کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سفید آنچل

احسان بن مجید


میں اقبال کی زندگی میں آئی یا وہ میرے زندگی میں داخل ہوا۔ اس کا تعین میں نہیں کرنا چاہتی البتہ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے اور پھر ایک ہو گئے۔ اقبال کا رنگ صاف اور نقوش اچھے تھے اور میں سانولی رنگت کے ساتھ قبول صورت تھی۔ اس کا خاندانی پس منظر بھی کوئی خاص نہ تھا اور میں تو تھی ہی بیوہ ماں کی اکلوتی بیٹی،`جانے ماں نے میرے متعلق کتنے سہانے خواب دیکھے ہوں گے لیکن میں جو محبت کی چکنی مٹی سے پھسلی تو ماں کے خوابوں کے مقبرے بنا کر اقبال کی انگلی تھام لی۔

          میرے اس فعل پر پچھتانے کی بہت ساری گنجائش موجود تھی لیکن میں نے کسی ایسے خیال کو اپنے ذہن میں آنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ میں نے زندگی میں پہلا مرد اقبال دیکھا اور پھر موت تک اسی کی دہلیز پر بیٹھنے کی ٹھان لی، لیکن ضروری تو نہیں ہوتا کہ ہر ارادے کی اٹلتا قائم رہے۔ اقبال سرکاری ملازم تھا، شہر شہر گھومتا رہا، میں بھی اس کے ساتھ رہی۔ شادی کے پانچ سال بعد تک ہماری ازدواجی زندگی کے شجر پر کوئی نئی کونپل نہیں پھوٹی تھی۔ اس میں قصوروار کون تھا۔ ۔ ۔ ۔ اقبال۔ ۔ ۔ ۔ نہیں، میں ہاں شاید میں بھی نہیں، یہ معمہ ہی رہے تو اچھا ہے۔ میں اگرچہ اقبال کے ساتھ امیرانہ ٹھاٹھ کی زندگی نہیں گزار رہی تھی تاہم جو گزر رہی تھی میں اس سے مطمئن تھی۔ اب جس شہر میں اقبال کی تبدیلی ہوئی تھی میں پہلے بھی ایک سال یہاں رہ چکی تھی۔ اس نے پرانے محل میں مکان کیا تھا جہاں کی ساری عورتوں سے میری جان پہچان تھی۔ ان میں وہ بڑی اماں شامل تھی جو ہر روز اپنی بہو سے بھاگ کر میرے پاس گھنٹہ بھر آ کر بیٹھتی تھی۔ ایک گھنٹہ وہ اپنی بہو کی برائیاں کرنے کے بعد مجھ سے یہ ضرور پوچھتی تھی تمہارے بچے کیوں نہیں، میری بہو کو دیکھ، شادی کو چھ سال ہوئے پانچ بچوں کی ماں بن چکی ہے۔ اب پھر ساتواں مہینہ لگا ہوا ہے۔ توبہ عورت ہے کہ بچوں کی مشین۔ ۔ ۔ ۔ اس کی ان باتوں سے میرے اندر ماں بننے کی خواہش زور پکڑتی گئی۔ اقبال لوگ باتیں کرنے لگے ہیں! ایک صبح میں نے موقع پا کر اپنا دکھڑا کہا اور بات اتنی پڑھی کہ ایک، دو تین پر آ کر دم توڑ گئی۔ ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں ایک پگڈنڈی پر ایک سمت کو چلنے والوں کے رستے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ میرا محرم ایک پل میں نا محرم ہو گیا تھا۔ میں نے اپنے سینے پر دو ہتڑ نہیں مارے ، اس کو بد دعائیں نہیں دیں بلکہ خاموش ہو رہی۔ وہ بھی چپ کر گیا تھا۔ چند لمحے یوں ہی بیت گئے۔ مجھے شدید پیاس لگی اور میں پانی لینے چلی گئی۔ میں نے پانی کا کٹورا بھرا لیکن اچانک یہ خیال آیا کہ اس گھر کی ہر چیز مجھ پر حرام ہو چکی ہے۔ کٹورا وہیں رکھ دیا۔

          پانی مجھے بھی دینا نسرین! اس نے یوں کہا جیسے چند منٹ پہلے کوئی حادثہ ہوا ہی نہیں۔ میں نے اس کی بات سن کر بھی نہیں سنی تھی۔ لگتا تھا اس کے غیض کا دریا اتر گیا تھا اور اب وہ معمول کی سانسیں لینے لگا تھا۔ اب مجھے یہاں مزید نہیں رکنا چاہئیے، یہ سوچ کر میں دوسرے کمرے میں گئی بکس کھولا اپنے کپڑوں کا ایک جوڑا نکال کر باہر نکلنے والے دروازے کی طرف چل دی۔

          میں نے تمہیں کچھ کہا تھا سینو! وہ میرے راستے میں آ کھڑا ہوا۔ مجھے تم سے اور تمہیں مجھ سے بات کرنے کا کوئی حق نہیں کہ اب ہم نامحرم ہو چکے ہیں، تم مجھے طلاق دے چکے ہو! میں نے اپنا چہرہ چادر سے ڈھانپتے ہوئے نگاہیں جھکا لی تھیں۔

          وہ تو میں نے غصے میں ایسا کہہ دیا تھا! اس کے ہونٹوں  پر مسکراہٹ مجھے منانے کی چغلی کھا رہی تھی۔ طلاق ہمیشہ غصے میں ہی ہوتی ہے، تم میرے راستے سے ہٹتے ہو یا میں شور مچا کر گلی کے لوگ اکٹھے کر لوں! جیسے میرے اندر کی عورت بپھر رہی تھی۔

          نسرین! یہ ہماری اپنی باتیں ہیں، ہم دونوں کے علاوہ اس حادثے کا کوئی گواہ نہیں، واپس چلو ہم ایک اچھی زندگی کا آغاز کریں گے۔ یہ باتیں نہیں طلاق کا معاملہ ہے، اس کا گواہ وہ ہے جو ہماری شہ رگوں سے زیادہ قریب ہے، کیا یہ گواہی کافی نہیں، ہٹو! میرے دماغ کی نسیں جیسے پھٹ چلیں تھیں۔

          نسرین تمہیں میرے پیار کا واسطہ ہے، میں اکیلا ہو جاؤں گا، پاگل ہو جاؤں گا۔ نسرین میں مر جاؤں گا! وہ میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر منتیں کرنے لگا۔

تمہارے مرنے سے میں بیوہ نہیں ہو جاؤں گی! میں دانستہ اس کے زخموں پر نمک پاشی کر رہی تھی۔

          یہ کیا کہہ رہی ہو نسرین، تمہیں مجھ پر ترس بھی نہیں آتا، اور پھر تمہارا اس دنیا میں ہے کون، کہاں جاؤ گی؟ مجھ پر رحم کرو سینو! اس کا لہجہ التجائیہ ہو رہا تھا۔

          رب کی زمیں میرے لیے اور بھی وسیع ہو گئی ہے، میں آزاد ہوں، کسی کی بہن بن جاؤں گی، کوئی بیٹی بنا لے گا۔ اس سے قبل کہ اس کا پیار اور میرے محبت پھر گلے مل کر مجھے گناہ آلودہ زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتی، میں اس کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دروازے سے باہر آ گئ میں تیز تیز قدم اٹھاتی گلی کے نکڑ پر آ گئ تھی۔ میں نے چند لمحوں کے لیے یہ سوچا کہ مجھے کہاں جانا چاہیئے، میرے پاس تو کرائے کے لیے پیسے بھی نہیں تھے اور یوں بھی میں کہیں اور جا کر کیا کرتی۔ میں جوان بھی تھی، قبول صورت بھی لیکن شاید میری آنکھیں خوبصورت تھیں اسی لیے وہ(اقبال) اکثر کہتا تھا،

 سینو میں تمہاری آنکھوں میں ڈوبا رہتا ہوں تم سراپا نشہ ہو اور گھر گرہستن ہونے کے باوجود۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          میرے قدم بڑی اماں کے گھر کی طرف اٹھ گئے۔ میں ابھی چند قدم ہی چلی تھی کہ بڑی اماں کو آتے دیکھ لیا اور وہیں رک گئی۔

          کہاں جا رہی ہو! اس نے میرے قریب پہنچتے ہی سوال کیا۔

          تمہارے گھر بڑی اماں! میں نے کہا۔

          آؤ آج تو کوئی اچھا دن ہے تم گھر سے نکلی ہو، آج میرے گھر میں بھی سکون ہے بلکہ یہ سکون چار پانچ دن رہے گا کہ بہو بچوں کو لے کر میکے گئی ہوئی ہے۔ بیٹا رات کو ڈیوٹی سے واپس آتا ہے! وہ میرے ساتھ واپس چل پڑی۔

          صاف ستھرا گھر خاتون خانہ کی فطرت کا عکاس ہوتا ہے۔ بڑی اماں کا گھر بھی شفاف تھا۔ ہم ایک کمرے میں بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے۔ زیادہ باتیں بڑی اماں کر رہی تھیں لیکن میرے اندر چلنے والی آندھیوں کا شور مجھے اس کی ساری باتیں کہاں سننے دیتا تھا۔ یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے! اور آج تیرا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے! اس نے شاید اب میری طرف غور سے دیکھا تھا۔ کپڑوں کا ایک جوڑا ہے! میں پرے دیکھنے لگی۔

          لگتا ہے گھر والے سے لڑ کر آ رہی ہو! وہ جہاندیدہ تھی بھانپ گئی۔

          اب تو سب لڑائیاں ختم ہو گئی اماں! میں نے بہت دیر ریت کی دیوار کو سہارا دیے رکھا مگر خود ہی اپنے شانے پر سر رکھ کر رو دی۔ کیا مطلب؟ تم مجھے پریشان دکھائی دے رہی ہو۔ خاوند بیوی میں لڑائی تو ہتی رہتی ہے اور یہی پیار کی نشانی ہے۔ لیکن تم شاید پہلی پہلی بار لڑی ہو گی اس لیے تم سے برداشت نہیں ہو رہا تم دیکھنا شام کو وہ خود تمہیں لینے آ جائے گا پر میں تمہیں ایسے کہا جانے دوں گی۔ وہ تمہاری منتیں کرے گا، منائے گا، پھر بھی میں اس سے جھگڑا نہ کرنے کی قسم لے کر تمہیں اس کے ساتھ بھیجوں گی۔ پگلی پریشان کیوں ہوتی ہو! بڑی اماں کی باتیں میرے کلیجے میں کیلیں گاڑ رہی تھیں اور میں سوچ رہی تھی کہ اس گھر میں مجھے شام تک رہنا ہو گا اور پھر جانے کس گھر کی دہلیز پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          وہ نہیں آئے گا اماں! میری نظریں مسلسل گود میں رکھے کپڑوں کے جوڑے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ کیوں نہیں آئے گا! اماں کے چہرے سے حیرت ٹپکنے لگی تھی۔

          اس نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے طلاق دے دی ہے! پتہ نہیں میں نے کیسے کہہ دیا۔

شالا ککھ نہ رہوے اوہدا!! اماں کے منہ سے بے ساختہ نکلا اور اس نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا۔ مجھے اپنی ماں بہت یاد آئی۔ میں جی بھر کے روئی۔ چڑھا ہوا دریا اتر جائے پھر بھی خشک تو نہیں ہو جاتا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد آنکھیں بھر آتیں۔ اس کے ساتھ گزارے پانچ سال ایک لمحے کے پیچھے کیسے چھپ جاتے۔ کاش اسے بگڑتے دیکھ کر خاموش ہو جاتی۔ میرا بیوی کا رشتہ کیا تین تک گنتی کا مرہون ہے، کیا ساری محبتوں، ساری الفتوں پر تین کا خنجر چل جاتا ہے، ساریے رستے جدا ہو جاتے ہیں۔ چل تو لیٹ جا، میں کھانا بناتی ہوں! دن کا ڈیڑھ بج چکا تھا۔ شاید بڑی اماں کو بھوک لگ رہی تھی۔

          اماں کمرے سے گئی تو میں اکیلی رہ گئی۔ میرا جی چاہا دوڑ کر اپنے گھر چلی جاؤں، وہ مجھے دیکھ کر کتنا خوش ہو گا۔ میں اس کے سامنے کھڑی ہو کر کہوں گی اقبال میں نے تمہاری بات مان لی میں واپس آ گئی ہوں تمہارے اور میرے بغیر کسی کو اس بات کا علم نہیں تم بہت اچھی ہو سینو! مجھے یقین ہے وہ ایسا ہی کہے گا۔ لیکن میرے اندر ایک نسوانی چیخ ابھری اور میری تمام سوچیں اس میں دب کر رہ گئیں۔

          تھوڑی دیر میں اماں کھانا لے آئی اور مجھے کھانے کے لیے کہا۔ مجھے بھوک نہیں ہے تم کھا لو اماں! میرے گلے میں جیسے کوئی پھانس سی اٹکی ہوئی تھی۔ وقت کسی کی خوشی میں سست رفتار اور غم میں سرعت پسند نہیں ہوتا۔ وہ تو مٹھی کی ریت ہے، ذرہ ذرہ گرتے گزر جاتا ہے۔ سورج قریب الغروب ہوا تو مجھے ستانے کے لیے جس خیال نے سر اٹھایا وہ یہ تھا کہ بڑی اماں کا بیٹا جانے کس مزاج کا ہو گا۔ ممکن ہے وہ میری طلاق کی بات سنتے ہی مجھے گھر سے نکال دے، پھر میں کہاں جاؤں گی؟ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بھائی بن کر میرے سر پر ہاتھ رکھ دے۔ اماں میرے پاس خاموش بیٹھی کسی گہری سوچ میں پڑی تھیں۔ گلی کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور پھر قدموں کی چاپ اس طرف بڑھنے لگی۔ اوہو! بڑٰ اماں کے بیٹے نے کمرے میں قدم رکھا اور مجھے دیکھتے ہی جھجھک کر باہر نکل گیا۔

          آؤ نور محمد آ جاؤ! اماں نے اسے اندر بلا لیا۔ میں نے اپنے ڈھانپے ہوئے سر کو مزید ڈھانپ لیا تھا۔

          وہ آیا میں نے دیکھا کہ اس نے دونوں ہاتھ اماں کے گھٹنوں پر رکھ دیے۔ اماں نے اس کے ماتھے پر ایسا بوسہ دیا جو ممتا کے ماتھے کا جھومر ہوتا ہے۔ نور محمد مناسب قد کا تھا جس کے سر کے بال سیاہ کالے اور گھنگھریالے تھے، کھلا ہوا چہراجس پر داڑھی اچھی لگ رہی تھی۔

          چھاتی چوڑی اور بدن گوشت سے بھرا ہوا تھا۔ ماں کے ساتھ اس کی عقیدت اور احترام دیکھ کر میں نے اپنے منفی سوچوں کا گلا گھونٹ دیا۔

          یہاں بیٹھو! اماں نے قریب پڑی چارپائی کی طرف اشارا کیا۔

          یہ نسرین ہے بے چاری مصیبت ماری، تم اسے پہن سمجھو! اماں نے نور محمد سے کہا اور پھر میری ساری داستان سنا دی۔ میں نظریں جھکائے چپ چاپ بیٹھی رہی۔

          نظریں اوپر اٹھاؤ نسریں ماں نے تمہیں میری بہن بنا دیا ہے اور میں نے بنا بھی لیا ہے۔ تم یقیناً عمر میں مجھ سے چھوٹی ہو اور اگر میں تمہارا نام لے کر پکاروں تو محسوس نہ کرنا۔ اس گھر کو اپنا گھر سمجھو تین چار دن میں میرے بیوی بچے آ جائیں گے جن تک تم کو یہ گھر سنبھالنا ہو گا تم پریشان نہ ہو اللہ بھلی کرے گا! نور محمد کی ان باتوں سے میرے زخموں کے منہ تو کھلے رہے لیکن کون رسنا بند ہو گیا تھا۔ چند دن بعد بڑی اماں کی بہو اور بچے آ گئے۔ وہ مجھے یوں ملے جیسے مدت سے جانتے ہوں۔ نور محمد کی بیوی زلیخا مجھے گلے لگ کر ملی تھی۔ بچے مجھ سے اتنے مانوس ہو گئے تھے کہ سکول سے واپس آتے ہی میرے پاس چلے آتے۔

          بھابھی مجھے یہاں آئی چار ماہ ہو چکے ہیں آپ نے مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ میں کون ہوں کہاں سے آئی ہوں اور یہاں کیوں ٹھہری ہوں! ایک دن میں نے زلیخا سے پوچھ لیا۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تن نور محمد کی بہن ہو! زلیخا نے مختصر مگر حوصلہ افزا بات کی تھی۔

          اب تو وحید بھی چھٹی آنے والا ہو گا۔ کھانا کھانے کے بعد دانتوں میں خلال کرتے ہوئے نور محمد نے اماں کی طرف دیکھا۔

          کون وحید بیٹا! اماں جیسے کسی سوچ میں پڑ گئی۔

          وہی ماسٹر اکرام کا بیٹا جس کی بیوی پچھلے سال چھت سے گر کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت اچھا لڑکا ہے اور میرا دوست بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک نیم سرکاری ادارے میں کسی اچھے عہدہ پر فائز ہے! نور محمد نے اماں کو یاد دلایا۔

          میں کھانے کے برتن اٹھا کر باورچی خانے میں آ گئ تھی لیکن آتے ہوئے میں نے زلیخا کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ دیکھ لی تھی۔ ہاں ہاں!! جیسے اماں کو سب کچھ یاد آ گیا اور پھر بات ختم ہو گئ جیسے ہر بات کبھی نہ کبھی ختم ہو جاتی ہے۔ میرے من میں ان دیکے ہاتھ چٹکیاں بھرنے لگے تھے۔

          وقت کے مرہم سے میرے زخموں پر پیڑی جمتی گئی۔ چند دن ہی گزرے تھے کہ وحید کے والدین مجھے دیکھنے آ گئی۔ انھوں نے مجھے پسند کیا اور پھر ایک دن انتہائی سادگی کے ساتھ میرا نکاح وحید کے ساتھ کر کے مجھے رخصت کر دیا گیا۔ نور محمد نے حسب تو مجھے سامان بھی دیا اور بھائ ہونے کا حق ادا کر دیا۔ اب یہ گھر میرا میکہ تھا۔ وحید کو سمجھنے میں مجھے چند دن لگے اور پھر زندگی کی جھیل جیسے پر سکون ہو گئ۔ پیا کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ وحید کا گھرانہ اس کے والدین، دو جوان بہنوں اہر ایک چھوٹے بھائ پر مشتمل تھ۔ ان تمام لوگوں نے میرے ماضی کو کبھی نہیں کریدا۔ حسین اتفاقات کا سلسلہ اس طرح چل نکلا کہ اس گھر میں میری آمد کو نیک شگون قرار دیا جانے لگا۔ وحید کی ایک بہن کا کسی اچھی جگہ رشتہ طے ہو گیا تھا۔ اور وحید کی ایک سال سے بیرون ملک جانے کی خواہش بھی پوری ہو گئ تھی۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے گیا تھا۔ میرے بیتے نے وہیں جنم لیا تھا۔ ایک سال بعد ہم واپس وطن آئے تو دو کے تین ہو چکے تھے۔ باہر سے سسرال والوں کے لیے جہاں میں نے بہت  ساری چیزیں لی تھیں وہاں بڑی اماں سے لے کر بچیوں کے لیے بھی خریداری کی تھی۔ سسرال میں چند دن رہنے کے بعد میں اجازت لے کر میکے آ گئ۔ سب لوگ مجھے اچانک دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ میں بڑی اماں ایسے ملی جیسے نور محمد ملا تھا۔ اماں نے مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیں۔ بھابھی یوں گلے لگ کر ملی جیسے بہنیں ملتی ہیں۔ سب بچے میرے ارد گرد ہو گئے۔ میں نے سب کو پیار کیا۔ میرے دل سے دنیا بھر کی دعائیں ان کے نام ہوتی گئیں۔  اخاہ میری بہن آئ ہوئی ہے! نور محمد نے اندر داخل ہوتے ہی کہا تہ میں نے سر پر ڈوپٹہ اوڑھ لیا۔ ان نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور خیریت معلوم کی۔ میں چند دن رہ کر اپنے گھر چلی گئ کہ میری نند کی شادی کے دن مقرر ہونے تھے۔ شادی کے ہنگامے اور دعوتوں میں پتہ ہی نہیں چلا کہ وحید کی چھٹی ختم ہو گئ اور ہم ایک بار پھر ملک سے باہر چلے گئے وحید کو کو ایک دوسری کمپنی میں اچھی تنخواہ پر کام مل گیا یوں مجھے مسلسل چار سال باہر رہنا پڑا بیٹا تیں سال کا ہوا تو میری گود میں بیٹی آ گئ۔ وحید کی خوشی دیدنی تھی۔ ایک دن وحید دفتر سے لوٹا تو میں نے اس کے چہرے پر سو گواری سی محسوس کی۔ اس نے بیٹے کو پیار کیا اور بہت دیر بیٹی کو اٹھائے خاموش بیٹھا رہا حتی کہ وہ رو پڑی۔

          آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں! میں نے بیٹی کو تھپتھپاتے ہوئے پوچھا۔ ہاں ٹھیک ہے ایک کپ چائے بنا دو میں نے بیٹی پھر اس کی گود میں دے دی اور کچن میں چلی گئ لیکن سوچ رہی تھی وحید اس وقت چائے نہیں پیتے۔ آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں۔ میں نے چائے میز پر رکھ کر وحید کی آنکھوں میں دیکھا۔

          ہاں نور محمد کا خط آیا ہے! وحید نے ہاتھ میں پکڑا کپ میز پر رکھ دیا کیا لکھا ہے بھائی نے میں بے قرار ہو اٹھی تھی۔

          بڑی اماں چل بسیں مجھے افسوس ہے نسرین محرومہ نیک خاتون تھیں! وہ کہہ کر خموش ہو گئے میں وحید کے پاس ہی بیٹھ گئی میرا دل بھر آیا اور ہچکیاں لے کر رونے لگی بڑی اماں میری محسنہ تھیں جن کے طفیل میں بھرپور زندگی گزار رہی تھی مجھے یوں لگا جیسے میری اپنی ماں دنیا سے اٹھ گئ ہو۔ چند دن بعد میں نے وحید سے واپس وطن چلنے کی خواہش ظاہر کی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر مجھے سمجھایا کہ زندگی میں ایسا موقع بار بار نہیں ملتا میں چاہتا ہوں کہ واپس جا کر کسی کا دست نگر نہ ہونا پڑے ان کی بات میری سمجھ میں آ گئ تھی میں خاموش ہو رہی۔ مزید دو سال گزر گئے اور بچوں کی تعلیم کا مرحلہ سر پر آ گیا تھا۔ وحید نے واپسی کا ارادہ کیا اور ہم وطن لوٹ آئے۔ بچوں کو سکول داخل کرنے کے بعد وحید نے اپنے ذاتی کاروبار کا آغاز کر دیا تھا۔ وقت تیزی سے گزرا یا آہستہ اس کا اندازہ مجھے نہیں ہو سکا البتہ میرا بیٹا کالج کے پہلے سال میں پڑھ رہا ہے اور بیٹی ساتویں جماعت میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

امی آپ کا نام نسرین نہیں ہونا چاہیے! بیٹے نے کالج سے آ کر کتابیں شیلف میں رکھنے کے بعد میری طرف غور سے دیکھا۔

          کیوں بیٹا ہزاروں لوگوں کا ایک ہی نام ہوتا ہے میں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

          آپ ہزاروں کی نہیں صرف میری امی ہیں اور میں اپنی امی کا نام کسی ایسی جگہ نہیں دیکھنا چاہتا جو مجھے پسند نہ ہو! وہ یقیناً کسی الجھن میں پھنسا ہوا تھا۔

          جب تک تم کھل کر بانہیں کرو گے میری سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا! میں بیٹے کے پاس جا کر بیٹھ گئ تھی۔ ہمارے کالج کے گیٹ کے ساتھ فٹ پاتھ پر ایک پاگل آدمی لیٹا یا بیٹھا رہتا ہے کالج کے اکثر لڑکے اس کے پاس جاتے ہیں۔ وہ صرف ایک بات کرتا ہے تم "ایسا نا کرنا" اس کے سر اور داڑھی کے بالوں میں گھاس کے تنکے اٹکے ہوئے ہیں۔ اس کی آنکھیں بڑی لیکن وحشت زدہ ہیں۔ لگتا ہے کبھی خوبصورت جوان رہا ہو گا آج میں بھی دوستوں کے ساتھ اس کے پاس گیا تھا۔ اس نے ہم سے بھی "تم ایسا نہ کرنا" کہا۔ اچانک میری نظر اس کے دائیں بازو پر پڑی جس پر نسرین کھدوایا گیا تھا۔ پتہ نہیں مجھے کیوں لگا کہ جیسے یہ آپ ہی کا نام ہو۔ میرا جی چاہا آگے بڑھ کر اس کا بازو کھرچ ڈالوں۔

          ہیرونچی ہے یار چھوڑو میرے ایک دوست نے کہا۔

          نہیں اوئے یہ تو نسرین کے عشق میں پاگل ہوا ہے!دوسرے نے تبصرہ کیا۔ مجھے یوں لگا کیسے اس نے میری چھاتی میں گھونسا مار دیا ہو۔ چلہ چلیں میں تمام دوستوں کو لے کر اس لیے ہٹ گیا تھا مبادا تیسرا کوئ ایسی بات کہہ دے جو مجھ سے برداشت نہ ہو پائے! بیٹے نے مجھ پر اپنی الجھن واضح کر دی تھی۔

          بیٹا وہ پاگل آدمی جانے کون ہے کہا سے آیا ہے کہاں چلا جائے گا اور وہ نسرین جانے کون ہے جس کا نام اس کے بازو پر لکھا ہے? میرا بیٹا تم مطمئن ہو جاؤ! کہنے کو میں نے بیٹے سے کہہ دیا لیکن میری سوچوں نے الٹے قدم سفر شروع کر دیا اور مجھے اس مکان تک لے گئیں جس سے میں ہمیشہ کے لیے نکل آئی تھی اور پھر ایک آواز کی بازگشت میری سماعت سے ٹکرانے لگی۔

"        نسرین تمہیں میرے پیار کا واسطہ ہے میں مر جاؤں گا، میں اکیلا ہو جاؤں گا، میں پاگل ہو جاؤں گا" یہ آواز جیسے میرے سینے میں سوراخ کرنے لگی تھی۔ بیٹا یونیفارم بدلنے چلا گیا اور میں اکیلی رہ گئ۔ ماضی کے لمحے قطار در قطار میرے ذہن سے گزرنے لگے اور میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اس پاگل شخص کو دیکھوں گی۔ میرے گھر سے کالج کا رکشا سے پندرہ منٹ کا سفر تھا لیکن چند دن میں گھریلو مصروفیات کی وجہ سے آنے جانے کے لیے آدھ گھنٹے نہ نکال سکی اور پھر وحید کا دفتر بھی کالج کے قریب تھا۔ وہ اگر مجھے وہاں گھومتے دیکھ کر پوچھ لیتے تو میں کیا جواب دیتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ایک دن میرا بیٹا کالج سے لوٹا تو اداس ہو رہا تھا۔

          تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا! میں نے بیٹے سے اداسی کا سبب پوچھ لیا۔

          ہاں امی ایک حادثہ دیکھ کر آ رہا ہوں اس لیے دل بوجھل سا ہے! اس نے کہا اور کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اپنا چہرہ  دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔

          کیسا حادثہ! میں نے بیٹے کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔

          آج اس پاگل کو ایک گاڑی نے بری طرح کچل دیا اور وہ موقع پر ہی جان سے گزر گیا۔ بہت سارے لوگ جائے حادثہ پر اکٹھے ہو گئے تھے۔ میں بھی وہاں  پر موجود تھا۔ پولیس بھی موقع پر پہنچ گئ تھی۔ متوفی کی جیب سے دو چیزیں برآمد ہوئیں۔ ایک اس کا شناختی کارڈ جس پر اس کا نام اقبال احمد تھا اور دوسری اس عورت کی تصویر جس کا نام اس کے بازو پر لکھا تھا۔

          امی آپ جانتی ہیں اقبال کی جیب میں کسی نسرین کی تصویر تھی! اس نے اچانک مجھ سے پوچھ لیا۔

          نن... نہیں میں کسی نسرین کو نہیں جانتی! اقبال کا نام سن کر مجھ پر بوکھلاہٹ طاری ہو گئ تھی۔

          وہ تصویر آپ کی تھی امی! بیٹے نے میری آنکھوں میں جھانکنا چاہا لیکن میں نے اپنی نظریں قالین پر بکھیر دی تھیں۔

"        میں مر جاؤں گا نسرین۔

"        تمہارے مر جانے سے میں بیوہ نہیں ہو جاؤں گی۔

          جانے کہاں سے آنکھوں میں باڑ آ گئ۔ ۔ ۔ ۔ سب کچھ دھندلا گیا۔ جی چاہا سینہ پیٹ لوں، بال نوچ لوں، لیکن کیوں، کس رشتے سے اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے لیکن پتہ نہیں کیوں سفید آنچل میرے لباس کا حصہ ہو کر رہ گیا ہے۔

٭٭٭