کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

لمحہ جو صدیاں ہوا

رشید امجد


یہ مزار بڑی سڑک سے مڑتے ہی تالاب کے کنارے ایک اونچے ٹیلے پر ہے۔ اس کی ٹوٹی منڈیر سے میں نے کتنے ہی موسموں کے پرندوں کو تالاب کے کنارے دھندلاتے اور روشن ہوتے دیکھا ہے۔ کبھی کبھی جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو چیزیں دھندلی دھندلی سی دکھائی دیتی ہیں۔ دور خاک کے بادلوں کو چیرتا ایک خرقہ پوش شہر کے دروازے پر دستک دیتا ہے،

میری خاک اب اس شہر کی مٹی میں پیوست ہو گی،

صدیوں کی دھول قبروں کے نشان مٹاتی چلی جاتی ہے،

اپنی ہی قبر پر پاؤں رکھتا ایک نوجوان تیزی سے گزر جاتا ہے،

میرا خمیر اسی شہر کی مٹی سے اٹھا ہے۔

شہر کی فصیل سے آخری تیر چلاتے ہوئے اس کا زخمی جسم آدھا لٹک جاتا ہے،

موسم بھیس بدل کر ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہیں ، دن اور لمحے اُڑ اُڑ کر وقت کی جھولی میں گرتے چلے جاتے ہیں۔۔۔  خزاں بہار، بہار اور خزاں۔۔۔  خوابوں کے پیچھے بھاگتا ایک اور نوجوان چائے خانے کی میز پر مکّہ مارتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔  خواب حقیقتیں ہیں۔

میں ان سارے چہروں کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہوں ،

شہر کے دروازے پر دستک دیتا خرقہ پوش، فصیل پر کھڑا تیر انداز اور چائے خانے کی میز پر مکہ مارتا نوجوان۔۔۔  میں ان سے بہت فاصلے پر ہوں ،

دور سے خرقہ پوش کی آواز آتی ہے

یہ سب ایک دائرہ ہے۔

دائرہ در دائرہ۔۔۔  جس کی ایک سطح پر تو پہنچا جا سکتا ہے، لیکن دوسری سطح پر انقطاع ہو جاتا ہے اور تیسری حقیقتہ اطقیقتہ کے بیابانوں کی سطح ہے۔ جہاں سر گشتگی اور تحیر کے سوا کچھ نہیں۔۔۔  !

پھر ایک نعرہ مستانہ سنائی دیتا ہے۔۔۔  جو راز ہے وہ را ز رہے۔ جو وارد ہو اسے بخوشی برداشت کرے،

میں پوچھتا ہوں۔۔۔  ’’یہ راز مجھ پر کب منکشف ہو گا؟‘‘

خرقہ پوش دھند میں ڈوبتے ڈوبتے لمحہ بھر کے لیے سامنے آتا ہے۔۔۔  ’’راز اس وقت منکشف ہوتا ہے، جب واصف، موصوف اور وصف میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔‘‘

دھند آہستہ آہستہ گہر ی ہوتی چلی جاتی ہے،

شہر کی فصیل پر کھڑا تیر انداز تیر نکالتا ہے، اسے چلہ میں جوڑتا ہے۔

’’میری خاک اس شہر کی مٹی میں دفن ہے اور میں نے خرقہ اتار کر تیر کمان سنبھال لیا ہے کہ سچ کی کوئی زبان، کوئی بھیس لباس نہیں ہوتا۔‘‘

یہ شہر، خرقہ پوش، یہ سپاہی میرے وجود کے ملبے میں دور کہیں دبے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے ان کی دھیمی دھیمی آوازیں اور دھندلی دھندلی شبیہیں دکھائی دیتی ہیں لیکن مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ میں اپنے وجود کی اس گہری کھائی کو عبور کر کے ان تک پہنچوں۔ میں تو صرف اس نوجوان تک ہی پہنچ پاتا ہوں جو دوستوں کے ساتھ فٹ پاتھ کے کنارے کسی چائے خانہ میں کبھی دوسروں سے اور کبھی اپنے آپ سے مکالمہ کر رہا ہے۔

وہ بھری بھری راتیں اور پھیکے پھیکے دن۔۔۔  دن کا وہی معمول، صبح بغیر منہ دھوئے، بغیر شیو کئے، آنکھیں ملتے دفتر کی طرف بھاگنا اور دن بھر فائلوں کی بنجر گود میں زندگی کا شگوفہ تلاش کرنا، لیکن راتیں بڑی زرخیز تھیں ، شام ہوتے ہی کسی ویران سے چائے خانے میں اکٹھے ہونا، دیر تک سمجھ نہ آنے والی باتیں کرنا۔۔۔  اپنے آپ کو، دوسروں کو جاننے دریافت کرنے کی باتیں ، پھر دیر تک شب گردی، گھر کی طرف تنہا آتے ہوئے ویران سڑکوں ، درختوں اور کھمبوں سے مکالمہ۔۔۔  ایک عجیب مزہ تھا، لیکن اب تو ایک خاموشی ہے، پُر اسرار خاموشی، نہ صبح دفتر جاتے ہوئے کوئی انہونی بات نہ راتوں کو گود میں کوئی ہمکتا شگوفہ۔۔۔  معمول اب بھی ہے، صبح وقت پر اٹھنا، شیو کرنا، تیار ہو کر دفتر جانا اور دن بھر فائلوں پر لوگوں کے مقدر کی لکیریں کھینچنا۔۔۔  اور  راتیں اب صرف سونے کے لیے ہیں۔۔۔  ہر طرف ایک خاموشی، گہری خاموشی، ایک ہلکا ارتعاش ہے تو اس ایک لمحہ جب بڑی سڑک سے مڑتے ہی ٹیلہ پر یہ مزار دکھائی دیتا ہے۔ مزار سے آتی ڈھول کی آواز رینگتی ہوئی سارے وجود میں پھیل جاتی ہے اور لمحہ بھر کے لیے سارا وجود ملبہ کا ڈھیر بن جاتا ہے جس کے نیچے دبا ہوا سپاہی جو شہر فصیل پر کھڑا دشمن پر تیر چلا رہا ہے اور اس کے پیچھے شہر کے دروازے پر دستک دیتا خرقہ پوش سر ابھارتے ہیں۔

کیا یہ جاننے کا عمل ہے؟

خرقہ پوش مسکراتا ہے، پھر کہتا ہے۔۔۔  ’’میرے شیخ نے مجھے ایک حکایت سنائی تھی، تم بھی سنو۔۔۔  ایک راہب روم کے کلیسا میں ستّر سال سے گوشہ نشیں تھا۔ شیخ اس کا ذکر سن کر روم میں اس کلیسا کے پاس پہنچے۔ راہب نے دریچے سے سر نکال کر کہا۔۔۔  اے شخص تو یہاں کیا لینے آیا ہے۔ میں راہب نہیں ہوں ، بلکہ اپنے نفس کی، جس نے کتے کی شکل اختیار کر لی ہے، نگرانی کرتا ہوں اور اس کو مخلوق کے شر سے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں۔ شیخ نے اس کے لیے دعا کی کہ اے خدا! اس کو ہدایت دے۔ راہب بولا۔۔۔  مردوں کی جستجو میں تم کب تک پھرتے رہو گے، گھر جا کر خود کو تلاش کرو اور جب اپنے آپ کو پالو تو اپنے نفس کی نگرانی کرو۔‘‘

یہ اپنے آپ کو پا لینا ہی تو ایک عذاب ہے، آدمی جتنا کم جانے اتنا ہی اچھا ہے۔

بڑ کے درخت کے نیچے موت کی ٹھنڈی انگلیوں نے آہستگی سے سوکھی ہڈیوں کو چھوا، لیکن اسی لمحہ زندگی بھرے ہاتھوں نے سوکھے ہونٹوں پر دودھ کے قطرے چوائے۔۔۔  تازہ دودھ کی چند بوندوں سے سوکھی انتڑیوں اور خشک ہڈیوں میں زندگی کونپل کی طرح مسکرائی، اس نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں ،

’’لاعلمی ایک نعمت ہے!‘‘

نہ جاننے میں بھی ایک اسرار ہے، خوابوں کے پیچھے بھاگتے جائیں ، دھند کے ساتھ دھند ہو جائیں۔۔۔  تین سمتوں کی پہچان اور چوتھی سمت کا اسرار،

ہرن کنوتیاں اٹھا بھاگا، شہزادہ افتاں و خیزاں پیچھے پیچھے،

راستہ ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتا، رات آ گئی، شبِ ماہ پورن ماسی کا چاند اور ہرن ہے کہ چوکڑیاں بھرتا چلا جاتا ہے۔۔۔  دفعتاً جنگل ختم ہوا، کیا دیکھتا ہے کہ سامنے ایک پُر فضا باغ ہے جس کے بیچوں بیچ ایک بارہ دری کہ۔۔۔ 

لیکن یہ جنگل تو ختم ہونے ہی میں نہیں آتا، آخر پر پہنچتا ہوں تو پھر پہلا سرا آ جاتا ہے، ایک دائرہ۔۔۔ 

صبح چھ بج کر پندرہ منٹ پر الارم کے ساتھ اٹھنا، شیو، دانت صاف کرنا، ناشتہ، بچوں کو سکول چھوڑنا، دفتر۔۔۔  ایک فائل، دوسری، تیسری، بچوں کو سکول سے لینا۔۔۔  گھر واپسی کھانا، سونا، اٹھ کر ٹی وی دیکھنا۔۔۔  رات سونا، صبح پھر وہی چھ بج کر پندرہ منٹ پر الارم کی آواز۔۔۔ 

ایک ہی راستہ۔۔۔  یوں ہی برسوں بیت گئے ہیں ،

لیکن بڑی سڑک کا موڑ مڑتے ہی ڈھول کی ہلکی سی آواز نے میرے سوئے وجود میں چٹکی سی لی ہے۔ میں نے چونک کر دیکھا، ایک پتھر پر جس کا ایک کونہ بڑی سڑک کی طرف باہر نکلا ہوا ہے، کوئلہ سے لکھا ہے۔۔۔  شیخ ابو بختیار مشہدی۔۔۔  میری نظریں اوپر اٹھتی گئیں۔ مزار رنگ برنگی جھنڈیوں سے جگمگا رہا تھا۔ مجھے آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کس کا مزار ہے؟ میرے قدم اوپر اٹھتے گئے۔ تالاب کی سمت والی منڈیر پر ایک شخص جھکا ہوا تالاب کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میرے قدموں کی چاپ پر اس نے سر اٹھایا،

میں نے پوچھا۔۔۔  ’’آپ کون ہیں ؟‘‘

اس کے ہونٹوں پر ایک پر اسرار تبسّم ابھرا۔۔۔  ’’میں ابوا لبختیار مشہدی ہوں۔‘‘

میں نے پوچھا۔۔۔  ’’یا شیخ آپ مشہد سے یہاں پہنچے، اتنی دور۔۔۔  مٹی نے کہیں آپ کے پاؤں نہیں پکڑے؟‘‘

شیخ ایک لمحے چپ رہے پھر بولے۔۔۔  ’’مٹی کی پکڑ بڑی سخت ہے لیکن یہ دل کی آواز عجب چیز ہے، اس کی لَے میں جو بے چینی اور اضطراب ہے وہ آدمی کو کشاں کشاں لیے پھرتی ہے۔‘‘

’’بے چینی اور اضطراب‘‘ کوئی میرے اندر کسمساتا ہے،

میں نے کہا۔۔۔  ’’یا شیخ! میرا اضطراب اور بے چینی کہاں گئے؟‘‘

شیخ بولے۔۔۔  ’’ایک شخص تیس سال تک مرشد کی صحبت میں حاضر رہا اور ایک دن عرض کی کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود آپ کی تعلیم مجھ پر اثر انداز نہیں ہوئی۔ مرشد نے فرمایا کہ ایک ہی صورت سے تجھ پر اثر ہو سکتا ہے لیکن وہ تجھے قبول نہیں ہو گی۔ اس نے عرض کی کہ میں آپ کے ہر حکم کی تعمیل کروں گا۔ مرشد نے فرمایا، اپنے بال منڈوا کر ایک کمبل اوڑھ اور ایک تھیلے میں اخروٹ بھر لے اور ایسی جگہ جا بیٹھ جہاں بہت سے لوگ تجھ سے واقف ہوں اور بچوں سے کہہ دے کہ جو بچہ ایک تھپڑ مارے گا اسے ایک اخروٹ دوں گا، بس یہی تیرا علاج ہے، اس لیے کہ ابھی تجھے اپنے نفس پر قابو حاصل نہیں ہو سکا۔‘‘

میں نے شیخ سے یہ نہیں پوچھا کہ مرید نے مرشد کو کیا جواب دیا۔

زندگی کے اس تسلسل میں ہر سوال کا جواب ضروری بھی نہیں ہوتا۔۔۔  زندگی ہے ہی عجیب شے، اتنی مضبوط کہ ستاروں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ اور اتنی کمزور کہ ایک سانس کے بعد دوسرا سانس غائب ہو جائے تو سب کچھ ختم۔۔۔  کائنات کی اس وسعت میں زندگی کے کیا معنی ہیں ؟ ایک ذرّہ، یا شاید اس سے بھی زیادہ بے وقعت۔ کیا معلوم یہ کائنات بھی کسی نقطہ پر جا کر ذرّے کی طرح بے وقعت ہو جاتی ہو، یا اپنے ہی ہاتھوں خود کو فنا کر لیتی ہو، ایک نئے آغاز کے لیے۔۔۔  تو یہ سب کچھ ایک سفر ہی ہے، ایک طویل سفر، شیخ مشہد سے یہاں پہنچے اور مٹی کہیں ان کے پاؤں نہ پکڑ سکی، لیکن کئی لوگ تو مٹی کی گرفت سے نکل ہی نہیں پاتے، ساری عمر انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا ہیں ، جہاں پیدا ہوئے وہیں مر گئے، یا شاید جس لمحے پیدا ہوئے اسی لمحے مر گئے۔

یہ ساری تگ و دو تو خود کو جاننے پانے کی ہے۔۔۔  سارا کھیل ظاہر اور باطن کا ہے۔۔۔  ایک پراسرار آنکھ مچولی،

ایک بار شیخ کو راہ میں ایک کتا ملا۔ آپ نے دامن سمیٹ لیا۔ اس پر کتا بولا۔۔۔  آپ نے دامن کیوں بچایا، اس لیے کہ اگر میں بھیگا ہوا نہیں ہوں تو مجھ سے ناپاکی کا کوئی خطرہ نہیں اور اگر بھیگا ہوا ہوتا تو آپ اپنے نئے کپڑے پاک کر سکتے ہیں لیکن یہ تکبر جس کا مظاہرہ آپ نے فرمایا یہ تو سات سمندروں کے پانی سے بھی پاک نہیں ہو سکتا۔ آپ نے فرمایا، تو سچ کہتا ہے اس لیے کہ تیرا ظاہر نجس ہے اور میرا باطن۔

مجھے یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ میرے ظاہر اور باطن میں کون زیادہ نجس ہے لیکن یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ ظاہر بڑا پُر سکون اور خاموش ہے اور باطن میں نہ تھمنے والا طوفان۔۔۔  جس کی زد میں مَیں ایک تنکے کی طرح ہوں ، جیسے کائنات اوپر سے خاموش اور اپنے مرکزہ کی پابند دکھائی دیتی ہے،

شیخ ابو البختیار مشہدی ٹوٹی منڈیر سے تالاب میں تیرتی بطخوں کو دیکھ رہے ہیں ،

میں نے پوچھا۔۔۔  ’’اے شیخ! یہ فنا اور بقا کا کیا فلسفہ ہے؟‘‘

شیخ نے تالاب میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو میں نے دیکھا ان کی ہتھیلی پر شعلہ پھڑپھڑا رہا ہے، پھر شیخ نے گرم تنور میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو اس پر برف کا ایک ٹکڑا چمک رہا تھا۔

میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔

وہ مسکرائے۔۔۔  ’’فنا اور بقا ایک ہی سلسلے کی دو سمتیں ہیں۔‘‘

پھر ذرا توقّف کے بعد بولے۔۔۔  ’’ایک شخص نے اپنے مرشد سے کہا، حضور تنور گرم ہے۔ مرشد نے جواب نہ دیا۔ اس نے تین بار کہا، حضور تنور گرم ہے۔ مرشد نے جھلّا کر کہا، تو جاؤ اس میں جا کر بیٹھ جاؤ۔ کچھ دیر بعد انہیں خیال آیا کہ انہوں نے کیا کہہ دیا۔ فرمایا، جاؤ تنور میں جا کر دیکھو۔ جب تنور تلاش کر کے دیکھا تو وہ شخص اندر بیٹھا ہے اور آگ نے ایک بال بھی نہیں جلایا۔

شیخ خاموش ہو گئے، پھر بولے۔۔۔  ’’اصل چیز وجود نہیں وجود کا احساس ہے۔‘‘

لیکن خود کو محسوس کرنا کیا اتنا ہی آسان ہے؟

میں نے جب بھی خود کو محسوس کرنے کی کوشش کی ہے ایک عجیب طرح کی افراتفری نے آن گھیرا۔ یوں لگا جیسے بہت سی چیزیں ، کیفیتیں اور جذبے بکھرے پڑے ہیں ، جنہیں زبان اور ترتیب دینا میرے بس میں نہیں۔۔۔  شہر کے دروازے پر دستک دیتا خرقہ پوش اور فصیلِ شہر پر خون بہاتا سپاہی مدھم ہوتے ہوتے دھندلے نشانوں سے بھی کہیں پرے چلے گئے ہیں۔۔۔  ان کے آگے ایک بنجر میدان ہے جس میں کبھی کبھار ٹمٹماتی یادوں کے کچھ دئیے روشن ہو جاتے ہیں۔۔۔  ہرن کی سی چال والی وہ، جس کے جوڑے کا زرد پھول آج بھی یادوں کی جھیل میں تیرتا تیرتا میری آنکھوں کے کسی کونے میں نمی بننے لگتا ہے، وہ ہمیشہ مجھے ایسی نظروں سے دیکھتی تھی جیسے میرے سوال کی منتظر ہو۔۔۔  میں اس سے اپنا آپ واپس مانگنا چاہتا تھا، لیکن لفظوں نے کبھی میرا ساتھ نہ دیا، بوند بوند حرف اکٹھے کر کے لفظ بناتا لیکن یہ لفظ جملے نہ بن پائے۔۔۔  اور یوں ہی یونیورسٹی کے دو سال بیت گئے۔ وقت کے جواری ہاتھوں نے ہمیں پھینٹ کر زمانے کی شطرنج پر پھینک دیا۔ دیوار پر لگے کیلنڈروں کے کئی ہندسے ٹوٹ ٹوٹ کر وقت کی ڈسٹ بن گر گئے، بہت سے چہرے دھند لا گئے لیکن اب بھی آنکھوں کے کسی کونے میں ایک نمی سی محسوس ہوتی ہے جس کے شفاف بدن میں سے زرد پھول لمحہ بھر کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ میں اس کی مانوس خوشبو بھول گیا ہوں لیکن کل جب ایک دکان سے نکلتے ہوئے وہ اچانک میرے سامنے آ گئی تو وہی خوشبو، مانوس خوشبو مجھ سے لپٹ گئی۔ ہم دونوں ایک لمحے کے لیے ٹھٹھکے، پھر وہ اپنے بچوں کو لے کر اندر چلی گئی، میں اپنے بچوں کو لے کر باہر نکل آیا۔

اس شام میں نے شیخ سے پوچھا۔۔۔  ’’اگر دریا ایک ہی ہے تو لہریں ایک دوسرے سے دور کیوں ہو جاتی ہیں ، کوئی آگے نکل جاتی ہے کوئی پیچھے رہ جاتی ہے۔‘‘

شیخ نے تالاب سے نظریں ہٹائیں اور بولے۔۔۔  ’’یہ تو صرف نظر کا فریب ہے۔‘‘

میں نے کہا۔۔۔  ’’اگر یہ محض فریب ہے تو پھر یہ بے چینی کیسی؟‘‘

شیخ بہت دیر چپ رہے پھر کہنے لگے۔۔۔  ’’ایک شخص روتا ہوا مرشد کے پاس آیا اور عرض کی کہ یا حضرت میں نے بڑی محنت، عبادت اور ریاضت کے بعد ایک خاص انجذابی کیفیت حاصل کی تھی۔ اس میں بڑی لذت اور آسودگی تھی لیکن چند دنوں سے میں اس حلاوت اور جذب سے محروم ہو گیا ہوں۔ مرشد نے فرمایا۔۔۔  دنیا چھوڑ دینے کے بعد تم پھر اس کے وسوسوں میں گھبرا گئے ہو اور غیر یقینی سوچوں نے تمہارے باطن کو ہلا دیا ہے۔‘‘

سنسان سڑک، راستہ دھند لایا ہوا، وسوسہ دبے پاؤں آتا ہے اور پلک جھپکنے میں چاروں طرف چھا جا تا ہے، خود کو محسوس کرنے کے لیے ایک لمبی چیخ، لیکن جواباً چپ، گہری چپ،

مرید نے مرشد سے سوال کیا، مرشد خاموش رہا، مرید نے پھر سوال کیا،

مرشد اب بھی چپ رہا، مرید نے کہا۔۔۔  پہلے تو ایسا نہیں تھا کہ آپ نے میرے سوالوں کا جواب نہ دیا ہو۔ مرشد نے جواب دیا، ایک وقت وہ آتا ہے جب سکوت کرنا پڑتا ہے اور یہ بات سمجھ لو کہ نظر کے بعد خبر کی ضرورت نہیں رہتی، تب خبر اور وقت دونوں بے معنی ہو جاتے ہیں۔

رات گئے دروازہ کھولتے ہوئے بیوی کا وہی پرانا جملہ۔۔۔  ’’یہ کوئی وقت ہے گھر آنے کا۔‘‘

مجھے آج تک علم نہیں ہو سکا کہ گھر آنے کا وقت کون سا ہے اور گھر کیسے پاؤں پکڑتا ہے۔ یونیورسٹی کے زمانے میں دن پڑھنے میں گزر جاتا اور رات کو کسی چائے خانے میں سارے دوست اپنے اپنے زرد پھولوں کی یاد تازہ کرتے۔ رات گئے دروازہ کھولتے ہوئے ماں روز کا جملہ دہراتی۔۔۔  ’’یہ کوئی وقت ہے گھر آنے کا۔‘‘ ماں کا خیال تھا کہ شادی کے بعد میرے پاؤں گھر میں رک جائیں گے لیکن شب گردی اور سنسان سڑکوں پر درختوں ، کھمبوں اور اپنے آپ سے مکالمہ کرنے کا نشہ عجب ہے کہ جاتے نہیں جاتا۔ معلوم نہیں تنہائی میں اتنی لذت کیوں ہے۔ ایک بستر میں برسوں اکٹھے سونے کے باوجود کوئی نہ کوئی لمحہ یا مقام ایسا ضرور ہوتا ہے جہاں ترسیل نہیں ہوتی۔ اس لمحہ اس مقام پر ہر ذات تنہا ہوتی ہے، اپنے دکھ کے ساتھ کسی زرد پھول، کسی سرخ ٹائی کی یاد کے ساتھ، لیکن یہ یاد تو تلوار کی طرح ہے جو ہمیشہ سرپر سونتی رہتی ہے۔

کہتے ہیں ، کسی بادشاہ نے مجنوں کو بلایا اور پوچھا، تجھے کیا ہو گیا ہے اور تجھ پر کیا افتادہ پڑی ہے کہ تو نے خود کو رسوا کیا۔ لیلیٰ کیا ہے، اس میں کیا خوبی ہے، آ میں تجھے حسین ترین دوشیزائیں دکھاؤں اور ان کو تجھ پر قربان کروں اور انہیں تجھ کو بخش دوں۔ جب یہ حسین ترین دوشیزائیں حاضر ہوئیں تو اپنی اداؤں میں سرمست تھیں۔ مجنوں اپنے حال میں تھا۔ اس نے نظر اٹھا کر نہ دیکھا۔ بادشاہ نے کہا۔۔۔  اب ذرا نظر اٹھا اور ان دوشیزاؤں کو دیکھ۔ مجنوں نے جواب دیا۔۔۔  میں ڈرتا ہوں کیونکہ لیلیٰ کا عشق تلوار سونتے کھڑا ہے، میں نے سر اٹھایا تو وہ ایک ہی وار سے اسے اڑا دے گا اور اے بادشاہ !تو نے یہ جو پوچھا کہ لیلیٰ کیا ہے تو جان لے کہ لیلیٰ جسم نہیں نور ہے اور یہ بھی جان لے کہ اگر ساری دنیا نور سے بھر جائے پھر بھی جب تک اپنی آنکھوں میں نور نہ ہو نور نظر نہیں آئے گا، اور جب یہ نور نظر آنے لگتا ہے تو اپنے نام کی پکار سنائی دیتی ہے،

’’یا شیخ۔۔۔  یہ کیا اسرار ہے کہ پکارنے والا پکارے جاتا ہے لیکن سامنے نہیں آتا۔‘‘

شیخ نے لمحہ بھر توقّف کیا، پھر بولے۔۔۔  ’’پکارنے والا سننے والے سے علیحدہ نہیں اور اپنے آپ کو دیکھنا بہت مشکل ہے۔‘‘

پروفیسر نے عینک ٹھیک کی اور کہنے لگے۔۔۔  ’’ذہن کے دو حصے ہیں ، دائیں طرف والا اور بائیں طرف والا، ایک پرانا اور دوسرا نیا ذہن۔ پرانا ذہن اجتماعی لا شعور ہے، پوری انسانیت بلکہ پوری کائنات کی تاریخ، ایک لائبریری، ایک دفینہ۔۔۔  نیا ذہن جدید عہد اور نئے امکانات کی دنیا ہے یعنی شعور دونوں کے درمیان ایک رابطہ ہے۔۔۔  کنٹرولنگ اتھارٹی۔۔۔  جب کبھی اس رابطے میں کوئی بحران پیدا ہو جائے تو پرانے ذہن سے چیزیں سرک کر نئے ذہن میں آ جاتی ہیں۔ سارا معمول غیر معمول بن جاتا ہے، پراسرار آوازیں سنائی دیتی ہیں ، چیزوں کے نئے چہرے، نئے معنی دریافت ہوتے ہیں۔۔۔  کشف و کرامات۔۔۔  اسرار، آوازیں۔۔۔  جو اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہیں ،

باتیں۔۔۔  جو سمجھ میں نہیں آتیں ،

کیا ایک دوسرے کی باتیں سمجھنا ضروری بھی ہے؟ ہم سب زندگی کو اپنے اپنے دریچے سے گزرتے دیکھتے ہیں تو پھر ایک دوسرے کے ساتھ یہ شرکتیں کیا؟ اور کیوں ؟ ایک نہ ایک لمحہ یا مقام تو ضرور ایسا ہے جو صرف اور صرف اپنا ہوتا ہے، جہاں کوئی دوست، ماں باپ، بیوی بچے شرکت نہیں کرتے، تنہائی کا ایک لمحہ، اپنا لمحہ۔

میں اس ایک لمحہ کی لذت میں گم رہنا چاہتا ہوں ، زندگی کی سنسان سڑک پر خاموشی سے چلتے جانا اور ایک دن نیستی کی دھند میں ڈوب جانا، لیکن یہ جو کبھی کبھی مڑ کر دیکھنے کی خواہش ہے، ماضی کے مشفق ہاتھ کی گرم گرم تھپک۔۔۔  بڑی سڑک کے موڑ پر تالاب کے کنارے اونچے ٹیلے پر مزار، مزار سے اٹھتی ڈھول کی مہکتی تھاپ، منڈیر پر جھکے شیخ ابوالبختیار  مشہدی اور تالاب میں ڈوبتے سورج کا عکس،

’’یا شیخ۔۔۔  یہ ماضی، حال اور مستقبل کا کیا اسرار ہے، ہم کہاں زندہ رہتے ہیں اور کہاں فنا ہو جاتے ہیں ؟‘‘

شیخ کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز پراسرار تبسّم ابھرا، بولے۔۔۔  ’’وقت ایک دریا کی مانند ہے جس کی لہروں کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ دیکھنے میں وہ الگ الگ نظر آتی ہیں ، ماضی کی گود سے حال، حال کی گود سے مستقبل اور مستقبل کی گود سے پھر ماضی طلوع ہوتا ہے، ایک دائرہ جس کا ایک مرکز ہے اور مرکزہ کی کوئی زبان نہیں ، نہ کوئی اس کا احاطہ کر سکتا ہے۔‘‘

میں نے پوچھا۔۔۔ ’’تو اے شیخ! اس دائرے کا تسلسل کیا ہے؟‘‘

شیخ نے ذرا توقّف کیا پھر کہا۔۔۔  ’’فہم انسانی اس تسلسل تک رسائی نہیں رکھتی، اس کی رسائی تو عام درجے تک بھی نہیں ، حقیقۃ اطقیقۃ اور حق الطقیقۃ تک اس کا پہنچنا ناممکن ہے، اس کے لیے نفس کو فنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘

میں اپنے نفس کو فنا نہیں کر سکا، اس لیے میں اس بھید کو نہیں پا سکا۔

میں نے پوچھا۔۔۔  ’’اے شیخ! آپ نے اس بھید کو پا لیا ہو گا؟‘

شیخ نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔۔  ’’وہ خرقہ پوش مشہد کی خاک سے اٹھا اور مرشد کے حکم کے مطابق مسافتیں طے کرتا اس شہر کے دروازے پر پہنچا، اسی ٹیلہ پر اُس نے چلّہ کاٹا اور یہیں خاک ہو کر مٹی میں ملا۔۔۔  برسوں بعد اسی خاک سے اُس جواں مرد نے جنم لیا۔۔۔  شہر کی حفاظت کرتے ہوئے فصیل پر جان دی، پھر اسی لہو سے اب برسوں بعد۔۔۔ ‘‘

میں نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔  ’’اور اب برسوں بعد۔۔۔ کون۔۔۔  اے شیخ! کون؟‘‘

آواز۔۔۔  منظر سمٹ کر، ایک نقطہ بن کر شیخ کے وجود میں سما گئے،

میں نے کہا۔۔۔  ’’اے شیخ اگر وہ خرقہ پوش، وہ جواں مرد، وہ جواں سب آپ ہیں تو میں کیا ہوں ؟‘‘

شیخ نے مجھے دیکھا، بولے۔۔۔  ’’ایک مرتبہ کل جہان کے پکھیرو سی مرغ کی تلاش میں نکلے، برسوں بعد جب وہ تپتے صحراؤں ، برفانی پہاڑوں اور موت کی سات وادیوں سے گزر کر کوہ کاف پر پہنچے تو لاکھوں میں سے صرف تیس باقی رہ گئے۔ یہ تیس پرندے مختلف دروازوں سے گزر کر آخر کار ایک ایسے پردے کے سامنے پہنچے جس کے پیچھے سی مرغ پوشیدہ تھا۔ پردہ اٹھا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے سامنے ایک آئینہ ہے جس میں ان کا اپنا عکس دکھائی دے رہا ہے۔‘‘

میں نے سر اٹھایا۔۔۔  وہاں کوئی نہیں تھا،

یا شیخ۔۔۔  یا شیخ

لیکن شیخ ابو البختیار  مشہدی کا کچھ پتہ نہیں تھا، مزار سنسان پڑا تھا، نہ کوئی جھنڈا، نہ ڈھول کی تھاپ، ہر طرف ایک ویرانی اور اداسی۔۔۔  شاید مدتوں سے وہاں کوئی نہیں آ یا تھا اور میں نہ جانے کب سے ٹوٹی منڈیر پر جھکا اپنے آپ سے باتیں کئے جا رہا تھا،

٭٭٭