کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

موڑ کے دوسری طرف

رشید امجد


مرشد سے ملنے سے پہلے بھی کبھی کبھی گمان ہوتا تھا کہ اس دنیا کے دائیں بائیں یا اندر ایک دنیا اور ہے، لیکن وہاں جانے،  اس کے بارے میں جاننے کی خواہش نہ ہوئی، بس کبھی کبھار سوچ لیتا کہ وہ دنیا اِس دنیا سے کتنی مختلف ہو گی، یا اتنا اور کہ ان میں سے اصل دنیا کون سی ہے۔ یہ ظاہر والی یا وہ چھپی ہوئی، نظر نہ آنے والی، لیکن مرشد سے ملنے کے بعد اسے کتنی بار اس دنیا کی کرید ہوئی۔ ان دونوں میں حقیقی کونسی ہے، اِس دنیا میں تو وہ اپنے ٹھوس وجود کے ساتھ موجود ہے، اُس دنیا میں وجود کی کیفیت کیا ہو گی۔ اشیا ہوں گی یا ان کے پَر تو ہوں گے اور وہ خود۔۔۔  ؟

          مرشد اس کے سوالوں پر مسکرا کر رہ جاتا۔ وہ جھنجلا جاتا، ’’تم میرے سوالوں کے جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘

          مرشد ہنستا، ایک دن جب اس نے بہت زچ کیا تو مرشد بولا۔۔۔  ’’بعض سچائیاں لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتیں ، ان کے لیے تلوار کی دھار سے گزرنا پڑتا ہے۔‘‘

          اس نے سر ہلایا، مرشد نے اس کے سوال کی تردید نہیں کی، اس کا مطلب ہے کہ کہیں آس پاس ایک دنیا اور بھی ہے۔

          اس دنیا میں جانے کا کوئی راستہ بھی ہو گا، وہ سوچتا، لیکن آس پاس پھیلے ہوا کے خیمے میں کہیں کوئی دَر نظر نہ آتا۔

          ’’میں ایک بڑے ٹینٹ میں سانس لے رہا ہوں۔‘‘اس نے ایک دن مرشد سے کہا۔۔۔  ’’یہ ایک عظیم گنبد ہے جس میں کوئی در نہیں۔‘‘

          مرشد نے تبسّم کیا۔۔۔  ’’ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، لیکن حقیقت میں ہمیں کچھ بھی نظر نہیں آتا، پھر در کیسے دکھائی دے۔۔۔ ‘‘

          وہ چپ رہا۔۔۔  پھر بولا،’’لیکن میں دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

          ’’کوشش کرتے رہو‘‘ مرشد نے بے نیازی سے کہا۔۔۔  ’’شاید کبھی دیکھ سکو۔‘‘

          دیکھنے کی تمنا میں لمحہ لمحہ بیت رہا تھا، لیکن کچھ دکھائی نہ دیتا تھا، اسی کوشش میں گھر سے نکل کر گلی میں آنا، گلی کا موڑ کاٹ کر سڑک،  کچھ دور چل کر بس سٹاپ،  ایک ایک کے پیچھے بس میں سوار ہونا، اتر کر دفتر۔۔۔  شام کو اسی ترتیب سے گھر۔۔۔  تو دکھائی کیسے دے اور کیا دے؟ 

          زندگی یوں ہی بیتی جا رہی تھی، مرشد سے مکالمہ کچھ دیر کے لیے ایک چمک سی پیدا کرتا، پھر وہی سیلن زدہ اندھیرا، دیکھتی آنکھ کا اندھا پن۔۔۔ 

’’میں کب دیکھ پاؤں گا؟‘‘سینہ میں ٹیس سی اٹھتی۔۔۔  ’’کب؟‘‘

          اور ایک صبح یہ کب آ گئی، گلی کا موڑ مڑتے ہی اسے محسوس ہوا کہ آس پاس سب کچھ نامانوس سا ہے، ٹھٹکا، سوچا، رکا، ایک نظر چاروں طرف دوڑائی۔۔۔  یہ تو کوئی نئی دنیا ہے۔

          موڑ مڑتے ہی وہ اس نئی دنیا میں داخل ہو گیا تھا !

          ’’خوش آمدید!‘‘ مرشد کی آواز سنائی دی لیکن وہ دکھائی نہ دیا۔

          ’’تم کہاں ہو؟‘‘ اس نے پہلے سرگوشی،  پھر بلند آواز میں پوچھا، لیکن کوئی جواب آیا نہ مرشد دکھائی دیا۔

          غور کیا، پھر اپنے آپ سے کہا۔۔۔  ’’یہ آواز میرے اپنے اندر سے آئی تھی، لفظ وہاں چھپے بیٹھے ہیں۔‘‘

          یہ نئی دنیا کا پہلا تجربہ تھا۔۔۔  یاد آیا، مرشد نے ایک بار کہا تھا۔۔۔  ’’میں تھوڑا سا باہر لیکن زیادہ اپنے اندر رہتا ہوں ، اور میرا باطن تمہارا باطن ہے کہ باطن میں سب چیزیں ایک سی ہوتی ہیں۔‘‘

          یہاں سورج نکلتا ہو گا اور شام بھی ہوتی ہو گی، چاروں طرف دیکھا لیکن دونوں منظر موجود تھے، سورج نکل رہا تھا اور شام بھی ہوتی جار ہی تھی۔

          یہ کون سا موسم ہے؟

          یہ لوگ کیسے ہیں ؟

          موسم، موسم جیسا ہے، لوگ، لوگوں جیسے ہیں۔ یہ دنیا، دنیا جیسی ہے لیکن وہ نہیں اس جیسی ہے، اور وہ خود۔۔۔  وہ خود بھی خود نہیں اپنے جیسا ہے اور مرشد۔۔۔  مرشد کا کہیں پتہ نہ تھا۔

          ’’تم کہاں ہو؟‘‘ وہ چیخا۔ اس کی آواز دائرے بناتی اوپر اٹھی، پھر اسی تیزی سے نیچے آئی اور سکوت کے گہرے تالاب میں کنکر کی طرح ڈوب گئی۔

          ’’کوئی ہے؟‘‘ چپ دنیا میں گونجتی آواز، لمبا چکر کاٹ کر اُس کے سامنے آ گری۔ سیٹیاں بجاتی ہوا کھلکھلانے لگی۔

          ’’میں ‘‘۔۔۔  وہ پھر چیخا۔۔۔  ’’میں ہوں۔‘‘

          لیکن اسے اپنے ہونے کا احساس نہ ہوا۔۔۔  یہ کیسی دنیا ہے کہ جہاں میری آواز تو موجود ہے لیکن میں خود موجود نہیں ، میرا وجود،  اس نے اپنے آپ کو دیکھا۔۔۔  دکھائی تو دیتا ہے مگر ہے نہیں ، کہیں دور سے مرشد کی آواز آئی۔۔۔  ’’آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں۔‘‘

          اس نے اپنے دل کو ٹٹولا اور اپنے آپ سے کہا۔۔۔  ’’وہ تو میری رگِ جاں سے بھی قریب ہے پھر میں کیسے اندھا ہو سکتا ہوں۔‘‘ مرشد کی آواز آئی۔۔۔  ’’لیکن تم اسے یاد بھی تو نہیں کرتے، یاد روشنی ہے اور روشنی اندھے پن کو دور کر دیتی ہے۔‘‘

          اس نے اسے یاد کیا اور اس کے دل میں روشنی کی لہر لہرائی، اپنے آپ سے کہا۔۔۔  ’’میں باہر والی دنیا کا شناسا نہیں ، اس لیے تیرا شناسا ہوں۔‘‘

          مرشد بولا۔۔۔  ’’مخلوق کی سمجھ حقیقت سے کوئی علاقہ نہیں رکھتی اور حقیقت خلقیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی اس لیے سچ حقیقت سے ماورا ہے، تم نہیں جان سکتے کہ دنیا کے اندر دنیا نہیں بلکہ اس کے جلوے ہیں ، کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی دکھائی دیتا ہے۔‘‘

          وہ کچھ دیر چپ رہا، پھر کہنے لگا۔۔۔  ’’سچ ہے، لیکن یہ نورِ چراغ کیا ہے؟ اور چراغ کی حرارت کیا ہے؟‘‘

          پروانہ اڑتا ہوا آیا، اس نے چراغ کے گرد چکر لگایا لیکن چراغ کی روشنی اور حرارت دونوں سے اس کی تسلی نہ ہوئی۔ اس نے ایک ہی لمحہ میں اپنے آپ کو چراغ کی روشنی کے حوالے کر دیا اور خاکستر ہو گیا۔۔۔  !

          مرشد اور اس نے،  دونوں نے یہ منظر دیکھا۔

          مرشد بولا۔۔۔  ’’اَمر ہونے کے لیے کتنے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے لیکن پروانے نے یہ سارے مرحلے ایک ہی قدم میں طے کر دیے۔‘‘     

          اس نے سر ہلایا۔۔۔  سچ ہے جو مقامِ نظر پر فائز ہو گیا وہ خبر سے بے نیا ز ہو گیا۔‘‘

          مرشد بولا۔۔۔  ’’پروانے کی طرح طالبِ حقیقت کو بھی فنا ہونا پڑتا ہے لیکن فنا کا ایک مقام اور وقت ہے۔‘‘

          اس نے کہا۔۔۔  ’’یہ وقت کب آئے گا اور وہ مقام کہاں ہے؟‘‘

          مرشد نے تبسّم کیا۔۔۔  ’’ابھی تو تم دیوار کے اس طرف آئے ہو، ابھی تو مرکزِ وجود بہت دور ہے، جلوہ گاہ ِ حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ جاننے کی منزل باقی ہے کہ حقیقت مخلوقیت سے ماورا ہے۔‘‘  

          وہ سوچ میں پڑ گیا اور اپنے آپ سے کہا۔۔۔  ’’میں تو دلیل کی دلیل ہوں اور وجود سے زیادہ روشن دلیل اور کوئی نہیں۔‘‘

          مرشد نے اس کے دل کی آواز سن لی۔۔۔  ’’حق ہی مرجع ہے۔‘‘یہ کہہ کر مرشد نے زقند بھری اور گہری سرمئی دھند میں گم ہو گیا۔ اس نے اپنے آپ کو ٹٹولا، اِدھر دیکھا، اُدھر دیکھا، منظر ایک ہی تھا،  کچھ سوچا اور اپنے آپ سے کہا۔۔۔  ’’سچ ہے کہ آنکھ کو ظاہرہ چیزوں کو دیکھنے سے نہیں روکا جائے گا تو دوست کیسے نظر آئے گا۔‘‘

          یہ دنیا کے اندر نئی دنیا دراصل دوست کا تماشا ہے اور اس لمحے وہ اس مقام پر تھا کہ آنکھ کو کچھ اور دیکھنے کی تمنا نہ تھی کہ ذات عالم سے نہ علم جدا تھا نہ معلومات جدا تھیں۔

          یہ لمحہ وصال کا تھا، لیکن اس وصال میں ایک کسک تھی، وہ دنیا جو موڑ مڑتے ہوئے پیچھے رہ گئی تھی، نامعلوم احساس کے ساتھ کہیں اپنے ہونے کا اعتبار قائم کیے ہوئے تھی۔

          اس نے اپنے آپ سے کہا۔۔۔  ’’میں اس عارف کی طرح ہوں جس نے اپنے آپ کو مفقود کر کے اسے پہچانا لیکن وہ نہیں جانتا کہ جو معدوم ہو وہ موجود کو نہیں جان سکتا۔‘‘

          تو میں معدوم ہوں ؟ اور وہ موجود۔

          مرشد نے ایک بار کہا تھا۔۔۔  ’’جہل حجاب ہے اور معرفت ماورائے حجاب ہے اس لیے معرفت حجابی بے حقیقت ہے۔‘‘

          ’’تو میں بے حقیقت کس دلیل کی تلاش میں ہوں ؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا۔۔۔  ’’میری مثال اس عارف کی ہے جو کہتا ہے کہ معروف نے ہی اپنے آپ کو پہچانا، گویا اس نے اس امر کا اقرار کیا کہ عارف درمیان میں ہے اور اپنی معرفت پر مکلف ہے کیونکہ معروف تو ہمیشہ سے ہی اپنی ذات کا عارف ہے۔‘‘

          وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔۔  ’’تو یہ مرشد کون ہے؟ اور یہ موڑ مڑتے ہی کسی اور دنیا کا منظر کیا معنی رکھتا ہے؟‘‘

          سوال دائرہ در دائرہ پھیلتے اور سکڑتے جاتے ہیں ، موڑ کے ایک طرف ایک دنیا اور دوسری طرف دوسری دنیا، وہ اس سوچ میں گم ہے کہ جو شخص ایک ذرے کا عارف نہیں وہ کس طرح اس چیز کا عارف ہو سکتا ہے جو بالتحقیق اس ذرے سے بھی دقیق تر اور باریک تر ہے !

          موڑ ہے۔۔۔  جس کے پیچھے ایک کھلکھلاتی،  آنکھیں مارتی دنیا اپنی طرف بلاتی ہے اور آگے سرمئی دھند میں لپٹی ایک دوسری دنیا ہے جہاں دن اور رات ایک ہیں۔۔۔  وہ اس موڑ پر تنہا کھڑا ہے، برسوں سے کھڑا ہے کہ پیچھے جانے کو دل نہیں چاہتا اور آگے جانے کی ہمت نہیں !

٭٭٭