کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں

رشید امجد


مرشد سے ملنے سے پہلے، معمول سے زیادہ کچھ جاننے کی خواہش ہی نہ تھی، اور نہ شاید ضرورت کہ کچھ ہے اور کچھ نہیں ہے کی کیفیت میں بسر ہو رہی تھی۔ معمول سے زیادہ کچھ جاننے کی لَت اسے اس درویش سے پڑی جو بڑے پارک کے ایک تالاب کنارے بیٹھا پانی میں کنکریاں پھینکتا رہتا تھا۔ سیر کرتے ہوئے وہ اکثر وہاں رک جاتا اور غیر ارادی طور پر کنکریاں پھینکنے کے عمل کو دیکھتا، سمجھ نہ آتی کہ درویش کیا کر رہا ہے، آخر ایک دن پوچھ ہی بیٹھا۔

درویش مسکرایا اور بولا، ’’ہر کنکری پانی کی ایک نئی سطح بناتی ہے۔‘‘

اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔۔۔  ’’تو پھر؟‘‘

درویش نے اسے گھورا۔۔۔ ’’جاؤ اپنا کام کرو، یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔‘‘

اسے غصہ تو آیا لیکن کچھ کہے بغیر آگے نکل گیا۔

سیر کرتے تالاب کے پاس پہنچتا تو رکنے کو جی چاہتا لیکن درویش کے غصے سے ڈرتے آگے بڑھ جاتا، دو تین دن تذبذب میں گزرے، پھر وہ ٹھہر گیا۔

’’میں سمجھنا چاہتا ہوں۔‘‘

درویش مسکرایا۔۔۔  ’’اب تم راستے پر آ گئے ہو۔ طلب بنیادی کنجی ہے جس سے سارے دروازے کھلتے ہیں۔‘‘

’’میں یہ دروازے کھولنا چاہتا ہوں ، ہر نئی سطح کو جاننا چاہتا ہوں۔‘‘

درویش بولا۔۔۔  ’’جاؤ مرشد کو تلاش کرو۔‘‘

’’مرشد‘‘ اس نے پوچھا۔۔۔  ’’وہ کہاں ملے گا؟‘‘

’’تمہارے آس پاس‘‘ درویش نے کہا۔۔۔  ’’نظریں کھلی رکھو۔‘‘

مرشد اسی شام مل گیا۔ لمبی سیر کے بعد ذرا سستانے کو وہ سیمنٹ کی بینچ پر بیٹھ گیا تھا۔ مرشد ساتھ آ بیٹھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔

’’میں تو تمہیں جانتا ہوں۔‘‘ اس نے مرشد سے کہا۔

مرشد مسکرایا۔۔۔  ’’جانتے تو ہم بہت کچھ ہوتے ہیں ، اصل چیز تو اس کا اقرار ہے۔‘‘

’’اقرار۔۔۔ !‘‘

’’ہاں اقرار‘‘ مرشد نے کہا۔۔۔  ’’پہلے نفی پھر اثبات۔ اس کے بغیر اقرار نہیں ہو سکتا۔‘‘

’’اور اقرار کے لیے‘‘ اس نے اپنے آپ سے کہا۔۔۔  ’’پہلے محبت اور پھر ڈر پیدا کرنا چاہیے۔‘‘

مرشد مسکرایا۔۔۔  ’’یہ وہ مقام ہے جہاں خوشی حدّت پیدا کرتی ہے اور حدّت ہی راہ سلوک کا سب سے بڑا پتھر ہے۔‘‘

اس نے کہا۔۔۔  ’’تو اس پتھر کو ہٹانا چاہیے۔‘‘

پتھر نے غار کا منہ بند کیا ہوا تھا، وہ اندر اترے تو اوّل اوّل اندھیرے نے انہیں ٹٹولنا شروع کر دیا۔ سیلن زدہ اندھیرا ان کے وجودوں پر رینگنے لگا۔ دونوں ہاتھ پیر مارتے آ گے نکل آئے، اب سرمئی دھند کا علاقہ شروع ہوا۔

مرشد بولا۔۔۔  ’’آگے بڑھنے سے پہلے مردود بننا پڑے گا۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’کس کا مردود؟‘‘

مرشد نے کہا۔۔۔  ’’اپنے آپ کا۔ اور جب تم خود کو رد کر دو گے تو رد عین قبول کے مقام پر پہنچ جاؤ گے۔‘‘

سرمئی دھند سے گزرتے اس کا وجود بھی سرمئی ہو گیا۔ سارے متعلقات دور کہیں پیچھے رہ گئے۔

اس نے سوچا۔۔۔  ’’میرا وثیقہ ہو گیا۔‘‘

مرشد نے اس کی سوچ سن لی اور بولا۔۔۔  ’’تمہارے باطن نے اس وثیقہ پر شہادت دی۔‘‘

اور یہیں سے زا (بھید) کی کیفیت شروع ہوئی جو ایک دائرہ کی طرح تھی۔ وہ دائرے کے گردا گرد گھوما، گھومتا رہا، معلوم نہیں لمحہ بیتا یا صدیاں گزر گئیں ، لیکن اندر داخل ہونے کا راستہ نہ ملا۔اس نے مرشد سے کہا۔۔۔

 ’’اس دائرے کا کوئی دروازہ نہیں اور اس میں جو نقطہء وسطانی ہے، میں اس تک نہیں پہنچ سکتا۔‘‘

مرشد بولا۔۔۔  ’’اس اسرار کو دائرے کے ارد گرد رہ کر دیکھو۔۔۔  یہ نہ دائرے سے باہر ہے نہ اس کے اندر۔‘‘

’’کس طرح‘‘

’’اس لیے کہ۔۔۔ ‘‘ مرشد نے کہا۔۔۔  ’’نقطہ کوئی طول، کوئی عرض، کوئی عمق نہیں رکھتا۔‘‘

’’تو لا شے کو میں کیسے دیکھوں ؟‘‘ وہ بے چارگی سے بولا۔

مرشد ہنسا۔۔۔  ’’دونوں نقطوں کے درمیان خط کھینچ لو۔‘‘

’’دوسرا کون؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔

’’ایک تم، دوسرا وہ‘‘۔۔۔  ’’خط کھینچ لو گے تو تمام شکلیں نقطے ہی سے وجود میں آئیں گی۔‘‘

’’شاید ٹھیک ہی کہتے ہو‘‘ وہ بڑبڑایا۔۔۔  ’’نقطہ ہی موجود ہے اور نقطہ ہی غائب۔‘‘

سرمئی دھند میں اُڑتے اُڑتے جب پَر ٹُوٹے تو وہ چلّایا۔۔۔  ’’مرشد میرے پَر ٹوٹ رہے ہیں۔‘‘

مرشد نے کہا۔۔۔ ’’مبارک ہو۔۔۔  یہاں سے تیری بقاء کا سفر شروع ہوا۔‘‘

آہستہ آہستہ وہ نیچے بیٹھنے لگا، اور آہستگی سے اس کے پاؤں نے زمین کو چھُوا۔

’’یہ بھی عجیب بات ہے۔‘‘ اس نے سوچا۔۔۔  ’’زمین پر تھا تو اُڑنے کی خواہش بے چین رکھتی تھی، اُڑا ہوں تو زمین کھینچ لیتی ہے۔‘‘

’’یہی حقیقت ہے۔‘‘ مرشد مسکرایا۔

یہ سفر شاید ایک ہزار ایک راتوں کا تھا، یا صرف ایک رات کا، مرشد نے جانے سے پہلے کہا۔۔۔

 ’’جب کسی کی تعریف کرتے جھجک نہ آئے اور مخالفت کرتے دیر تک ملال رہے تو سمجھ تم زندہ ہو، کیونکہ ذات صفات کے پردے ہی میں اپنا اظہار کرتی ہے۔‘‘

اس نے کہا۔۔۔  ’’میں نے اسے دیکھا، سمجھا، لیکن میرے پاس اس کا کوئی نام نہیں۔‘‘

مرشد نے جواب دیا۔۔۔  ’’بس وہ ایک قوت ہے، چلو تم اسے انرجی کہہ لو۔‘‘

یہ کہہ کر مرشد نے پَر پھیلائے اور اُڑتا ہوا سرمئی دھند میں غائب ہو گیا۔

صبح اٹھ کر اس نے سوچا۔۔۔  واقعی وہ ایک انرجی ہے، اس عظیم کمپیوٹر کا خالق جس میں کئی سوفٹ ویئر کام کر رہے ہیں ، ان گنت چینل ہیں ، جن پر کئی سی ڈیز چل رہی ہیں۔ ایک سی ڈی میں بھی ہوں ، جس کا اپنا طے شدہ وقت اور پروگرام ہے، اگر کوئی بریک ڈاؤن نہ ہوا تو گھنٹے، منٹ، سیکنڈ تک متعین ہیں ، ایک کلک اور پروگرام ختم۔۔۔  سکرین پر چترے مترے۔۔۔  پھر کون جانے یہ سی ڈی دوبارہ آن ہو جائے اور کسی دوسرے چینل پر چل پڑے۔۔۔  کون جانے؟

 

(۲)

 

اِن دنوں مرشد کا کچھ پتہ نہ چلتا کہ کب آیا، کب گیا۔ پلک جھپکنے میں باتیں کرتے کرتے اُڈاری ماری اور یہ جا وہ جا، آنا ایسا کہ چلتے چلتے، بیٹھے بیٹھے احساس ہوتا کہ کہ ساتھ ہے۔ تنہائی کے دنوں میں وہی معمول تھا کہ دفتر سے آ کر کچھ آرام، پھر شام کی سیر، بڑے پارک کے واکنگ ٹریک کے دو چکر لگا کر، کنول کے تالاب کے ساتھ چلتے اس ویران پتھر کی سِل پر بیٹھنا، جہاں کبھی کبھار ہی کوئی آتا تھا۔ ان دنوں یہی تنہائی تھی، سیر کرتے ہوئے بھی دفتر اور گھر ذہن پر سوار رہتے، الجھن سی ہوتی کہ مرشد کے ہوتے کیسی کیسی باتیں ہوتی تھیں۔ کم از کم سیر کے دوران تو وہ پَر پھیلا کر اُڑ سکتا تھا، سرمئی دھند کو چھوتا کچھ جاننے کی سعی کرتا، سوال کرتا، کچھ کے جواب ملتے، کچھ کے نہ ملتے لیکن اُڑان کا مزہ تو اپنی جگہ تھا، لیکن اب کئی دنوں سے مرشد غائب تھا، وہ ٹریک کے دو چکر لگا کر حسبِ معمول کنول کے تالاب سے ہوتا، پتھر کی سِل پر آ بیٹھا۔ دفعتاً احساس ہوا کہ مرشد ساتھ بیٹھا ہے۔

’’کہاں چلے گئے تھے؟‘‘ اس کی آواز میں شکایت تھی۔

’’میں کہاں گیا تھا، یہیں تھا۔‘‘ مرشد مسکرایا۔

’’یہاں کہاں۔۔۔  مجھے تو نظر نہیں آئے۔‘‘

’’ہونے کے لیے دکھائی دینا ہی ضروری نہیں۔‘‘

’’تو۔۔۔ ‘‘

’’صرف دیکھا نہ کرو، محسوس بھی کیا کرو۔‘‘

’’میری تو نظر ہی کمزور ہو گئی ہے۔‘‘ اس نے عینک صاف کرتے ہوئے اپنے ساتھی سے کہا۔۔۔  ’’کچھ سمجھ نہیں آتا، نظر اتنی تیزی سے کیوں گِر رہی ہے۔‘‘

’’موتیا تو نہیں اُتر رہا؟‘‘ اس کے ساتھی نے کہا۔

’’شاید۔۔۔ ‘‘

’’تو فوراً ڈاکٹر کو دکھاؤ۔‘‘

ڈاکٹر نے مختلف زاویوں سے اس کی آنکھوں کو ٹٹول کر، دبا کر دیکھا، ٹارچ کی روشنی میں اس کی پُتلیوں کا جائزہ لیا اور بولا۔۔۔  ’’تقریباً چھ سات مہینے لگیں گے موتیا براؤن ہونے میں ، اس دوران آپ کی نظر مسلسل گِرتی رہے گی۔‘‘

مرشد ہنسا۔۔۔ ’’چلو اس دوران تم نظر کی بجائے کچھ عقل کا استعمال بھی کر لو۔‘‘

’’لیکن تم ہی تو کہتے ہو کہ عقل اس کے راستے کی دیوار ہے۔‘‘

’’میں دنیاوی عقل کی بات نہیں کر رہا۔‘‘ مرشد بولا۔۔۔  ’’شعور کی بات کر رہا ہوں اور شعور کا تعلق محسوس کرنے سے بھی ہے۔‘‘

اس نے جواب دیا۔۔۔  ’’میں تو اسے ہمیشہ ہی محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں ، لیکن وہی کبھی قریب آتا ہے، کبھی دور، بہت دور چلا جاتا ہے۔‘‘

مرشد بولا۔۔۔  ’’اس کا دور جانا بھی ایک ادا ہے۔‘‘

’’مجھے تو اس کی اداؤں نے مار دیا۔‘‘ وہ ہنسا۔

’’عشق میں مرنا تو پڑتا ہی ہے۔‘‘ مرشد بھی ہنسا۔

دونوں چلتے ہوئے کنول کے تالاب کنارے دوسری طرف آ گئے جہاں سے شہر کی جگمگاتی روشنیاں رقص کرتی دکھائی دے رہی ہیں ، نیم اندھیرے سے روشنیوں کا رقص عجیب لطف دے رہا تھا۔

مرشد کہنے لگا۔۔۔  ’’اندھیرے اور روشنی میں کتنا باریک سا فرق ہے لیکن ہمیں کتنا بُعد محسوس ہوتا ہے۔‘‘

وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔۔۔  ’’شاید ایسا ہی زندگی اور موت میں بھی ہے۔‘‘

’’ایک لمحہ کبھی کبھی صدیاں بن جاتا ہے۔‘‘

’’کیسے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

مرشد بولا۔۔۔  ’’ایک شخص قبرستان سے گزر رہا تھا۔ پاؤں پھسلا تو ایک ٹوٹی ہوئی قبر میں جا گرا۔ چند لمحوں بعد نکلا تو معلوم ہوا ہزار سال بیت چکے ہیں۔‘‘

اس نے کوئی جواب نہ دیا، اپنے طور پر سوچا ایک لمحہ اگر ہزار سال میں بدل سکتا ہے تو فنا بقا میں کتنی دیر میں تبدیل ہو گی۔ مرشد نے اسے چپ دیکھ کر پوچھا۔۔۔  ’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘

’’فنا اگر بقا ہے تو پھر بقا کیا ہے؟‘‘

’’صرف لفظوں کا فرق ہے۔‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’وقت، ذات ہے یا صفت؟‘‘

مرشد نے کہا۔۔۔  ’’صفت، اس لیے کہ ذات کسی میں بھی منتقل نہیں ہوتی، ہاں صفات کا کچھ حصہ عطا ہو جاتا ہے۔‘‘

اس نے دعا مانگی۔۔۔  ’’اے ذات! مجھے اپنی اس صفت کا کچھ حصہ عطا کر کہ میں دوسری طرف جا کر واپس آ سکوں۔‘‘

مرشد ہنسا۔۔۔  ’’دوسری طرف جانا بھی چاہتے ہو اور واپسی کی دعا بھی مانگتے ہو۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ ‘‘ اس نے کہا ’’میں سمندر کی تہہ میں اترنا چاہتا ہوں ، مگر وہاں رہنا نہیں چاہتا کہ مجھے اس کی وسعتوں سے ڈر لگتا ہے۔‘‘

مرشد نے تبسم کیا۔۔۔  ’’اپنے وجود کی نفی سے ڈرتے ہو۔‘‘

’’وجود کی نفی سے نہیں ، اپنے نہ ہونے کے احساس کا خوف ہے، میرے اپنے ہونے کا احساس نہ رہا تو پھر جاننا اور نہ جاننا بے معنی ہے۔‘‘

مرشد بولا۔۔۔ ’’آؤ اس نقطہ کے گرد دائرہ بناتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مل کر دائرہ کھینچا، پھر اس دائرے کے گردا گرد کئی دائرے بنائے، بنتے گئے۔ بن گئے تو وہ کہنے لگا۔۔۔ ’’دائرے تو ہم نے بنا لیے، اندر جانے کا راستہ کہاں ہے؟‘‘

اندر جانے کا راستہ کوئی نہیں تھا، تو کیا ہمارا مقدر دائرے سے سر ٹکرا ٹکرا کر ختم ہو جانا ہے۔

اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا، مرشد حسبِ عادت اُڈاری مار کب کا جا چکا تھا۔

کنول کے تالاب کنارے پتھر کی سِل پر بیٹھے اندھیرا گہرا ہو گیا۔ بیوی بھی اپنا چکر لگا کر آ گئی اور بولی۔۔۔  ’’چلیں ، آج تو بہت دیر ہو گئی۔‘‘

اس نے کوئی جواب نہ دیا، چپ چاپ اس کے ساتھ چل پڑا۔

(۳)

بڑی ہی پریشانی کے دن تھے، مرشد کا دُور دُور تک کوئی پتہ نہ تھا۔ اس کی میز سے ایک اہم فائل گم ہو گئی تھی، انکوائری جاری تھی اور اگر وہ قصوروار ثابت ہو جاتا تو نوکری تو جاتی ہی اور بہت کچھ بھی بھگتنا پڑتا۔ ایسے میں مرشد کی ضرورت تھی، وہ ہر شام کنول تالاب کنارے پتھر کی سِل پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرتا۔ سیر تو برائے نام ہی تھی، ایک چکر بھی پورا نہ ہوتا اور اکتاہٹ ہونے لگتی۔

’’یہ اعتبار بھی عجب شے ہے۔۔۔ ‘‘ بیٹھے بیٹھے خیال آیا۔ ’’میں اتنی جلدی لوگوں پر اعتبار کر بیٹھتا ہوں۔‘‘

’’یہی تو سادگی ہے اور سادگی اسے بہت پسند ہے۔‘‘

آواز سن کر وہ چونکا۔ مرشد جانے کب کا آ بیٹھا تھا۔

’’کدھر چلے گئے تھے۔۔۔ ‘‘ اس نے کہا۔۔۔  ’’میں اِن دنوں۔۔۔ ‘‘

’’مجھے معلوم ہے‘‘ مرشد بولا۔

’’تمہیں کیسے معلوم ہے‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔

’’میں تمہارے اندر بھی ہوں اور باہر بھی۔‘‘ مرشد مسکرایا۔

’’تو میں کیا کروں۔۔۔ ‘‘

’’انتظار‘‘ مرشد نے کہا۔۔۔  ’’انتظار میں مزہ بھی ہے اور دکھ بھی، اور تم جانتے ہو دکھ تمہارا راستہ ہے۔‘‘

’’لیکن یہ راستہ آگے بند ہے۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔

’’کوئی راستہ بند نہیں ہوتا۔‘‘

لیکن فی الحال تو راستہ بند ہی تھا، آگے بھیانک تاریکی تھی، کچھ سمجھ نہ آتا کہ کون دوست ہے، کون دشمن، دن بھر لوگ اس کے سامنے آ کر اس کی دیانت کی تعریفیں کرتے اور دروازے سے نکلتے ہی اس کے کئی نا کردہ گناہوں کی سزا بھی دیتے۔ اس نے سوچا:

’’یہ دنیا بھی عجب ہے، ہر شے دو چہرے رکھتی ہے۔‘‘

’’لیکن اس کا کوئی چہرہ نہیں ،  اس لیے دوئی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘ مرشد بولا۔

’’پر فاصلہ تو ہے‘‘

’’فاصلہ طلب کا امتحان ہے۔‘‘

امتحان میں مزاج کو اعتدال پر رکھنا کتنا مشکل ہے، اس کا خوب اندازہ ہو رہا تھا۔ بیوی بچے الگ پریشان۔ اس کے چڑچڑے پن سے پریشان بیوی بار بار کہتی۔۔۔  ’’جو ہونا ہے ہو جائے گا کیوں اتنا کڑھتے ہو۔‘‘

’’کڑھتا اس لیے ہوں کہ میں نے کچھ نہیں کیا، آخر یہ کس بات کی سزا ہے۔‘‘

مرشد نے جو دیر سے چپ تھا، سکوت توڑا۔۔۔  ’’یہ ایک کیفیت ہے اور کیفیت کا عرصہ برزخ کی طرح ہے۔‘‘

’’لیکن برزخ میں زیادہ عرصہ نہیں گزارا جا سکتا۔‘‘ اس نے ناخن کریدتے ہوئے کہا۔

’’تو پھر نکلو یہاں سے، آگ کی خبر لائیں۔‘‘

مرشد آگے آگے، وہ پیچھے پیچھے اس لمبے سفر پر نکل پڑے، جسے اس درخت پر ختم ہونا تھا، جو بولا تھا، لیکن وہ کیا بولتا، بولنے والا تو کوئی اور تھا، سننے والا بھی کوئی دوسرا نہیں تھا، وہ خود تھا۔ جو واصف ہے وہی موصوف ہے، تو پھر میں کیا اور تو کیا۔۔۔ سفر کے معنی کیا؟

اس نے کہا۔۔۔  ’’مرشد چلو واپس چلیں ، ہم تو اپنی ذات کے دائرے ہی میں پھر رہے ہیں۔‘‘

مرشد ہنسا۔۔۔  ’’لیکن تمہیں یہ معلوم نہیں کہ ہم دائرے کی لکیر کے ساتھ ساتھ پھر رہے ہیں ، مرکزہ کے ساتھ نہیں ‘‘

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’تو مرکزہ تک کیسے پہنچیں گے۔‘‘

’’اسباب سے نظر اٹھاؤ اور سبب پر مرکوز کرو تو مرکزہ خود بخود سامنے آ جائے گا۔‘‘

نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے وہی کنول کا تالاب تھا، شام زینہ زینہ نیچے اتر رہی تھی اور ہلکی تھاپ پر رقص کرتا اندھیرا چاروں طرف پھیل رہا تھا، وہ اور مرشد چپ چاپ بیٹھے اپنے اپنے دائرے میں مرکزہ کو تلاش کر رہے تھے کہ اس کی بیوی نیم دوڑتی، ہانپتی آئی:

’’تم یہاں بیٹھے ہو، میں چاروں طرف تلاش کر آئی۔‘‘

’’خیر ہے۔۔۔  کیا ہوا؟‘‘

’’’ابھی ابھی۔۔۔  صاحب کا فون آیا ہے کہ۔۔۔  فائل کا پتہ چل گیا۔‘‘

کیا۔۔۔ ؟‘‘ وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا۔

’’فائل تمہارے کلرک نے چُرائی تھی۔۔۔  کمپنی والوں سے رشوت لے کر۔۔۔  وہ مان بھی گیا ہے۔‘‘ بیوی نے پھولی سانسوں میں بات کو ٹکڑے کر دیا۔

وہ ایک لمبی سانس لے کر دوبارہ پتھر کی سِل پر بیٹھ گیا۔ مرشد حسبِ عادت اُڈاری مار کبھی کا جا چکا تھا۔ اسے خیال آیا:

’’یہ بھی خوب ہے۔۔۔  یہ فائل نہ گُمتی تو میں اتنا سفر کیسے کرتا۔۔۔  مرشد ٹھیک ہی کہتا ہے۔۔۔  جو فکر ہے، وہی ذکر ہے۔‘‘

 

(۴)

عجب خوشبو بھرے دن تھے۔ پیلے پھول نئے ہمکتے ہوئے موسم کی آمد آمد کی خبریں پھیلا رہے تھے، وہ سیر کرتے ہوئے جھوم جھوم جاتا کہ یہ دن خوشبو کے دن تھے۔ اس کی خوشبو کی حِس سال میں ہفتہ دس دن کے لیے ہی بیدار ہوتی تھی، ورنہ سارا سال اسے خوشبو بدبو سے کوئی سروکار نہ تھا۔ اچانک ہی کسی کھلکھلاتی صبح شیو کرتے ہوئے اسے احساس ہوتا کہ شیونگ کریم میں تو خوشبو بھی ہے۔ اس پر وہ وجدانی کیفیت میں آ جاتا۔ صابن کو اٹھا کر سونگھتا، شیونگ کریم کو تھپتھپا کر چہرے پر ملتا، بعد میں کریم بھی لگاتا، خوشبو کا اسپرے کرتا۔ اس کے ملنے جلنے والوں کو معلوم ہو جاتا کہ یہ خوشبو کے دن ہیں۔ سب سے پہلے تو بیوی ہنستی۔۔۔  ’’لگتا ہے تمہاری ناک کھل گئی ہے۔‘‘

وہ جھومتے ہوئے کہتا۔۔۔  ’’ہر طرف خوشبو ہی خوشبو ہے۔‘‘

لیکن خوشبو کا یہ رقص چند دن ہی رہتا، پھر کسی دن اچانک اسے احساس ہوتا کہ شیونگ کریم میں خوشبو نہیں ، صابن خوشبو سے خالی ہے۔۔۔  بس پھر وہی لمبا عرصہ نہ خوشبو نہ بدبو۔ خوشبوؤں کا عرصہ مختصر سا ہوتا لیکن سال بھر کی کوفت دور کر جاتا، ذہن میں نئی نئی باتیں آتیں۔ مرشد سے لمبی لمبی بحثیں ہوتیں۔

یہ دن۔۔۔  رقص کرتے دن، خوشبوؤں کے نام تھے، لیکن مرشد حسبِ معمول غائب۔ لمبی سیر کر کے آس پاس کے پھولوں کی خوشبو چکھتے، وہ تالاب کنارے پڑی سِل پر آ بیٹھا اور تیرتے کنولوں کو دیکھنے لگا۔

’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘

وہ چونکا۔ مرشد چپ چاپ آ کر بیٹھ گیا تھا۔

’’سوچ رہا ہوں۔۔۔ ‘‘ وہ بولا۔۔۔  ’’صاف پانی میں تو سبھی غوطہ لگاتے ہیں ، کیوں نہ اس تالاب میں جھانکا جائے۔‘‘

مرشد مسکرایا۔۔۔  ’’کنول کی تہہ دیکھنا چاہتے ہو!‘‘

’’ہاں ‘‘ وہ بڑبڑایا۔۔۔  ’’میرے بچپن میں کنول کی جڑوں میں پایا جانے والا ایک پھل بِکا کرتا تھا، جسے کول ڈوڈے کہتے تھے۔‘‘

’’وہ تو اب بھی موجود ہیں ‘‘ مرشد بولا۔۔۔  ’’لیکن اب لوگوں کی پسند بدل گئی ہے، وہ ایسی چیزیں نہیں کھاتے۔‘‘

’’ٹھیک کہتے ہو۔۔۔  آج صبح میں نے چائے میں روٹی بھگو کر کھائی تو میرے بچے حیرت سے دیکھنے لگے اور ماں سے پوچھنے لگے کہ ابّو یہ کیا گند کر رہے ہیں۔‘‘

مرشد ہنسا۔۔۔  ’’تمہاری بیوی نے کہا ہو گا کہ اپنا پینڈو پن نہیں بھولتے۔‘‘

’’یہی کہا تھا۔۔۔ ‘‘ وہ بھی ہنسا۔۔۔  ’’میرا جی چاہتا ہے کنول کی جڑوں سے کول ڈوڈے نکالوں۔‘‘

’’پھسل کر اندر جا گِرے تو پھر وہیں رہو گے۔‘‘ مرشد بولا۔

’’پھر کیا۔۔۔  یہ تجربہ بھی سہی۔‘‘

’’اب نئے نئے تجربے کرنے کی تمہاری عمر نہیں ہے۔‘‘ بیوی غصے سے بولی۔

’’ہر نئے تجربے کی گود میں ایک نیا ہمکتا ہوا خیال ہوتا ہے۔‘‘ اس نے سوچا۔ لیکن چپ رہا۔ بیوی دوسرے کمرے میں چلی گئی تو وہ خیالوں کی پگڈنڈی پگڈنڈی دور تک پھیلے مرغزاروں میں پہنچ گیا۔ خوشبوئیں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے رقص کر رہی تھیں۔ ہوا گِداں بجاتی، ہنس ہنس کر دُہری ہوئی جا رہی تھی۔

مرشد بولا۔۔۔  ’’اس کا ہونا بھی ایسے ہی ہے جیسے پھول میں خوشبو۔‘‘

اس نے کچھ دیر سوچا۔۔۔  ’’تو پھر اس کے ساتھ چلنے کے لیے ہَوا بننا ضروری ہے۔‘‘

دونوں ہَوا بن گئے اور اُڑتے پھرے، ٹہنی ٹہنی، پھول پھول، دیر تک اُڑنے کے بعد رکے تو دیکھا کہ ایک شخص اشاروں سے کچھ کر رہا ہے۔

پوچھا۔۔۔  ’’اے شخص کیا کر رہا ہے۔‘‘

وہ بولا۔۔۔  ’’دیکھتے نہیں میں اس سے گفتگو کر رہا ہوں۔‘‘

کہا۔۔۔  ’’یہ کیسی گفتگو ہے جس میں لفظ نہیں۔‘‘

اس نے جواب دیا۔۔۔  ’’لفظ گمراہ کرتے ہیں اور درمیان میں ایک پردہ کھینچ دیتے ہیں ، میں نے عرصہ ہوا لفظ ترک کر دیے اب اس سے گفتگو کرنے کے لیے مجھے کسی وسیلے کی ضرورت نہیں۔‘‘

اس نے مرشد کی طرف دیکھا۔

مرشد نے کہا۔۔۔  ’’یہ شخص اگلے پڑاؤ پر ہے۔‘‘

وہ اسے اسی حالت میں چھوڑ کر مڑے۔

اس نے پوچھا۔۔۔  ’’یہ میرے ساتھ کیا ظلم ہے کہ سال میں ، صرف چند دن میرے ہیں۔‘‘

مرشد بولا۔۔۔  ’’اسے بھی غنیمت سمجھو کہ چند دن تو تمہارے ہیں۔‘‘

اس نے جھنجھلا کر کہا۔۔۔  ’’یہ میری بے بسی ہے۔‘‘

مرشد بولا۔۔۔  ’’بے بسی بھی ایک کیفیت ہے۔‘‘

اسے بڑا غصہ آیا۔۔۔  ’’ہر چیز ہی ایک کیفیت ہے تو میں کہاں ہوں ؟‘‘

’’کہیں بھی نہیں۔‘‘ مرشد ہنسا۔

’’کیوں نہیں ؟‘‘

’’یہی تو سفر کا آغاز ہے، اس ’’کیوں ‘‘ کو تلاش کرو، جانو اور سمجھو۔‘‘

وہ جھنجھلایا ہوا تھا، بری طرح جھنجھلایا ہوا تھا۔۔۔  بولا ’’خوشبوئیں مدھم ہو رہی ہیں ، پھر وہی ایک طویل خشک موسم۔‘‘

مرشد نے کہا۔۔۔  ’’آؤ کنول کے تالاب پر چلیں۔‘‘

دونوں پتھر کی سِل پر بیٹھ گئے۔ تا دیر چپ رہے پھر مرشد نے کہا۔۔۔  ’’پھول تالاب کی سطح پر کھِلے ہیں اور نیچے کائی اور سڑاند ہے، پھول کی قسمت یہی کچھ ہے۔‘‘

’’ٹھیک کہتے ہو‘‘ وہ بڑبڑایا اور چپ چاپ گھر کی طرف چل پڑا۔

 

(۵)

خزاں کی آمد آمد تھی اور بہار چپکے چپکے اپنا سامان سمیٹ رہی تھی۔ درختوں سے گرتے اِکا دُکا پتے پیروں کے نیچے چرمرانے لگے تھے۔ کنول کا تالاب خالی خالی دکھائی دے رہا تھا۔ کہیں کہیں ایک آدھ پھول،