کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سمندر مجھے بلاتا ہے

رشید امجد


مرشد نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگی۔۔۔  ’’اے خدا! مجھے احدیت کے سمندر کی گہرائیوں میں داخل کر۔‘‘

اس نے تاسّف سے سر ہلایا۔۔۔  ’’لیکن میں تو ابھی دنیا کے سمندر میں بھی نہیں اتر سکا۔‘‘

مرشد مسکرایا۔۔۔  ’’دنیا بھی تو وہی ہے۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’اگر دنیا بھی وہی ہے تو میں الگ کیوں ہوں ؟‘‘

مرشد پھر مسکرایا۔۔۔  ’’تم الگ کہا ں ہو، سمندر تمہارے اندر بھی ہے اور باہر بھی۔‘‘

اس نے اپنے آپ کو ٹٹولا۔۔۔  ’’لیکن میرے اندر تو خلا ہے اور باہر ایک سناٹا۔‘‘

مرشد نے سر ہلایا۔۔۔  ’’یہ سب اس کی ادائیں ہیں۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’کیسی ادائیں۔۔۔  یہ ادا ہے تو جفا کیا ہے؟‘‘

مرشد نے کہا۔۔۔  ’’میں تمہیں ایک قصہ سناتا ہوں ، ایک مرید نے اپنے شیخ سے کہا، اے شیخ میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں ، جو سچ ہی سچ ہے۔‘‘

شیخ نے ایک لمحہ تردّد کیا پھر بولے۔۔۔  ’’تو جاؤ، وہ جو بلند پہاڑ ہے وہ تمہیں اس کی چوٹی پر ملے گا۔‘‘ مرید کئی مسافتوں کی صعوبتیں سہتا چوٹی پر پہنچا تو دیکھا کچھ لوگ وضو کر رہے ہیں۔ وہ بھی ان میں شامل ہو گیا۔ وضو کر کے لوگ کسی کا انتظار کرنے لگے۔

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’اے لوگو! تم کس کے منتظر ہو؟‘‘۔۔۔  وہ بولے۔۔۔  ’’اس کے جو سچ ہی سچ ہے، وہی یہاں امامت کراتا ہے۔‘‘

اتنے میں ایک شخص دائیں جانب سے نمودار ہوا۔ لوگ صفیں سیدھی کرنے لگے۔ آنے والا امام کی جگہ کھڑا ہو گیا۔ مرید نے بڑی کوشش کی کہ اسے دیکھے لیکن صفیں سیدھی ہو گئی تھیں اور وہ آخری صف میں تھا۔ نماز پڑھا کر جونہی امام سیدھا ہوا تو مرید نے دیکھا وہ تو شیخ ہیں۔ وہ دوڑ کر ان کے قریب گیا اور کہا۔۔۔  ’’شیخ! اگر یہ آپ ہیں تو میرا سفر کس لیے؟‘‘

شیخ مسکرائے۔۔۔  ’’بغیر جستجو کے سچ بھی سچ نہیں رہتا۔‘‘

وہ سوچ میں پڑ گیا۔

مرشد نے پوچھا، ’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘

اس نے کہا۔۔۔  ’’معلوم نہیں تماشا کیا ہے اور سچ کیا ہے؟‘‘

مرشد ہنسا پھر اس نے اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک زندہ مچھلی نکالی، پھر بایاں ہاتھ جلتے ہوئے تنور میں ڈال کر اس میں سے بھی زندہ مچھلی نکالی اور کہنے لگا۔۔۔  ’’پانی میں سے تو ہر کوئی زندہ مچھلی نکال سکتا ہے، آگ سے زندہ مچھلی نکالنا اصل کام ہے۔‘‘

اس نے کندھے اچکائے۔۔۔  ’’لیکن میں کیا کروں ، میرے لیے تو پانی اور آگ میں کوئی فرق نہیں کہ سمندر میرے اندر بھی ہے اور باہر بھی۔‘‘

مرشد نے سر ہلایا۔۔۔  ’’سمندر تو آگ بھی ہے اور پانی بھی، بس انا الخیر اور انا الحق کا فرق ہی سارا تماشا ہے  اور سارے راستے فنا کی طرف جاتے ہیں۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’فنا کیا ہے؟‘‘

مرشد کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری۔۔۔  ’’فنا جاننا ہے اور جاننے کے سارے راستوں میں لوگ کھڑے ہیں۔‘‘

اس نے انگلیوں پر گنا۔۔۔  ’’بیس تو ہو ہی جائیں گے۔‘‘

’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔۔۔ ‘‘ بیوی نے غصہ سے کہا۔۔۔  ’’آخری تاریخوں میں بیس آدمیوں کی چائے کا بندوبست کیسے ہو گا۔‘‘

’’لیکن‘‘

’’لیکن کیا، اب یہ چونچلے چھوڑو۔۔۔  دودھ سات روپے اور چینی دس روپے کلو ہو گئی ہے، آخر اس کی ضرورت کیا ہے۔‘‘

وہ ایک لمحہ چپ رہا پھر بولا۔۔۔  ’’ضرورت تو ہے، بڑا صاحب نیا نیا آیا ہے، اسی بہانے پی آر ہو جائے گی۔ نوکری کرنا ہے تو سب کچھ کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘

اور اسے خیال آیا، اسی بہانے سٹینو سے ملاقات کی صورت بھی نکل آئے گی۔۔۔  

’’آؤ گی نا۔۔۔ ‘‘

’’آ بھی جاؤں تو کیا۔۔۔  تمہارے اردگرد تمہارے بیوی بچے ہوں گے، میں آؤں بھی تو کس کے لیے۔۔۔  اندر ہی اندر سلگنے کے لیے؟‘‘

مرشد کھلکھلا کر ہنسا۔۔۔  ’’اندر ہی اندر سلگنے کا اپنا ہی ایک مزہ ہے۔‘‘

’’لیکن جب کوئی امید ہی نہ ہو؟‘‘

مرشد نے اسے گھورا۔۔۔  ’’امید اندھیرے میں کھویا ہوا راستہ ہے۔‘‘

’’لیکن صبح کب ہو گی؟‘‘ وہ بڑبڑایا۔

’’ابو! آپ ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں ، میڈم کہتی ہیں اگر کل سے وقت پر نہ آئے تو کلاس میں نہیں بیٹھنے دوں گی۔‘‘

بیوی نے ناشتہ لگاتے ہوئے بھنویں سکیڑیں۔۔۔  ’’رات کو جلد سوئیں تو صبح وقت پر آنکھ کھلے نا۔۔۔  پتہ نہیں کیا کرتے رہتے ہیں ، کبھی ایک کمرے میں جاتے ہیں ، کبھی دوسرے میں ، خدا جانے کیا بے چینی ہے؟‘‘

’’بے چینی روح کی طلب ہے۔‘‘ اس نے اپنے آپ سے کہا،’’اور جانے میں کسے ڈھونڈتا ہوں ، مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں وہ ہے کہاں ؟‘‘

’’کہیں بھی نہیں اور ہر جگہ۔‘‘ مرشد نے آہستہ سے کہا۔۔۔  ’’بس اپنی عینک کے نمبر ٹھیک کر لو۔‘‘

سٹینو نوٹس لے کر جانے لگی تو اس نے کہا۔۔۔  ’’آج مجھے عینک بدلوانا ہے، شام کو ملو تو کہیں بیٹھ کر چائے پی لیں۔‘‘

وہ ایک لمحہ چپ رہی، کچھ سوچا، پھر شانے اچکائے۔۔۔  ’’ٹھیک ہے۔‘‘

خوشی بے فکرے پرندے کی طرح اس کے وجود کے آسمان پر لمبی نیلی لکیر بناتی کہیں خلا میں کھو گئی۔

’’اسے پا بھی لیا تو کیا، نہ پا یا تو کیا۔۔۔  شاید زندگی پانے ہی کے راستوں میں کہیں کوئی چھوٹا سا وقفہ ہے۔ اس وقفہ سے جلدی سے گزر جانا ہی اچھا ہے۔‘‘

’’لیکن اتنی مایوسی بھی کیوں ؟ ’’وہ پیالی میں چمچ ہلاتے ہوئے اسے مسلسل دیکھے گئی۔

’’یہ بھی کیا ملنا؟‘‘اس نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔۔  ’’تھوڑی سی خوشی، پھر وہی گھر۔۔۔  وہی۔۔۔ ؟‘‘

’’تم اتنے بیزار کیوں ہو۔ وہاں تمہاری بیوی ہے بچے ہیں۔‘‘

’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘

’’کبھی کبھی سوچتی ہوں ، یہ راستے بھی کتنے عجیب ہیں ، کہاں کہاں سے گھوم کر پھر ایک دوسرے میں جا چھپتے ہیں۔‘‘

’’تمہارے رشتے کی کیا بات ہوئی؟‘‘

’’چل رہی ہے۔‘‘

’’پھر تو۔۔۔  تم مجھ سے نہیں ملو گی۔‘‘

’’کتنا عجیب ہے، ایک ایسی عورت جسے تم نہیں چاہتے اور ایک ایسا مرد جسے میں نہیں جانتی۔۔۔  لیکن ہم ایک دوسرے کو اپنی جھوٹی محبتوں کا یقین دلاتے رہیں گے۔‘‘

’’زندگی ایک جھوٹ ہی ہے، جس کا یقین دلاتے دلاتے عمر بیت جاتی ہے۔‘‘

وہ خاموشی سے چائے پیتی رہی، پھر بولی۔۔۔  ’’اب کوئی بھی ملاقات آخری ہو سکتی ہے، شاید یہی۔‘‘

اس نے سر اٹھایا۔

وہ ناخن سے پرچ کریدتے ہوئے بولی۔۔۔  ’’کیا معلوم وہ مجھے نوکری بھی کرنے دیتے ہیں یا۔۔۔ ‘‘

دونوں چپ چاپ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔

دفعتاً وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔  ’’یہ تو آخر ایک دن ہونا ہی ہے۔‘‘

اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔۔۔  ’’تم کتنی بے رحمی سے یہ بات کہہ رہے ہو‘‘۔۔۔  پھر ایک لمحہ چپ رہی، ’’لیکن تم ٹھیک ہی کہتے ہو، یہ تو ایک دن ہونا ہی ہے۔‘‘

کچھ دیر خاموشی رہی، پھر وہ بولی۔۔۔  ’’بیٹی کا اب کیا حال ہے؟‘‘

’’بخار تو اُتر گیا ہے۔۔۔  ارے یاد آیا، مجھے اس کے لیے دوا لینی ہے۔‘‘

بیوی نے دوا لیتے ہوئے اس کی طرف گہری نظروں سے دیکھا۔۔۔  ’’کیا بات ہے، آج کل تم بہت الجھے الجھے ہو۔‘‘

اس نے شانے اچکائے۔۔۔  ’’دھند میں راستہ نہیں مل رہا۔‘‘

مرشد مسکرایا۔۔۔  دھند اور روشنی اسی کے روپ ہیں اور راستہ گم ہو جائے تو نہ روشنی روشنی ہے نہ دھند دھند۔‘‘

’’لیکن میرے پاس تو اب کچھ بھی نہیں رہا۔۔۔  وہ بھی نوکری چھوڑ کر چلی گئی ہے۔‘‘

مرشد نے اس کے شانے کو تھپتھپایا۔۔۔  ’’جب اپنے پاس کچھ نہیں ہوتا تو ساری چیزیں دور بھاگتی ہیں۔ جتنا کہ ان کی طرف لپکو اور دور ہوتی جاتی ہیں۔ یہی تو اسے جاننے کا مرحلہ ہے۔‘‘

’’جان بھی گیا تو کیا کروں گا۔‘‘ اس نے تاسّف سے سر ہلایا۔۔۔  ’’میرا تو اپنا آپ بھی میرے لیے اجنبی ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

مرشد کے ہونٹوں پر ایک عجب مسکراہٹ ابھری۔۔۔  ’’ا پنے آپ سے اجنبی ہونا، سفر کا آغاز ہے۔ مبارک ہو تمہارا سفر شروع ہوا۔‘‘

پھر اس نے دونوں ہاتھ اٹھائے۔۔۔  ’’اے خدا! مجھے احدیت کے سمندر کی گہرائیوں میں داخل کر۔‘‘

اس نے کچھ کہنا چاہا، لیکن کہہ نہ سکا۔ اسے ایسا لگا جیسے سمندر اس کے اندر بھی ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور باہر بھی۔۔۔

اور وہ تن تنہا اس کے وسعتوں میں بہتا ہی چلا جا رہا ہے۔۔۔ 

 

 

(۲)

 

مرشد نے سسکاری بھری اور کہا۔۔۔  ’’میں جب قبرستان میں داخل ہوتا ہوں تو مجھ پر ایک عجب مسرت انگیز کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’کیسے؟‘‘

مرشد نے کہا۔۔۔  ’’مردے مجھے خوش آمدید کہتے اور جلد لوٹنے کی بشارت دیتے ہیں۔‘‘

اس نے کہا۔۔۔  ’’لیکن مجھے تو نہ کچھ دکھائی دیتا ہے نہ سنائی۔۔۔  میں تو سمندر میں بھی اترا تھا، لیکن اس نے مجھے کنارے پر اُچھال دیا۔‘‘

مرشد ہنسا۔۔۔  ’’سمندر غیر کو اپنے اندر نہیں سموتا، تم غیر بن کر گئے تھے۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’اپنا کیسے بنا جا سکتا ہے؟‘‘

مرشد کے تبسّم میں ایک ٹھہراؤ آیا۔۔۔  ’’کنارے کی خواہش دل سے نکال دو اور اس کی آواز سنو۔‘‘

’’لیکن کیسے؟‘‘ اس نے مایوسی سے سر ہلایا۔۔۔  ’’کچھ سنائی دے بھی تو۔‘‘

’’دیکھنے اور سننے کے لیے حوصلہ چاہئے اور حوصلہ قدم قدم ریاضت کی دھول ہے۔ تم نے ابھی یہ سفر شروع ہی نہیں کیا۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’سفر کیسے شروع ہو گا؟‘‘

مرشد نے لمحہ بھر توقّف کیا، پھر بولا۔۔۔  ’’سفر شروع نہیں کیا جاتا، بس ہو جاتا ہے، ایک مرشد کی ضرورت ہے جو سفارش کرے۔‘‘

اس نے کندھے جھٹکے۔۔۔  ’’فی الحال تو میرا معاملہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن (Establishment Div. ) میں اٹکا ہوا ہے، سنیارٹی ٹھیک ہو جائے تو پروموشن بھی۔۔۔  چار پانچ سو کا ایک دم فائدہ۔‘‘

مرشد نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔  ’’وہاں میرا کوئی جاننے والا نہیں اور یہ تو دنیاوی معاملہ ہے، میں تمہیں صرف مسرت انگیز کپکپی سے روشناس کرا سکتا ہوں۔‘‘

اس نے سر ہلایا۔۔۔  ’’پہلے جی تولوں ، پھر لوٹنے کی بات بھی کر لوں گا۔‘‘

’’تم کبھی لوٹنے کی بات نہیں کر سکو گے۔‘‘ مرشد نے تاسّف کیا۔۔۔  ’’تم بہتے دریا میں ایک کمزور تنکا ہو۔‘‘

اس نے کہا۔۔۔  ’’دریا کی یہ حالت ہو تو تنکا کر بھی کیا سکتا ہے۔‘‘

مرشد نے سر ہلایا۔۔۔  ’’ٹھیک کہتے ہو، جب زوال ایک منہ زور سیلاب کی شکل اختیار کر جائے تو اسے چھوٹے چھوٹے پتھروں سے نہیں روکا جا سکتا، اس کے لیے ایک بڑی فکر اور بڑی دانش کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم تو اب ایک فکری خلا میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔‘‘

’’فکر و دانش کو کیا ہوا؟‘‘

’’فکر و دانش کو تو کچھ نہیں ہوا، ہم ہی Immuneہو گئے ہیں۔‘‘

اس نے کہا۔۔۔  ’’تو پھر ہم یہ مکالمہ کس لیے کر رہے ہیں ؟‘‘

مر شد مسکرایا۔۔۔  ’’پھسلتی ڈھلوان پر اپنے قدموں کے جمے ہونے کے احساس کو برقرار رکھنے کے لیے۔۔۔  لیکن پھسلتی ڈھلوان اور اس کے نیچے اندھی کھائی نہ کچھ سنتی ہے نہ دیکھتی ہے اور ہم لمحہ لمحہ اس میں گر رہے ہیں ، یہی ہمارے عہد کا مقدر ہے۔‘‘

وہ چند لمحے چپ رہا پھر بولا۔۔۔  ’’لیکن میں گرنے سے پہلے ڈھلوان کے منظروں کو دیکھنا چاہتا ہوں ، دنیا کو اسی کے حوالہ سے سمجھنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’تم دنیا کو سمجھنے لگو تو مجھے اور کیا چاہئے۔‘‘بیوی نے ہونٹ سکوڑے۔۔۔  ’’تمہاری پوسٹ والوں نے دو دو کوٹھیاں بنا لی ہیں اور تم ابھی تک کرائے کے مکان میں پڑے ہو۔‘‘

اس نے شانے سکوڑے۔۔۔  ’’کیا فرق پڑتا ہے، جنہوں نے کوٹھیاں بنا لیں اور جو کرائے کے مکان میں ہیں ، زندگی تو سبھی کی گزر رہی ہے۔‘‘

بیوی نے غصہ سے سر ہلایا۔۔۔  ’’ایسی درویشی ہے تو کرائے کا مکان بھی کس لیے، فٹ پاتھ ہی کافی ہے، آخر وہاں بھی تو لوگ رہتے ہی ہیں۔‘‘

اس نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔۔  ’’کیا کروں ایسا درویش بھی نہیں ، کاش کسی ایک طرف تو ہو جاتا۔۔۔  آدھا دل ایک طرف اور آدھا دوسری طرف، بس یہ دل کا معاملہ ہی تو عجیب ہے۔‘‘

بیوی چند لمحے گھورتی رہی پھر دفعتاً بولی۔۔۔  ’’تمہاری سٹینو ملی تھی۔‘‘

’’کہاں۔۔۔  کیسی تھی؟‘‘ اس نے بے تابی سے پوچھا۔

’’تمہیں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟‘‘

اس نے بیوی کو غور سے دیکھا، ایک لمحہ کے لیے محسوس ہوا جیسے وہ سب کچھ جانتی ہے۔

’’ابو! انہوں نے مجھے اور بھائی کو ٹافیوں کا پیکٹ بھی لے کر دیا تھا۔‘‘

’’اچھا۔۔۔  لیکن وہ تم لوگوں کو ملی کہاں ؟‘‘

’’مارکیٹ میں۔۔۔  اپنے میاں کے ساتھ۔‘‘

’’کیسا ہے؟‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

’’بڑی خوبصورت جوڑی ہے۔‘‘ بیوی کی نظریں اس پر مسلسل جمی ہوئی تھیں ، پھر اس نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔۔  ’’کبھی تم بھی اسی طرح مجھے ساتھ لے جاتے تھے، کیا زمانہ تھا۔‘‘

’’ابو! انکل تو بہت اچھے تھے، بڑے خوبصورت۔ ہے نا امی۔‘‘ بیٹی ٹافیوں کا پیکٹ دکھاتے ہوئے بولی۔

ایسے لگا جیسے کوئی سیاہ چیز تیزی سے اس کے سارے چہرے پر پھسلتی چلی جا رہی ہے۔

’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ بیوی کی آواز میں بڑی گہرائی تھی۔ اس نے غور سے اس کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کی لیکن سارے لفظ گڈمڈ تھے، کچھ سمجھ نہ آیا۔

شاید وہ سب کچھ جانتی ہے، یا شاید کچھ بھی نہیں۔۔۔  خدا جانے !

اس نے تذبذب میں سر ہلایا اور اپنے اندر گھنے جنگل میں اتر گیا۔ گھنے درختوں کی ہری خوشبو چاروں طرف پھیل گئی۔ اس کا بدن ہریالی کے ذائقہ سے یکدم جاگ اٹھا، ایک لمبی سانس۔۔۔  ’’تنہائی بھی کیا چیز ہے، آدمی چاہے تو بھرے مجمعے میں تنہا ہو جائے، ساری آوازیں یکدم سکوت میں بدل جاتی ہیں۔ پاس ہی سے ایک پرندہ پھڑپھڑا کر نکلا اور دل آنگن میں ناچنے لگا۔ مُرلی کی تان چاروں طرف بکھر گئی۔

وہ تانوں کی لہروں پر قدم رکھتی آہستگی سے قریب آئی۔

’’تو تم خوش ہو؟‘‘ اس نے آنسوؤں بھری آواز میں پوچھا۔

’’تمہیں میری خوشی پسند نہیں۔‘‘ اس کا چہرہ بھی آنسوؤں میں ڈوبا ہوا تھا۔

’’تمہاری خوشی‘‘۔۔۔  وہ بڑبڑایا۔۔۔  ’’میں کتنا کمینہ ہوں ، تمہاری خوشی سے بھی جلتا ہوں۔‘‘

اور اسے لگا کہ سارا کچھ ایک دم بھڑکتی آگ میں تبدیل ہو گیا ہے، وہ دونوں آگ کی موسیقی پر ناچ رہے ہیں اور شعلوں کی لپکتی زبانیں ان کے چاروں طرف دھمال ڈال رہی ہیں۔

یکدم رقص تھم گیا، گہری خاموشی چھا گئی۔۔۔  موت ایسی خاموشی۔

اس نے گھبرا کر سر جھٹکا۔۔۔  ’’کیا ہوا ؟‘‘

’’میں تو بول بول کے بھی تھک گئی۔‘‘ بیوی نے بے زاری سے کہا۔۔۔  ’’اب تو تم نے ہوں ہاں کرنا بھی بند کر دیا ہے۔‘‘

چند لمحے وہ چپ رہی پھر بولی۔۔۔  ’’سمجھ نہیں آتا تمہیں ہوا کیا ہے۔۔۔  کبھی تم۔۔۔ ‘‘ اس کاگلا رندھ گیا۔۔۔  ’’اب تو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔‘‘

اسے اپنا آپ اجنبی سا لگا۔۔۔  ٹھاٹھیں مارتا سمندر یکدم دور چلا گیا، مرشد کی آواز دھیمی پڑ گئی۔۔۔  اس نے سر اٹھا کر غور سے بیوی اور پھر بچوں کو دیکھا۔۔۔  ’’واقعی مجھے کیا ہو گیا ہے۔۔۔  میں کس راستہ پر آ نکلا ہوں۔‘‘

چاروں طرف ایک گہری دھند سی ہے، جس میں اس کا اپنا آپ بھی سائے کی طرح لگ رہا ہے۔۔۔  پھسلتی ڈھلوان پر اکھڑے قدموں کا تکلیف دہ احساس، وہ کسے آوازیں دے رہا ہے، سمندر تو اس کے اندر ہے، وہ باہر کسے تلاش کر رہا ہے۔۔۔ 

چاروں طرف دھند ہی دھند ہے۔

کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

بس دور کہیں وہ ایک لمحہ ہے، پھسلتی ڈھلوان پر قدم جمانے کا خوشگوار احساس، زوال کے منہ زور سیلاب کے سامنے ایک چھوٹا سا پتھر۔۔۔ 

’’یہ کیسا راستہ ہے۔۔۔  راستہ ہے بھی کہ نہیں۔‘‘

ایک گہری دھند۔۔۔

’’کیا سوچ رہے رہو؟‘‘ بیوی کی آواز دور سے کہیں آتی ہوئی محسوس ہوئی۔

دھند کے اندر جھانکنے کی کوشش

اور دھند۔۔۔  اور دھند

چند لمحے یہی کیفیت رہی، پھر اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ بیوی کے کندھے پر رکھا اور بولا۔۔۔  ’’کچھ بھی نہیں ، بس ایک دو اہم فائلیں پینڈنگ (Pending) ہیں ، ان ہی میں الجھا ہوا ہوں۔‘‘

بیوی نے یقین اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں اس کی طرف دیکھا۔

۔۔۔  ’’بچے آج کل آپ کو بہت مِس کر رہے ہیں ، آج انہیں ایوب پارک لے جائیں نا۔‘‘

اس نے لمحہ بھر سوچا۔۔۔  دھند میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی ایک آخری سعی کی، کچھ دکھائی نہ دیا تو چند لمحے چپ رہنے کے بعد بولا۔۔۔  ’’ٹھیک ہے۔‘‘

بچوں نے بیک وقت ایک مسرت انگیز کلکاری ماری۔

مرشد کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔  ’’یہی مسرت انگیز کپکپی وہ چھپا ہوا لمحہ ہے جسے تلاش کرتے عمریں بیت جاتی ہیں۔‘‘

اور اسے لگا جیسے اس مسرت انگیز کلکاری نے چاروں طرف پھیلی دھند میں دراڑ سی ڈال دی ہے، ایک چھوٹا دروازہ کھول دیا ہے، تازہ ہوا اور خوشبو دار روشنی کا چھوٹا سا دروازہ۔۔۔  جس سے آگے چند ہی قدموں پر سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔

 

(۳)

 

اس نے ایک لمحہ توقّف کیا۔ پھر بولا، ’’یہ کہانی بہت الجھی ہوئی ہے، اس لیے اسے کسی ترتیب سے سنانا ممکن نہیں۔‘‘

مرشد مسکرایا۔۔۔  ’’زندگی تو خود ایک بے ترتیب کہانی ہے۔ ہم سارا وقت اسے ترتیب دینے میں گزار دیتے ہیں اور تم نے سنا نہیں ، جب چیزوں میں ضرورت سے زیادہ ترتیب پیدا ہو جائے تو وہ ٹوٹ جاتی ہیں۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’تو پھر میں کہانی کہاں سے شروع کروں ؟‘‘

مرشد ہنسا۔۔۔  ’’کہانی تو شروع ہے۔ میں اور تم اس کے چھوٹے چھوٹے کردار ہیں۔ جو اپنی مرضی سے نہ شروع کر سکتے ہیں ، نہ ختم۔‘‘

اس نے کہا۔۔۔  ’’اگر ہم اتنے بے بس ہیں تو پھر کیسی کہانی اور کیسے کردار؟‘‘

مرشد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا۔۔۔  ’’آؤ میں تمہیں اس کہانی کے شہر میں لے چلوں۔‘‘

وہ شہر میں داخل ہوئے تو مرشد یک دم کہیں غائب ہو گیا۔

شہر اس کے سامنے تھا اور وہ اکیلا،

سامنے ایک کھلا میدان تھا۔ وہ آہستہ آہستہ میدان کے قریب پہنچا۔ دیکھا کہ میدان کے درمیان میں ایک صلیب گڑی ہے جس پر کوئی ٹنگا ہوا ہے، وہ گھبرا کر تیز تیز چلتا قریب پہنچا۔ صلیب پر ٹنگے نے اس کی چاپ سن کر آنکھیں کھولیں اور مسکرا کر بولا۔۔۔  ’’تم بھی پتھر مارنے آئے ہو۔‘‘

اس نے گھبرا کر دونوں ہاتھ آگے کیے، ’’میرے تو ہاتھ ہی خالی ہیں اور پھر میں کیوں پتھر ماروں گا۔‘‘

صلیب والا ہنسا۔۔۔  ’’یہاں پتھر مارنے کے لیے کسی وجہ کا ہونا ضروری نہیں ، ایک کو دیکھ کر دوسرا بھی شروع ہو جاتا ہے۔‘‘

اس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔۔۔  ’’لیکن یہاں تو کوئی نہیں ، لوگ کدھر چلے گئے۔‘‘

صلیب والا ایک لمحہ چپ رہا پھر بولا، ’’وہ سارے واش بیسنوں کے سامنے کھڑے اپنے ہاتھ دھو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس فیصلہ میں ان کا ہاتھ نہیں۔‘‘

اس نے پوچھا، ’’کس فیصلہ میں ؟‘‘

’’مجھے مصلوب کرنے کا فیصلہ۔۔۔ ‘‘

’’ان کا ہاتھ نہیں تو پھر یہ فیصلہ کس نے کیا ہے؟‘‘

’’انہوں نے ہی، لیکن اپنی مرضی سے نہیں ، بس ایک دوسرے کو دیکھ کر انہوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کئے تھے۔ یہاں یہی ہوتا ہے، یہاں کسی کو معلوم نہیں وہ کیا کر رہا ہے۔ بس جو دوسرے کر رہے ہیں وہ بھی وہی کرتا ہے۔‘‘

پھر اس نے آسمان کی طرف نظریں کیں۔۔۔  ’’اے خدا! ان کے کھیتوں میں فصلیں سر سبز اور لہلہاتی رہیں ، ان کے دریاؤں میں پانی موجیں مارے اور۔۔۔ ‘‘

وہ دعا کے باقی لفظ سنے بغیر ہی وہاں سے بھاگ نکلا اور دوڑتا ہوا سڑک پر آگیا۔ لوگ ہر کام کرنے سے پہلے دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔

اسے لگا، وہ سارے کسی پُر اسرار شے کی گرفت میں ہیں۔

کیا یہ جادو کا شہر ہے؟

اور یہ سارے لوگ، لوگ ہیں بھی یا جادو کے پتلے ہیں۔

اگر یہ سارا کچھ جادو ہے تو سامری کہاں ہے؟

اس نے اپنے آپ کو ٹٹولا۔۔۔  یہ خواب تو نہیں۔

اگر خواب ہے تو کتنا طویل اور اُکتا دینے والا کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا،

یہاں ہر شخص نے استری کیا ہوا لباس پہنا ہوا ہے، لیکن اندر شکنیں ہی شکنیں۔ وہ آہستہ آہستہ بڑے چوک میں ایستادہ مجسمہ کے سامنے پہنچ گیا۔ مجسمہ جگہ جگہ سے تڑخا ہوا تھا اور اب اس کا ہیولا ہی باقی رہ گیا تھا۔

وہ دیر تک اس ہیولے کے سامنے کھڑا رہا۔ پھر اس نے پاس سے گزرتے ایک شخص سے پوچھا، ’’یہ مجسمہ کب ٹوٹا تھا؟‘‘ اس شخص نے کچھ سوچا۔۔۔  ’’یاد نہیں ، مدت سے یونہی ہے۔‘‘

اس نے پھر سوچا، ’’لیکن یہ تو تمہارا ہیرو تھا۔‘‘

’’شاید، ہاں۔۔۔  لیکن ہمارا عہد بغیر ہیرو کا عہد ہے۔‘‘

 ’’بغیر ہیرو کا عہد۔۔۔ ‘‘

’’ہاں ہمارا ہیرو مدت ہوئی مر چکا۔ ہم نے اسے مار دیا۔ اب نئے ہیرو کے جنم لینے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

’’لیکن وہ کب جنم لے گا؟‘‘

’’کون جانے۔۔۔  جنم لے گا بھی کہ نہیں۔‘‘ اس نے کندھے اچکائے اور آگے بڑھ گیا۔

وہ وہیں ہیولے کے قدموں میں بیٹھ گیا۔

عجیب شہر ہے۔۔۔  ہر چیز کو اوپر سے چمکایا جا رہا ہے اور اندر سے وہ تڑختی چلی جا رہی ہے۔

یہاں ہر شخص کا اپنا ایک جہنم ہے، جس کا انتخاب اس نے خود کیا ہے۔

مرشد نے ہیولے کے پیچھے سے سر نکالا۔۔۔  ’’یہ بیماروں کا شہر ہے لیکن ہر شخص خود کو تندرست سمجھتا ہے۔‘‘

اس نے مرشد کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔  ’’اس شہرِ بے وفا میں مجھے اکیلا نہ چھوڑو۔‘‘

مرشد نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔۔۔  ’’میں تمہارے ساتھ تھا۔ ہر لمحہ۔‘‘

اس نے کہا۔۔۔  ’’لیکن تم مجھے دکھائی کیوں نہیں دئیے؟‘‘

مرشد ہنسا۔۔۔  ’’یہی تو اس شہر کی خصوصیت ہے، یہاں کسی کو اپنا آپ دکھائی نہیں دیتا، سارے دوسروں کو دیکھتے ہیں !‘‘

اس نے کہا۔۔۔  ’’تو پھر میں اس شہر سے نکلتا ہوں۔‘‘

مرشد نے نفی سے سر ہلایا۔۔۔  ’’اس شہر سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔‘‘

’’کوئی راستہ نہیں۔۔۔ ‘‘ وہ خوف زدہ آواز میں بولا۔

مرشد لمحہ بھر چپ رہا۔ پھر بولا۔۔۔  ’’صرف ایک راستہ ہے۔‘‘

’’وہ کیا؟‘‘

وہ جو صلیب پر ٹنگا ہے، اسے صلیب سے اتار دیا جائے اور اس کی جگہ کسی دوسرے کو مصلوب کیا جائے۔‘‘

’’لیکن کسے؟‘‘

’’جو شہر سے نکلنا چاہتا ہے۔‘‘

’’یعنی۔۔۔ ‘‘ اس نے خوف سے اپنے جسم پر ہاتھ پھیرا، ’’لیکن میں مصلوب نہیں ہونا چاہتا۔‘‘

مرشد نے اس کا کندھا دبایا، ’’تو پھر جو کر رہے ہو، اسے کرتے رہو۔‘‘

اس نے ایک لمبی سانس لی اور قلم اٹھایا۔ سیکشن آفیسر نے فائل آگے کھسکاتے ہوئے کہا، ’’سر سیکرٹری صاحب دو بار فون کر چکے ہیں۔ میں نے ان کی مرضی کے مطابق نوٹ بنا دیا ہے۔‘‘

اس نے سر ہلایا اور نوٹ کے نیچے دستخط کر دئیے، ’’ٹھیک ہے، یہ فائل ابھی ان کے پاس بھیج دو۔‘‘

پھر فوراً ہی اسے کوئی خیال آیا، ’’نہیں ٹھہرو، میں خود ہی لے جاتا ہوں۔ آج صبح سے انہیں سلام کرنے بھی نہیں جا سکا۔‘‘

 

(۴)

 

اس نے آنسوؤں سے تر آنکھیں اوپر اٹھائیں اور بولا۔۔۔  ’’بس وہ ایک نفسِ مطمئنہ ہے نا، وہ نہیں۔‘‘

مرشد نے سر ہلایا۔۔۔  ’’رسّے پر ڈولنے والوں کو نفسِ مطمئنہ نہیں ملتا۔‘‘

اس نے حیرت سے پوچھا۔۔۔  ’’رسے پر ڈولنے والے!‘‘

’’ہاں ‘‘ مرشد مسکرایا۔۔۔  ’’جب دنیا داری کا سلیقہ نہ ہو اور درویشی کا ظرف نہ ہو تو آدمی رسے پر ہی ڈولتا رہتا ہے۔‘‘

’’شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘

’’بس کسی ایک طرف ہو جاؤ، درمیان میں لٹکتے رہے تو زندگی ایک عذاب بن جائے گی۔‘‘

وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا۔۔۔  ’’لیکن کسی ایک طرف ہو جانا بھی تو میرے بس میں نہیں ، میں تو اس کشمکش میں کرچی کرچی ہو گیا ہوں۔‘‘

مرشد کچھ نہیں بولا۔

’’رسے کے ایک طرف کھلکھلاتی دنیا ہے اور دوسری طرف سرمئی دھند۔۔۔ 

میں اس دھند میں اترنا چاہتا ہوں ، لیکن رسے کا دوسرا سرا نہیں چھوڑتا اور میں شاید اسے چھوڑنا چاہتا بھی نہیں ، میرے بچے اپنے معصوم ہاتھوں سے مجھے گدگداتے ہیں۔ ان کی انگلیوں کا لمس۔۔۔  لیکن دور کہیں وہ سرمئی سی دھند، اس کی تہہ میں اترنے والا راستہ کہاں جاتا ہے۔ وہ کون ہے؟ جو کبھی کبھی ایک جھلک دکھلا کر پکارتا ہے؟ میں اپنے نام کی پکار سنتا ہوں تو بے اختیار قدم ادھر اٹھنے لگتے ہیں ، لیکن رسے کا توازن، ایک بے چینی، مجھے نفسِ مطمئنہ کب ملے گا؟‘‘

مرشد مسکرایا۔۔۔  ’’نفسِ مطمئنہ بھی بس ایک تصور ہی ہے جو ہاتھ آتا ہے لیکن پھر بھی نہیں آتا۔‘‘

ایک طرف کھلکھلاتی دنیا ہے، لذتیں اور محرومیاں ، ساتھ ساتھ! بیوی کہتی ہے، ابھی تک مکان نہیں بن سکا۔ ملازمت میں ترقی نہیں ہوئی۔ بچے سکوٹر پر ریڑھے کی طرح لَد کر سکول جانے کی بجائے اب کار میں جانا چاہتے ہیں ، میں بھی یہی سب کچھ چاہتا ہوں لیکن کر نہیں سکتا۔

دفتروں میں رشوت دے کر خوشامد کر کے کام کروانا چاہتا ہوں لیکن طریقہ نہیں آتا، دفتر میں عام ساتھیوں سے لے کر سربراہ تک ہر ایک کو خوش کرنا چاہتا ہوں لیکن کہیں نہ کہیں کوئی گڑ بڑ ہو جاتی ہے۔

کہیں نہ کہیں کوئی گڑ بڑ ضرور ہو جاتی ہے۔

مرشد اس کا شانہ تھپتھپاتا ہے۔۔۔  ’’گڑ بڑ باہر نہیں تمہارے اندر ہے، بس کسی ایک راستے کا انتخاب کر کے اسے قبول کر لو۔‘‘

ہر قدم پر ایک نہ ایک چیز، ایک نہ ایک رستے کا انتخاب! شاید میں نے زندگی کا انتخاب بھی اسی دو دلی سے کیا ہے، اسی لیے زندگی مجھ سے گریز پا ہے اور دوسرے کنارے پر اس سرمئی دھند میں جو چھپا بیٹھا ہے اور جو کبھی کبھی مجھے پکارتا ہے۔ کیا میں بھی اس کا اسی طرح کا گریز پا انتخاب ہوں ، اَن چاہا؟ زندگی ایک جبر ہے، پیدا کرنے والے کے لیے بھی اور پیدا ہونے والے کے لیے بھی۔

اور یہ رسے کے درمیان رہ کر ڈولنے میں بھی ایک عجیب مزہ ہے، ایک ایسی لذت جسے خود ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ گر پڑنے کا خوف، دونوں کناروں سے آتی آوازیں ، ترغیبات اور اپنی اپنی طرف کھینچنے کی کوششیں ؟ اور یہ درمیان؟ یہ بھی عجیب جگہ ہے، شاید ہر چیز کا ایک درمیان ہوتا ہے یا شاید نہیں ہوتا۔ یہ محض ایک فریب ہے، ایک ایسی کیفیت جو خود طاری کردہ ہے، یا واقعی کوئی درمیان ہوتا ہو جہاں سب کچھ بے معنی ہو جاتا ہے اور یہ درمیان، یہ جھولتا رسہ، جہاں میں کھڑا ہوں ایک زندہ حقیقت ہے۔ اس کے دونوں کناروں کی دنیائیں مجھے اپنی اپنی طرف کھینچتی ہیں ، کلکاریاں مارتے بچے، لذت بھری دنیا۔۔۔  

اور دوسری طرف وہ سرمئی دھند، جس کے پیچھے چھپا وہ، جو روشنی کی طرح پھیلتا سکڑتا ہے۔۔۔  اور درمیان میں مَیں ! سمجھ نہیں آتا کدھر جاؤں ؟

ایک عجیب تذبذب ہے۔

جانا تو میں دونوں طرف چاہتا ہوں ، لیکن ایک طرف جانے کا سلیقہ نہیں ، دوسری طرف کا ظرف نہیں۔۔۔  

زندگی بس ایک شرارہ ہے جو کہیں سے اڑتا ہوا آتا ہے اور زمین کو چھوتے ہی پلک جھپکنے میں شعلہ بن جاتا ہے۔ رقص کرتا شعلہ، جو جلاتا بھی ہے اور جنم بھی دیتا ہے۔

مرشد کچھ نہیں بولا، بس اسے دیکھے گیا۔

’’یہ بے دلی۔۔۔  مجھے تو یوں لگتا ہے کہیں کسی جگہ ایک انچ کی کسر رہ گئی ہے۔‘‘

’’شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘مرشد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔۔  ’’مجھے یوں لگتا ہے ہماری اجتماعی موت واقع ہو چکی ہے۔‘‘

’’اجتماعی موت؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔۔۔  ’’تو پھر یہ ہمارے درمیان مکالمہ کیا ہے؟‘‘

مرشد لمحہ بھر چپ رہا پھر بولا۔۔۔  ’’اجتماعی موت تو ہو چکی ہے لیکن ابھی تک کہیں کہیں انفرادی احساس باقی ہے، اسی لیے تو اصل اور نقل میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے، سمجھ نہیں آتا، اصل کیا ہے اور عکس کیا ہے؟‘‘

مرشد کی بات سن کر وہ دفعتاً چونک پڑا۔

’’اصل اور عکس، یہی کہا نا تم نے۔‘‘

مرشد نے سر ہلایا۔۔۔  ’’ہاں ‘‘

’’بس میں سمجھ گیا، ساری گڑ بڑ یہ ہے کہ میں جو ہوں وہ نہیں ہوں بلکہ اپنی فوٹو سٹیٹ کاپی ہوں۔‘‘

مرشد سوچ میں پڑگیا، بہت دیر چپ رہا پھر بولا۔۔۔  ’’شاید یہی ہو، ہم سب اصل کی فوٹو کاپیاں ہی ہوں ، یہ ہماری دنیا بھی اصل کی فوٹو کاپی ہو، لیکن جہاں اصل ہے کیا وہاں رسے پر کوئی نہیں ڈولتا، وہاں نفسِ مطمئنہ کا کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘

دونوں چپ چاپ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے کہ اس سوال کا جواب نہ مرشد کے پاس تھا، نہ اس کے پاس!

 

 

 

(۵)

 

سمندر جب اس کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ آنکھیں ملتا دروازہ کھولتا ہے تو دیکھتا ہے کہ مرشد سمندر کی لہروں پر تیرتا کلکاریاں مار رہا ہے، سمندر اسے دیکھ کر ایک نعرۂ مستانہ لگا کر جھپٹ پڑتا ہے۔ وہ سر سے پیر تک سمندر ہو جاتا ہے۔

مرشد کہتا ہے، ’’چلے آؤ۔‘‘

ایک لمحہ کے لیے مڑ کر دیکھتا ہے۔ گھر، گھر میں سوئے بیوی بچے، دنیا داری، فیصلے کا لمحہ طویل ہونے لگتا ہے۔ لیکن مرشد آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور اسے اپنے ساتھ کھینچ لاتا ہے۔ سمندر دونوں کو اپنے بازوں میں سمیٹ کر پیچھے ہٹنے لگتا ہے اور دھیرے دھیرے اپنے کناروں میں لوٹ آتا ہے۔

حدِ نظر تک سرمئی دھند ہے جس میں وہ اور مرشد چلے جا رہے ہیں۔ مڑ کر دیکھنے کی خواہش۔۔۔  لیکن کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

مرشد پوچھتا ہے۔۔۔  ’’کیا بات ہے، کسے ڈھونڈ رہے ہو؟‘‘

وہ چند لمحے چپ رہتا ہے۔ پھر کہتا ہے۔۔۔  ’’صبح ہونے سے پہلے مجھے گھر لوٹنا ہے۔‘‘

مرشد ہنستا ہے۔۔۔  ’’گھر ایک جال ہے۔ تم اس سے باہر نکل کر بھی دوبارہ اس میں پھنسنے کی تمنا کرتے ہو۔‘‘

جال تو ہر جگہ ہیں ، چھوٹے چھوٹے، بڑے بڑے۔ کلاس روم میں لڑکے اسے دیکھے جا رہے ہیں۔ وہ حاضری کا رجسٹر ایک طرف کر کے کھنکارتا ہے۔ پھر کہتا ہے۔۔۔  ’’یہ جو فضا ہے نا، یہ بھی ایک جال ہے، جس سے آگے ہم نہیں جا سکتے۔ یہ سانس بھی چھوٹا سا جال ہے اور آدم کو آسمانوں کی وسعتوں سے نکال کر اس دنیا کے جال میں بند کر دیا گیا۔‘‘

گھنٹی کی آواز سنتے ہی لڑکے اس کی بات ادھوری چھوڑ کر باہر نکل جاتے ہیں ، وہ اکیلا رہ جاتا ہے۔

سانپ کو اکیلے ہی میں موقع مل گیا تھا۔

وہ ممنوع پھل کے ذائقہ کو بدن پر محسوس کرتا ہے۔

یہ ذائقہ۔۔۔  یہ ترغیب، لیکن وہ دونوں تو خود ہی ایک دوسرے کے لیے ترغیب تھے۔

پھر گناہ کیسا؟

اور اس ترغیب نے تو خود اس کے جسم سے جنم لیا ہے، یہ اس کی زندگی بھی ہے اور موت بھی،

وہ  اس کے ہاتھ کو آہستگی سے سہلاتا ہے اور کہتا ہے، ’’چلو بھاگ چلیں۔‘‘

وہ بڑی بڑی غلافی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھتی ہے، منہ سے کچھ نہیں بولتی۔

مشکی گھوڑا انہیں لیے اڑا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہے۔۔۔  ’’ذرا آرام نہ کر لیں ، وہ تو بہت پیچھے رہ گئے۔‘‘

پھر وہی ترغیب۔۔۔  

وہ لمحہ بھر کے لیے ہچکچاتا ہے۔۔۔  ’’منزل پر پہنچ جائے تو۔‘‘

وہ نیند بھری غلافی آنکھوں سے اس کے بدن کو گدگداتی ہے۔

ترغیب وہی ترغیب۔۔۔

گھوڑے کو درخت سے باندھتے ہوئے وہ ترکش کو احتیاط سے اپنے قریب رکھتا ہے۔

بھاگتے ٹاپوں کی آواز اسے جھنجھوڑتی ہے تو وہ تیزی سے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔

وہ کھلکھلا تی ہے۔

ہنہناتے مشکی گھوڑوں پر سوار وہ سارے اس کی کھلکھلاہٹ میں شریک ہوتے ہیں۔

وہی ترغیب وہی دھوکا۔

وہ چکرا کر سمندر کی بانہوں میں آ گرتا ہے، مرشد کہتا ہے۔۔۔  ’’واپسی مبارک ہو۔‘‘

’’لیکن‘‘۔۔۔  وہ بڑبڑاتا ہے۔۔۔  ’’میں نے دھوکا کیوں کھایا؟‘‘

مرشد مسکراتا ہے۔۔۔  ’’دھوکہ آدمی اپنے آپ ہی سے کھاتا ہے اور وہ کچھ بھی نہیں ، جو کچھ ہے وہ تم ہی تم ہو۔‘‘

’’تو کیا میں نے اپنے آپ کو ترغیب دی، گناہ کا راستہ دکھایا۔‘‘

مرشد اور سمندر کچھ نہیں بولتے، بس ہنسے جاتے ہیں ، وہ بھی ان کی ہنسی میں شامل ہو جاتا ہے۔ تینوں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔ لوٹ پوٹ ہوتے اس آنکھ کھل جاتی ہے۔

وہ بے خبر سو رہی ہے اور اس کا ترغیب دیتا جسم آنکھیں مار رہا ہے۔

تو یہ میں ہی ہوں جو اپنے آپ کو گناہ پر اُکسا رہا ہوں۔

دفعتاً وہ جاگ پڑتی ہے۔۔۔  ’’کیا بات ہے، کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘

’’کچھ نہیں ، کچھ نہیں ‘‘۔۔۔  وہ گڑ بڑا جاتا ہے۔

وہ انگڑائی لے کر اٹھتی ہے۔۔۔  ہاتھوں سے بال سمیٹ کر جوڑا بناتے ہوئے کہتی ہے۔۔۔  ’’پریشان کیوں ہو؟‘‘

’’کچھ نہیں ‘‘۔۔۔  وہ بڑبڑاتا ہے۔۔۔  ’’یہ تو میرا مقدر ہے کہ مجھے ترغیب دینے والا، میرا قاتل مجھ ہی میں سے پیدا ہو گا۔‘‘

وہ کھڑکی کے پاس آتا ہے۔ سمندر اور مرشد دونوں کا کہیں پتہ نہیں ، وہ کچھ دیر خلا میں گھورتا رہتا ہے پھر مڑتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔  ’’ہر شخص کا اپنا اپنا جہنم ہے جس کا انتخاب وہ خود ہی کرتا ہے اور اس کی آگ کو تیز کرنے کے لیے وہ خود ہی اس میں ایندھن بھی ڈالتا رہتا ہے۔‘‘

پھر خود سپردگی کے عالم میں آہستہ آہستہ اس کی غلافی آنکھوں اور کھلکھلاتے جسم کے  بھنور میں ڈوبتا چلا جا تا ہے!

 

(۶)

 

مرشد نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور بولا۔۔۔  ’’اے خدا! میری واپسی کے سفر کو سانس لیتے منظروں سے ہمکنار کر۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’لوٹ کر کب آؤ گے؟‘‘

مرشد مسکرایا۔۔۔  ’’تم زندہ رہنے کا سلیقہ جان گئے ہو، اب میرے آنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

اس نے سر ہلایا۔۔۔  ’’یہ توہے، لیکن پھر بھی کبھی کبھی یاد تو آؤ گے نا۔‘‘

مرشد ہنسا۔۔۔  ’’کیا معلوم میں کبھی یاد آؤں بھی کہ نہیں ، دنیا میں بڑے رنگ ہیں اور آہنگ بھی اور کان ایک بار بند ہو جائیں تو آوازیں قید ہو جاتی ہیں۔‘‘

اس نے کہا، ’’چھوڑو اس بات کو، آؤ آخری بار کسینو چلتے ہیں۔‘‘

’’آج کل تم کافی مالدار ہو گئے ہو۔‘‘مرشد نے سر ہلایا۔

’’نہیں میرے پاس کچھ بھی نہیں بس زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘‘

’’تھوڑی سی کوشش اور کریں تو ہم یہ مکان خرید سکتے ہیں۔‘‘ بیوی نے چائے کی پیالی اس کے آگے کھسکاتے ہوئے کہا۔

’’ہاں ابو۔۔۔  یہ گھر تو بہت اچھا ہے۔‘‘ بیٹی نے تائید کی۔

’’لیکن۔۔۔ ‘‘

’’لیکن کیا، جس جاب پر تم ہو وہاں ایسی باتوں کے لیے صرف اشارے کی ضرورت ہے۔‘‘

‘‘لیکن مجھے یہ اشارہ کرنا ہی تو نہیں آتا۔‘‘

مرشد ہنسا۔۔۔  ’’میرا خیال ہے تم اب خاصے ٹرینڈ ہو چکے ہو، پھر ڈر کس کا۔‘‘

وہ چند لمحے سوچتا رہا پھر بولا۔۔۔  ’’باہر سے کوئی ڈر نہیں بس یہ کم بخت اندر کوئی گڑ بڑ ہے۔ جب بھی اشارہ کرنے لگتا ہوں تو اندر کوئی چیز تڑخ جاتی ہے۔‘‘

مرشد سوچ میں پڑ گیا۔۔۔  ’’اس کا مطلب ہے ابھی تمہارے پتھرانے کا عمل مکمل نہیں ہوا، تمہاری بیوی نے کوشش تو بہت کی ہے۔‘‘

’’ہاں ‘‘ اس نے سر ہلایا۔۔۔  ’’لیکن اس کی کوششوں سے کچھ نہیں ہوا، مگر یہ بچے۔۔۔  انہیں دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں ، میرے سچ کی سزا یہ کیوں بھگتیں۔‘‘

مرشد نے کچھ دیر تدبّر کیا، پھر بولا۔۔۔  ’’نیکی کا عمل بہت لمبا ہوتا ہے اور سچ نسل در نسل چلتا ہے۔‘‘

’’شاید اسی لیے مٹھاس کڑواہٹ میں بدل جاتی ہے۔‘‘

مرشد نے اسے گھورا۔۔۔  ’’تم ایک ایسے سرکش گھوڑے پر سوار ہو جس کی باگیں تمہارے ہاتھ میں نہیں۔‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔  ’’جہاں رکنا چاہتا ہوں ، وہاں رک نہیں سکتا اور جہاں نہیں رکنا چاہتا وہاں رکنا پڑتا ہے۔۔۔ ‘‘

’’بس یہی تمہارا المیہ ہے، تم لمحہ سے گریزاں ہو۔‘‘

اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

وہ لمحہ کی دہلیز پر نمودار ہوئی۔۔۔  ’’میں اب بھی تمہاری منتظر ہوں۔‘‘

وہ دونوں بازو پھیلا کر اس کی طرف بڑھا، لیکن عین اسی لمحہ مرشد نے اس کا شانہ تھپتھپایا۔۔۔  ’’لو بھئی میں تو چلا۔‘‘

اس نے مرشد کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔  ’’میں اس عذاب سے کب نکلوں گا، میری واپسی کا حکم کب ہو گا؟‘‘

مرشد مسکرایا۔۔۔  ’’واپسی ایک کیفیت ہے، ایک لذت آمیز کیفیت، تم جب چاہو اس کا ذائقہ محسوس کر سکتے ہو۔‘‘

اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری اور بولا۔۔۔  ’’میرے منہ میں ایک بدمزہ کسیلا لباب ہے۔‘‘

پھر اس نے چائے کا لمبا گھونٹ بھرا۔۔۔  ’’یہ کڑواہٹ جاتے نہیں جاتی۔‘‘

بیوی نے شکر دان آگے بڑھایا۔۔۔  ’’چینی تو ڈالی ہی نہیں کڑواہٹ کیسے جائے گی۔‘‘

اس نے بے دلی سے شکر دان پکڑ لیا اور چینی گھولتے ہوئے بولا۔۔۔ 

’’بچے کہاں ہیں ؟‘‘

’’پڑوس میں گئے ہیں ، گڈو کی سالگرہ ہے۔‘‘

’’اچھا‘‘۔۔۔  وہ چونکا۔۔۔  ’’تو بچوں کو کوئی تحفہ لے دینا تھا، خالی ہاتھ گئے ہیں کیا؟‘‘

’’کیا لے کر جاتے؟‘‘

’’کمال کرتی ہو۔‘‘ وہ جھنجھلا گیا۔۔۔  ’’تمہیں پتہ بھی ہے کہ گڈو کے ابو اسٹیبلشمنٹ میں ہیں ، دس کام ہوتے ہیں ان سے اور ابھی تو میری سنیارٹی کا معاملہ بھی پھنسا ہوا ہے۔‘‘

مرشد ہنستے ہنستے دہرا ہو گیا۔۔۔  ’’تم چلتے تو ٹھیک راستے پر ہو، لیکن درمیان میں سے جو اُچھلنے کی کوشش کرتے ہو تو سارا معاملہ خراب ہو جاتا ہے۔‘‘

اس نے بے بسی سے کندھے ہلائے۔۔۔  ’’میں کیا کروں۔۔۔  زندہ بھی رہنا چاہتا ہوں اور وہ منظر بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

مرشد ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔۔۔  ’’کسی ایک طرف ہو جاؤ، دو کشتیوں میں سوار ہونے سے کہیں بھی نہیں پہنچ پاؤ گے۔‘‘

وہ چپ رہا۔

مرشد نے پوچھا۔۔۔  ’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘

’’کسی چیز کو پانا الگ بات ہے لیکن اس کی تمنا تو کی جا سکتی ہے۔۔۔  ہے نا!‘‘

’’لیکن تمنا کرنے کا فائدہ کیا۔۔۔  ؟‘‘

’’جی تو جلے گا نا۔۔۔  اور اس آگ میں جلنا کتنا اچھا لگتا ہے۔۔۔ ‘‘

اور اس نے دیکھا، دہکتے انگاروں کا ایک وسیع سمندر ہے جس پر وہ ننگے پاؤں چل رہا ہے۔ ایک جلن ہے، ایک مستقل کیفیت جس میں ذائقہ بھی ہے اور کڑواہٹ بھی۔ اور اس جلتے سفر میں کہیں بچوں کی کلکاری، کہیں بیوی کی مسکراہٹ، کہیں کسی دوست کی پر خلوص حرکت۔۔۔  چھوٹی چھوٹی ٹھنڈکیں ہیں۔۔۔  مسلسل جلتے جانا اور درمیان میں کبھی کبھی ایک ننھی سی گدگداہٹ۔

اس نے آنکھیں بند کر کے ہاتھ اٹھائے۔۔۔  ’’میری رہائی کا حکم ہو۔‘‘ مرشد نے دونوں بازو پھیلا دئیے، کبوتر پھَڑ پھَڑ اڑے اور ایک لمبا چکر لگا کر سامنے گنبد پر بیٹھ گئے۔ اس نے آنکھیں کھولیں اور بولا۔۔۔  ’’سمندر میں اتر کر بھی دیکھ لیا، یہ لذتیں اور کڑواہٹیں وہاں بھی اسی طرح ہیں ، پسِ منظر ہی بدلتے ہیں۔‘‘

اور اسے یوں لگا جیسے اس سے دو قدم کے فاصلے پر ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس کی بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑا ہے۔

٭٭٭