کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نارسائی کی مٹھیوں میں

رشید امجد


گھنے سیاہ درختوں کی ریشمی ملائم چھاؤں میں

تپسیا کے کھردرے، نکیلے پتھروں پر

اس کو جاننے، پانے کی جستجو میں

ہم اپنی سوکھی انتڑیوں کو

اپنی ننگی ہڈیوں پر لپیٹتے ہیں

سبز مخملی پتوں کے کومل چہروں کو تھپتھپاتی ٹھنڈی ہوا

پتھروں کے ننگے سینوں پہ جھاگ کے پیالے بناتا، بے لگام دریا

ستونوں ، دیواروں اور چہروں پر

اپنے نام کے نقش بناتا مٹاتا زمانہ

تینوں مل کر عصروں ، خیالوں اور نسلوں کو

کھنڈروں کے بے رنگ تابوتوں میں دفن کر رہے ہیں

کہ ہوا، دریا اور زمانہ تینوں گورکن ہیں

اور ہم جو سانسوں کے پتواروں سے

اس بے کنار، بے گنت سمندر میں

اپنے وجود کی کشتیاں کَھے رہے ہیں

مدتوں سے

ہے اور نہیں کی بھول بھلیوں میں الجھے ہوئے ہیں

اپنے ہونے کے احساس کا کڑوا پھل کھا رہے ہیں

ہم

جو گھنے سیاہ درختوں کی ریشمی ملائم چھاؤں میں

سبز مخملی گھاس پر

خود کو جاننے، پانے کی آرزو میں

اپنی سوکھی انتڑیوں کو

اپنی ننگی ہڈیوں پر لپیٹتے ہیں

ہم بھی کیا ہیں

اس کی یادداشت کی چڑیا صدیوں کے گنجلک چہرے پر پھیلی ہوئی پہچان کو بہت دیر سے دانہ دانہ چگ رہی تھی۔ لیکن جب بہت دیر کے بعد بھی بنجر شباہتوں کی گود سے یاد کے ہمکتے بچے نے سر نہ اٹھایا تو اس کے دل میں سرسراتی خوشی مرجھاہٹ کی کھردری مٹھیوں میں پھڑپھڑا کر رہ گئی۔ اس نے اپنا سر میز کی نکر پر ٹکا دیا اور اس کی آنکھوں کی ویران راہداریوں میں بہتی بے بسی رِس رِس کر میز کی شفاف سطح پر بہنے لگی۔

مرشد نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، میٹھی ملائم آواز میں پوچھا:

۔۔۔  ’’تو تم اپنے نام کی آوازیں سنتے ہو؟‘‘

’’ہاں ‘‘ اس نے آنسوؤں میں بھیگا ہوا سر اٹھایا، ’’ہر رات جب میں سونے لگتا ہوں تو پل کے نیچے سے کوئی مجھے آوازیں دیتا ہے اور اپنی طرف بلاتا ہے۔‘‘

مرشد نے کچھ دیر تدبّر کیا، پھر دانتوں میں خلال کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔  ’’تو تم نہیں جانتے کہ آوازیں دینے والا کون ہے؟‘‘

اس نے نفی میں سر ہلایا،

اور اداسی نے اس کے دل میں دھیرے سے چٹکی لی۔

’’میں اسے جاننا چاہتا ہوں لیکن میرے پاؤں میں خوف کے گھنگرو بندھے ہوئے ہیں۔‘‘

مرشد نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔  ’’خوف دل کے شفاف آئینہ پر گندی کائی ہے، اسے کھرچ ڈالو۔‘‘

اس نے اپنی شیونگ کٹ میں سے نیا بلیڈ نکالا اور گلے میں ہاتھ ڈال کر دل پر جمی ہوئی کائی کو کھرچنے لگا۔ لیکن بلیڈ کی تیز دھار کائی کی بجائے دل کے کسی اور حصہ میں اتر گئی۔ درد خون کی بانہوں میں اچھلتا ہوا، اس کی آنکھوں کے فرش پر ناچنے لگا۔

آرکسٹرا کے انچارج نے اٹھی ہوئی چھڑی کو ایک ادا کے ساتھ نیچے کیا۔ ڈرم پر ضرب لگی اور تیز چیختی لَے ہال کی دیواروں سے نیچے اترنے لگی۔ روشنی کے دائرے نے لپک کر سٹیج پر آتی لڑکی کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

لڑکی نے ایک ادا کے ساتھ دائرے میں چکر لگایا۔

اور اس کی زپ کا ہُک چپکے سے کھل گیا۔

ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے اپنے اندر پھڑپھڑاتی خواہشوں کو تیز سانسوں کے پتھروں میں لپیٹ کر سٹیج کی طرف اچھال دیا۔

اب زپ اس کی گداز کمر کی سفید گولائیوں کو اچھالتی تیزی سے نیچے کھسک رہی تھی۔

اسے معلوم تھا کہ اس کے بعد وہ اچانک تماشائیوں کی طرف مڑے گی اور پھر۔۔۔  ! لیکن یہ منظر آنے سے پہلے ہی وہ روز کی طرح ہال سے باہر نکل گیا اور ورانڈے میں نکلتے ہوئے بولا۔۔۔  ’’میں اپنے پاؤں سے خوف کے یہ گھنگھرو کبھی نہیں کھول سکتا۔ میں تو پیدا ہی اس کائی کے نیچے ہوا ہوں۔‘‘

مرشد نے اپنی سفید داڑھی میں انگلیاں پھنسا کر اس کی طرف دیکھا اور بولا۔۔۔  ’’تو تم جاننا چاہتے ہو کہ آوازیں دینے والا کون ہے؟‘‘

اس نے اٹھایا، پھر جھکا لیا اور اپنے آپ سے کہنے لگا۔۔۔  ’’کیا میں جاننا چاہتا ہوں ، میں تو اس لڑکی کے بارے میں بھی جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کون ہے؟ اور کیا اس بھرے شہر میں اس کا کوئی نہیں جو وہ یوں رات تماشائیوں کے سامنے اپنے جسم کے ابھاروں کا تماشہ دکھاتی ہے۔‘‘

اور وہ حسبِ معمول اس کے مڑنے سے پہلے ہی تیزی سے اٹھا اور بار میں آ کر صوفہ پر ڈھیر ہو گیا۔

’’میں بیٹھ سکتی ہوں۔‘‘

اس نے ہڑبڑا کر سر اٹھایا۔۔۔  ’’جی جی‘‘

وہ اس کے سامنے بیٹھ کر بہت دیر اس کی طرف دیکھتی رہی اور وہ سر جھکائے اپنے پاؤں میں بندھے گھنگرو کھولنے کی کوشش کرتا رہا۔

’’آپ‘‘ وہ جوس کی چپکی لے کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔۔۔  ’’آپ ہر روز میرا شو ختم ہونے سے پہلے ہی کیوں اٹھ جاتے ہیں۔‘‘

اور یہ کہتے ہوئے شرم کا شعلہ اس کی سفید گالوں کے شمع دانوں میں پھڑپھڑا کر رہ گیا۔

’’تو وقت کے بیلنے نے اس کی زندگی کے رس کو ابھی پوری طرح نہیں نچوڑا۔۔۔ ‘‘اس نے سرگوشی کی، ’’ابھی اس کے پتھر چہرے کی چلمنوں کے پیچھے ایک ننھی سی معصوم لڑکی کا چہرہ سانس لے رہا ہے۔‘‘

اور خوشی کا کبوتر اس کے دل کے آنگن میں غٹرغوں غٹرغوں کرنے لگا۔

’’میں۔۔۔  میں ‘‘ اس نے جھٹک کر پاؤں سے گھنگھرو نکالنے کی کوشش کی۔۔۔  ’’میں وہ منظر نہیں دیکھ سکتا۔‘‘

’’کیوں ؟‘‘ سوال کرتے ہوئے لڑکی کے اندر کا سارا تجسّس اس کے چہرے کے سائبان کے نیچے جمع ہو گیا۔

’’میں نے آپ کو تقدس کے جس چبوترے پر بٹھایا ہوا ہے اس سے نیچے نہیں اتارنا چاہتا۔‘‘

’’کیوں ؟‘‘ وہ شفاف میز پر اتنا جھک گئی کہ اس کے سینے کی گولائیاں گلاس سے ٹکرانے لگیں۔

’’آپ مجھے اچھی لگتی ہیں ‘‘۔۔۔  اور وہ پیچھے ہٹ کر صوفے کی پشت میں گھس گیا۔

دونوں چپ ہو گئے،

گلاسوں میں پڑی برف قطرہ قطرہ گھلنے لگی۔

’’تو میں آپ کو اچھی لگتی ہوں ؟‘‘ اس کی آواز میں طنز یا خوشی کی بجائے ایک رستا ہوا دکھ تھا۔ اس نے سر ہلا کر اقرار کیا۔

’’لیکن کیوں ؟ میں تو ایک۔۔۔ ‘‘ وہ خود ہی چپ ہو گئی۔

خاموشی کی مکڑی پھر ان کے درمیان چپ کا جالا بننے لگی۔

وہ صوفے کی پشت سے لگی، حیرت اور دلچسپی کی چلمن سے اسے دیکھتی رہی۔

وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں۔۔۔  وہ چپ ہو کر اس کے جواب کی منتظر رہی، لیکن جب وہ دیر تک اپنے کھنڈر سے باہر نہ نکلا تو بولی۔۔۔  ’’آپ کون ہیں ؟‘‘

وہ چابک کھائے گھوڑے کی طرح بدک کر اپنے ملبے سے باہر نکلا۔۔۔  ’’میں کون ہوں ؟ یہی تو وہ سوال ہے جس کا جواب مجھے معلوم نہیں۔‘‘

’’میں کون ہوں ؟‘‘۔۔۔  اس نے اپنے آپ سے سوال کیا اور اسی لمحے اس نے پل کے نیچے چھپے ہوئے کی آواز سنی۔ وہ اسے پکار رہا تھا۔

’’میں آ رہا ہوں۔۔۔  میں آ رہا ہوں۔‘‘ وہ ہڑ بڑا کر اٹھا اور اسے حیرت زدہ چھوڑ کر دوڑتا ہوا باہر نکل گیا۔

لیکن جب اس نے پل کی طرف کھلنے والی کھڑکی کھولی تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔

’’وہ مجھے نظر نہیں آتا، میں صرف اس کی آواز سنتا ہوں۔‘‘

مرشد نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور بولا، ’’آواز سب سے بڑی پہچان ہے۔ وہ بھی تو آواز ہی ہے۔‘‘ اس نے سر جھکا کر سونی گلیوں میں آواز کو تلاش کیا۔ لیکن جب کچھ نہ ملا تو کہنے لگا، ’’پل کے نیچے تو ایک بڑی سی چمگادڑ رہتی ہے، کہیں وہ تو مجھے آوازیں نہیں دیتی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ چمگادڑ ہے اور آواز میں ہوں۔‘‘

مرشد نے کوئی جواب نہ دیا اور شہادت کی انگلی اٹھائے اوپر دیکھتا رہا۔ اس نے سر ہلایا۔۔۔  ’’یا پھر یہ ہے کہ چمگادڑ میں ہوں اور آواز وہ ہے۔‘‘

آواز وقت کے بہتے پانیوں پر

سانسوں کی

سریلی بانسری ہے

اور ہم چمگادڑوں کی صورت

ہواؤں میں منڈلا رہے ہیں

آواز کے سر سبز جنگلوں میں

وہ دبے پاؤں چلتا ہے

اور ہمیں پکارتا ہے

اور بڑے بڑے پوسٹروں پر لکھے ہماری پہچان کے پھسلتے لفظ

ہمارے ناموں کی صورت

ہمارے چہروں کی دیواروں پر چپکاتا ہے

ہمیں پکارتا ہے!

اپنے نام کے لفظ پہچان کر اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہ جنرل سٹور کی سیڑھیوں پر کھڑی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

’’تو میں نے اپنی پہچان کے حرف اس کے دل کی ڈائری میں لکھ دئیے ہیں۔‘‘

وہ تیز تیز قدموں سے اس کی طرف لپکا۔

کچھ دیر بعد جب وہ ریستوران میں آمنے سامنے بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے، تو وہ بولی۔

’’آپ کے رویہ نے مجھے پریشان کر دیا۔‘‘

’’کیوں ؟‘‘

وہ کچھ دیر چمچ کو پیالی کی نکر پر پھیرتی رہی، پھر کہنے لگی۔۔۔  ’’مدتوں بعد میں نے ایک مختلف شخص دیکھا ہے۔‘‘

’’تو میں دوسروں سے مختلف ہوں۔‘‘ اس کے دل کے باغ میں مور نے پر پھیلائے اور ناچنے لگا۔

’’لیکن آپ نہیں جانتیں مور کے پاؤں کتنے بد صورت ہیں اور میں تو ابھی اپنے آپ کو مانجھ رہا ہوں۔‘‘

’’آپ ہمیشہ اپنی ذات کی گہرائیوں میں ڈوبے رہتے ہیں۔‘‘ اس کی آواز میں تعریف تھی۔

’’نہیں بالکل نہیں ، میں تو کھنڈر کے ملبے میں دفن ہوں اور کھنڈر گونگے ہوتے ہیں۔‘‘

زمانہ خود ایک کھنڈر ہے

جس کی بوسیدہ، ٹوٹی دیواروں کے نیچے

تاریخ کے اَن گنت چہرے سسک رہے ہیں

اور ہر آنے والا

اپنے ہی ملبہ پر کھڑا ہو کر

اپنا چہرہ تلاش کرتا ہے

چہرہ پہچان تو نہیں لیکن آپ کے چہرے کے صفحوں پر مجھے اپنے خواب بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔‘‘

وہ شرما گئی اور بولی۔۔۔  ’’بہت دیر ہو گئی۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’پھر کب؟‘‘

’’شاید کبھی نہیں ‘‘ وہ اداس ہو گئی۔

’’لیکن آپ ہی نے تو کہا تھا میں مختلف شخص ہوں۔‘‘

وہ چلتے چلتے رک گئی اور مڑ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی، ’’میں نے کہا تھا؟‘‘

دفعتاً گھنا بادل پر پھیلا کر آگے بڑھتا گیا۔ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور قریب آتی ٹیکسی کو ہاتھ دیتے ہوئے بولی۔۔۔  ’’خدا حافظ‘‘

’’اور جدائی اس راہ کا پہلا پتھر ہے۔‘‘ مرشد نے اپنی شہادت کی انگلی سے اس کے دل کے اندھیرے کونے کو گدگداتے ہوئے کہا۔

اس نے پوچھا، ’’جدائی کیا ہے؟‘‘

جواب ملا۔۔۔  ’’ایک مخملی تھیلا‘‘

 اس نے پھر پوچھا۔۔۔  ’’اور یہ جدائی کس سے ہے؟‘‘

’’تم صدیوں سے یہی سوال کر رہے ہو۔‘‘ درخت کی سوکھی ٹہنی پر بیٹھے ہوئے گدھ نے غصے سے کہا، ’’کیا تمہیں ابھی تک معلوم نہیں ہوا کہ تم کیا ہو؟‘‘

’’میں کیا ہوں ؟‘‘ اس نے خود سے پوچھا، پھر مرشد کی طرف دیکھا جو شہادت کی انگلی کی پور پر ایک ٹانگ پر کھڑا اپنا توازن درست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

’’تو دراصل ہم سب اپنے آپ کو کھڑا کرنے اور توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

اس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن لڑ کھڑا کر نیچے جا گرا۔

’’دراصل میرے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔‘‘ اس نے کہا۔

’’تو آپ نے مجھے بلا لیا ہوتا۔‘‘ وہ آگے جھکتے ہوئی بولی۔

’’میں بلاتا تو آپ آ جاتیں ؟‘‘ وہ سراپا سوال بن کر اس کے سامنے پھیل گیا۔

وہ چپ رہی۔

’’بتائیں نا؟‘‘

’’پتہ نہیں۔‘‘ وہ کھلکھلائی۔

لیکن اگلے ہی لمحے گھنا سیاہ بادل اس کے چہرے پر منڈ لانے لگا۔

’’غم ایک گھنا سیاہ بادل ہے۔‘‘ مرشد نے آواز کی پٹاری کھولتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔

’’ہاں میں بھی اپنے سینے پر ایک داغ لیے پھرتا ہوں اور جو پل کے نیچے سے مجھے آوازیں دیتا ہے شاید اس کے سینے پر بھی یہی داغ ہو۔‘‘

’’تم تو عجیب آدمی ہو۔‘‘اس کے دوست نے جھنجھلا کر میز پر ہاتھ مارا، ’’تم ۱۹۷۵ء میں بھی کشف اور روح کی باتیں کرتے ہو۔‘‘

’’لیکن تم ہی بتاؤ پھر پل کے نیچے سے مجھے کون آوازیں دیتا ہے؟‘‘

’’تم تو پاگل ہو گئے ہو۔‘‘ اس کا دوست اٹھتے ہوئے بولا۔

جب وہ اکیلا رہ گیا تو اس نے گریبان کھول کر اپنے سینے کے داغ کو شہادت کی انگلی سے چھوا اور اپنے آپ سے کہنے لگا، ’’کوئی بھی مجھے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔‘‘

وہ بڑی توجہ سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔

’’شاید میں الجھا ہوا ہوں یا شاید بالکل ہی سپاٹ ہوں۔‘‘

 وہ کچھ دیر اس کی آنکھوں میں جھانکتی رہی پھر بولی۔۔۔  ’’آپ جو کچھ بھی ہیں اچھے ہیں۔‘‘

اس کے دل میں کوئی چیز گنگنانے لگی۔۔۔  ’’تو آپ مجھے دوسروں کی عینک سے نہیں دیکھتیں۔‘‘

’’نہیں ‘‘

’’تو۔۔۔  تو‘‘ اس نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اس نے دھیرے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور بولی، ’’میں ایک جلا ہوا مکان ہوں اور جلے ہوئے مکانوں کی دیواروں پر اداسیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔‘‘

’’جلنا اور تڑپنا اسی کے راستے ہیں۔‘‘ مرشد اپنی شہادت کی انگلی پر اپنا توازن ٹھیک کرتے ہوئے بولا۔

اس نے پوچھا، ’’اور یہ راستہ کون سا ہے؟‘‘

جواب ملا، ’’جو تمہارے سینے کے داغوں سے شروع ہوتا ہے اور وہاں تک جاتا ہے جہاں تمہیں آوازیں دینے والا بیٹھا ہے۔‘‘

اس نے پھر پوچھا۔۔۔  ’’لیکن وہ کون ہے؟‘‘

مرشد نے اپنے اندر ڈبکی لگائی اور گہرے سمندروں میں ڈوب گیا۔

وہ بھی سمندر کے کنارے تک آیا لیکن اس کا سر پانیوں سے باہر رہا۔

’’میں تو نہیں جانتا وہ کون ہے؟‘‘ اس نے اپنے آپ سے کہا۔

’’چلو اگر تمہیں معلوم ہو بھی جائے کہ وہ کون ہے تو پھر تم کیا کر لو گے؟‘‘ اس کے دوست نے چائے بناتے ہوئے اس سے پوچھا۔

’’میں ‘‘۔۔۔  اس نے سر اٹھا کر اپنے دوست کو دیکھا۔۔۔  ’’واقعی میں کیا کر لوں گا۔‘‘

’’واقعی میں کیا کر لوں گا؟‘‘ اس نے مرشد سے پوچھا۔

مرشد نے اس کی طرف دیکھ کر تبسّم کیا اور کہا۔۔۔  ’’کچھ بھی نہیں ، اس لیے کہ خواہش ایک پھدکتی چڑیا ہے، جو ایک ٹہنی سے اڑ کر دوسری ٹہنی پر جا بیٹھتی ہے۔

’’تو پھر‘‘۔۔۔  وہ سوال بن کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔

’’پھر یہ کہ تم مجھ سے نہ ملا کرو۔‘‘ وہ دوپٹے کو انگلی میں لپیٹتے ہوئے بولی۔

’’لیکن کیوں ؟‘‘

’’ اس لیے کہ تم اور میں راستے کے دو متوازی نشان ہیں ، ہم چلتے چلتے تھک جائیں گے لیکن فاصلہ بانہیں پھیلائے یوں ہی ہمارے درمیان کھڑا رہے گا۔‘‘

اس نے ایک لمحہ کے لیے اس کی آنکھوں میں تیرتے گھنے بالوں کو دیکھا اور بولا۔۔۔  ’’یوں بھی تو ہو سکتا ہے کہ تم اس طرف آ جاؤ یا میں پھر اس طرف آ جاؤں۔‘‘

’’نہیں ‘‘ وہ اداسی سے بولی، ’’یہاں یہی ہوتا ہے کہ جو جس جگہ ہے وہیں رہتا ہے۔‘‘

کچھ دیر دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، پھر وہ دھیرے سے اٹھی۔۔۔  ’’شو کا ٹائم ہو گیا۔‘‘

وہ اپنی میز پر تنہا بیٹھا ہال میں سے آتی آوازوں کو سنتا رہا۔

اب اس کا ہاتھ اپنی زپ کا ہک کھول رہا ہو گا، اب۔۔۔  اب۔۔۔  اب،

وہ دوڑتا ہوا سڑک پر آ گیا۔

مرشد نے پوچھا۔۔۔  ’’اتنی تیزی سے کیوں دوڑ رہے ہو؟‘‘

اس نے اداسی سے سر ہلایا، ’’تاکہ سفر ختم ہو جائے۔‘‘

مرشد نے تبسّم کیا۔۔۔  ’’سفر ایک پکا داغ ہے جو تمہارے سینے پر کھد چکا ہے۔‘‘

اس نے اپنا گریبان کھول کر اندر جھانکا، اس کے سینے پر ایک بہت بڑا داغ تھا۔

اس نے مرشد کی طرف دیکھا۔۔۔  ’’میرے سینے پر بہت بڑا داغ ہے یا شاید ایک بہت بڑے داغ پر میرا سینہ ہے۔‘‘

وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا۔۔۔  ’’کیا اس دنیا میں ہر شخص یوں ہی ہے۔‘‘

مرشد نے سر ہلایا۔

اس نے گریبان کے کھلے بٹن ایک ایک کر کے بند کئے اور کمرے میں آ گیا۔ آنکھیں بند ہونے سے پہلے اس نے روز کی آواز سنی۔ کوئی پل کے نیچے اس کا نام لے کر پکار رہا تھا۔ اس نے نیم غنودگی کے عالم میں کھڑکی میں سے جھانک کر پل کی طرف دیکھا۔ پل کے نیچے گہری گھنی تاریکی تیر رہی تھی، پھر اس نے ڈرم اور آکسٹرا کی آوازیں سنیں۔ زپ کا ہک کھلا۔ زپ آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگی۔ کمر کی گولائیاں نمایاں ہونے لگیں ، پھر۔۔۔  پھر ایک گہری تاریکی اور اس کا نام پکارتی آواز۔۔۔  اس نے کھڑکی کے پٹ زور سے بند کر دئیے اور کہنے لگا۔۔۔  ’’زندگی شاید ایک دھند ہے اور میں اس دھند میں تیرتا ہوا لمحہ۔‘‘

’’لمحہ کیا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’شاید کچھ ہے، شاید کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

اور نیند اپنی سرمئی انگلیوں سے اس کی پلکوں کے دروازوں پر دستکیں دینے لگی۔

٭٭٭