پوچھ رہا تھا۔

          مالک مکان نہیں ، وہ تمہارے ابو ہیں ! ماں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنا چاہا لیکن وہ پیچھے ہٹ گیا۔

          ہوں گے ! اس کی نظریں چھت سے جا لگی تھیں۔

          چل ناشتہ کر لے ! ماں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ڈائیننگ ٹیبل کی طرف لے جانا چاہا۔

          نہیں ماں ! اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا نکل گیا۔ ماں کی آنکھوں کے بھرے پیمانے چھلک پڑے۔ ماں وہ واحد ہستی ہے جس کی آنکھوں کے سوتے کبھی خشک نہیں ہوتے۔ گھر بیٹھی شام تک روتی رہی۔ میں شام کو دفتر سے لوٹا تو وہ سوگوار بیٹھی تھی۔ میں بڑے اچھے موڈ میں گھر آیا تھا کہ آج دفتر میں میرے میزبان نے فون پر گھر آنے کا عندیہ دیا تھا یوں میں گھر آتے ہوئے کھانے پینے کی چیزیں بھی ساتھ لے آیا۔ بیٹی اپنے کمرے سے نکل کر میرے پاس آ گئی تھی۔ اس کا چہرہ بھی اترا ہوا تھا۔ میں اگر چہ ان کے چہروں پر چھائی اداسی اور سو گواری کی کہانی کا عنوان پڑھنا چاہتا تھا لیکن فی الحال ایسا ممکن نہیں تھا۔

          کھانا تیار کرنے کے لئے میں نے ہدایت دے کر بیٹی کو کچن میں بھیج دیا اور بیوی کی بتایا کے آج میرے بہت اچھے مہمان آ رہے ہیں میرے جاننے والے میرے محسن ، اس لئے ان کا بھر پور سواگت ہونا چاہئے۔ بیوی نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا ، خاموش رہی۔ میں اسے ہنسانے کی کوشش کرتا رہا لیکن لگتا تھا جیسے مسکراہٹ اور اس کے لبوں کے درمیان اونچی دیوار چن دی گئی ہو۔ تب میں نے بیوی سے کہا تھا ، دیکھو ! ہماری اداسیاں صرف ہماری ہیں انہیں مہمانوں پر مسلط کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں اس لئے اپنے چہرے سے سوگواری دھو کر اسے اجلا کر لو۔ یہ کہہ کر میں غسل کرنے چلا گیا اور واپس آ کر ڈرائنگ روم میں بیٹھ گیا۔ چند منٹ بعد بیوی بھی وہاں آ گئی۔ اس کے چہرے پر ہلکا سا سنگھار یوں لگ رہا تھا جیسے کسی میت کے پاس کوئی رقاصہ رقص کر رہی ہو۔ بیٹی کچن سے فارغ ہر کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

          کون لوگ ہیں ! بیوی نے بیٹھتے ہی پوچھ لیا۔

          میں نے اسے بتانے کے لئے سانس اندر کھینچی ہی تھی کہ صحن میں گھنٹی بجی۔ میں فوراً سانس خارج کرتے ہوئے گیٹ پر پہنچا۔ میرے مہمان آ چکے تھے۔ وہ بھی دونوں میاں بیوی آئے تھے۔ میں نے ان کا استقبال کیا اور ڈرائنگ روم میں لے آیا۔ میری بیوی نے بھی انہیں خوش آمدید کہا۔ میں اپنے مہمان کے ساتھ اور میری بیوی مہمان خاتون کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔ بڑے بیٹے کے آنے میں ابھی آڈھ گھنٹہ باقی تھا اس لئے ہم آپس میں گپ شپ کرنے لگے۔

          دو بیٹے اور ایک بیٹی ! میری بیوی مہمان خاتون سے کہہ رہی تھی۔ بڑا بیٹا جو ابھی آئے گا فیکٹری میں منیجر ہے۔ اس سے چھوٹا ، اور پھر میں نے دیکھا جیسے اس کی سانس رک گئی اور اس کے چہرے پر اند وہ کی خاک سی اڑنے لگی۔ کہیں اپنے دوستوں میں بیٹھا ہو گا۔ ایک بیٹی ہے جو ایف اے میں پڑھ رہی ہے اور اس وقت اپنے کمرے میں ہے۔

          میرا ایک بیٹا ہے ماشاء اللہ بی اے میں پڑھ رہا ہے۔ اور اس کے بعد امریکہ جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہم نے اسے بہت سمجھایا ہے لیکن وہ مسلسل اصرار کر رہا ہے ، خاتون نے اپنی بات کی۔

          باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی میں سمجھ گیا تھا بڑا بیٹا آیا ہے۔ ہمارے بیٹے نے ڈرائنگ روم میں آ کر مہمانوں کو سلام کیا اور ایک طرف بیٹھ گیا۔

          ہمارا بڑا بیٹا ہے۔ میں نے اپنے مہمانوں کو بتایا۔

          اب جب کہ سب اکٹھے ہو چکے تھے تو کیوں نہ ہم اپنے آنے کا مدعا بھی کہہ دیں۔ میرا مہمان اپنی بیگم کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ ہم آپ کی بیٹی کو اپنی بیٹی بنانا چاہتے ہیں ، ہمارا صرف ایک بیٹا ہے ہم چاہیں گے وہ آپ کی فرزندی میں چلا جائے ، دونوں خاندان بخیر و خوشی ایک ہو جائیں۔

          ہماری بیٹی تو ابھی پڑھ رہی ہے ! بیوی نے میری طرف یوں دیکھا جیسے کہنا چاہتی ہو یہ بات آپ بھی کہہ سکتے تھے۔ مجھے سکون سا محسوس ہوا کہ اس نے بات آگے بڑھانے میں میری مدد کی تھی۔ بیٹا جیسے کسی اتھاہ سوچ میں اتر گیا تھا۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد مہمان میری بیوی اور بیٹے کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور نشانی کے طور پر ایک انگوٹھی میری بیٹی کو پہنا کر ممنون ہوتے رخصت ہو گئے۔ میں نے سوچا مدت سے اکڑے جسم کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے سکون سے نیند ندی میں اتر جاؤں گا۔ بیٹا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔ میری نظر بیوی کے چہرے پر جا ٹکی۔ غم اور اداسی کے سنگم نے اس کے چہرے پر بے چارگی طاری کر دی تھی۔

          آپ کو جوان بیٹے پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے تھا اس نے بہت دنوں سے اٹکی ہوئی بات میرے حوالے کر دی۔

          تم ٹھیک کہتی ہو لیکن جانتی ہو ہمارا بیٹا غلط راستے چل نکلا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو کھائی در کھائی پستیوں میں اترتا ہی چلا جاتا ہے۔ میں اس وقت جوان بیٹے کا باپ نہیں بلکہ صرف مرد بن کر رہ گیا تھا ! میں جب یہ کہہ رہا تھا بیوی میری آنکھوں میں اترتی جا رہی تھی۔

          اولاد جوان ہو جائے تو والدین کو بوڑھا ہو جانا چاہئے۔ اس کی آواز میں شامل کرب میرے سینے میں کرپان کی طرح اتر گیا تھا لیکن بیٹے کی نشہ آلود آنکھیں یاد آتے ہی جیسے مجھ پر جھنجلاہٹ سی طاری ہونے لگتی تھی۔

          تو کیا تم یہ چاہتی ہو میں اس سے معافی مانگ لوں ! یہ کہتے ہو شاید میرے چہرے کی رنگت بدل گئی تھی۔

          نہیں ، میں آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے ! اور وہ سسک اٹھی۔

          مجھے یوں لگا جیسے میری آنکھوں کی بینائی چلی گئی۔

          آ جائے گا تم پریشان نہ ہو ، میں نے اسے جھوٹی تسلی دی لیکن یہ رات میں نے کروٹ بدلتے گزار دی۔ میں نے اور میرے بیٹے نے اسے ڈھونڈنے کی بھر پور کوشش کر لی تھی لیکن کہیں بھی اس کا سراغ نہ پا سکے تھے۔

          دن ، ہفتے اور مہینے یوں گزرے کہ ایک سال بیٹ گیا۔ گھر میں مسلسل ویرانی سی آ بسی تھی۔ انہی غمزدہ ایام میں میں نے بیٹی کی شادی کر دی لیکن رخصتی کے بعد میں بیٹی سے اس وقت ملا جب وہ اپنے خاوند کے ساتھ امریکہ جا رہی تھی۔ بیوی چھوٹے بیٹے کی جدائی  میں خون تھوکنے لگی تھی۔ میں بھی لگاتار پریشان رہنے کے باعث دفتری امور بخوبی انجام نہیں دے سکتا تھا۔ اس لئے ریٹائر منٹ لے لی اور زیادہ وقت بیوی کے ساتھ گزارنے لگا۔ میں اس کے ساتھ دنیا بھر کی باتیں کرتا کہ اس کا دل بہلا رہے لیکن میری ایک لمحے کی خاموشی میں وہ بیٹے کو یاد کر کے رونے لگتی اور پھر اسے کھانسی کا دورہ پڑ جاتا۔ میں گھر سے باہر نکلتا تو جلدی لوٹ آتا کہ ڈاکٹر نے اسے زیادہ اکیلا نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ بیٹا فیکٹری سے آ کر ہمارے پاس گھنٹہ بھر بیٹھتا اور اپنے کمرے میں چلا جاتا۔

          شام گزرے دو گھنٹے بیت چکے تھے اور ہم دونوں دکھ سکھ بانٹ رہے تھے کہ باہر گاڑی آ کر رکی ، ہم سمجھ تئے تھے کہ بیٹا آیا ہے لیکن وہ آج اکیلا نہیں تھا ، اس کے ساتھ ایک جوان لڑکی بھی تھی وہ دونوں سیدھے ہمارے پاس آئے ، سلام کیا اور کھڑے رہے۔ اس سے قبل کہ میں بیٹے سے لڑکی کے متعلق پوچھتا، اس نے خود ہی تعارف کرا دیا۔

          میرے ابو اور امی ! اس نے پہلے ہمیں اور پھر ساتھ کھڑی لڑکی کی طرف دیکھا۔

          اور یہ میرے ایک دوست کی بہن ہے اب میری بیوی اور آپ کی بہو ہے ، ہم نے کورٹ میرج کی ہے ! اس نے ہماری طرف دیکھ کر نظریں جھکا لی تھیں۔

          میرا جی چاہا اٹھ کر بیٹے کی چھاتی میں گھونسا مار دوں۔ میں نے بیوی کی طرف دیکھا ایک عرصہ بعد اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ کہہ رہی ہو۔ ’’اولاد جوان ہو جائے تو والدین کو بوڑھا ہو جانا چاہئے۔ ‘‘ میں بھی زبردستی مسکرایا تھا۔

          اچھا کیا بیٹا ، تمہاری پسند ہماری پسند ہے کیوں نا ! بیوی نے مجھ سے تصدیق چاہی۔

          ہاں ہاں کیوں نہیں ، آؤ بیٹھو ! میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی بیوی کی بات پر مہر ثبت کر دی۔

          وہ دونوں کچھ دیر بیٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے تھے ، میں نے دیکھا بیوی کے چہرے پر کوئی ملال نہیں تھا بلکہ ایک سکون نے چادر تان لی تھی ورنہ کسی ماں کو بیٹے کے سر پر سہرا دیکھنے کا ارمان نہیں ہوتا۔ وہ اٹھی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کچن کی طرف گئی۔ میں بھی اس کے ہمراہ ہو لیا اور کھانا تیار کرنے میں اس کی مدد کرتا رہا۔ کھانا میز پر لگانے کے بعد میں نے بیٹے کو آواز دی ، وہ دونوں آ گئے۔

          کھانا تو ہم کھا آئے تھے امی لیکن آپ کے ساتھ ضرور Shareکریں گے ہماری بہو نے اتنی اپنائیت سے کہا تھا کہ سچی ہم دونوں کو اس پر بہت پیار آیا۔

          کھانے کے دوران اکا دکا بات چیت بھی ہوتی رہی لیکن بیٹا مسلسل ہم دونوں کو تکتا رہا مبادا ہم کہیں اسے اس کے چھوٹے بھائی کا ذکر نہ چھیڑ دیں مگر ہم نے ایسا کرنا تھا نہ کیا۔ کھانا ختم ہوا تو ہماری بہو برتن سمیٹنے گلی۔ میری بیوی نے اسے ایسا نہ کرنے کو کہا۔

          میں اس گھر میں مہمان نہیں ہوں ابو! بہو نے پہلی دفعہ مجھے مخاطب کیا تھا۔

          وہ تو ٹھیک ہے بیٹی لیکن ، میری بات مکمل ہونے سے قبل وہ برتن اٹھا کر چلی گئی تھی۔

          ہم دونوں کی نظریں ٹکرا کر جدا ہوئیں تو ہم نے اس کو مختلف زاویوں سے سوچا۔

          ہمارے بیٹے نے اگر چہ خاندانی روایات سے بغاوت کی ہے لیکن اس کا اچھا پہلو ہمیں کوئی خاص زحمت نہ دینے کا ہے ! میں نے بیوی کی طرف دیکھا۔

          سب سے بڑھ کر یہ کہ بیٹا ہماری آنکھوں کے سامنے ہے وہ ماں تھی اس لئے اس کی سوچ ممتا کے مدار سے باہر نہیں نکل پائی تھی۔

          میں مطمئن ہو چکا تھا کہ بیوی کی دیکھ بھال کے لئے گھر میں بہو آ چکی تھی۔ میں بہت دنوں سے اپنے دفتری ساتھیوں سے ملنے کے لئے بے چین ہو رہا تھا۔ سب لوگ بہت اچھے تھے۔ پچھلے ہفتے میرے ہیڈ کلرک کی ہمشیرہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس لئے افسوس کرنے بھی جانا تھا۔ ایک کلرک کی شادی ہوئی تھی۔ جس نے ولیمہ میں شرکت کے لئے مجھے دعوت نامہ بھیجا تھا۔ اسے مبارک باد بھی دینا تھی۔ ہم سب دفتر میں مختلف لوگوں پر اپنی محبتیں نچھاور کر رہے تھے لیکن میرے دل کی اداسی کی تہہ دبیز ہوتی جا رہی تھی۔ میرا دم گھٹتا جا رہا تھا میں ایک لمحے میں گھر پہنچنا چاہتا تھا۔

    &